ذاتی تشہیر کا نشہ

یاسر پیرزادہ
یاسر پیرزادہ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

امریکہ کی ایک مشہور زمانہ کمپنی ہے، وال مارٹ۔ دنیا کے اٹھائیس ممالک میں شمالی امریکہ سے لیکر ایشیا تک اس کے گیارہ ہزار اسٹورز ہیں جن میں بائیس لاکھ ملازمین کام کرتے ہیں، اس اعتبار سے یہ نجی شعبے میں ملازمتیں فراہم کرنیوالا دنیا کا سب سے بڑا ادارہ ہے، ایک برگر بنانے والی کمپنی کا نمبر اسکے بعد آتا ہے۔ پچاسی ارب ڈالر سرمائے کی اس کمپنی کے اثاثوں کی مالیت تقریباً دو سو ارب ڈالر اور سالانہ خالص منافع لگ بھگ سولہ ارب ڈالر ہے۔ مگر کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ ان کے مالکان دنیا میں جگہ جگہ اپنے اسٹورز میں چھاپے مارتے ہوں اور اپنے ملازمین کو چوری یا فراڈ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑ کر ملازمت سے فارغ کر دیتے ہوں؟ وال مارٹ یا ایسی کسی بھی کمپنی کے مالکان کیا ہر وقت اپنے ملازمین کے سر پر کھڑے ہو کر ان سے کام لیتے ہیں؟ کیا یہ کمپنیاں چھاپہ مار ماڈل کے تحت کام کرتی ہیں؟ جب بھی یہ کمپنیاں دنیا میں اپنی کوئی نئی فیکٹری، آفس، اسٹور یا کافی شاپ کھولتی ہیں تو کیا کمپنی کے مالکان میں سے کوئی موقع پر پہنچ کر سریا ، لوہا یا سیمنٹ کی مقدار چیک کرتا ہے؟ یقیناً ایسا نہیں ہوتا۔ ان بڑی کمپنیوں کی کیا بات، ان سے کئی گنا چھوٹے حجم کی کمپنیاں بھی اس قسم کی مضحکہ خیز حرکتیں نہیں کرتیں کیونکہ ملازمین سے کام لینے اور منافع کمانے کے ایسے طریقے دنیا بھر میں رائج ہیں جن پر یہ کمپنیاں عمل کرتی ہیں اور یوں انہیں کوئی چھاپہ مار اسٹرٹیجی نہیں اپنانی پڑتی۔ اس کے کل ملازمین کی تعداد پوری پنجاب حکومت کے ملازمین سے زیادہ ہے لیکن اگر آج اس کا مالک مائیکرو مینجمنٹ شروع کر دے تو چند دنوں میں وہ نہ صرف دیوالیہ ہو جائیگا بلکہ نیم پاگل ہو کر جنگلوں میں نکل جائیگا اور پھر باقی کی زندگی کسی آشرم میں سادھو بن کر گزار دیگا۔

مگر ہم اس قدر باکمال لوگ ہیں کہ مائیکرو مینجمنٹ بھی کرتے ہیں اور نارمل بھی رہتے ہیں مگر اس ’’نارمیلٹی‘‘ کی قیمت عوام کو یوں چکانی پڑتی ہے کہ ایک اسکول میں ڈینگی کا سپرے ڈھنگ سے نہیں کروا سکتے، ناجائز تجاوزات مسمار نہیں کر سکتے، آبادی پر قابو پانے کی پالیسی کسی انڈر پاس کے نیچے دفن ہو چکی ہے، مردم شماری کے ہجے تک کسی کو یاد نہیں اور دعویٰ ہمارا یہ ہے کہ گڈ گورننس کا چشمہ یہیں سے پھوٹتا ہے۔ خرابی کا جنم تب ہوتا ہے جب مقصد صرف ایک شخص کی امیج بلڈنگ ہو، چنانچہ ہر وہ کام کیا جاتا ہے جس کی تشہیر ہو سکے، جس پر عوام واہ واہ کر سکیں، بھلے اس کے نتیجے میں گورننس کا بیڑہ غرق ہو جائے۔ مثلاً پنجاب کے دو اضلاع کے اسکولوں میں غلط ڈینگی سپرے سے سو سے زائد طالبات بیہوش ہو گئیں، بظاہر قصور ہیڈ مسٹریس کا تھا جس بیچاری نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود ہی ڈینگی اسپرے کروا لیا کیونکہ ڈینگی کا ہوّا ہی ایسا ہے مگر جونہی یہ خبر آئی، اسکے فوراً بعد اسکول کے چوکیدار، ہیڈ مسٹریس اور اسپرے فروخت کرنے والے دکاندار کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ سیکرٹری صحت، بلدیات اور اسکولز کو او ایس ڈی بنا دیا گیا، ڈی جی صحت، ڈین پبلک ہیلتھ، ڈی سی اوز، ای ڈی اوز، متعلقہ اے سی وغیرہ تمام افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ پورا اپریٹس اڑانے سے کیا مسئلہ حل ہوا؟ ڈینگی کی وبا کو تین سال ہو گئے ہیں، کیا اب تک آ پ کوئی Standard Operating Procedure نہیں بنا سکے کہ کس طرح ہر سال اسکولوں میں ڈینگی اسپرے کیا جائے گا؟ اور اگر ایسا کوئی SoP ہے تو اسے سامنے رکھ کر ذمہ داروں کا تعین کریں اور صرف متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں، اور اگر تین سال میں کوئی SoP نہیں بنا تو پھر گورننس کی فاتحہ پڑھ لیں اور پبلسٹی اسٹنٹ صرف انیل کپور کے لئے رہنے دیں جس نے ایک فلم میں چوبیس گھنٹے کا وزیر اعلیٰ بننے کا کردار نبھایا تھا اور پوری فلم میں ایسی ہی مضحکہ خیز معطلیاں کی تھیں۔ بدقسمتی سے صوبوں یا وفاق، کہیں بھی کسی کا مقصد کوئی سسٹم بنانا نہیں بلکہ اپنی ذات کی تشہیر کرنا ہے، اسکا تباہ کن نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکمرانوں کو شیش محل میں چاروں طرف اپنی ہی تصویر نظر آتی ہے، وہ خود کو عقل کل سمجھنے لگتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہیں عوام نے بطور وزیر اعلیٰ منتخب کیا ہے بطور ہائی وے ایکسپرٹ نہیں، ان کا کام ایسی پالیسیاں اور سسٹم وضع کرنا ہے جو ان کے جانے کے بعد بھی چلتی رہیں نہ کہ روزانہ کی بنیاد پر ’’ڈانگ سوٹا‘‘ کرنا (انگریزی میں جسے فائر فائٹنگ کہتے ہیں)۔ یہ درست ہے کہ کہیں کہیں ایسی کاوش کی گئی ہے جس کے مثبت نتائج نکلے ہیں جیسے لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم جسکے تحت آپ کمپیوٹرائزڈ طریقے سے انتقال اراضی کروا سکتے ہیں، پٹواری کا کردار ختم کر دیا گیا ہے، بلاشبہ یہ بہت بڑا کام ہے مگر بھلا ہو میڈیا ٹیم کا جسے اس کام کا کریڈٹ ہی لینا نہیں آیا۔

اسی طرح لاہور کے کچھ تھانوں میں ہاورڈ کا تعلیم یافتہ حسین حبیب نام کا افسر ایسا ماحول تشکیل دینے میں کامیاب ہو گیا ہے جو ہم صرف مغربی ممالک میں سنا کرتے تھے، یہاں نوجوان لڑکے لڑکیاں بھرتی کئے گئے ہیں، جو سائل کی شکایت کمپیوٹر میں درج کرتے ہیں، جس کے بعد ایس ایم ایس اور ای میل کے ذریعے سائل کو اس کے کیس کے بارے میں اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے، کوئی کاغذ کے دستے کے پیسے مانگتا ہے نہ ایف آئی آر درج کرنے کے لئے آئی جی کو ڈھونڈنا پڑتا ہے، یہ نظام ابھی چند تھانوں میں بطور پائلٹ پروجیکٹ کام کر رہا ہے۔ اکا دکا مثالیں اور بھی ہیں مگر ناکافی ہیں اور ان مثالوں کی مٹی اس وقت پلید ہو جاتی ہے جب پورے شہر کی رن وے جیسی کارپٹڈ سڑکیں ادھیڑ کر دوبارہ تعمیر کی جاتی ہیں اور کوئی نہیں پوچھتا کہ جناب ہمارا شہر ہے، ہمارا بجٹ ہے، کس اتھارٹی کے تحت آپ نے یہ کام کیا کیونکہ شہری حکومت نام کی کسی شے سے ہم واقف ہیں نہ اس کے بننے کے بعد کوئی اہمیت ہوگی۔ چونی خرچ کرنے سے لے کر چپراسی بھرتی کرنے تک تمام اختیار ہم ہی نے سنبھال رکھا ہے، اسمبلی کے ممبران ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں، منتیں کرتے ہیں، پھر انہیں ترقیاتی کاموں کا بجٹ جاری کیا جاتا ہے وہ بھی اس صورت میں اگر انہیں ملاقات کا وقت مل جائے!

ذاتی تشہیر میں آج کل اور بھی بہت سے لوگ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ امیج بلڈنگ اس قدر براہ راست ہو رہی ہے کہ اس کا مقصد ہی فوت ہو گیا ہے کیونکہ امیج بلڈنگ کا پہلا اصول یہ ہوتا ہے کہ پتہ ہی نہ چلنے پائے کہ امیج بلڈنگ کی جا رہی ہے، جبکہ اب تو یہ حال ہو گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس کے لطیفے بننے شروع ہو گئے ہیں۔ ہمیں اس امیج بلڈنگ پر بھی اعتراض نہیں بشرطیکہ اس کا مقصد نیک ہو!

نوٹ: اگر آپ کو یہ کالم پسند آ جائے تو سیلوٹ مار کر اس کا کریڈٹ انہی صاحب کو دے دیجئے گا جنہیں آج کل ہم ہر کام کا کریڈٹ دے رہے ہیں اور اگر ناپسند آئے تو اس کی ذمہ دار بہرحال سول حکومت ہی ہوگی۔

--------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں