امریکی صدارت کیلئے مسلمان؟ 11ستمبر اور بن کارسن

عظیم ایم میاں
عظیم ایم میاں
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

گزشتہ 50 سال کے دوران پاکستان اور دیگر مسلم ممالک سے مسلمانوں کی پہلی نسل نے ایک قابل ذکر تعداد میں تعلیم اور بہتر مستقبل کے لئے امریکہ اور کینیڈا میں آباد ہونے کا آغاز کیا۔ اپنے آبائی ملکوں میں آمریت، معیشت اور دیگر مسائل کے ہاتھوں تنگ آ کر امریکہ میں آباد ہونے والے مختلف زبانوں، ثقافتوں اور روایات کے حامل مسلمانوں نے پچھلے 50 سال کے عرصے میں سخت محنت اور جدوجہد کر کے شمالی امریکہ کے ان دو ملکوں میں اپنے قدم جمائے۔ اپنی مساجد تعمیر کیں اور ایک اقلیت کے طور پر اپنی شناخت کی علامات کو غیرمسلم اکثریت والے معاشرے سے متعارف کرایا۔ اپنے اپنے پیشوں میں امیج قائم کیا اور پھر وہ اپنی اولاد یعنی نئی نسل کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داریوں میں مصروف ہو گئے کہ اب امریکہ و کینیڈا ہی ان کی اولادوں کے وطن ہیں جہاں جمہوریت، مساوات، حسب صلاحیت روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع حاصل ہوں گے۔ ابھی امریکہ و کینیڈا میں مسلمان امیگرنٹس کی پہلی نسل اپنے وجود اور اپنی نئی نسل کی صلاحیتوں کو تسلیم کروانے اور یہاں کے سیاسی اور جمہوری نظام میں داخل کرنے کے عمل میں ہی مصروف تھی کہ سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر نے ان کی کایا پلٹ دی۔ اسی غیر مسلم اکثریتی معاشرے میں مسلم کمیونٹی کی جس تیز رفتار ترقی اور پروفیشنلزم کا بڑا چرچا تھا، اب ان کی وضع قطع، ان کی مساجد، ان کے نام اور سب ہی کچھ شکوک و شبہات اور سخت نگرانی کی لپیٹ میں آ گیا۔ امیگرنٹ مسلمان اور ان کے پیدائشی امریکی سٹیزن بچّے یعنی نئی نسل ایک ہولناک آزمائش سے دوچار ہو گئے۔ مجھے ریاست نیو جرسی کے ایک ایسے مسلمان خاندان کا ٹی وی انٹرویو اچھی طرح یاد ہے کہ جس نے باقاعدہ قانونی طور پر اپنے مسلمان نام تبدیل کئےاور وجہ یہ بتائی کہ سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد وہ خوف کا شکار ہیں لہٰذا انہوں نے نام تبدیل کر لئے۔ کئی خاندان اپنے آبائی ملکوں میں منتقل ہو گئے تو بہت سے قانونی اور غیر قانونی مسلمان خاندانوں نے نسبتاً زیادہ محفوظ کینیڈا میں بارڈر کراس کر کے پناہ لے لی یا منتقل ہو گئے۔ مگر امریکہ کے مسلمان تارکین وطن کی ایک واضح اکثریت نے سخت مشکل حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اپنی شناخت قائم رکھی، اپنے پرامن اور قانون کے پابند ہونے کا ثبوت دیا اور ہر طرح کی نگرانی، مشکلات کے باوجود معاشرے میں اپنا مؤقف ڈائیلاگ کے ذریعے پیش کیا کہ ہر معاشرے میں مجرم اور انتہاپسند افراد موجود ہوتے ہیں لہٰذا مسلمان نام والے کسی دہشت گرد یا مجرم ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکہ میں آباد کئی لاکھ مسلمانوں کی امن پسندی اور قانون کی پابندی کو نظرانداز کر کے انہیںدہشت گردوں کا ساتھی سمجھا جائے۔ خود امریکہ کے باشعور، متوازن اور جمہوریت پسند تنظیموں و طبقات نے بھی مسلم کمیونٹی کا ساتھ دیا اور انسانی حقوق کے حوالے سے عدالتوں میں مقدمات دائر کئے۔ مساجد کی خفیہ نگرانی کے راز کھولے۔ آج سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو 14؍سال گزر چکے ہیں۔ اسی امریکی معاشرے میں ان ہی سالوں کے دوران دو مسلمان امریکی کانگریس کے منتخب رکن بھی قرآن پر حلف اٹھا کر امریکی کانگریس میں اپنی نشستوں پر موجود ہیں۔ ہاں بعض بااثر متعصب حلقے آئے دن مسلمانوں کو اپنے مفادات اور سیاسی مقاصد کے لئے تختۂ مشق بھی بناتے رہتے ہیں بلکہ اپنے دو مرتبہ منتخب صدر باراک حسین اوباما کو بھی مسلمان باپ کا مسلمان بیٹا کہہ کر مخالفت کرتے ہیں حالانکہ صدر اوباما واضح طور پر خود کو عیسائی کہتے چلے آ رہے ہیں مگر مذہب کو سیاست سے لاتعلق رکھنے کے اصول کے باوجود امریکی سیاست میں عملاً بعض انتخابی حلقے ایسے ہیں جہاں عیسائی مذہبی رہنمائوں کا اثرونفوذ غالب ہے اور انتخابی امیدواروں کے مستقبل کا فیصلہ اس حلقے کے عیسائی مذہبی رہنما ہی کرتے ہیں۔ بہرحال امریکی معاشرہ مختلف الخیال انسانوں کا معاشرہ ہے جہاں لادین انسانوں سے لے کر انتہائی راسخ العقیدہ عیسائی، یہودی، مسلمان، ہندو، بدھ مت کے پیروکاروں کے ساتھ ساتھ افریقہ و ایشیا کے توہم پرست عقائد کے انسان بھی موجود ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے دو تازہ واقعات بھی امریکہ کے مسلمانوں کو درپیش مشکلات اور چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پہلا تو ریاست ٹیکساس کے ایک 14؍سالہ طالبعلم کا جو اپنی تیار کردہ گھڑی دکھانے کی خواہش میں اسےجب اسکول لے کر گیا تو اس کو بم سمجھ کر مسلمان بچّے کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس زیادتی کا مداوا بھی اسی امریکی مملکت کے صدر اوباما نے بچے کو گھڑی سمیت وہائٹ ہائوس مدعو کر کے کر دیا۔ بالکل اسی طرح کہ جب 11؍ستمبر 2001ء کے بعد مسلمانوں کے ساتھ امریکہ میں جو زیادتیاں ہوئیں ان کی مذمت اور مسلمانوں کی معاونت بھی اسی امریکی معاشرے کے اعتدال پسند غیرمسلم امریکیوں نے ہی کی۔ اب تازہ واقعہ ری پبلکن پارٹی کے سیاہ فام صدارتی امیدوار بن کارسن کا بیان ہے کہ کسی مسلمان کو امریکہ کا صدر نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ اسلام اور امریکی آئین میں مطابقت نہیں ہے۔ مسٹر بن کارسن کے اس بیان کی حمایت میں بھی 200؍سے زائد تبصرے بھی پہلے ہی روز پڑھنے کو ملے جس میں بعض بڑے توہین آمیز بھی ہیں لیکن اس پر ردّعمل سے پہلے چند حقائق کو بھی مدّنظر رکھنا ضروری ہے (1)امریکہ ایک ایسا ملک اور معاشرہ ہے جو نہ صرف غیر مسلم اکثریت والی آبادی کا ملک ہے جہاں خود کو کھلم کھلا دہریہ اور لامذہب کہنے والوں سے لے کر ہر الہامی اور غیر الہامی مذہب، عقیدہ اور گروہ سے تعلق رکھنے والا امریکی شہری ہے۔ ہر مذہب و عقیدے کے اعتبار سے انتہاپسند اور اعتدال پسند بھی آزادی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔(2)یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ ری پبلکن پارٹی کی 127؍سال کی تاریخ میں بن کارسن صرف چوتھے افریقی نژاد امریکی ہیں جو امریکی صدارت کیلئے امیدوار ہیں۔ فریڈرک ڈگلس، ایلن کیز اور ہرمن کین نامی صدارتی امیدواروں کے ساتھ کیا کچھ ہوا اس کا کچھ اندازہ مجھے 4؍سال قبل امریکی صدارت کیلئے سیاہ فام اور خاصے مقبول امیدوار ہرمن کین سے فلوریڈا میں پارٹی کنونشن میں ایک تفصیلی ملاقات اور گفتگو کے دوران ہوا۔ ہرمن کین نے کیمرے سے ہٹ کر جو تفصیل بتائی وہ مجھ جیسے امیگرنٹ کیلئے بھی علم میں اضافہ تھا، اس کی تفصیل پھر سہی (3)ابھی تک ری پبلکن پارٹی کسی سیاہ فام امیدوار کو صدارت کیلئے نامزد کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آتی۔ بن کارسن نیورو سرجن ضرور ہیں چونکہ ان کو پارٹی سے نامزدگی کیلئے ابھی بہت مقبولیت اور ووٹوں کی ضرورت ہے لہٰذا وہ جذبات بھڑکانے اور توجّہ حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کہہ سکتے ہیں، وہ ری پبلکن پارٹی کی قیادت کو متاثر کرنے کیلئے اپنے راسخ العقیدہ عیسائی ہونے کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے یہ بیان بھی دے چکے ہیں کہ کالوں کو افریقہ سے پکڑ کے امریکہ لا کر غلام بنانے والوں کا ہم پر احسان ہے کہ یہاں لا کر ہم کو عیسائی بنا ڈالا ورنہ ہم تو ابھی تک افریقہ کے جنگلات میں ہوتے۔ (4)اسی امریکہ میں آج کی موجودہ کانگریس میں بھی دو امریکی مسلمان کانگریس کے رکن ہیں۔ اگر سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر نہ ہوتا تو اب تک کانگریس کی رکنیت اور مختلف شہروں کی حکومتوں میں بہت سے مسلمانوں کا اضافہ ہو چکا ہوتا۔ اب بھی کنکٹی کٹ اور کئی ریاستوں کے شہروں اور ریاستی حکومتوں میں مسلمان بھی کام کر رہے ہیں لہٰذا بن کارسن کے اس بیان کا نوٹس ضرور لینا چاہئے اور مسلم تنظیموں کو احتجاج اور ڈائیلاگ ساتھ ساتھ کرنا چاہئے۔ کونسل آف اسلامک ریلیشنز نامی امریکی تنظیم کا احتجاج بالکل بجا ہے لیکن اس بیان کے ساتھ ہی اس کونسل کے نان پرافٹ ہونے کے حوالے سے سیاسی سرگرمیوں میں حصّہ لینے پر جو تنازع کھڑا ہوا ہے وہ بڑا سنجیدہ اور قانونی پہلو کا حامل ہے۔ مسلمان قیادت کو مستعد ہو کر اپنی بقا کے لئے ڈائیلاگ کے ذریعے لازماً کچھ کرنا پڑے گا۔ بن کارسن کے بیان کا طوفان بھی اعتدال پسند امریکیوں کے تعاون سے گزر جائے گا۔ امریکی صدارت کیلئے مسلمان امیدوار کو ابھی کئی عشرے مزید انتظار کرنا ہوگا، فی الحال عیدالاضحیٰ منائیں۔

---------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں