اقوام متحدہ : بھارتی چال ۔ اپنے ہی عوام کو دھوکہ

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

کچھ عرصے سے بھارت خود کو عالمی اور علاقائی معاملات میں ایک برتر بلکہ عالمی طاقتوں کی برتری میں خود کو شراکت دار سمجھنے لگا ہے. امریکی تعاون کی بدولت اس خوش فہمی اور خام خیالی میں مبتلا بھارت فی الوقت تواس اٹل حقیقت کو بھی بھول رہا ہے کہ کسی بھی دور کی کوئی بھی بڑی طاقت کسی بھی ابھرتے ہوئے یا دوسرے ملک کو اپنا ہم پلہ یا اپنے سے برتر بننے کی اجازت کبھی نہیں دیتی البتہ کوئی کمزور ملک وقت کے سہارے خود کو مضبوط کر کے دوسروں سے آگے نکل کر قیادت چھین لے تو اور بات ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ماضی کے دوست ملک اور معاشرے آنیوالے وقتوں میں ایک دوسرے کے تباہ کن دشمن بنے نظر آتے ہیں۔ بہرحال بھارت کی موجودہ سرکار کی ایک نئی خوش فہمی کی کیفیت اور حقائق کو سادہ اور عام فہم زبان میں پڑھ کر خود رائے قائم کریں۔ 14ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 69 واں سالانہ اجلاس قواعد کے مطابق ختم ہوگیا لہذا ایسے امور جو جنرل اسمبلی ایجنڈے پر ابھی مکمل نہیں ہوئے تھے انہیں نئے سالانہ یعنی 70 ویں اجلاس کے ایجنڈے میں منتقل یعنی رول اوور کردیا گیا۔ ان امور میں گزشتہ کئی سالوں سے اقوام متحدہ کی موجودہ 15 رکنی سلامتی کونسل میں توسیع کا معاملہ بھی زیر بحث اور نامکمل ہونے کے باعث ہر سال منتقل ہوتا چلا آرہا ہے ۔ سلامتی کونسل کی توسیع کی صورت میں بھارت کیساتھ ساتھ جرمنی، برازیل اور جنوبی افریقہ نئی مستقل نشستوں کیلئے امیدوار ہیں جنہیں G-4 اور بعض گینگ آف فولر بھی کہتے ہیں مگر ان کے مقابلے میں ان نشستوں کیلئے انہی کے براعظموں سے مخالف ممالک بھی امیدوار ہیں۔ بھارت بمقابلہ پاکستان، جاپان، جرمنی بمقابلہ اٹلی، برازیل بمقابلہ، میکسیکو اور جنوبی افریقہ بمقابلہ نائیجریا کی صورتحال ہے۔ اس علاقائی تضادات کی صورتحال کو ماضی میں ماہرین، سفارتکاروں جن میں پاکستان کے منیر اکرم اور موجودہ سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری سمیت پاکستانی اور اٹلی ودیگر ملکوں کے سفارتکار بھی شامل ہیں، کے صلاح مشوروں سے اختیار کردہ حکمت عملی نے سلامتی کونسل میں توسیع کا راستہ بڑی مضبوطی سے روکے رکھا اور مطالبہ بھی کیا کہ اقوام متحدہ کے ڈھانچے اور سلامتی کونسل میں توسیع اقوام متحدہ کے رکن ممالک اتفاق رائے سے فیصلوں کے ذریعے کریں۔

سالہا سال سے اس صورتحال میں کوئی تبدیلی نہ آنے سے پریشان بھارت اور اسکے ہمراہ جرمنی، برازیل اور جنوبی افریقہ نے جنرل اسمبلی کے صدر جو افریقی ملک یوگنڈا سے تعلق رکھتے ہیں ان کی شخصیت وحیثیت کی آڑ لیکر چھوٹے سے ملک جمیکا کے سفیر کو سلامتی کونسل کی توسیع کے سلسلے میں ایک معاون کے طور پر رپورٹ تیار کرنے کیلئے مقرر کیا۔ اس سفیر نے جو رپورٹ پیش کی اسے جنرل اسمبلی کے صدر نے سلامتی کونسل کی توسیع کے مسئلے پر ایک دستاویز قرار دیدیا جبکہ جنرل اسمبلی سے منظوری کے بغیر یہ رپورٹ دستاویز کا درجہ حاصل ہی نہیں کرسکتی۔ پاکستان ، اٹلی اور ممبر ملکوں کی ایک بڑی تعداد نے اس تمام کارروائی کو طریقہ کار اور قواعد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اختلاف کا اظہار آن دی ریکارڈ بھی کردیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی نہ تو دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے نہ ہی اس پر بحث ہوگی نہ ہی یہ کسی مذاکرات کی بنیاد بن سکتی ہے ابھی سلامتی کونسل میں توسیع کے اصول طے ہوئے نہیں تو دستاویز کہاں سے آگئی۔ لیکن مودی سرکار نے تو اپنے عوام کو ایک نئی خوش فہمی میں یہ کہہ کر مبتلا کردیا کہ سلامتی کونسل کی توسیع اور مستقل نشست کیلئے بھارت نے بڑی ہی اہم کامیابی حاصل کرلی۔ ثبوت کیلئے بھارتی میڈیا کی شہ سرخیوں والی خبریں آپ خود دیکھ لیں۔ ان رپورٹوں کو پڑھنے سے تاثر قائم ہوتا ہے کہ بس بھارت کو سلامتی کونسل کا ممبر بننے میں صرف چند لمحے باقی ہیں اقوام متحدہ کے ممالک کی بڑی اکثریت نہ تو اس بے ضابطہ غیر منظور شدہ رپورٹ کی حامی ہے نہ ہی اسے تسلیم کرتی ہے اور اسے دو تہائی رکن ممالک کی اکثریت کا ووٹ بھی ملنے کا کوئی امکان نہیں لیکن بھارت کی مودی سرکار نے بھارت میں یہ شور اٹھا دیا کہ بھارت کو سلامتی کونسل کی نشست ملنے میں بہت ہی بڑی کامیابی حاصل ہوگئی۔ مقصد بھارت اور سلامتی کونسل کی توسیع کے مخالفین کی نفسیاتی طور پر حوصلہ شکنی کرنا اور بھارتی عوام کو ایک نئے فریب میں مبتلا کر کے مودی سرکار کے امیج کو بڑھاوا دینا ہے۔

میں سلامتی کونسل میں توسیع کی تجویز پر اقوام متحدہ میں بحث ہوتے ہوئے گزشتہ 20 سال کے عرصے سے دیکھتا چلا آرہا ہوں اور ابھی تک ایسی توسیع کے اصول اور خدوخال طے نہیں ہوپائے اور اگلے 10 سال میں بھی توسیع کی صورت نظر نہیں آتی۔ مگر بھارتی عوام کو ایک خوش فہمی میں مبتلا کردیا گیا ہے۔ چند ایسے ٹھوس حقائق بھی ہیں جو سلامتی کونسل کی مستقل نشست کے بھارتی خواب کو خام خیالی اور خود فریبی سے آگے نہیں بڑھنے دیں گے

1۔ سلامتی کونسل کے موجودہ پانچ مستقل ممبر اپنے ویٹو کے اختیارات کو ختم یا کم کرنے یا دوسروں سے شیئر کرنے پر کیوں اور کیسے تیار ہوسکتے ہیں ؟ یہ پانچ ممالک امریکہ ، برطانیہ، روس، فرانس اور چین سلامتی کونسل پر اپنی اجارہ داری بذریعہ ویٹو پاور کو ختم یا کم کرنے کیلئے کیوں تیار ہوں گے

2۔ بھارت اور اس کے ساتھیوں کو معلوم ہے کہ جنرل اسمبلی میں انہیں مطلوبہ دوتہائی ممالک کی تائید نہیں ملے گی۔ ورنہ وہ اب تک اس تجویز کو جنرل اسمبلی میں پیش کر کے اور منظور کروا کر اب تک اسے ایک قانونی حیثیت دلوا چکے ہوتے۔

3۔ جنرل اسمبلی کے سبکدوش ہونیوالے صدر کا تعلق یوگنڈا سے ہے اور وہ سبکدوشی سے قبل اپنی کامیابیوں میں افریقہ کے مفادات کی ترجمانی کا ریکارڈ بنانا چاہتے تھے مگر ان کے بے ضابطہ اور متنازع اقدام نے تو افریقی ممالک میں مزید اختلافات پیدا کردیئے ہیں۔

4۔ پس پردہ تو امریکہ بھی سلامتی کونسل کی توسیع کرکے اپنی برتر ویٹو کی حیثیت میں مزید ممالک کی شیئرنگ کیخلاف ہے مگر خاموش کردار یوں ادا کررہا ہے کہ دوسرے بہت سے ممالک توسیع کا راستہ روکے بیٹھے ہیں۔

5۔ اس مسئلے پر اقوام متحدہ واضح طور پر دو موقف اور دو کیمپوں میں بٹی ہوئی ہے اور قواعد وضوابط کی دھاندلی سے پیدا رپورٹ کو بھی اکثریت ’’دستاویز‘‘ ماننے سے انکاری ہے۔ چین بھی عملاً خلاف ہے۔

6۔ غیر ممالک کے متعدد سفارتکار بھی یہی رائے رکھتے ہیں کہ بھارت کیلئے سلامتی کونسل کی توسیع اور نشست کا حصول گزشتہ پندرہ سال سے ناممکن چلا آرہا ہے اور مزید پندرہ سال تک توقع نظر بھی نہیں آتی۔

اس موضوع کے ہمارے لائق ترین سابق سفیر منیر اکرم بھی متعدد وجوہات بتاتے ہیں کہ عالمی طاقتیں، موجودہ ماحول اور مختلف خطوں کے ممالک کے اس بارے میں اختلافات ابھی کئی سالوں تک خواہشمند ملکوں کو اس کھیل میں مصروف رکھیں گی ۔ ہماری موجودہ سفیر برائے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ابھی تو کوئی دستاویز ہی نہیں جسے بنیاد بنا کر سلامتی کونسل کی توسیع کیلئے مذاکرات شروع کئے جائیں ۔ متعدد سینئر امریکی، برطانوی اور دیگر صحافی جو میرے ساتھ سالہا سال تک توسیع کے اس معاملے کی عالمی نیوز ایجنسی اور ٹی وی نیٹ ورکس کیلئے کوریج کرتے رہے ہیں وہ بھی بھارت سرکار اور بھارتی میڈیا کی اس خوش فہمی اور خام خیالی پر مبنی شہ سرخیوں پر ہنس رہے ہیں کہ اتنے اہم عالمی نوعیت کے معاملے پر بھارتی سرکار نے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے اور اپنے امیج کی خاطر غلط بیانی کرکے عوام کو نئی توقعات اور خوش فہمی میں مبتلا کردیا ۔ وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ اقوام متحدہ کو بھی اس حوالے سے اب کسی بھارتی شرانگیزی کاسامنا نہیں کرنا پڑیگا۔ مگر ایک حقیقت واضح رہے کہ عالمی صورتحال بدلتے دیر نہیں لگتی۔ بھارت نے بحرالکاہل میں واقع چھوٹے جزائر میں سرمایہ کاری کا پروگرام بنایا ہے۔ ایک ملک ایک ووٹ سے صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔

--------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں