.

خطبۃ حج پر عمل کون کرے گا؟

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اللہ کے آخری نبی ﷺ نے ایک ہی خطبہ حج ارشاد فرمایا، صدیاں گزر گئیں، ہر سال خطبہ حج دیا جاتا ہے، ہم نے رسول اللہ ﷺ کے خطبے پر عمل نہیں کیا، بعد کے کسی خطبہ حج پر کیا عمل کریں گے۔

مگر پہلے مجھے ان صدمات پر دلی ہمدردی کا اظہار کرنا ہے، حرم کعبہ میں ایک کرین گری اور حجاج کرام شہید ہو گئے، ان کاخون مطاف میں گرا، اللہ ان شہیدوں کے درجات بلند فرمائے۔

اس سے بھی اندوہناک صدمے کی خبریں بریگنگ نیوز کے طور پر آ رہی ہیں، ان کو سن کر ہو ش و حواس مختل ہو گئے ہیں، حج کا اجتماع استطاعت رکھنے والے مسلمانوں پر فرض ہے، ہر سال حجاج کی تعداد بڑھ رہی ہے، سعودی عرب کی حکومت مسلسل اس کوشش میں ہے کہ حجاج کرام کے لیے سہولتوںمیں اضافہ کرے،خادم حرمین شریفین نے خدمت خاطر میںکوئی کسر تو نہیں چھوڑی اور جدید سے جدید سہولت بہم پہنچا دی ہے اور آنے والے برسوں کے لئے تو بہت بڑا توسیعی منصوبہ زیر تکمیل ہے مگر پھر بھی حادثہ ہو گیا اور سینکڑوں حجاج کرام شہادت کے مرتبے پر سرفراز ہو گئے، اللہ ان کو جنت میں جگہ دے اور پس ماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

زندگی آنی جانی ہے مگر یہ زندگی گزارنی کیسے ہے، اس کے لئے اسلام نے ایک نظام وضع کر دیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا، اللہ نے آج دین مکمل کر دیا۔

خطبہ حج میں امام صاحب نے اپنی طرف سے تو مسلمانوں کو خبر دار کر دیا کہ وہ دہشت گردی میں ملوث نہ ہوں اور اسلام کا چہرہ مسخ نہ کریں مگر امام صاحب کے پاس ایسا کوئی نسخہ نہیں کہ ان کے کہے پر کوئی عمل بھی کرے۔ حج کو محض ایک رسم بنا دیا گیا ہے، اس کی سپرٹ کو لے کر چلنے کی کوئی کوشش نظر تو نہیں آتی۔

عالم اسلام کا کونسا ملک ہے جو دہشت گردی کی لپیٹ میںنہیں ہے اور برسوں سے نہیں ہے۔ کہیں بوکو حرام نے زندگی حرام کر رکھی ہے، کہیں ٹی ٹی پی گردنیں کاٹ کر ان سے فٹ بال کھیلتی ہے اور معصوم بچوں کی جانیں لیتی ہے۔ مصر، شام، یمن، فلسطین، کشمیر، پاکستان، الجزائر، لیبیا، تیونس اور درجنوں دیگر ممالک میں خون کی ندیاں بہہ چکیں اور یہ سلسلہ دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے، غیر اسلامی ممالک نے دہشت گردی کے انسداد کے لئے اتحاد بنا رکھا ہے اور کہیں اتحاد نہیں ہے تو یہ اسلامی ممالک میں نہیں ہے، ایک مسلمان ملک دوسرے مسلمان ملک کا ساتھ دینے کے لئے آمادہ نہیں اور اسلامی دنیا کا اعلی تریں پلیٹ فارم اسلامی کانفرنس اس سنگین مسئلے پر مہر بلب ہے۔ مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے اور اسلامی کانفرنس کا کہیں وجود تک نظر نہیں آتا۔ یہ بے حسی ہے، بے اعتنائی ہے یا مجرمانہ خاموشی ہے۔

پاکستان کا مسئلہ انتہائی ٹیڑھا ہے، جب تک ضرب عضب شروع نہیں ہوئی تھی، سبھی دہشت گردوں کے حامی تھے، ہمدرد تھے، سرپرست تھے، ساتھی تھے، سہولت کار تھے، سرمایہ کار تھے، مذاکرات کار تھے ، ضرب عضب نے کچھ لوگوں کو عارضی طور پر چپ لگا دی مگر اب ان کی بھی زبانیں کھل گئی ہیں کیونکہ یہ خود اس ضرب کا نشانہ بن رہے ہیں۔ اب جو کوئی ضرب کا نشانہ بنتا ہے، اسے انتقامی عمل قرار دیتا ہے، الطاف حسین کے خطبے سن سن کر کان پک گئے، پھر زرداری کے بھاشن شروع ہو گئے اور ان کی پارٹی پھٹ پڑی، حکمران پارٹی کے کچھ ساتھی گرفت میں آئے ہیں تو وہ ہاہا کار مچی ہے کہ خدا کی پناہ۔ کہتے ہیں کہ شریف آدمیوں کی پگڑیاں اچھالی جا رہی ہیں اور یہ شریف آدمی وہ ہیںجو کروڑوں کی پلی بارگین پر دستخط کر کے رہا ہوئے ہیں اور باقی اربوں نہیں، کھربوں کی پلین بارگین کے بعد ہی کھلڑی بچا سکیں گے۔ سب سے شریف وہ تھی جو لاکھوں ڈالر سمگل کرتے پکڑی گئی۔

دہشت گردی کی کئی شکلیں ہیں، انسانی جان لینے سے عوامی خزانے کی لوٹ مار تک سب کچھ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے، جنرل مشرف پہلی مرتبہ جنرل اسمبلی میں گئے تو انہوں نے کہا کہ ہمارے مالی دہشت گردوں کو آپ لوگوں نے پناہ دے رکھی ہے۔ اب تو ان دہشت گردوں کی شکلیں سب کے سامنے ہیں۔ کوئی دبئی میں محلات کھڑے کر رہا ہے، کوئی لندن میں اسٹور پہ اسٹور کھولے چلے جا رہا ہے، کسی کی رقم سوئس بنکوںمیں پڑی سڑ رہی ہے اور وہ خود اس دنیا سے رخصت شد۔ کوئی امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، ملائیشیا، حتی کہ جنوبی افریقہ تک میں اپنا لوٹ مار کا پیسہ لے کر بھاگ گیا ہے۔ ہر کسی کے پاس دہری شہریت ہے۔ ان کی پانچوں گھی میں ہیں، جن لوگوں کو سپریم کورٹ نے دہری شہریت کی وجہ سے نکالا ، انہیں دوبارہ اعلیٰ ترین منصب پیش کر دیئے گئے، یہ سب دہشت گردی ہے جناب۔اور اسے ختم ہو نا ہے، خطبہ حج میں بھی اس پر احتجاج سامنے آ گیا اور اگر پاکستان کی مسجد میں مولوی کو خطبے کی آزادی مل جائے تووہ بھی ان دہشت گردوں پر ہزار نفرین بھیجے۔

مگر امام حج اور امام مسجد کے خطبے پر عمل کیوں نہیں ہوتا یا کیوں نہیں کرنے دیا جاتا، پاک فوج اور رینجرز اپنا کام کر رہی ہے، اس کے مثبت اور ٹھوس نتائج بھی نظر آتے ہیں مگر ان کی ٹانگیں کھینچنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے، یہی نیشنل ایکشن پلان جس پر فوج عمل پیرا ہے، نچلی سطح پر تھانے کے محرر کے ہاتھ میں کھلونا بن گیا ہے۔ اس محرر کے پاس پہلے ہی خدائی اختیارات تھے، اب وہ بھی ہیںجو ہٹلر اور چنگیز کے پاس بھی نہ تھے، کوئی دن آتا ہے کہ تھانہ محرر ایک خطبہ جمعہ لکھے گا اور ہر مسجد کے مولوی کو پڑھنے پر مجبور کرے گا، یہ تھانہ محرر مسجدوں کو تالے لگو اسکتا ہے مگر محلے کی طوائف کا کوٹھا بند نہیں کرا سکتا، ایان علی کو گھر میں بند نہیں کر سکتا، ہیروئین کے اڈے کو سیل نہیں کر سکتا اور گدھے، کتے اور خنزیر کا گوشت کھلانے والے کے ہاتھ نہیں توڑ سکتا، الٹا ان کا دست و بازو بن گیا ہے، اسی لئے دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

کیا حج کے خطبے میں ہر اسلامی ملک کے پولیس والے نہیں تھے، کیا ان میں بیورو کریٹ نہیں تھے، کیا ان میں وزیر مشیر نہیں تھے، کیا ان میں پٹواری نہیں تھے، کیا ان میں میٹر ریڈر نہیں تھے، سبھی تھے مگر ان لوگوں نے امام کے خطبے کو حلق سے نیچے جانے ہی نہیں دیا۔

میں تصویریں دکھا سکتا ہوں ان وزیروں کی جو روضہ رسولﷺ کی جالی کے سامنے گڑ گڑاتے ہیں مگر اپنے ملک میں اس سودی نظام کے نگہبان ہیں جسے حضور اکرم ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ سود در سود سب سے بڑی مالی دہشت گردی ہے۔ امام حج اور امام مسجد تو ویسے ہی سر کھپاتے ہیں، ہمارے گبھرو جوان بھی شہید ہوتے ہیں، ان کی قربانیاں کیسے رنگ لائیں!

------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.