.

وزیراعظم کی تقریر

ڈاکٹر رشید احمد خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70ویں سالانہ اجلاس سے جب پاکستان کے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خطاب کی باری آئی تو اجلاس میں شریک مندوبین ہی نہیں بلکہ وہ تمام حلقے جو جنوبی ایشیا میں امن اور سلامتی کے متمنیٰ ہیں ، انکے خطاب کو توجہ اور غور سے سننے کے لئے تیار تھے۔ جنرل اسمبلے سے نواز شریف کے خطالب کی اہمیت ایک اور لحاظ سے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ انکے نیو یارک جانے سے پہلے پاک بھارت کشیدگی مین خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ کشیدگی میں یہ اضافہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے آر پار دونوں ملکوں کی سرحد فوجوں کے درمیان آئے دن فائرنگ کا تبادلہ تھا جس میں ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ درمیانے درجے اور بھارت ہتھیاروں کا بھی استعمال ہورہا تھا۔ اس سے فریقین کا مالی نقصان کے علاوہ جانی نقصان بھی ہو رہا تھا۔ پاکستان کی حکومت اور عوام میں اس صورتحال کی وجہ سے سخت غم و غصہ پایا جاتا تھا اور لوگوں کی طرف سے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا تھا کہ وہ اس مسئلے کو بین الاقوامی فورم پر اٹھائے؛ چنانچہ خیال کیا جا رہا تھا کہ وزیر اعظم جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے تو وہ بھارت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نہ صرف لائن آف کنٹرول پر بھارت کی طرف جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کروائیں گے بلکہ اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلے کو بھرپور انداز مین پیش کریں گے۔

لیکن وزیر اعظم نے اپنے خطاب مین بارت کے بارے میں بڑا متوازن، معتدل اور مثبت موقف اختیار کیا۔ لیکن اسکے ساتھ ہی کشمیر پر اپنے ملک کے موقف کو واضھ اور غی رمبہم انداز میں پیش کرتے ہوئے ایک ایسا چار نکاتی فارمولا پیش کی جو نہ صر فپاکستان کے عوام اور کشمیریوں کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ انصاف اور بین الاقوامی قانون کے تمام تقاضوں پر بھی پورا اترتا ہے۔ ان چار نکات میں پہلا نکتہ اس تجویز پر مشتمل ہے کہ پاکستان اور بھارت 2003ء کے معاہدے کے تحت کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کو مستحکم کریں اور کسی قسم کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے ایک میکانزم قائم کریں جس میں کشمیر مین اقوام متحدہ کی طرف سے متعین آبزرو گروپ کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی اور شرکت کا موقع مل سکے۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال یا طاقت استعمال کرنے کی دھمکی کے خلاف ایک واضح اعلان کی جائے۔ تیسرا نکتہ ی ہے کہ پورے کشمیر کو ایک غیر فوجی علاقہ ورار دے کر مسلح افواج کو وادی سے نکال دیا جائے۔ اور چوتھے نکتے کا تعلق سیاچن گلیشئر سے ہے جہاں بھارت کی طرف سے کھلی جارحٰت کے ارتکاب کی وجہ سے 1982ء سے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے۔ اس جنگ میں جو دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر لڑی جارہی ہے، دونوں اطراف سے بھاری جانی نقصان ہوچکا ہے اور نقصان کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ چنانچہ وزیر اعظم نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اور بھارت دونوں غیر مشروط طور پر سیاچن گلیشئر سے فوجیں نکال لیں۔

وزیر اعظم کے اس چار نکاتی فارمولے کا پاکستان اور کشمیر میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ میں کشمیر کے بارے میں پاکستانی عوام اور کشمیریوں کے جزبات کی صحیح ترجمانی کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ لیکن دوسری طرف توقع کے عین مطابق بھارت نے اسی فارمولے کو مسترد کر دیا اور اس بات پر اصرار کیا ہے کہ دونوں ملکوں میں کشیدگی کی اصل وجہ بھارت کے خلاف دہشت گردی ہے جسے پاکستان روکنے میں ناکام رہا ہے۔ اسلئے جہاں تک وزیر اعظم کی طرف سے پیش کردہ نکات پر عمل درآمد کا تعلق ہے بھارتی موقف کے سامنے آںے کے بعد ان پر عمل درآمد خارج ازامکان ہے۔

لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وزیر اعظم نے پاک بھارت کشیدگی کم کرنے اور دونوں ملکوں میں کشمیر اور سیاچن جیسے مسائل کے حل کے لئے جو تجاویز پیش کی ہیں وہ رائیگاں جائیں گی یا بین الاقوامی برادری انک نوٹس نہیں لے گی۔ بلکہ یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ یہ تجاویز پیش کر کے پاکستان نے بھارت کو کشمیر پر اپنے موقف میں دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور کر دی اہے کیونکہ یہ چاروں تجاویز مسلم اخلاقی ضابطوں اور مروجہ بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہیں۔ اسکے علاوہ ان مین سے کوئی ایسی بات شامل نہیں جو نئی ہو یا اقوام متحدہ کے چارٹر سے متصادم ہو، بلکہ ان میں ایسے موقف کا اعادہ کیا گی اہے جس پر ماض میں کسی نہ کسی وقت میں پاکستان اور بھارت دونوں اپنی رضامندی کا اظہار کر چکے ہیں۔

مثلا جہاں تک لائن آف کنٹرول پر 2003ء کے معاہدے کے تحت جنگ بندی کو ایک باقاعدہ اور مستقل شکل دینے کی تجویز ہے، بھارت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بھارت کی طرف سے مسلسل یہ موقف ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں پاکستان کی طرف سے ہورہی ہیں اور بھارت کی جانب سے صرف جوابی کارروائی کی جاتی ہے۔ الزام اور ردِ الزام کے اس نہ ختم ہونے والے سلسلے کا خامتہ کرنے کا یہی بہترین طریقہ ہے کہ جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد اور اسے روکنے کے لئے ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جو نہ صرف موثر ہو بلکہ اسے پاکستان اور بھارت دونوں کا اعتماد حاصل ہو۔ امریکہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری نے بھی نیو یارک میں ویزر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے دوران میں اسی قسم کے ایک میکانزم کے قیام کی حمایت کی ہے۔ جہاں تک کشمیر سے فوجوں کے انخلاء کے بعد اسے ایک غیر فوجی علاقہ قرار دینے کا تعلق ہے، یہ تجویز سب سے پہلے اقوام متحدہ کی طرف سے 1948ء میں سلامتی کونسل کی کشمیر پر قراردادوں میں شامل کی گئی تھی اور اس پر پاکستان اور بھارت دونوں نے اتفاق کیا تھا۔ 2004ء میں سابق جنرل مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے جو چار نکاتی فارمولہ پیش کیا تھا، اس میں بھی کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس لیے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے یہ تجویز پیش کر کے کوئی نئی بات نہیں کہی۔

--------------------------------

بہ شکریہ روزنام ’’دنیا‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.