ہم ایک نئی روح حاصل کرسکتے ہیں!

نازیہ مصطفیٰ
نازیہ مصطفیٰ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

مصر میں ایک عرب خاندان میں آنکھ کھولنے کی وجہ سے وہ صرف اپنی مادری زبان (عربی) ہی جانتا تھا۔ اُس نے ابتدائی تعلیم الاظہر یونیورسٹی سے عربی میں ہی حاصل کی اور قاہرہ میں قاضی کے منصب پر فائز ہوگیا۔ اس منصب پر دل نہ لگا تووہ قاہرہ یونیورسٹی میں عربی ادب کے شعبے میں درس و تدریس سے منسلک ہوگیا۔مطالعہ اُس کا شوق ہی نہیں بلکہ اُس کی زندگی کا دوسرا نام تھا لیکن وہ جتنا بھی مطالعہ کرتا، اُس کی تشنگی کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جاتی، یہ تشنگی بہت سے ’’علمی مسائل‘‘ حل نہ ہونے کی وجہ سے تھی، اِس تشنگی کو دور کرنے کیلئے ایک استاد کے کہنے پر اُس نے پہلی بدیسی زبان ’’انگریزی‘‘ سیکھنا شروع کی، انگریزی زبان سیکھنے کا یہ عمل اُس کیلئے علمی خزانوں کا منہ کھولنے کا باعث بنا، انگریزی زبان سیکھنے پر اُس کی علمی الجھنیں اور گتھیاں سلجھنے لگیں، علمی مسائل ایک ایک کرکے حل ہونے لگے، سوالات کے جوابات ملنے لگے تو اُس کا رُکا ہوا علمی اور تحقیقی سفر پھر سے رواں دواں ہوگیا۔

انگریزی کے بعد اُس نے فارسی سیکھی، پھر اردو اوراُس کے ساتھ ہی ہندی زبان بھی سیکھ لی۔پانچ زبانوں پر مکمل عبور نے اُسے اپنے زمانے کا سب سے بڑا استاد، محقق اور ذہین دانشور بنادیا تھا۔ اُس کی زیادہ دلچسپی اسلامی تاریخ و تہذیب میں تھی، انگریزی زبان نے اسی کی علمی گتھیاں تو سلجھائیں لیکن ساتھ ہی احساس کمتری میں بھی مبتلا کردیا کہ اسلامی دنیا کے سرخیل عرب گزشتہ کئی صدیوں سے کوئی قابل قدر ادبی معرکہ سرانجام نہ دے سکے تھے، لیکن جب اُس نے اردو سیکھی تو اردو زبان میں ادب کی مختلف اصناف میں موجود بیش بہا ادبی خزانہ دیکھ کر اُس کا احساس کمتری احساس برتری میں بدل گیاکہ مسلمان اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری ’’حیاتی‘‘ میںاُس نے لکھاکہ ’’عربی جاننے کے بعد مجھے عرصہ تک یہی محسوس ہوتا رہا کہ جیسے میں صرف ایک آنکھ رکھتا تھا، لیکن جب میں اردو سیکھ چکاتو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا اب میری دو آنکھیں ہوگئیں ہیں، یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں سیکھنے کا موقع پاسکا۔ اگر میں صرف اپنی مادری زبان ہی جانتا تو یقینا معرفت کے بہت سے دروازے مجھ پر بند رہتے‘‘۔اردو سیکھ کر خود پر معرفت کے دروازے کھلنے کا اعتراف کرنے والے اپنے زمانے کے یہ سب سے بڑے مورخ ، ادیب، محقق، دانشور اور لکھاری کوئی اور نہیں بلکہ ڈاکٹر احمد امین المصری تھے۔

بیسویں صدی کے وسط میں بادشاہتوں اور مغربی تسلط سے آزاد ہوتے ہوئے مصر میں اسلامی تاریخ و ثقافت کے حوالے سے تحقیقی دنیا میں ڈاکٹر احمد امین کے بہترین کام میں فجر اسلام1928ء میں، ولضّحیٰ السلام 1933–1936 میں اور ظہر السلام 1945–1953 میں چھپ کر سامنے آیا تو علم و ادب کی دنیا میں تہلکہ مچ گیا۔ اِس ادبی کاوش میں بڑا حصہ اردو سے عربی میں ترجمہ کیا گیا تھا۔ اسلام پسندی، علم و ادب اور تحقیق میں ڈاکٹر احمد امین کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر احمد الرسالہ اور الثقافہ جیسے مشہور ادبی و ثقافتی جرائد کے مدیر رہے اور انہوں نے انگریزی اور اردو ادب کو عربی میں منتقل کرنے کیلئے ’’التالیف و الترجمہ والنشر‘‘کے نام سے ایک زبردست ادارہ بھی قائم کیا اور زندگی کی آخری سانس تک دنیا بھر کا علمی خزانہ عربی زبان میں منتقل کرنے میں مصروف رہے۔

