.

شامی بچے کے ڈوبنے پہ دنیا بولی، ہم نہیں بولے؟

کشور ناہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہندوستان، پاکستان میں بجرنگی بھائی جان بہت مقبول ہوئی۔ ہرچند تکنیکی طور پر اور موسیقی کی بنا پر یہ کوئی اچھی فلم نہیں تھی۔ سوال پھر پیدا ہوتا ہے کہ مقبولیت کا سبب کیا تھا۔ جگہ جگہ اشارتاً بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستانی عوام انسانیت کی سطح پر ایک دوسرے سے نہ صرف تعاون کرتے ہیں بلکہ محبت بھی کرتے ہیں۔ اس طرح کا ردعمل اس وقت بھی دیکھنے کو ملتا ہے جب پاکستانی ہندوستان جائیں یا بھارتی پاکستان آئیں۔ سبب یہ ہے کہ دونوں قومیں 1965ء اور 1971ء کے علاوہ کارگل کے موقع پر دونوں طرف کی افواج اور عوام کے نقصان کے بعد، آخر کو چاہے شملہ معاہدہ ہو کہ امریکی دبائو، اس نتیجے پہ پہنچی ہیں کہ معاملات جنگ سے نہیں، ایک دوسرے سے گفتگو کرنے سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔ رہا یہ دھمکیاں دینا کہ ہمارے پاس ایٹم بم ہے تو یہ کھیل کھیلنے کے بعد ، کون بچے گا جس کے ساتھ تم یا میں مذاکرات کریں گے۔

پیچھے مڑ کر دیکھیں تو چاہے پہلی جنگ عظیم ہو کہ دوسری، یہ بات تو ماننے کی ہے کہ لاکھوں لوگوں کو مار کر بے گھر کر کے بھی، مصالحت کا راستہ اختیار کرنا پڑا تھا۔ دو سال ہوئے، دونوں ملکوں یعنی پاک۔ بھارت کو تجربہ کرنا پڑا کہ اگر دونوں کشمیر کی جانب سے بارڈر پر ہی ویزا دیکر، کشمیریوں کی آمدورفت شروع کی جائے تو کیسا رہے گا۔ کیا یہ لو گ اس فیصلے کو قبول کرینگے، فوری تجربہ یہ بتاتا ہے کہ نہ صرف آمدورفت بڑھی بلکہ دونوں حصوں کے درمیان، بھولے ہوئے رشتہ داروں کیساتھ شادی بیاہ بھی طے ہوئے چونکہ یہ بھی اجازت ملی تھی کہ دونوں ملکوں کے درمیان (کشمیر ہی میں) تجارت کو بھی فروغ دیا جائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام آباد میں خواتین پھلوں والوں سے پوچھ رہی تھیں ۔ ’’ آپکے پاس سرینگر کے سیب آئے ہیں‘‘۔

ہندوستان میں دلی سے لیکر امرتسر تک ’’چور بازار‘‘ ہیں۔ وہاں پاکستان کے ہر طرح یعنی گرمیوں، سردیوں کے اور ڈیزائنر سوٹ اور پھر ان کی خریداری دیکھی جائے تو بالکل وہی منظر ہوتا ہے جو پاکستان میں چولی لہنگا اور شادی کے انڈین ڈریس خریدنے کیلئے، عورتوں کا بے پناہ رش ہوتا ہے۔ صنعتی چور بازار میں سائیکلوں کے پرزے ، سائیکلیں اور انڈین کاسمیٹکس، شاندار دکانوں میں فخریہ فروخت کی جاتی ہیں۔ اسی طرح انڈین دوائیاں ، پاکستان میں اور پاکستانی پرفیومز، ہندوستان میں بہت مقبول ہیں۔ دورکیوں جائیں، ایک دوسرے کے ملک کے آلو، ٹماٹر، ادرک کے علاوہ نمکو کے پیکٹ ہلدی اور پاکستان کے مصالحے ہندوستان میں فروخت ہو رہے ہیں۔ ابھی یہ عالم ہے کہ دونوں ملکوں میں تجارتی مراسم نہیں ہیں۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ جب مشرقی اور مغربی برلن ، دو حصوں میں تقسیم تھا تو پاکستانی سفارت خانے کے لوگ مغربی برلن کی سرحد پر سبزیاں تک خریدنے جاتے تھے کہ وہاں بہت سستی ملتی تھیں، انہیں شاید اور کام نہیں تھا۔

ویسے دونوں ملکوں کی چاہے فوج ہو کہ سیاست دان، عوام کی طرح نہ کبھی سوچتے ہیں اور نہ سوچیں گے۔ ہندوستان میںتو مودی کی حکومت کے بعد یہ عالم ہے کہ اورنگ زیب روڈ کو ابوالکلام روڈ کا نام دیدیا ہے۔ ذات پات تو وہاں پہلے ہی کم نہ تھی۔ اب گجرات میں پٹیل ذات کے لوگوں نے حکومت کے غلط رویوں کیخلاف ہڑتالیں شروع کی ہوئی ہیں۔ کرن تھاپر ،ہندوستان کے بہت اہم اینکر پرسن ہیں۔ انہوں نے سرتاج عزیز کی گفتگو کی تعریف کردی ہے تو سارے دوسرے اینکرز ان کے پیچھے پڑگئے ہیں۔ اس وقت معیشت کا یہ حال ہے کہ 15کروڑ ورکرز ہڑتال پر ہیں۔ نائب صدر انصاری صاحب نے مسلمانوں سے متعلق مناسب نظریات کیلئے کہہ دیا ہے، ادھر انکے خلاف طوفان برپا ہے کہ آخر مسلمانوں کیلئے خاص کر کیوں بولے ہیں۔ ابھی میں نے پاکستانیوں کی حالت پہ تو نظر ڈالی بھی نہیں۔ ادھر وہ بندے مارتے ہیں۔ ادھر ہم باز نہیں آتے۔ ایک شخص کے کہنے پر ہم انڈین فلم سنسر کردیتے ہیں حالانکہ ایکٹنگ کے لحاظ سے وہ ایک ناکارہ فلم ہے۔ ساری میوزک کی دکانوں پر انڈین گانے اور فلمیں تو اس وقت سے دستیاب ہیں جبکہ جماعت اسلامی اور ضیاء الحق کی حکومت تھی۔

ہم دونوں ملک کب تک یہ جتاتےرہیںگے۔ تمہارے بندے ہم نے زیادہ مارے اور تم کو شکست ہوئی۔ معلوم نہیں، دونوں میں سے کون جیتا اور کون ہارا۔ یہ سچ ہے کہ دونوں ملکوں کی سرحدوں کو شملہ معاہدے نے بچایا۔ اس زمانے میں ہندوستان میں جبکہ ایک ہندو گروہ نے ایک مسلمان صحافی کو رامائن پہ کالم لکھنے سے منع ہی نہیں کیا، روک دیا ہے۔یہ وہ زمانہ ہے جبکہ شامی مہاجرین جوکہ اسی ہزار ہیں، ان کو جرمنی ، آسٹریا اور ہنگری پناہ دے رہے ہیں۔ کوئی بھی تو ایک اسلامی ملک زبان نہیں کھول رہا کہ ہم پناہ دیں گے۔ وہ بولیں گے کیسے کہ ان کے حملوں کے تواتر سے بھاگ کر، لوگ مہاجر ہوئے ہیں۔ جنگ ختم کرانے کیلئے امریکا بھی نہیں بول رہا ۔ ہمارے دونوں ملکوں کے مظلوم کشمیریوں کے مرنے پر سیکورٹی کونسل بھی نہیں بول رہی ۔ جنگی جنون پھیلتا جا رہا ہے۔الزام تراشیاں جاری ہیں۔ بہت ہوگئی بدزبانی۔ دونوں ملک اپنے بچوں کو امن اور خوشحالی کی سمت لیکر چلیں۔ ہندوستان میں خاص کر پنجاب میں کسان خودکشیاں کرتے ہیں۔ ہمارے پنجاب میں سیلاب میں اجڑنے کے باعث کسان کبھی اپنے آلو، کبھی دودھ، اور کبھی غصے میں فصلوں کو آگ لگا رہے ہیں۔ یہ جنون کی کیفیت ہے۔ عوام کو کون بچائے گا! -
-------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.