.

تھوڑی بہت جمہوریت

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پندرہ ستمبر انٹر نیشنل ڈیموکریسی ڈے کے طور پر منایا گیا۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ عین اُس دن عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بدعنوان سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کا احتساب کرنے کیلئے رینجرز (گویا فوج) کوآواز دے دی۔ اُنکے اس غیر معمولی بیان کی تمام سیاسی حلقوں کی طرف سے مذمت کی گئی کیونکہ دفاعی اداروں کو احتساب کی دعوت دینا جمہوریت اور سیاسی عمل پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔ یہ بات اس لئے بھی افسوس ناک ہے کہ ایک طویل عرصے تک ملک میں فوجی حکومتیں موجود رہیں، اُنھوں نے ملک میں دہشت گردی، فرقہ واریت اور بنیاد پرستی کے بیج بوئے، لیکن ظاہر ہے کہ اُن کا احتساب نہ کیا جاسکا، لیکن اب جبکہ ملک میں جمہوری عمل اپنی جڑ پکڑنے ہی لگا ہے کہ ایک مرتبہ پھر غیر جمہوری طاقتوں کو احتساب کی دعوت دی جارہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی جمہوریت ایک ’’گلا سڑا‘‘ نظام ہے، لیکن یہ پھر بھی فاشزم، کیمونزم، بادشاہت، اسلامی اورفوجی آمریت سے بدرجہا بہتر ہے۔ اگر جمہوری نظام کو کسی بیرونی مداخلت کے بغیر چلنے کا موقع دیا جائے تو، جیسا کہ مغربی ممالک میں دیکھنے میں آیا، یہ اپنا داخلی احتسابی نظام خود ہی وضع کرلیتا ہے۔ بلاشبہ ہندوستان میں، جو عمر میں بھی پاکستان جتنا ہے اور بدعنوانی میں کسی طور کم نہیں ، جمہوری عمل کے تسلسل کی وجہ سے چارسو ملین افراد پر محیط تعلیم یافتہ درمیانہ طبقہ وجود میں آ چکا ہے ۔ اس توانا ہوتے ہوئے طبقے نے وہاں ایک مضبوط اور جاندار قوم تشکیل دی اور استحکام پذیرمعاشی ترقی کو یقینی بنایا ۔ جمہوریت کے بغیر جدید دنیا میں قوم سازی کے مراحل طے کرنا ممکن نہیں۔

عمران خان کی جمہوریت سے مایوسی اور وردی پوشوںکی طرف رغبت اشرافیہ اور شہری علاقوں میں رہنے والے درمیانے طبقے کے کچھ حصوںکے دل کی صدا رہی ہے ، لیکن کیا جانیوالا ایک حالیہ سروے ظاہرکرتا ہے کہ ساٹھ فیصد سے زائد پاکستانی جمہوریت کے حامی ہیں۔باایں ہمہ اس وقت ملک کی سب سی مقبول شخصیت آرمی چیف، جنرل راحیل شریف ہیں۔ اُنہیں کراچی سے لیکر فاٹا تک پاکستان کے وجود کیلئے خطرہ بن جانے والی دہشت گردی کو چیلنج کرنے پر خراج ِ تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ اسکے باوجود زیادہ تر پاکستانی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔ عوامی جذبات کا جھکائو جمہوریت کی طرف ہے حالانکہ جمہوریت کی بات کرنیوالوں نے اسے زک پہنچانے میںکوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس وقت ایم کیو ایم سندھ میں پی پی پی اور مرکز میں پی ایم ایل (ن) کے خلاف احتجاج کررہی ہے۔

پی پی پی کو کراچی میں ایم کیو ایم کے ساتھ اور پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کے ساتھ مسائل ہیں۔ جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے تو اس کے حملوں کی زد میں ایم کیو ایم، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) ہیں۔ چھوٹی جماعتیںجنرل پرویز مشرف، جنھوں نے خود کو ایک متعدل مزاج شخص کے طور پر پیش کیا تھا، کے گرد جمع ہوتی دکھائی دے رہی ہیں ۔ اس وقت مشرف کو غداری اور قتل کے مقدمات کا سامنا ہے ۔ جمہوریت کیلئے ناگزیرعامل، آزاد اور فعال سمجھا جانے والا میڈیااسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا لیکن سیاست دان سامنے ہوں تو ان کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میںپارلیمانی جمہوریت کو اصلاح کی فوری ضرورت ہے ۔ پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ سے استعفے دے دئیے، اس کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلق کی خاک اُڑی اور یہ پھر پارلیمنٹ میں لوٹ آئی۔ اب ایم کیو ایم نے بھی فوج کیساتھ تنائو کی وجہ سے استعفے دے دئیے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرنے کے بعد پی پی پی بھی زخموںسے تلملا رہی تھی لیکن اس نے بہتر سمجھاکہ وہ مقتدر ادارے کی بجائے پی ایم ایل (ن) پر اپنا غصہ نکال لے کیونکہ اگر دفاعی اداروں کو تائو آگیا تو سب کا نقصان ہوجائیگا۔ اس دوران پارلیمنٹ میںا سپیکر کا عہدہ خالی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پی ایم ایل (ن) کے پاس ایاز صادق کی جگہ پُر کرنے کیلئے کوئی موزوں امیدوار نہیں ۔ تاہم حکمران جماعت کو امید ہے کہ ستر دن بعد ہونے والے ضمنی الیکشن میں ایاز صادق جیت کر دوبارہ اپنے منصب پر بحال ہو جائیںگے۔ اگر سندھ میں تنائو کی وجہ سے پی پی پی بھی استعفے دے دیتی تو پھر پی ٹی آئی بھی دبائو بڑھاتے ہوئے وسط مدتی انتخابات کا مطالبہ کرتی۔ اگر ایسا نہ ہوپاتا تو پھر ’’نظام کو بچانے‘‘ کیلئے مقتدرہ ادارے کو کسی نہ کسی قسم کی مداخلت کرنی پڑتی۔

حکمران جماعت، پی ایم ایل (ن) کم وبیش دیوار کے ساتھ لگ چکی ہے۔ سندھ دھمکی دے رہا ہے کہ وہ پنجاب کو گیس کی سپلائی روک دے گا۔ پی ایم ایل (ن) حکومت کے تحت چلنے والے ترقیاتی منصوبے خطرے کی زد میں ہیں۔ پنجاب میں نندی پور پاور پروجیکٹ اور سوات میں مندا ڈیم بدعنوانی ، نااہلی اورافسر شاہی کے روایتی حربوں کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں۔ ان کی وجہ سے حکومت کو بے پناہ تنقید کا سامنا ہے۔ ملک میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کی وجہ سے درمیانی درجے کی صنعت مفلوج ہوچکی ہے۔ سرخ میٹرو اور اورنج ریلوے منصوبوں کے بارے میں عوام کے جذبات پر سرد پانی پڑ چکا ہے۔ دوسری طرف ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈ ی کا کردار ادا کرنے والے کسان سراپا احتجاج ہیں۔ وہ زرعی پیداوار کے اچھے دام چاہتے ہیں تو دوسری طرف تاجر ٹیکس ادا کرنے کیلئے تیار نہیں۔

جب وزیر ِاعلیٰ پنجاب، شہباز شریف اور وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہو، یا وزیر ِد اخلہ اور وزیر ِ اعظم کے درمیان تنائو کا تاثر ملے توعوام کا مورال بلند ہونے کی کوئی معقول وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ پنجاب اور سندھ میںمقامی حکومتوں کیلئے ہونے والے انتخابات کا شیڈول طے ہوچکا۔ ان کی وجہ سے سندھ میں پی پی پی اور ایم کیوایم اور پنجاب میں پی ٹی آئی اور پی ایم ایل (ن) کے درمیان درجہ حرارت بڑھے گا۔ اگر ان انتخابات میں ویسا ہی ماحول بن گیا جیسے چند ماہ پہلے ، انتخابات کے موقع پر، خیبر پختونخوا میں دکھائی دیا تھا تو اس سے جمہوریت مخالف جذبات میں شدت آجائے گی۔ 2013ء کے انتخابات کے نتائج 2014ء کے دھرنے کا باعث بنے تھے۔ اُس وقت ’’تیسرے امپائر ‘‘، جوڈیشل کمیشن، الیکشن کمیشن کے استعفے اور وسط مدتی انتخابات کی باتیں سننے کو ملی تھیں۔ 2015ء میں خیبر پختونخوا میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں خون بہتا دکھائی دیا۔ اگر دوبارہ ایسا ہوا تو پھر شاید کوئی ’’گھڑسوار‘‘آکر تمام سیاسی گند صاف کرنے کی مہم شروع کردیگا۔تاہم یہ منظر ہمارے لئے نیا نہیں۔ اس سے مزید خرابیاں جنم لیں گی۔ ان مسائل کا بہترین حل یہی ہے کہ جمہوری عمل کو جاری رکھا جائے ۔ یہ اپنا احتساب خود کرلے گی۔ ہمیں اس وقت یقین اور صبر، دونوں کی ضرورت ہے۔

---------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.