.

کیا میں پاکستان چھوڑ دوں؟

رضا علی عابدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لوگ وطن کو ماں مانتے ہیں، میں بزرگ تصور کرتا ہوں۔ وہی ہمیں پال پوس کر بڑا کرتا ہے اور کسی قابل بناتا ہے۔ آج دو بزرگوں کا ذکر ہے۔ اوّل میرے بزرگ اور دوسرے میرا وطن ، پاکستان۔ دونوں کی کہانیاں پہلو بہ پہلو یوں چلتی ہیں کہ لکھنؤ میں میرے بزرگ جوہری بھی تھے اور سوداگر بھی۔ ان کے نام کا محلہ اور امام باڑہ ابھی تک موجود ہیں۔ ان کا زمانہ دولت کی فراوانی کا دور تھا۔ پیسے کی افراط تھی اور لکھنؤ کی روایتی وضع داری اور رکھ رکھاؤ اپنے عروج پر تھا۔ ان کی املاک، ان کے گاؤں دیہات اور باغات دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ شہر میں سوداگر کے باغ سے لائے گئے آم شوق سے خریدے جاتے تھے۔ پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ لکھنؤ پر زوال آیا۔ یہ خاندان بھی اس زوال کی زد میں آکر خاک میں ملنے لگا۔ ساری دولت، تمام شان و شوکت، کُل مال اسباب فروخت اور نیلام ہونے لگا اور ان سے حاصل ہونے والی دولت عیش و عشرت کی نذر ہونے لگی۔ عجب نہیں کہ خوشامدیوں اور چاپلوسوں نے نوابین کے تن بدن کے کپڑے تک فروخت کروا دئیے ہوں۔ ایسے ماحول میں میرے والد میر اکبر علی نے اپنا مال اسباب سمیٹا، گھر چھوڑا اور روڑکی چلے گئے جہاں انگریزوں کے قائم کئے ہوئے انجینئرنگ کالج میں داخلہ لے لیا۔

یہاں سے میرے دوسرے بزرگ یعنی سرزمین پاکستان کا قصّہ شروع ہوتا ہے۔ کیڑے ہزار طرح کے ہوتے ہیں، اکثر رینگنے والے۔ ایسا ہی کیڑا پاکستان میں کسی کے دماغ میں رینگا۔اس کے ذہن میں یہ خیال کوندا کہ کیوں نہ لندن شہر کے عین قلب میں واقع پاکستا ن کے سفارت خانے کی عمارت فروخت کر کے لاکھوں کروڑوں کھر ے کر لئے جائیں۔ یہ عمارت لندن جیسے شہر کی ایسی قیمتی زمین پر قائم ہے کہ فروخت کے لئے بازار میں آجائے تو خریدار اس پر ٹوٹ پڑیں گے اور منہ مانگے دام حوالے کردیں گے۔ دماغ کے کیڑے نے یہ بھی سُجھایا کہ شہر کے کسی سستے علاقے میں کوئی دوسری عمارت لے لی جائے۔ باقی بچنے والی دولت سے قومی خزانے کو لبا لب بھر دیا جائے۔ یہ خبر پاکستان کے نہایت معتبر اخبار میں چھپی۔ خبر کی تحقیق کرنے والے نامہ نگار کو بھی اُسی سوال نے ستایا جو میرے تجسس میں بھی چٹکیاں لئے جارہا ہے کہ سوال یہ نہیں کہ لندن میں پاکستانی املاک بیچ دی جائیں، سوال یہ ہے کہ املاک بیچنے کے خیال کا یہ نجس کیڑا کس شخص کے دماغ میں رینگا؟باخبر ذرائع نام بتانے سے انکاری ہیں۔ وہ یہ تک بتاتے ہیں کہ معاملے کی پوری فائل تیار کرکے وزیر اعظم کی میز پر رکھ دی ہے۔ اب بس ایک دستخط کی دیر ہے۔

ہم کیسے بدنصیب لوگ ہیں۔ وہ جو کہتے ہیں اور ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ پاکستان غریب اور پاکستانی مال دار ہیں، ایک طرف ہم لندن میں اپنے قومی اثاثے بیچ رہے ہیں اور دوسری طرف ہمارے صاحبان ثروت اسی لندن میں ایک سے ایک قیمتی عمارت خرید رہے ہیں۔ عجب نہیں کہ اگر خدا نخواستہ ہمارے سفارت خانے کی عمارت فروخت ہوئی تو بعد میںانکشاف ہو کہ اس کا خریداراندر سے پاکستانی نکلا۔یہ تو طے ہے کہ چال بازیاں کوئی ہم سے سیکھے۔ وہ جو بڑے کہہ گئے ہیں کہ کیا خوب سودا نقد ہے، اِس ہاتھ لے اُس ہاتھ دے۔

جس اخباری نامہ نگار نے یہ خبر دی ہے اس کی خدمت میں دوچار باتیں اور عرض کردی جائیں تو شاید بہتوں کا بھلا ہوگا۔ لندن میں پاکستان کی قومی املاک کی دکان یہ کوئی پہلی بار نہیں کھلی ہے۔ جہاں اس سفارت خانے کے پاس عمارت کا ایک بلاک ہے، یہاں ہمارے ملک کو ایسے کم سے کم چار بلاک عطا کئے گئے تھے۔ ہندوستان جب تقسیم ہوا تو بھارت کو لندن کے عین وسط میں انڈیا ہاؤس جیسی عظیم الشان عمارت دی گئی۔ پاکستان کو دینے کے لئے اُس جیسی عمارت موجود نہ تھی اس لئے اسے شہر کے قلب میں نہایت فیشن ایبل اور گراں علاقے میں دفتری عمارتوں کے چار بلاک اور ان کے درمیان زمین کا ایک خالی ٹکڑا دیا گیا کہ پاکستان جس طرح چاہے اسے استعمال کرے۔ وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر عملے کے لئے ایک لمبی چوڑی رہائشی عمارت بھی دی گئی۔

اخباری نامہ نگار کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ سفارت خانے کی عمارت کے ان چار بلاکوں میں سے دو یا تین پہلے ہی فروخت کئے جا چکے ہیں۔ پتہ نہیں اس کے دام کس نے اور کب کھرے کئے اور وہ پیسہ کہیں جمع بھی ہو ا یا ہوا ہو گیا۔ اب آگے سنئے۔ لند ن میں ایک پاکستان ہاؤس بھی تھا۔ ایک زمانے میں جب کسی کو پاکستانی کھانے کی خواہش ہوتی تھی،وہ پاکستان ہاؤس چلا جاتا تھا جہاں گھر جیسا پکا ہوا پاکستانی کھانا افراط سے ملا کرتا تھا۔ مجھے نہیں معلوم اس پاکستان ہاؤس کو لذیذ کھانا سمجھ کر زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا۔ یہ داستان ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پھر یہ ہوا کہ پروانہء سفارت کاری لے کر ایک اور سفیر صاحب برطانیہ میں وارد ہوئے۔

وہ بھی ایک عجوبہ تھے۔ انہیں لندن کے ریجنٹ پارک کے سامنے نہایت شاندار، شاہی طرز کی عمارت میں اتارا گیا جس میں ہمارے ہر سفیر کا قیام ہو اکرتا تھا۔ یہ بھی شہر کا نہایت ہی مہنگا علاقہ تھا جس میں ذرا بلندی پر کسی نے بہت ہی نفیس عمارت بنائی تھی جس میں پاکستانی سفیر شان سے رہا کرتے تھے۔یہ جگہ سفارت خانے کی عمارت سے اتنی قریب تھی کہ کبھی ٹریفک زیادہ ہو تو سفیر صاحب ٹہلتے ہوئے چلے جایا کرتے تھے۔ پھر یہ ہوا کہ وہی کمبخت رینگنے والا کیڑا ان سفیر صاحب کے کاسہء سر میں سرایت کرگیا۔ ان کے ذہن میں یہ ملین ڈالر خیال کوندا کہ اس رہائشی عمارت کو بیچ کر اور اچھی رقم کھری کرکے شہر سے ذرا باہر کوئی شان دار عمارت خرید لی جائے۔ سودا ہوگیا۔ اب سفیر صاحب کی کار لندن کی سڑکوں پر دھکے کھاتی ہوئی گھنٹے سوا گھنٹے میں دفتر پہنچتی ہے ۔ اتنی مسافت میں اچھا بھلا توانا شخص بھی ادھ موا ہو جاتا ہے۔یقین ہے کہ عزّت مآب ابنِ عباس صاحب کو قدرت نے اس نام کی مناسبت سے صبر کی دولت ضرور عطا کی ہوگی۔

اب ایک ایسی عمارت کا ذکر جس کی مثال اس غنچے کی ہے جس کے مقدر میں کھلنا لکھا ہی نہ تھا البتہ جن لوگوں نے ویسی ہی عمارت کی پیشکش جھٹ قبول کر لی وہ مزے میں ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد جب لندن میں سفارتی عمارتیں عطا ہورہی تھیں تو بھارت اور پاکستان کو اپنے اپنے ثقافتی مرکز کھولنے کی پیش کش کی گئی۔ بھارت کو تو اﷲ موقع دے۔ اس نے عمارت لینے میں ایک لمحے کی دیر نہیں لگائی اور لندن کے بیچوں بیچ ہائیڈ پارک سے ذرا پرے نہرو سینٹر کے نام سے اپنا ثقافتی مرکز کھول لیا جہاں ہر شام میلہ لگتا ہے اور مرزا غالب سے لے کر میرا بائی تک سینکڑوں موضوعات پر مذاکرے، مباحثے اور جلسے جلوس ہوتے ہیں اور بھارتی ثقافت کے وہ ڈنکے بجتے ہیںکہ دیکھا ہی کیجئے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ جس وقت بھارت سرکار کو یہ عمارت دی گئی، اسی وقت پاکستان کو بھی ایسی ہی عمارت پیش کی گئی جسے لینے سے پاکستان نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اس کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ سوچتا ہوں یہ قیمتی اثاثہ اچھا ہی ہوا جو نہیں ملا ورنہ اب تک اس کی بھی بولی لگ رہی ہوتی۔

قصّہ مختصر یہ کہ یہ سب تو کچھ دیکھا دیکھا سا لگتا ہے،کچھ سنی ہوئی سی داستاں ہے۔ وہی میرے بزرگوں کا زمانہ خود کو دہراتا نظر آتا ہے۔اِس نئے بزرگ کے گھر کا اسباب بک رہا ہے اور جائیداد پر برائے فروخت کا بورڈ لگا ہے۔ کچھ ایسا ہی ماحول تھا جب میرے والد لکھنؤ چھوڑ کر روڑکی گئے تھے۔ اب میں کیا کروں۔ کیا پاکستان چھوڑ دوں؟کیا روڑکی والے مجھے قبول کرلیں گے؟

------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.