ڈاکٹر احمد امین کی زندگی، نظریات، اُن کے تحقیقی کام اور ان کے قائم اداروں سے پتہ چلتا ہے کہ قومی زبان ایک ایسا نظام ہے جس میں باہمی سمجھ میں آنے والے مختلف اشاروں اور آوازوں کی مدد سے ایک دوسرے سے رابطہ کیا جاتا ہے یا معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ انسانوں کے علاوہ مختلف جاندار آپس میں تبادلہ معلومات کرتے ہیں مگر زبان سے عموماً وہ نظام لیا جاتا ہے جس کے ذریعے انسان ایک دوسرے سے تبادلہ معلومات و خیالات کرتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت بھی ہزاروں مختلف زبانوں کا وجود ہے جن میں سے بہت سی زبانیں تیزی سے ناپید ہو رہی ہیں۔ مختلف زبانوں کی تخلیق و ترقی کا تجزیہ لسانیات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر زبانیں معاشرے کی ضرورت اور ماحول کے اعتبار سے ظہور پذیر ہوتی اور برقرار رہتی ہیں۔

ڈاکٹر احمد امین نے قومی زبان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا کہ قومی زبان بلا شبہ کسی بھی قوم کی شناختی زبان ہوتی ہے۔ یہ کسی بھی قوم میں بولی جانے والی زبانوں، زبانوں کے لہجے یا پھر مجموعی تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک لحاظ سے قومی زبان کو کسی بھی قوم کی شناخت مانا جا سکتا ہے۔ قومی زبان کا استعمال سیاسی اور قانونی امور کے لیے بھی ہوتا ہے، قومی زبان کا تصور ایک ہی زبان میں پائے جانے والے لہجوں کی بنیاد پر بھی کیا جاتا ہے۔کسی بھی ریاست میں قومی زبانوں کے وجود اور تہذیبی تنوع کی بنیاد پر ہی سرکاری زبان کے تصور نے جنم لیا لیکن مجموعی طور پر قومی زبان ہی اگر سرکاری زبان ہو تو قوموں کو ترقی کرنے میں دیر نہیں لگتی اور قومیں ترقی کا ہزاروں برس کا سفر چند برسوں یا چند دہائیوں میں بھی طے کرلیتی ہیں۔ تاریخ تو یہ بھی بتاتی ہے کہ جب زبانیں جمود کا شکار ہوئیں تونہ صرف کئی تہذیبیں مٹ گئیں بلکہ قومیں بھی تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن گئیں۔

اردو اور اردو بولنے سمجھنے اور لکھنے پڑھنے والوں کو تاریخ کے کوڑا دان کا رزق بننے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے مرحلے میں اردو کو تغیرات ِ دنیا اور حوادث زمانہ برداشت کرنے کے قابل بنایا جائے۔ اس مقصد کیلئے اردو میں شامل الفاظ کی مکمل چھانٹی کی جائے، اردو میں سے پرانے، مشکل، پیچیدہ اور ادائیگی میں تکلیف دہ الفاظ کو حذف کردیا جائے اور ان کی جگہ اردو میں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، ہندکو، سرائیکی اور کشمیری زبانوں سمیت پاکستان میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے متبادل الفاظ شامل کیے جائیں اور اردو صرف ونحو (گرامر) کے اصول ازسرِ نو وضع کیے جائیں، یوں جب اردو ایک نئی زبان کے قالب میں ڈھل جائے تو اردو کی نئی قومی سرکاری لغت بھی شائع کی جائے، اور دوسری زبانوں کے ہر قسم کے ادب کا زیادہ سے زیادہ اِس نئی اردو زبان میں ترجمہ کیا جائے۔

قارئین کرام!! علم و عرفان کی مٹی میں گندھی کام کی یہی بات ہمیں ڈاکٹر احمد امین کے زندگی بھر کے علمی سفر اور علمی اثاثے سے بھی ملتی ہے کہ قومی زبان کا انسان کے ذہنی ارتقاء سے بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ زیادہ زبان جاننا بذات خود انسانی ارتقاء کے لئے ضروری نہیں لیکن انسانی ارتقاء کا تجربہ وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہوں اور اگر ہم ایک سے زیادہ زبانیں نہیں جان سکتے تو کم از کم ایک سے زیادہ زبانوں کے الفاظ تو جان سکتے ہیں اور اِس مقصد کیلئے اردو کا دامن بہت وسیع ہے۔ پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، ہندکو، سرائیکی اور کشمیری زبانوں سمیت پاکستان میں بولی جانی دیگر مقامی زبانوں کے الفاظ، تراکیب، محاورے اور کہاوتوں کی شمولیت سے جو نئی زبان معرض وجود میں آئے گی وہ نئی اردو زبان پاکستانیوں کے ذہنی ارتقا ء کیلئے بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ چیکوسلوواکیہ کی ایک مثل ہے کہ ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو۔اردو کو ایک نئی زبان کے قالب میں ڈھال کر اور سیکھ کر ہم نہ صرف ڈاکٹر احمد امین کی طرح علم و عرفان کی منازل سے آشنا ہوسکتے ہیں بلکہ چیک دانشوروں کے کہنے کے مطابق ہم ایک نئی روح بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں