.

جنگ ستمبر کی چند یادداشتیں

انجم نیاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنے پچھلے کالم میں ہم نے جنگ ستمبر کا ذکر کیا تھا۔ دو واقعات کے بیان میں ہم سے کچھ غلطی ہوئی تھی جس کی تصحیح ہمارے مہربان دوست ایئر کموڈور (ر) سجاد حیدر نے فرمائی ہے۔ ہم نے پچھلے کالم میں بھی بتایا تھا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے سجاد حیدر صاحب ستارہ جرآت سے نوازے جا چکے ہیں اور وہ اپنے زمانے کے ماہر ترین ہوابازوں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ہمیں لکھا کہ ایسا کوئی ریکارڈ موجود نہیں جو 5 ستمبر کو پنڈی یا پاکستان میں کہیں بھی ہماری فضائی حدود میں بھارتی دراندازی کا پتا دیتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ 6 ستمبر کو صبح گیارہ بجے بھارت نے وزیر آباد کے قریب ایک ٹرین کو نشانہ بنایا تھا اور یہی وہ واقعہ تھا جس نے صدر ایوب کی آنکھیں کھولیں۔ 5 ستمبر کی شب کی جو یادداشت آپ نے تحریر کی ہے، وہ سب 6 ستمبر کی شب کی ہو سکتی ہے۔ جو دھماکے آپ نے سنے وہ بموں کے نہیں بلکہ اینٹی ایئر کرافٹ گنوں کے ہو سکتے تھے۔ چھوٹی بچیوں کی سماعت کے لئے یہ دونوں آوازیں ایک جیسی ہوتی ہیں۔ سو ہم اپنی غلطی مانتے ہوئے سجاد حیدر صاحب کی فرمودہ تصحیح تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم ایک تصحیح ہم بھی کرنا چاہیں گے اور وہ یہ کہ اس وقت ہماری عمر چھوٹی بچیوں والی نہیں تھی۔ ہماری نسبت طے پا چکی تھی اور تین ماہ بعد ہماری شادی ہونے والی تھی۔

اپنی بیسٹ سیلر کتاب Flight of the Falcon میں سجاد حیدر صاحب نے اس جنگ کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ انکی اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی شاہین کی پرواز کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ بتاتے ہیں کہ کس طرح وہ جنگ صدر ایوب اور انکے آرمی چیف جننرل موسیٰ کی نااہلی کا ثبوت بنی۔ سیالکوٹ سیکٹر کے دفاع کی ذمہ داری چھٹے آرمرڈ ڈویژن کی تھی لیکن اسے اسکی تعیناتی کی اطلاع اس وقت ہوئی جب بھارتی پندھرویں ڈویژن بی آر بی کینال تک پہنچ چکی تھی؛ حالانکہ بی آر بی کینال لاہور کی آخری دفاعی حد تھی۔ جنرل ابرار حسین جو اس ملک کے معدودے جند جرآت مند جرنیلوں میں سے ایک ہیں، اپنی کتاب Men of Steel میں لکھتے ہیں کہ جی ایچ کیو سے انہیں اپنے چھٹے آرمرڈ ڈویژن کو حرکت میں لانے کا حکم نامہ 6ستمبر کی دوپہر کو ملا تھا۔ انکی بھارت بھرکم ڈویژن بھرپور انداز میں جی ٹی روڈ کے راستے سیالکوٹ پہنچی جہاں بھارت کے فضائی حملے کا خطرہ تھا۔ اسی خطرے کے پیش نظر اپنے پرانے ٹینکوں کو ضروری دیکھ بھال کے عمل سے گزارے بغیر یہ ڈویژن سیالکوٹ پہنچی۔ چند لمحوں میں وہاں خیمے کھڑے کیے گئے اور جننرل صاحب ساتھیوں سمیت جونہی جنگی نقشے بچھا کر منصوبہ بندی کرنے لگے، جی ایچ کیو سے ایک کپتان انکے نام جنرل موسیٰ کا زبانی پیغام لے کر پہنچا جس میں کہا گیا تھا کہ اب کھاریاں اور گوجرانوالہ پہنچا جائے۔ یہ کہانی بہت لمبی ہے، لیکن اگلا نہایت ہی ناقابل یقین واقعہ یہ ہوا کہ جنرل ابرار کو فلیش سگنل کے ذریعے سیالکوٹ اور جسر کے علاقوں کے دفاع کے لئے آگے بڑھنے کا حکم ہوا۔ یہ علاقے بھارتی حملے کی زد میں آ چکے تھے۔

ہماری ایک اور جنگی ہیرو بھی ہیں جنہیں جنگ ستمبر میں اپنی شاندار کارکردگی کی بنا پر یاد رکھا جانا چاہئے۔ میجر منور خان آزاد کشمیر رجمنٹ میں شامل تھے جو بعد مین آزاد کشمیر ریگولر فورس بنی۔ یہ فورس پاکستانی فوج سے الگ بھرتیوں اور تربیت کا علیحدہ ڈھانچہ رکھتی ہے۔ جولائی 1965ء میں پاکستانی فوج نے آپریشن جبرالٹر کا آغاز کیا۔ یہ جموں و کشمیر میں داخلے کی مہم تھی۔ میجر منور کا نام اس مہم میں ممتاز رہا۔ اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے وہ راجوڑی کے ایک درے سے بھارت مین داخل ہوئے۔ اس مقام پر بھارت فائرنگ ہوئی تھی۔

وکی پیڈیا کے مطابق مقامی لوگوں نے اس درے کو میجر منور کے نام سے موسوم کر کے اسے درہ منور پکارنا شروع کر دیا تھا۔

میجر منور نے پورے تین مہینے پانچ سو مربع میل کا یہ علاقہ اپنے قبضے میں رکھا۔ دلیرانہ کارناموں کے اعتراف میں انہیں ’’غازیِ کشمیر‘‘ کا خطاب بھی دیا گیا تھا۔ 640 صفحات کی ضخیم کتاب History of Indo-Pak War 1965 میں لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد اپنے اس افسر کے حوالے سے لکھتے ہیں:ـ

’’وہ یعنی میجر منور اس سارے علاقے کا انتظام سنبھالے ہوئے تھے۔ انکے اپنے پولیس اہلکار تھے، اپنے تحصیلدار تھے، اپنی حکومت تھی۔ مقامی آبادی کی مکمل حمایت انہیں حاصل تھی۔ جو مدد بھی انہیں درکار ہوتی ، وہ انہیں فراہم کر دی جاتی۔ راجوڑی کی پوری وادی میں انکی عملداری قائم تھی۔‘‘

جی ایچ کیو سے ایک بار پھر جنرل موسیٰ نے اپنی جنگی حکمت عملی کی بدانتظامی کا ثبوت دیا اور اچانک حکم جاری کر دیا گیا کہ میجر منور اور انکے جوان یہ علاقہ خالی کر کے جی ایچ کیو رپورٹ کریں۔ میجر منور نے مایوسی اور افسردگی کے عالم میں اس علاقے اور وہاں کے لوگوں کو خیرباد کہا۔ لوگ بھی انکے جانے پر افسردہ تھے اور رو رہے تھے۔ بعد میں میجر منور کو ستارہ جرآت سے نوازا گیا اور جنرل ایوب نے انہیں شاہ راجوڑی کا خطاب بھی دیا۔ میجر منور کے فرزند بریگیڈیئر وقار احمد ملک اپنے مرحوم والد اور انکے عظیم الشان کیریئر کی داستان ہمیں یوں سناتے ہیں۔ انکی پیدائش چکوال میں ہوئی۔ بچپن ہی سے فوج میں شامل ہونا انکی دلی خواہش تھی۔

ایک روز انہیں لوگوں کو جمگھٹا دکھائی دیا جو انگریزوں کی دوڑ دیکھنے کیلئے جمع ہوئے تھے۔ جب بندوق چلا کر دوڑ کا آغاز کیا گیا تو اچانک منور خان بھی مقابلے میں کود پڑے اور وہ دوڑ انہوں نے جیت بھی لی۔ انکی کارکردگی دیکھ کر سبھی حیران تھے۔ سبھی پوچھ رہے تھے یہ لڑکا کون ہے؟ رجمنٹ کے سربراہ انکے قریب آئے تو انہوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ میں فوج مین شامل ہونا چاہتا ہوں۔ انکی یہ خواہش اسی وقت پوری کر دی گئی۔ انگریز ایک اتھلیٹ کے طور پر انکی قابلیت بھانپ چکے تھے؛ چنانچہ انہوں نے منور خان کو اپنی سرپرستی مین لے لیا، انہیں تعلیم دلائی اور جب وہ اٹھارہ برس کے ہو گئے تو فوج میں بھرتی کر لیا۔ وقار ملک کہتےہیں کہ ان کے والی مسلسل ایک کے بعد دوسرے چیلنج سے بنرد آزما رہے۔ انہیں کبھی موت سے ڈر نہیں لگا، کبھی ناکامی سے خائف نہیں ہوئے، تاریخ میں اپنا نام بنانے کے لئے پرعزم تھے اور ایس اکرنے مٰن وہ کامیاب بھی رہے۔ ہم نے بریگیڈئیر وقار ملک سے پوچھا کہ انکے والد نے اپنے ساتھیوں سمیت جببھارت کے زیر انتظام راجوڑی پر کامیابی سے قبضہ کر لیا اور وہاں پاکستانی جھنڈا گاڑ کر سارا انتظام بھی اپنے ہاتھ لے لیا تو پھر انہیں وہاں سے واپس کیوں بلا لیا گیا؟ میجر منور جب واپس پنڈی آئے تو وقار ملک اس وقت کم عمر تھے، انہیں بس اتنا یاد ہے کہ انکے والد کافی مایوس تھے اور عین ممکن ہے کہ انکی یہی دل شکستی چند برس بعد انکے دل کے دورے کا سبب بنی جو جان لیوا ثابت ہوا۔

آج پچاس برس بعد میجر منور کے بیٹے کی خواہش ہے کہ انکے والد کی جرآت اور بہادری کا یاد رکھا جائے۔ یہ ایک غیر معمولی کہانی ہے اور اگر کوئی تخلیقی ذہن رکھنے والا شخص اس پر کام کرے تو اس پر ایک بہترین فیچر فلم بنائی جا سکتی ہے۔ اگر ہالی ووڈ والے Charlie Wilson’s War کے نام سے ایک فلم بنا سکتے ہیں (جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح جوان ہیرنگ نامی ہیوسٹن کی ایک امیر خاتون کانگریس کے رکن چارلی ولسن کو اس امر پر آمادہ کرتی ہے کہ افغانستان میں روسیوں سے جنگ کے لئے انکی حکومت کو مجاہدین کی مالی معاونت کرنی چاہئے تو لالی ووڈ میں کوئی یا پھر وسائل رکھنے والا کوئی دوسرا فرد میجر منور کی کہانی پر شاہ راجوڑی کے نام سے فلم کیوں نہیں بنا سکتا؟ ہمین یقین ہے کہ بڑی سکرین پر اپنے ہی ایک ساتھ کے کارناموں کو تمثیلی صورت مٰں دیکھنا پاکستان آرمی کیلئے بھی ایک ولولہ انگیز امر ہوگا۔ زندہ قوموں کی ایک نشانہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے گزشتہ اور موجودہ ہیروز کو یاد رکھتی ہیں۔ ایئر کموڈور سجاد حیدر اور مرحوم میجر منور بھی ہمارے دو ایسے ہی ہیروز ہیں۔
----------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.