.

ہمارے حکمران کون ہیں؟

یاسر پیرزادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جس ملک میں مٹن کڑاہی اور ’’کھوتا کڑاہی ‘ ‘ کا فرق مٹ جائے اس ملک میں سیاست دانوں اور جمہوریت کی تفریق ختم ہونا بھی کوئی بڑی بات نہیں۔

کئی دہائیاں ہو گئیں ہمیں سیاست دانوں کو لتاڑتے ہوئے ، گٹر بند ہونے سے لیکر مارشل لا لگوانے تک ،ہر جرم ہم نے انہی کےکھاتے میں ڈالا، اور یہ کمپین اس شدت کے ساتھ چلائی کہ سیاست اور جرم ، سیاست دان اور کرپشن ، جمہوریت اور اس کی ناکامی … ان تمام نعروں کو اب ہم نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ جو کوئی سیاست دانوں کی کردار کشی کی مخالفت کرتا ہے اسکے گلے میں نہایت اطمینان سے زر خرید ایجنٹ کا تمغہ ڈال دیتے ہیں ۔ سول حکمرانوں کیلئے لینا جرأت مندی کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ آمریت میں یہ جرأت مندی ریمپ پر نیم برہنہ انداز میں کیٹ واک کرتی نظر آتی ہے۔

جیسے اس ملک میں کڑاہی گوشت بکتا ہے بالکل اسی طرح سیاست دانوں کو دی جانے والی گالیاں بھی بکتی ہیں ، لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے میں ہمیں لذت محسوس ہوتی تا وقتیکہ ہماری اپنی پگڑ ی ان میں شامل نہ ہو اور ’’لعنت ہو ان حکمرانوں اور ایسی جمہوریت پر ‘ ‘ جیسے نعرے ہمیں بہت بھاتے ہیں کیونکہ در حقیقت عوام کو ان جملوں میں اپنے غیر قانونی کاموں کا جواز مل جاتا ہے ۔ چند روز پہلے ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا ، فاٹا سے لیکر گوادر تک، پورے پاکستان سے سینکڑوں نوجوان طلبا و طالبات وہاں موجود تھے ، وہاں انکے نا ختم ہونے والے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی ، لب لباب ان سوالات کا یہ تھا کہ حکمران نا اہل ہیں ، سسٹم ٹھیک نہیں ، لاقانونیت ختم کرنے کی کوئی سنجیدہ کاوش حکمران نہیں کرتے ، کرپشن کا دور دورہ ہے ، سفارش کے بغیر کچھ نہیں ہوتا، جائیں تو جائیں کہاں ، کریں تو کیا کریں !

ہر سوال کے بعد تالیاں بجائی جاتیں اور کچھ کچھ دیر بعد پاکستان کی محبت میں نعرے بازی بھی کی جاتی ، ایک لمحے کیلئے تو مجھے یوں لگا جیسے میں کسی میدان جنگ میں ہوں۔ جب نوجوانوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے تو میں نے ان سے ایک سوا ل کیا کہ آپ میں سے کتنے لوگوں کے پاس اس وقت جیب میں ڈرائیونگ لائسنس ہے ؟ تین سو شرکا ءمیں سے بمشکل پچاس نے ہاتھ کھڑا کیا ۔میں نے کہا کہ یہی آپ کے تمام سوالات کا جوا ب ہے ، ہم میں سے ہر کوئی ملک میں لاقانونیت سے تنگ ہے مگر خود قانون پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں ، ہم سب اس تقریب کے بعد اپنے گھروں کو جائیں گے مگر راستے میں ٹریفک کی خلاف ورزی بھی کرینگے اور سسٹم کو گالیاں بھی دینگے ۔کسی نے کہا کہ موٹر وے پر کوئی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا کیونکہ وہاں ایک سسٹم بنا دیا گیا ہے ویسا ہی سسٹم پورے ملک میں ہونا چاہئے۔ بجا ارشاد۔ لیکن کیا کوئی ہماری کنپٹی پر پستول رکھ کر ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلائیں یا ٹریفک سگنل توڑیں ؟ تقریب کے بعد ایک نوجوان نے مجھے کہا کہ اس کے نمبر اٹھاون فیصد ہیں جبکہ کالج میں داخلے کا میرٹ ساٹھ فیصد ہے ، اگر اس کی سفارش کر دی جائے تو داخلہ مل جائیگا ۔میں نے جواب دیا کہ اگر کالج نے ساٹھ فیصد میرٹ رکھا ہے تو اس کی انتظامیہ کی تحسین کی جانی چاہئے کہ وہ میرٹ پر کاربند ہے لیکن اگر وہ آپ کو بائی پاس کرکے کسی ستاون فیصد والے کو داخلہ دے تو پھر بتائیے گا۔ جواب ندارد۔

جمہوریت اور سسٹم کا دفاع کرنا مگر اب اتنا آسان بھی نہیں رہا اور اس کی وجہ حکمرانوں کی حماقتیں اور مزید حماقتیں ہیں۔جو کام سامنے کے ہیں انہیں وہ بھی کرنے نہیں آتے جس کی وجہ سے اس بیانئے کو تقویت ملتی ہے جس میں سیاست دانوں اور جمہوریت کو اکٹھا پیس کر ایک ہانڈی میں ڈالا جاتا ہے اور پھر اسے چولہے پر چڑھا کر نیچے آمریت کی آنچ تیز کر دی جاتی ہے۔ یقیناً جمہوری حکومتوں کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں اور انہیں کھل کر کام کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا ، مگر اس کے باوجود بے شمار کام ایسے ہیں جنہیں کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ، کوئی ان کی مخالفت نہیں کرتا ، ان کاموں سے نہ صرف عوام میں سیاست اور جمہوریت کا عمومی تاثر بہتر ہو سکتا ہےبلکہ جمہوریت بھی مضبوط ہو گی۔

جیسے، پارلیمان کے ممبران کو اپنی تنخواہیں یا مراعات بڑھانے کا اختیار نہیں ہو نا چاہئے اور ان کی تنخواہ کنزیومر پرائس انڈیکس یا افراط زر کے سرکاری اعداد و شمار سے مشروط ہو نی چاہئے ، مطلب یہ کہ اگر حکومت سرکاری طور پر یہ کہتی ہے شرح سود کم ترین سطح پر ہے تو پھر اسی شرح کو سامنے رکھ کر پارلیمان کے ممبران کی تنخواہوں کا تعین بھی ہونا چاہئے۔بیرون ملک یا اندرون ملک علاج کی کسی خصوصی سہولت کے وہ حقدار نہیں ہوں گے ، انہیں ویسے ہی مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی جیسے اس ملک کے کسی عام شہری کو کسی عام سرکاری اسپتال میں حاصل ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص جس نے کسی بھی حیثیت میں جھوٹ بولا ہو یا جعلی دستاویزات پر انحصار کیا ہو اور وہ عدالت میں ثابت ہو جائے، اسے بیس سال کیلئے تمام عہدوں کے لئے نا اہل قرار دیا جائے ۔ممبران پارلیمنٹ کو ترقیاتی کاموں کا بجٹ سیاسی رشوت کے طور پر دینے کی ممانعت ہونی چاہئے، اسی طرح نالی پکی کروانے سے لے کر ڈیم کے افتتاح تک، کسی موقع پر بھی ناموں کی تختیاں نہیں لگنی چاہئیں ، یہ عوام کا پیسہ ہے کسی کا ذاتی نہیں کہ اپنا نام آویزاں کروایا جائے۔

کسی ایم این اے، ایم پی اے یا سینیٹر کو اپنا عہدہ اپنی گاڑی پر لکھوانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، اگر کوئی ایسی حرکت کرے تو اس کی گاڑی ضبط کر کے بند کر دی جائے ۔ممبران پارلیمنٹ کسی حکومتی اقدام کے نتیجے میں یا کسی بھی اور وجہ سے کسی قسم کی رعایت یا سبسڈی کے حقدار نہیں ہونگے اور نہ ہی انہیں پی آئی اے ، ریلوے یا ایسے کسی جگہ پر ترجیحی برتاؤ یا خصوصی سلوک کا حقدار سمجھا جائے گا ۔ایسے اقدامات کی فہرست مزید طویل بھی کی جا سکتی ہے بشرطیکہ نیت ان کو اپنانے کی ہو۔ لطیفہ یہ ہے کہ اگر آپ ان اقدامات کا ذکر کسی بھی پارلیمنٹیرین سے کریں گے تو وہ ٹی وی پر آکر زور زور سے سر ہلا کر ان کی تائید کرے گا مگر اس ضمن میں کسی قسم کا بل اسمبلی میں پیش کرنے کی جرات نہیں کریگا ، اور خدا نخواستہ اگر کسی مرد حر نے یہ ہمت کر دی تو پھر یہ بل پاس نہیں ہو سکے گا اور نتیجے میں بدنام پھر جمہوریت ہی ہوگی ۔ لیکن جو لوگ سیاست دانوں کو حکمران سمجھ کر اس ملک میں جمہوریت کو لتاڑتے ہیں انہیں والٹئیر کا ایک قول یاد رکھنا چاہئے : To learn who rules you, simply find out who you are not allowed to criticize.

’’اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کے اصل حکمران کون ہیں تو اس بات کو جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کو کس طبقے پر تنقید کی اجازت نہیں ۔ ‘ ‘باقی اللہ بھلا کرے ہمارا ، دیجئے گالیاں جمہوریت کو، بنائیں کارٹون سیاست دانوںکے، مضحکہ اڑائیں منتخب نمائندوں کا ، خدا رزق میں اور برکت دے گا ! -
---------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.