اسفند یار بیٹوں کی سربلند قوم

نازیہ مصطفیٰ
نازیہ مصطفیٰ
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

گزشتہ سال دسمبر کی سولہ تاریخ کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کی لرزہ خیز کارروائی پاکستان میں دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے سب سے المناک کارروائی تھی، جس میں سینکڑوں گھرانوں کے غنچے بن کھلے ہی مرجھاگئے، اِس ایک واقعہ نے پاکستان میں نہ صرف سیکورٹی بلکہ سیاست کا ”بیانیہ“ تبدیل کر دیا بلکہ پوری قوم کو دہشت گردی کے خلاف ایک پیج پر بھی لاکھڑا کیا ۔ یہ واقعہ پاکستانی سیاست اور پاکستانی قوم کو اپنی منزلوں کے سنگ میل خود متعین کرنے کا موقع ضرور دے گیا، جس کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ”نیشنل ایکشن پلان“ کے عنوان سے ایک لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔

نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک سے دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے جتنے بھی اقدامات کیے گئے، ان کے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد ہوئے ، یہی وجہ ہے کہ عسکریت پسند گزشتہ نو ماہ میں اِکا دُکا اور چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ دہشت گرد کی کوئی بڑی کارروائی کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے، جس کے نتیجے میں ایک تاثر یہ پیدا ہوا کہ جیسے ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے، ملک بھر میں بالخصوص خیبر پختونخوا میں آپریشن ضرب عضب کے بعد سیکورٹی کی صورتحال پہلے سے کافی بہتر ہوگئی تھی اوراے پی ایس پر حملے کے بعد دہشت گردی کی بڑی کارروائیاں تقریباً ختم ہوگئی تھیں، جس سے یہ کہا جانے لگا کہ قبائلی علاقوں بالخصوص باڑہ میں کامیاب فوجی کارروائیوں کے بعد شدت پسندوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے، لیکن اٹھارہ ستمبر کو گزشتہ جمعہ کی صبح نماز فجر کے وقت پشاور کے قریب بڈھ بیر کے علاقے میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر دہشت گردوں کے تازہ حملہ سے یہ تاثر ختم ہوگیا ۔

پاک فضائیہ کے کیمپ پر ہونے والا حملہ بھی آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے ہی کی طرح ایک منظم حملہ تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فوجی آپریشنوں اور نیشنل ایکشن پلان کی وجہ سے شدت پسند تنظیمیں کمزور ضرور ہوئیں لیکن ان کی حملہ کرنے کی صلاحیت ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ بدستور ملک کے کسی بھی حساس مقام کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بڈھ بیر میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر دہشت گردی کے واقعہ نے ایک بار پھر کئی سوالات پیدا کردیے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ اس واقعہ میں کسی حد تک پولیس اور دیگر اداروں کی ناکامی بھی نظر آئی کہ ایک درجن سے زیادہ دہشت گرد اتنے اہم اور حساس علاقے میں داخل ہوئے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کانوں کان اس خبر نہ ہوئی ، اِسے انٹیلی جنس کی ناکامی بھی کہا جا رہا ہے لیکن جس طرح سیکورٹی اداروں نے حملہ آوروں کو کیمپ کے رہائشی اور انسٹالیشن والے کمپاو¿نڈ میں گھسنے سے پہلے ہی انجام تک پہنچایا ، اس سے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے ”کوئیک رسپانس“ کی صلاحیت قابل اعتماد معلوم ہوتی ہے، پاکستانی سیکورٹی اداروں کے جوانوں نے چند گھنٹوں میں بڑے نقصان سے بچے بغیر حملہ آوروں کا صفایا کر دیا گیا۔

