بیانات نہیں اقدامات سے دہشت گردوں کی کمر توڑیں

محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

پاکستان میں دہشتگردی کا کوئی بھی بڑا واقعہ پیش آنے کے بعد کس کا کیا ردعمل ہوتا ہے ،یہ بات پوچھنے کے لئے کسی دفاعی تجزیہ نگار کی ضرورت نہیں ،گلی کے نکڑ پر سموسے اور پکوڑے بیچنے والا بھی اس معاملے پر روشنی ڈال سکتا ہے مثلاً سیکورٹی جو پہلے ہی کئی بار ہائی الرٹ کی جا چکی ہوتی ہے ،اسے یہ بتائے بغیر ایک بار پھر ہائی الرٹ کر دیا جاتا ہے کہ جب دہشتگرد حملہ آور ہوتے ہیں تو سیکورٹی خود بخود لو الرٹ لیول پر کیوں آ جاتی ہے۔کسی نہ کسی ادارے کی طرف سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ہم نے تو کئی دن پہلے ہی متنبہ کر دیا تھا کہ کسی اہم دفاعی تنصیب کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔سیاسی جماعتوں کی طرف سے دہشتگردی کی شدید مذمت کی جاتی ہے ،ایک مخصوص طبقہ یہ رٹا رٹایا جملہ دہراتا ہے کہ جو لوگ مسجدوں میں گھس کر نمازیوں کو شہید کر رہے ہیں وہ کسی بھی طرح مسلمان نہیں ہو سکتے،باالفاظ دیگر ان کے نزدیک مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ غلط ہے یا پھر یہ طالبان نہیں بلکہ ’’را‘‘ یا ’’موساد‘‘ کے ایجنٹ ہیں۔دفاعی اداروں کی طرف سے بتایا جا تا ہے کہ اس واقعہ میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے ،حملے کی منصوبہ بندی ہمسایہ ملک میں ہوئی، دہشت گرد سرحد پار سے آئے تھے۔مطلب یہ کہ اگر وہ باہر سے نہ آئے ہوتے تو یقینا ہم انہیں دبوچ لیتے لیکن چونکہ سرحد پار کرتے وقت انہوں نے سلیمانی چادر اوڑھ رکھی ہوتی ہے اور وہ دکھائی نہیں دیتے اس لئے نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں ۔اقتدار کے ایوانوں سے ایک بار پھر اس دعوے کی گونج سنائی دیتی ہے کہ ہم نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے ،اب وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔مگر اس طرح کی بزدلانہ حرکتوں سے پاکستانی قوم کو ڈرایا نہیں جا سکتا۔سانحہ بڈھ بیر کے بعد بھی جب ایک نجی ٹی وی چینل کی خصوصی نشریات میں سوال کیا گیا تو وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ببانگ دہل یہ دعویٰ کیا کہ اگرچہ دہشت گرد سو فیصد ختم نہیں ہوئے مگر ہم نے ان کی کمرضرور توڑ دی ہے۔

ہمیں بتایا جاتا ہے کہ فتوحات کا سفر تیزی سے جاری ہے ،دہشتگردوں کا صفایا کر دیا گیا ہے ،ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے ،ان کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے ،اب وہ کوئی کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہے ۔رفتہ رفتہ لوگوں کو ان حکومتی دعوئوں پر یقین آنے لگتا ہے کہ اچانک کسی دن آنکھ کھلتی ہے تو سب خواب عذاب بن جاتے ہیں ،یوں لگتا ہے جیسے خواب تھا جو دیکھا ،جو سنا ،افسانہ تھا۔کچھ بھی تو نہیں بدلا۔وہ کم بخت دہشتگرد جن کی کمر ہم اپنی زبانوں اور طرح دار بیانات سے کئی بار توڑ چکے ہیں ،انہیں ٹوٹی ہوئی کمر کے ساتھ بھی سکون نہیں ۔یہ ناہنجار رینگتے رینگتے پہلے ملتان پہنچے اور وہاں خوفناک دھماکہ کر کے یہ ثابت کیا کہ تمہارا مقابلہ فل ٹائم جنگجوئوں سے ہے ۔پھر یہ بدبخت پشاور میں پاک فضائیہ کے کیمپ جا گھسے اورکیپٹن اسفند یار جیسے بہادر افسر سمیت 29افراد کو شہید کر دیا۔قوم کے یہ عظیم سپوت جو وطن کی آبرو پر قربان ہو رہے ہیں اور اپنے لہو سے نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں ،ان کی لازوال قربانیاں اپنی جگہ مگر ہم کب تک اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے اور بگلے کی مانند ریت میں سر چھپاتے رہیں گے؟اگر یہ دہشتگرد افغانستان کے راستے پاکستان آتے ہیں اور انہیں روکا نہیں جا سکتا تو پاک افغان سرحد پر بائیومیٹرک نظام کی تنصیب سے کیا حاصل ؟اگر یہ اب بھی باآسانی سیلولر کنکشن استعمال کرتے ہیں تو پھر سموں کی تصدیق کا کیا فائدہ ؟اور اگر یہ اب بھی جعلی شناختی کارڈ بنوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر نادرا جیسا ادارہ کس مرض کی دوا ہے؟کبھی یہ ملیشیاء کی وردی پہن کر آتے ہیں ،کبھی پولیس کے بھیس میں حملہ آور ہوتے ہیں ،کبھی خاکی وردی پہن کر دھوکہ دیتے ہیں تو آخر آپ نے یہ سلسلہ روکنے کے لئےکیا کیا؟اگر لاہور کے لنڈا بازار سے جنرل کی یونیفارم بمع اسٹارز دستیاب ہے تو پھر یہ ساری تگ وتاز کس کام کی؟اس حملے کے بعد جو تفصیلات فراہم کی گئیں ،وہ بذات خود بہت مبہم ہیں ۔مثال کے طور پر بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے ملیشیا ء کی یونیفارم اور سفید جوتے پہن رکھے تھے۔سوال یہ ہے کہ جس خطرناک اور چالاک دشمن نے سیکورٹی حصار توڑ کر اس حملے کی منصوبہ بندی کی کیا وہ اس قدر بیوقوف ہے کہ حملہ تو فضائیہ کے کیمپ پر کیا جانا تھا ،جعلی سروس کارڈ بھی فضائیہ کے بنائے گئے مگر یونیفارم ملیشیاء کی اور وہ بھی سفید جوتوں کے ساتھ؟ایک اور دعویٰ یہ کیا گیا کہ حملہ آور درہ آدم خیل سے سفید رنگ کی سوزوکی پک اپ میں بیٹھ کر آئے ۔اس گاڑی کا چیسز اور انجن نمبر حاصل کرنے کے بعد اس کے مالک کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے ۔سوال یہ ہے کہ 13یا 14دہشتگرد جن کے پاس راکٹ لانچر اور دستی بم ،کلاشنکوفیں اور بھاری اسلحہ ہو ،کیا وہ ایک پک اپ میں بیٹھ سکتے ہیں؟اور اگر بیٹھ بھی جائیں تو یہ پک اپ مختلف ناکوں سے ہوتی ہوئی مطلوبہ ہدف تک پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوئی ؟سچ تو یہ ہے کہ ان کے سلیپرز سیل ابھی تک باقی ہیں ،ان کے سہولت کار بدستور موجود ہیں ،ان کے ہمدرد اور ان کے نظریئے کی توثیق کرنے والے ہنوز قائم و دائم ہیں ۔اس خوفناک حملے نے ایک ہی پل میں سب یقین متزلزل کر دیا ،اعتماد کی کرچیاں بکھیر دیں ،ہمت اور حوصلے کی دھجیاں اڑا دیں اور یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے سب خوش فہمی تھی ،کچھ بھی نہیں بدلا ،نہ تو دہشتگردوں کا صفایا ہوا ،نہ ہی ان کی کمر ٹوٹی ۔مگر اگلے ہی پل اس خیال نے انگڑائی لی کہ شاید حملہ کرنے والوں کا مقصد ہی یہی ہو کہ مخالف کا مورال ڈائون کیا جائے ؟یہ روایتی جنگ نہیں بلکہ گوریلا وار ہے جس میں دشمن کا ہدف شہر فتح کرنا نہیں اذہان و قلوب کو تسخیر کرنا ہوتا ہے۔ کیا دشمن نے یہ حملہ اس نیت سے تو نہیں کیا کہ ہمیں اس کیفیت سے دوچار کر کے نفسیاتی برتری حاصل کی جا سکے؟ سانحہ بڈھ بیر کے شہداء کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنی امیدوں کو مجتمع کرنا ہے ،اپنے حوصلوں کو مہمیز دینا ہے ،شکست خوردگی کی کیفیت کو خود پر طاری نہیں ہونے دینا ،مایوسی اور ناامیدی کا شکار نہیں ہونا۔ یہ سانپ جو ہمیں ڈس رہے ہیں ،ان میں سے کچھ کا ڈنک نکالنا ہے ،کچھ کا سرکچلنا ہے اور یہ طے کرنا ہے کہ آئندہ ہم ایسے زہریلے ناگو ںکو دودھ پلا کر پالنے کی حماقت نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس حملے کے ذریعے اپنی دھاک بٹھانے اور یہ جتلانے کی کوشش کی ہے کہ ہم اب بھی کسی اہم دفاعی تنصیب کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے جواب میں ہمیں یہ واضح کرنا ہے کہ اس ملک میں کیپٹن اسفند یار شہید جیسے جری سپاہیوں کی کوئی کمی نہیں جو محض بیانات سے نہیں بلکہ اپنی بندوق کی گولی سے دشمن کی کمر توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمارے فیصلہ ساز بھی طے کرلیں کہ اب ہم بیانات سے نہیں بلکہ اقدامات سے ان دہشت گردوں کی کمر توڑیں گے۔

---------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں