.

ہم ارب پتی پاکستانی

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے پہلے ڈکٹیٹر فیلڈ مارشل ایوب خان کے اقتدار اور اختیار کے قدم جم گئے اور ملک افراتفری سے نکل کر راہ راست پر آ گیا۔ ملک کا کاروبار چل نکلا بلکہ پاکستان کی ترقی کی خبریں دور دور تک پھیل گئیں اور مشرق بعید کے ترقی پذیر اور اپنے آپ کو بدلنے کے شوق سے مغلوب ملکوں نے اپنے ماہرین کو پاکستان بھجوانا شروع کر دیا کہ یہ ٹوٹا ہوا تازہ ماہ کامل کیسے بن رہا ہے۔ خود پاکستان کے اندر جو لکھ پتی تھے وہ کروڑ پتی بننے کی فکر میں لگ گئے۔

اس زمانے میں صرف لاکھ پتی ہی ہوا کرتے تھے آج کی طرح ارب پتی نہیں۔ انھی دنوں کا ذکر ہے کہ کراچی کے ایک ایرانی قہوہ خانے میں دو سیٹھ چائے پر اکٹھے ہوئے اور ملک کی معیشت پر گفتگو کی جانے لگی۔ ان دنوں پاکستان کے قرضوں کا بڑا چرچا تھا اور ماہرین کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ قرض کیسے اترے گا۔ اسی موضوع پر بات کے دوران ایک سیٹھ نے دوسرے سے کہا کہ یہ قرض تو تم بھی اتار سکتے ہو۔ اس پر اس کے دوست نے بھی یہی جواب دیا چنانچہ چائے کی پیالی ختم کر کے دونوں سیٹھ اپنے کاروبار پر چلے گئے اور پاکستان کا قرضہ ان کی بحث کی نذر ہو گیا۔

ان دنوں پاکستان کے قرضوں کا ذکر بہت بڑھ چکا ہے، قرضوں کی طرح اور شکر ہے کہ حکمرانوں کو بھی قرضوں میں مسلسل اضافے کی فکر ہے چنانچہ میاں صاحب (بڑے میاں صاحب) نے کہا کہ وہ تمام خرچ اپنی جیب سے کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کہ ہمقلم رؤف کلاسرا کی تحقیقات بلکہ واویلے کا ذکر کریں خوشی کی بات کریں کہ میاں صاحب میں قومی غریبی کا احساس پیدا ہو گیا ہے اور ان کا ہاتھ ان کی اپنی جیب کی طرف بڑھ گیا ہے۔ بات کو ذرا آسان بنانے کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے کہ فرصت کے وقت میاں صاحبان یعنی دونوں بھائی گپ شپ لڑا رہے تھے کہ بیچ میں ملک کے قرضوں کا ذکر آ گیا۔

اس وقت قریب ہی بیٹھے ہوئے شاہی خاندان کے کسی شہزادے یا شہزادی نے کہہ دیا کہ آپ میں کوئی بھی ملک کے قرضے اتار سکتا ہے یا ان قرضوں کے بوجھ کو قابل برداشت بنا سکتا ہے۔ اس بات سے اختلاف تو ممکن نہیں تھا لیکن اس وقت جناب ڈار صاحب دستیاب نہیں تھے جو کسی سے مزید قرض کی بات کرنے میں مصروف تھے اس لیے یہ بحث ملتوی کر دی گئی ورنہ میاں صاحب جو اپنا خرچ اپنی جیب خاص سے کرتے ہیں اسی جیب کو ذرا سا ڈھیلا کر کے قومی قرض میں سے دو تین ارب کم کر سکتے تھے۔

ان دنوں لاکھوں کروڑوں کا نہیں ہر کام اربوں میں ہوتا ہے۔ رشوت بھی اربوں میں لی اور دی جاتی ہے لاکھوں کروڑوں میں نہیں بلکہ اکثر پاکستانیوں کو ارب تک کی گنتی بھی نہیں آتی۔ مولانا ابو الحسن ندوی عربی زبان کی استعداد کو صیقل کرنے کے لیے سعودی عرب کے دیہی یعنی بدؤں کے علاقے میں چلے گئے جہاں صحیح اور کلاسیکی عربی زبان بولی جاتی ہے۔ انھوں نے ایک بدو نوجوان سے پوچھا کہ تمہیں گنتی آتی ہے اس نے ہاں میں جواب دیا تو ندوی صاحب نے کہا کہ اچھا پھر سناؤ اور ایک سے شروع ہو جاؤ۔ بدوں گنتی کرتے کرتے ایک ہزار تک پہنچ گیا اور پھر خاموش ہو کر کہنے لگا اس سے آگے کی گنتی شاہ فیصل کو آتی ہے۔ مجھے نہیں آتی۔ تو ہم پاکستانیوں کا بھی آجکل یہی بدو والا حال ہے کہ آگے کی گنتی میاں صاحبان کو آتی ہے۔

ہم پاکستان اس ارب کے پہلے عرب لکھتے تھے کیونکہ اتنی رقم عربوں کے پاس ہی ہوتی ہے بعد میں تصحیح کی گئی کہ اصل لفظ عرب نہیں ارب ہے اور یہ تصحیح یوں چل گئی کہ ہمارے ہاں میں گنتی اربوں میں ہونے لگی جو ترقیاتی منصوبہ بھی بننا ہے وہ اربوں میں ہوتا ہے اور جب یہ منصوبہ حسب معمول ناکام ہو جاتا ہے تو اس کی خبر بھی یعنی اس کے نقصان کی خبریں اربوں میں بنتی ہیں اور قوم کو اس کی اطلاع اربوں میں دی جاتی ہے۔ قوم حیران ہے کہ ہمارے پاس اتنی رقم کہاں سے آ گئی کہ ہم اپنے ترقیاتی منصوبوں کا نقصان بھی اربوں میں کرتے ہیں کیونکہ ان کی کامیابی کا خرچہ بھی اربوں میں لگایا جاتا ہے۔

ہمیں یہ کہنے کا پورا پورا حق حاصل ہے کہ ہم ایک ارب پتی ملک کے باشندے ہیں۔ ہم نے ارب پتی بننے کے لیے اپنے وطن عزیز کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیچنا شروع کر دیا ہے اور اس کی قیمت اربوں میں وصول کرتے ہیں اسی طرح ہم عالمی مالیاتی اداروں سے بھی قرضہ اربوں میں حاصل کرتے ہیں کیونکہ اس کے ترقیاتی منصوبوں کا نقصان پورا کرنے کے لیے بھی اربوں درکار ہیں اگر کسی منصوبے کی کامیابی کے لیے اربوں کی ضرورت ہے تو اس کی ناکامی پر بھی اتنا ہی خرچ آئے گا۔ جب خبر چھپتی ہے کہ ڈار صاحب اتنے ارب کا نیا قرضہ لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں تو مجھے ایک نہ بھولنے والا واقعہ یاد آتا ہے۔

وسطیٰ ایشیائی مسلمان ریاستیں نئی نئی آزاد ہوئیں یہ کوئی 1991ء کا واقعہ ہے۔ میں ان دنوں ایک ریاست میں گھوم پھر رہا تھا کہ اپنے سفیر کے ہاں کھانے پر بلایا گیا۔ ہمارے ایک اونچے درجے کے ریٹائر افسر بھی بیٹھے تھے جو میرے شناسا تھے میں نے ان کی آمد کی وجہ پوچھ لی تو انھوں نے بتایا کہ وہ ان دنوں عالمی بینک کے لیے کام کر رہے ہیں مگر یہ ریاستیں کسی قیمت پر قرض لینے پر تیار نہیں اور ہمیں کہتی ہیں انھیں ضرورت ہی نہیں۔ میں کوشش میں ہوں کہ یہ قرض لے لیں۔

مجھے معلوم نہیں کہ ہمارے یہ افسر کامیاب ہوئے یا نہیں لیکن تعجب ہوا کہ میں جس دوست کے ہاں مقیم تھا اس کا بجلی کا بل نہ ہونے کے برابر تھا گرم پانی کی ٹوٹی مفت تھی۔ مکان کا ہیٹنگ سسٹم بھی مفت تھا اگر لائن میں لگیں تو کھانا بھی مل سکتا تھا۔ ٹرانسپورٹ ایک کارڈ پر چلتی ہے جو معمولی سی رقم کے عوض مل جاتا تھا لیکن اپنے شہریوں کو اس قدر سہولتیں دینے کے باوجود وہ قرض لینے پر آمادہ نہ تھیں۔

یہ میں تاشقند کا حال بیان کر رہا ہوں جہاں میں پورا دن اس کمرے میں بیٹھا رہا جہاں تاشقند کا معاہدہ طے ہو رہا تھا اور اس زمانے کے لطیفے سنتا اور لطف اندوز ہوتا رہا۔ شاستری مر گیا تو بھٹو کے دروازے پر دستک دے کر بتایا گیا کہ سر! وہ مر گیا ہے جواب میں آواز آئی کون سا۔ اس میں ایک گالی بھی شامل تھی۔

-----------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘

العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.