آرمی پبلک سکول اور حالیہ دونوں حملوں میں عسکریت پسندوں نے ایک ہی طرح کا طریقہ کار استعمال کیا ۔ اسکول حملے میں چھ خودکش حملہ آوروں نے عمارت میں داخل ہوکر بچوں اور اساتذہ کو شہید کیا جبکہ جمعہ کو بھی 14 شدت پسندوں نے پاک فضائی کے کیمپ پرحملہ کیا جس سے بظاہر یہی لگتا ہے کہ دہشت گرد اس شب خون سے آرمی پبلک اسکول کی طرح ایک اور حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔ ملک میں عسکریت پسندی کے خاتمے کیلئے شروع کیے جانے والے بڑے آپریشن (آپریشن ضرب عضب) کے خلاف ’دہشت گردوں کی جانب سے کوئی ”ردعمل“ نہ آنے کی امید لگانا بیوقوفی ہی ہوسکتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کا سب اہم نکتہ دہشتگردوں کو مالی فنڈنگ دینے والوںاور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کا اعلان تھا، یہی وجہ ہے اب دہشت گرد اپنے مقامی سہولت کاروں کو کم سے کم استعمال کررہے ہیںاور دہشت گردی کی چھوٹی کارروائیوں کی بجائے پاکستان سے باہر بیٹھ کر اے پی ایس اور بڈھ بیر واقعات کی طرح بڑی کارروائیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، دہشت گرد مستقبل میں بھی اپنی کارروائیاں اسی انداز میں کرنے کی کوشش کریں گے، اس لیے باہر بیٹھے دہشت گردوں اور مقامی ”آپریٹرز“ کے درمیان رابطے کو توڑنے اور دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کے مکمل خاتمے کیلئے سیکورٹی اداروں کے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید مضبوط، موثر اور سخت بنانا ہوگا۔

دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اب دہشت گردی کے خلاف قوم بیدار ہوچکی ہے۔ ابھی بہت وقت نہیں گزرا جب عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے بعد فوج سخت دباؤ میں تھی کیونکہ فوج کی کارروائی کومکمل سیاسی حمایت حاصل تھی نہ ہی عوامی سطح پر کوئی خاص پذیرائی مل رہی تھی۔ اور تو اور دہشت گردوںکیخلاف لڑتے ہوئے جان دینے والوں پاک فوج کے جوانوں کی ”شہادت“ پر سوال اٹھانے والوں کی بھی کوئی کمی نہ تھی، لیکن پھر اے پی ایس میں دہشت گردی کے واقعہ نے جیسے سب کچھ تبدیل کرکے رکھ دیا۔یہی وجہ ہے کہ اب دہشت گردی کے خلاف قوم، حکومت اور فوج ایک نظر آتی ہیں اور اِنہیں ایک ہونا بھی چاہیے۔

قارئین کرام!!بڈھ بیر میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والے کیپٹن اسفند یار کے جنازہ میں اٹک میں جیسے لوگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا، شہید کے آخری دیدار کیلئے آنے والے عوام کے سمندر کو دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ شہید ایک زندہ قوم کا فرزند تھا، وہ قوم جو مشکلات برداشت تو کرسکتی ہے لیکن شکست کو قبول نہیں کرسکتی۔ یوں بھی ایسی قوم کو بھلا کیسے شکست دی جاسکتی ہے ، جس کے ضعیف باپ اپنے جوان بیٹوں کی لاش چھونے سے پہلے پوچھیں کہ ”اگر اِس نے سینے پر گولی کھائی ہے تو میں اِس کی میت وصول کروں گا، ورنہ یہ میرا بیٹا نہیں ہوسکتا“۔ شہید کیپٹن اسفند یار کی جرات و بہادری کو سلام، شہید کے والد ڈاکٹر فیاض بخاری کے صبر و استقامت کو سلام!

جس قوم کے جوان بیٹے بہادری میںکیپٹن اسفند یار جیسے بے مثال ہوں اور جس قوم کے باپ ڈاکٹر فیاض بخاری کی طرح صبرواستقامت کے پہاڑ ثابت ہوں، صرف وہی قوم غیرت منداور فتح مند ہوسکتی ہے!بلاشبہ پاکستانی قوم اسفند یار جیسے بیٹوں کی وجہ سے ہی سربلند قوم بن سکتی ہے!

-------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں