فرام دی پوزیشن آف اسٹرنتھ

سلیم صافی
سلیم صافی
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

آپریشن ماضی میں بھی ہوئے اور بعض فوجی نقطہ نظر سے گرائونڈ پر نہایت کامیاب بھی رہے لیکن ان کے نتیجے میں ملک امن و سکون کی منزل حاصل نہ کرسکا۔وجہ یہ تھی کہ ماضی کا ہر ملٹری آپریشن ’’جز‘‘ کے خلاف ہوتا رہا ، کبھی ’’کُل‘‘ کے خلاف نہیں ہوا۔ مثلاً سوات میں آپریشن ہورہا تھا اور شمالی وزیرستان میں طالبان کے ساتھ مفاہمت چل رہی تھی۔ کبھی باجوڑ میں آپریشن ہورہا ہے تو مہمند ایجنسی میں خاموشی ہے اور کبھی جنوبی وزستان کے محسود علاقے میں آپریشن ہو رہا ہے تو وزیر علاقے میں معاہدے پر عمل ہورہا ہے ۔ یوں سیکورٹی فورسز قربانی تو دے دیتیں اور آپریشن والے علاقے میں کامیابیاں بھی حاصل ہوجاتیں لیکن عسکریت پسند ایک جگہ سےنکل کر دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ۔ اسی طرح جب یہاں آپریشن جاری ہوتا تو کراچی ہر طرح کے عسکریت پسندوں کے لئے جنت بنا رہتا ۔

وہ آپریشن والے علاقوں سے نکل کر کراچی چلے جاتے ، جہاں انہیں پناہ کے ساتھ ساتھ مال اور وسائل بھی مل جاتے ۔ اسی طرح جب قبائلی علاقوں میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کارروائی کرتیں تو عسکریت پسند آسانی کے ساتھ افغانستان منتقل ہوجاتے اور عموماً کشیدہ تعلقات کی وجہ سے افغان حکومت ،پاکستانی سیکورٹی فورسز کی بجائے عسکریت پسندوں کی معاون ہوتی لیکن اب کی بار آپریشن ضرب عضب کچھ حوالوں سے مختلف رہا ۔ ڈاکٹر اشرف غنی کے اقتدار میں آنے کے بعد اگر پاکستانی سیکورٹی فورسز کو خاطرخواہ تعاون حاصل نہ بھی ہوا تو کم ا ز کم ،ماضی کی طرح عسکریت پسندوں کی مدد نہیں کی گئی ۔ اگرچہ کئی حوالوں سے موجودہ آپریشن بھی ’’کل‘‘ نہیں بلکہ ’’جز‘‘ کے خلاف ہے لیکن آپریشن ضرب عضب اس حوالے سے مختلف ہے کہ جب اس کے تحت شمالی وزیرستان میں کارروائی شروع ہورہی تھی تو دوسری طرف کراچی میں بھی رینجرز نے بھرپور آپریشن شروع کیا تھا جبکہ بلوچستان میں بھی ایف سی پوری طرح متحرک تھی ۔

یوں اگر عسکریت پسند یہاں سے نکل کر کراچی یا بلوچستان میں چھپنے کی کوشش کرتے تو وہاں پر سیکورٹی فورسز پہلے سے تیار بیٹھی تھیں ۔ اسی طرح اس آپریشن کے آغاز سے قبل ماضی کے آپریشنوں کے نتیجے میں مالاکنڈ ڈویژن ، باجوڑ، مہمند، اورکزئی ، کرم، خیبر(جمرود تحصیل) اور جنوبی وزیرستان میں پہلے سے حکومتی رٹ بحال ہوچکی تھی ۔ سب سے اہم انفرادیت آپریشن ضرب عضب کی یہ تھی کہ اس کے متوازی ملک کے چاروں صوبوں اور ہر چھوٹے بڑے شہر میں فوج اور خفیہ ایجنسیاں بھی متحرک ہوئیں اور یہاں پر عسکریت پسندوں یا پھر ان کے معاونین کی نگرانی سخت کردی گئی ۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ عسکریت پسندفاٹا میں ہونے والی کارروائی کی بہ نسبت ،بڑے شہروں میں خفیہ ایجنسیوں کی کارروائیوں سے کمزور ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اور بھی واقعات رونما ہوئے۔

مثلاً اسامہ بن لادن کی وفات اور مشرق وسطیٰ میں داعش کے ظہور اور کامیابیوں کے بعد عرب اور عالمی اسلامی عسکریت پسندوں کی پاکستان آمد کم ہوئی اور جو لوگ یہاں موجود تھے، ان کی اکثریت بھی عرب دنیا منتقل ہونے لگی ۔ اسی طرح تحریک طالبان پاکستان کے اندرونی اختلافات بھی زوروں پر رہے اور ملا فضل اللہ اس طرح کنٹرول سنبھال نہیں سکے جس طرح کہ بیت اللہ محسود یا حکیم اللہ محسود نے سنبھال رکھا تھا۔ پاکستان کے ذریعے ، افغان حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کے آغاز کی وجہ سے افغان طالبان کی طرف سے بھی پاکستانی طالبان کی سرپرستی میں نمایاں کمی آئی ۔ ان سب عوامل کی وجہ سے مجموعی طور پر ملک بھر میں تخریبی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی ۔ کسی حد تک شہری سکون کا سانس لینے لگے ۔ ریاست اور ریاستی اداروں پر اعتماد پیدا ہونے لگا ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ریاستی اداروں کا مورال بلند اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے ہر طرح کے عسکریت پسندوں کا مورال گرنے لگا۔ گزشتہ دس بارہ سال میں یہ نوبت پہلی مرتبہ آئی ہے کہ پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں مذہبی عسکریت پسند، بلوچستان میں بلوچ عسکریت پسند اور کراچی میں لسانی، مذہبی اور دیگر ہر طرح کے عسکریت پسند یا پھر جرائم پیشہ افراد دفاعی پوزیشن اختیار کرگئے ہیں ۔ گویا پہلی مرتبہ ریاست بالادست پوزیشن (Position of strength) میں آگئی ہے اور میرے نزدیک یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ ریاست مفاہمت ، معافی اور معاشرے میں باغیوں کے ادغام کی طرف آتی ہے ۔ بعض بلکہ اکثر لوگوں کو اس طرح کی تجویز ناگوار بلکہ زہر لگے گی۔

وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کی سختی اور پکڑ دھکڑ کی وجہ سے حالات بہتر ہوئے ہیں اور اب ان لوگوں کو آخری حد تک کچل دینا چاہئے لیکن میرے نزدیک اس وقت کامیابی کے زعم میں مبتلا ہو کر مفاہمت کے تمام دروازوں کو بند کرنا قرین مصلحت نہیں۔ میں ہرگز مذاکرات کی بات نہیں کررہا اور نہ میں کسی جگہ آپریشن کو ادھورا چھوڑنے کا مشورہ دے رہا ہوں۔ مشورہ فقط یہ ہے کہ جو لوگ ریاست کے آگے سر تسلیم خم کرناچاہیں، ان کو ایک راستہ دے دینا چاہئے۔ ماضی میں مفاہمت کی کوششیں ریاست کی کمزور پوزیشن سے کی گئیں، اس لئے نتیجہ خراب نکلا لیکن اگر وہ بالادست پوزیشن سے کی جائیں تو نتیجہ ہمیشہ بہتر نکلتا ہے اور اب ریاست کو بالادست پوزیشن حاصل ہوگئی ہے۔ اس لئے اس موقع کو کامیابی کے زعم میں ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ طالبان ہوں، بلوچ عسکریت پسند ہوں یا پھر کراچی میں کسی گروپ کے حامی، جیسے بھی ہیں، اس ملک کے شہری ہیں۔

ان میں اگر کچھ لوگ اپنی غلطیوں پر نادم ہو کر ریاستی رٹ کو تسلیم کرنے پر تیار ہو رہے ہیں تو ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر اصرار کی بجائے، ان کی مین اسٹریمنگ کے لئے کوئی جامع منصوبہ بنانا چاہئے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اگر کسی سطح پر ریاست مجبور ہو کر پھر کچھ علاقوں میں ایک طرح اور دوسرے علاقوں میں دوسری طرح کی پالیسی اپنائے گی تو اس کے غلط نتائج نکلیں گے۔ یوں ریاستی رٹ کوتسلیم کرنے والوں کے لئے قومی سطح پر پالیسی اور حکمت عملی وضع ہونی چاہئے۔ مثلاً یہ واضح ہونا چاہئے کہ کن صورتوں میں اس طرح کے لوگوں کو قبول کیا جائے گا اور کن صورتوں میں انہیں کسی حالت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح کوئی بھی لائحہ عمل بناتے وقت ان لوگوں سے بھی مشاورت ضروری ہے جو جنگ کے دنوں میں ان عسکریت پسندوں کے خلاف، ریاست کے ساتھ کھڑے ہوئے اور قربانیاں دیں۔ مثلاً طالبان کے بارے میں کوئی فارمولا وضع کرتے وقت ان سے جنگ میں شہید ہونے والوں کے ورثا یا پھر میاں افتخار حسین، آفتاب شیرپائو، امیر مقام، شہبا ب الدین خان اور اسی نوع کے دیگر لوگوں کی رائے لینا ضروری ہے۔

اسی طرح بلوچستان میں باغی بلوچوں کے آگے ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے والے میر سرفراز بگٹی جیسے لوگوں سے بھی مشاورت ضروری ہے۔ یہی مقام کراچی میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں متاثر ہونے والے لوگوں کو ملناچاہئے۔ پھر ان لوگوں کو عام معاشرے میں ضم کرنے کے لئے بھی منصوبہ عمل بنایا جائے۔ اسی طرح کچھ لوگوں کی نظریاتی اور شخصی بحالی کے لئے بھی مربوط منصوبہ ہونا چاہئے۔ مکرر عرض ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ تجویز بہت بری لگے گی اور شاید بعض لوگ حسب عادت عسکریت پسندوں کے ہمدرد کے طعنوں سے بھی نوازیں لیکن پشتو کا ایک مقولہ ہے کہ اگر کوئی گڑ سے مرسکتا ہو تو اسے زہر سے مارنے پر اصرار کیوں کیا جائے۔ کسی پالیسی کے نتیجے میں میرا ایک بھی فوجی، مورچے سے اپنی چھائونی اور میرا ایک بھی شہری اگر پہاڑ سے اپنے گھر لوٹتا ہے تو مجھے خوش ہوجانا چاہئے۔ بے شک ریاست بالادست رہے لیکن جنگ جنگ ہوتی ہے۔ اس کا خاتمہ اگر لڑائی کے بغیر کسی اور طریقے سے ہوسکتا ہوتو کیوں نہ کیا جائے۔ یوں بھی ہمیں دائمی حل چاہئے، وقتی نہیں اور آپریشن صرف وقتی حل ہوا کرتے ہیں۔ اس دائمی حل کے لئے ہمیں جذبات سے نہیں تدبر سے کام لینا ہوگا اور قلب و نظر دونوں کو وسعت دینا ہوگی۔

----------------------------

بہ شکریہ روزنامہ جنگ

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں