.

کیا روسی بشارالاسد کو ایران سے بچا رہے ہیں؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد اور ان کے اتحادی ایرانی رجیم کے درمیان کچھ وقت کے لیے عدم توافق پیدا ہوا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعلقات ایک طویل عرصے تک قائم رہے ہیں اور ایرانیوں کی بدولت ہی بشارالاسد اور ان کی حکومت مکمل طور پر منہدم ہونے سے محفوظ رہی ہے۔

ایرانیوں نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی ملیشیاؤں پر مشتمل ایک بڑی فوج تشکیل دی تھی اور وہ شامی فوج کے ساتھ مل کر باغی جنگجو گروپوں کے خلاف لڑ رہی ہے کیونکہ شام کی اپنی فوج کو افسروں اور جوانوں کے منحرف ہونے اور ہلاکتوں کی وجہ سے تعداد کی کمی کا سامنا تھا۔

شام میں روس کی سرگرمی

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ روسی صدر ولادی میرپوتین ذاتی طور پر اور بڑے محتاط انداز میں شامی بحران کے حل کے لیے معاملہ کررہے ہیں۔ پھر امریکی انٹیلی جنس کی تصاویر سے بھی شام میں روسی سرگرمی کا انکشاف ہوا ہے۔اس فوٹیج کے مطابق اللاذقیہ کے ہوائی اڈے پر ایک رن وے اور ہیلی کاپٹروں کے لیے فضائی پٹی کا اضافہ کردیا گیا ہے۔طیاروں کے لیے شیلٹر بنا دیے گئے ہیں اور یوں ایک سویلین ائیرپورٹ کو فوجی اڈے میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ روسی دمشق کے نزدیک واقع ایک اور ائیربیس کو بھی استعمال کررہے ہیں۔روس سے سیکڑوں پری فیبریکیٹڈ عمارتوں کی شام میں آمد ہوچکی ہے اور غالباً ان میں دوہزار سے زیادہ روسی فوجی قیام کریں گے۔امریکا کو شام میں روس کی سرگرمیوں سے متعلق تشویش میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب روسیوں نے متعدد ممالک کو ان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت کے حصول کے لیے درخواستیں دی تھیں۔

اس بات کی بھی تصدیق ہوچکی ہے کہ روسی شامی شہر طرطوس کو بھی اپنے بحری فوجی اڈے میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس سے پہلے یہ بندرگاہ صرف ایک گیس اسٹیشن تھی اور یہاں روس کے بحری جہازوں کی مرمت ہوتی تھی۔

ماسکو کے ارادے

چنانچہ روس کے ارادے کیا ہیں؟کیا یہ نیٹو کے خلاف فوجی سرگرمی ہے؟کیا یہ بشارالاسد کو گرنے سے بچانے کی کوشش کی ہے؟یا کیا یہ شام کو تقسیم کرنے کا منصوبہ ہے جس کے تحت بشارالاسد اور ان کے رجیم کے لیے ساحلی علاقوں میں ایک علوی ریاست قائم کردی جائے گی۔

روزنامہ الحیاۃ میں بدھ کو شائع شدہ ایک مضمون میں ابراہیم الحمیدی نے اس صورت حال کا مختلف انداز میں تجزیہ کیا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ روس کی فوجی مداخلت کا منصوبہ دراصل بشارالاسد کو بچانے کے لیے ہے لیکن یہ داعش یا مسلح شامی حزب اختلاف سے بچانے کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ انھیں ان کے اتحادی ایران سے بچانا چاہتا ہے۔

ابراہیم الحمیدی کا نقطہ نظر دراصل ایران اور شام کے درمیان باہمی تعاون کی ایک مختلف کہانی بیان کرتا ہے۔تاہم ان کا مضمون دلچسپ اور اہم ہے۔ان کا اندازہ یہ ہے کہ ایرانی ایک کم زور بشارالاسد کو ایک طرف کرکے امریکا کے ساتھ کوئی معاملہ کاری کرنا چاہتے ہیں اور روس کی اس وقت یوکرین بحران کی وجہ سے امریکا کے ساتھ کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ایران اور روس کے درمیان کشیدگی

الحمیدی کا کہنا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان بھی تنازعہ پایاجاتا ہے اور اول الذکر ملک موخرالذکر کے منصوبوں کی مخالفت کررہا ہے۔وہ سیاسی اور ڈیموگرافک تبدیلی کے لیے کوشش کررہے ہیں۔روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے اس عمل کو سماجی انجنیئیرنگ کا نام دیا ہے۔

ایران نے شام میں شیعہ آبادی والے دو قصبوں کے مکینوں کے باہمی تبادلے کی کوشش کی ہے۔انھیں شام کے قصبے الزبدانی میں منتقل کیا ہے اوران قصبوں کو سنی مکینوں کے لیے چھوڑ دیا ہے۔

تاہم میرے خیال میں ایران کی بالادستی کا نظریہ یقینی طور پر ڈیمو گرافی (آبادی) ہی کہ وجہ سے ناکامی سے دوچار ہوگا۔شام میں شیعہ بہت تھوڑی اقلیت میں ہیں۔ان کی تعداد محض پانچ فی صد ہے اور سنیوں کی غالب اکثریت ہے ۔وہ ملکی آبادی کا قریباً 80 فی صد ہیں۔عراق اور لبنان میں معاملہ اس کے برعکس تھا۔آج تک شام میں ایران کی ناکامی کی یہی وجہ ہے۔ایران نے بشارالاسد رجیم کو شام میں عوامی احتجاجی تحریک سے قبل کی سطح پر بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ ہر طرح کی کوشش اور سرمایہ کاری کے باوجود اس میں ناکام رہا ہے۔

غیرملکی طاقتیں شام میں مشکل منصوبوں کے ساتھ آرہی ہیں اور ان کا حصول شاید ناممکن ہے۔مثال کے طور وہ باہم دشمنوں کو ایک حکومت کی چھتری تلے اکٹھا کرنا چاہتی ہیں۔دوسرا منصوبہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ داعش ہی کو واحد دشمن خیال کریں۔تیسرا منصوبہ یہ ہے کہ شام کو تقسیم کردیا جائے اور بحرمتوسطہ کے ساحل کے ساتھ ساتھ ایک علوی یا اقلیتی ریاست قائم کردی جائے۔

ایران اور روس نے گذشتہ چار سال کے دوران ایک منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ بشارالاسد کی حکمرانی کو بچانا ہے۔تاہم انھیں اس کے ناممکن ہونے کا پتا چل گیا تھا کیونکہ شامی نہ تو متحد ہیں،ان کی کوئی متحدہ فوج ہے اور نہ کوئی سکیورٹی فورس ہے۔

بشارالاسد کی دشمنی میں بھی اضافہ ہوا ہے کیونکہ وہ ملک میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ ہلاکتوں کے ذمے دار ہیں۔سب سے آسان منصوبہ تو یہ ہوگا کہ انھیں اقتدار سے نکال باہر کیا جائے لیکن کس کے حق میں؟یہ منصوبہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگاجب تک شام کی مسلح اپوزیشن کو حکمرانی کی ذمے داری نہیں سونپ دی جاتی اور اس کے لیے عربوں ،ایرانیوں اور ترکوں کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔شامی حقیقت بہت مشکل بن چکی ہے اور اگر یہ بات درست ہے کہ ایران اور روس کے درمیان تنازعہ پایا جاتا ہے تو پھر یہ بحران مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔

ایران کے ساتھ چھے بڑی طاقتوں کے معاہدے پر عمل درآمد کے بعد مشرقِ وسطیٰ تبدیل ہوجائے گا۔ایران سیاسی طور پر روس کی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے امریکا کی جانب رُخ موڑ سکتا ہے۔شاید اسی وجہ سے ولادی میر پوتین نے حفظ ماتقدم کے طور پر اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے اور انھوں نے از خود ہی ایک حل تجویز کر لیا ہے۔

وہ بشارالاسد اور حزب اختلاف کی بعض قوتوں پر مشتمل ایک نظم حکمرانی تشکیل دینا چاہتے ہیں جس کا روسی فورسز تحفظ کریں گی اور اس میں ایران کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی ،پاسداران انقلاب ایران ،حزب اللہ اور باقی افغان اور عراقی شیعہ ملیشیاؤں کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔

----------------------------------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوزچینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.