.

یورپ کیا کہتا ہے

غازی صلاح الدین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وسطی یورپ میں گزرنے والے چند دنوں کا اپنا ایک نشہ ہے۔ لیکن دنیا بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔ خود یورپ اپنی تاریخ کے ایک بحران سے دوچار ہے۔ شام اور افریقہ کے پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی یلغار نے ایک ایسی صورت حال پیدا کردی ہے جس نے یورپ کی موجودہ شناخت کے بارے میں کئی سوال اٹھادئیے ہیں۔ یہ غور طلب معاملات اپنی جگہ، پہلے میں اس یورپ کا کچھ ذکر کرنا چاہتا ہوں جو نوجوانی کے زمانے سے میرے تصور میں آباد رہا ہےاور جس کی پراسراریت اسے بار بار دیکھنے اور اس کے کئی ملکوں میں کئی کئی دن ٹھہرنے کے بعد بھی قائم ہے۔

یہ وہ یورپ ہے جسے میں جزائر برطانیہ سے الگ رکھتا ہوں۔ لندن سے واقفیت، زبان اور تاریخ کے رشتے کے سبب، مختلف نوعیت کی ہے۔ براعظم یورپ کسی مانوس اجنبی کی طرح ایک اور طرح کی کشش رکھتا ہے۔ اس کے روپ بھی کئی ہیں۔ پیرس کی داستانیں کبھی راتوں کو جگائے رکھتی تھیں۔ فرانس کے ادب نے ایک نئی دنیا سے متعارف کیا۔ اٹلی کے سینما نے خوابوں کو ایک نیا رنگ دیا۔ جرمنی کا رعب ہٹلر کے علاوہ اس کے سائنس دانوں، اور فلسفیوں کی وجہ سے قائم رہا۔ پھر دوسرے کنارے پر اسپین کا اندلس، الحمرا، کی کھوئی ہوئی عظمت کا نشان بنا رہا اور قرطبہ کی مسجد آواز دیتی رہی۔

یورپ اتنا پھیلا ہوا، اتنا متنوع ہے کہ اس کو کسی ایک فریم میں فٹ کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ پھر بھی یورپ اپنی تاریخ، تہذیب، آرٹ اور موسیقی کے بندھن میں ایسا بندھا ہوا ہے کہ کوئی دوسرا براعظم ایسا نہیں ہے کہ جس کے ملک اس طرح جڑے ہوئے ہوں۔ صرف جنوبی ایشیا کو ہم ایک ایسا خطہ سمجھ سکتے ہیں ۔ یورپ اور جنوبی ایشیا کے رشتے کا ایک حوالہ ہماری نظر میں رہا ہے۔ وہ یہ کہ اگر دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے بڑے ممالک اپنی صدیوں پرانی دشمنی کو فراموش کرکے دوستی اور تعاون کا ایک نیا باب شروع کرسکتے ہیں تو جنوبی ایشیا کے وہ ممالک ایسا کیوں نہیں کرسکتے جو کسی زمانے میں ایک ساتھ رہ بھی چکے ہیں۔ اس ضمن میں جرمنی اور فرانس کی مثال ہم دیتے رہے ہیں۔

لیکن یورپی یونین کا دائرہ بہت وسیع ہے اور آج میں خاص طور پر’شین گن‘معاہدے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ جو تاریخ کا ایک اچھوتا تجربہ ہے اور اس یورپ کے سیاسی اور تہذیبی ارتقا کا مظہر ہے کہ جس نے کلیسا کے جبر سے آزادی اور سائنسی فکر کے آغاز کے ساتھ جدید عہد کی بنیاد رکھی۔ فرانس کے معاشرتی اور برطانیہ کے صنعتی انقلاب نے سب کچھ بدل دیا۔ امریکہ بھی اسی یورپ کے بطن سے پیدا ہوا۔ جسے ہم مغربی تہذیب یا مغربی فکر کہتے ہیں اس کا تعلق اب بھی امریکہ سے زیادہ یورپ سے ہے۔ اب ’شین گن‘ کے تجربے کو ہی دیکھ لیجئے۔ ہم اسے ویزے کی حیثیت سے جانتے ہیں کہ یورپ کے کسی ایک ملک کا ویزا مل جائے تو اتنے سارے دوسرے یورپی ممالک جانے کی آزادی مل جاتی ہے۔

دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ اس معاہدے میں شامل ممالک نے اپنی سرحدوں پر سے پہرے اٹھالئے ہیں اور ان ممالک کا کوئی بھی شہری کسی دوسرے ملک میں داخل ہوسکتا ہے، رہ سکتا ہے، کام کرسکتا ہے۔ ہم آنے جانے کی اس آزادی کو کیسے سمجھیں گے کہ جب ہم لاہور اور امرتسر کے درمیان جو فاصلہ ہے اسے سمجھ نہیں پاتےاور یہ بھی اہم بات ہے کہ یورپین یونین کے ملکوں کی الگ الگ حیثیت بھی ہے۔ چند ملک معاشی طورپر بہت مضبوط اور خوشحال ہیں۔ چند معاشی مشکلات میں الجھے ہوئے ہیں۔ یونان کی کہانی کا آپ کو شاید کچھ اندازہ ہو۔ بہرحال اب جو مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے پناہ گزین اور تارکین وطن یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کررہےہیں تو یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ کون سا ملک کتنے افراد کو پناہ دے سکتا ہے۔ ہمسایہ ممالک میں اس مسئلے پر اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

ایک جامع حکمت عملی بنانے کی باتیں ہورہی ہے۔ کہیں کہیں سرحدوں پر پہرے لگانے کے امکانات پیدا ہورہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سیاسی ، معاشی اور معاشرتی معنوں میں یہ ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے۔ کئی ملکوں میں دائیں بازو کے انتہا پسند، ایک دوسرے مذہب اور تہذیب کے بے آسرا افراد کو اپنے معاشرے کیلئے ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔ لیکن یورپ کو اپنے جمہوری، اخلاقی اور انسانی اصولوں پر ناز بھی تو ہے۔ جرمنی کی چانسلر مرکل نے جس انداز میں تارکین وطن کو پناہ دینے کو یورپ کی انسانی ذمہ داری قرار دیا تھا اس کا اعتراف ضروری ہے۔ لیکن پناہ گزینوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ انسانی اسمگلر بھی، ٹوٹی پھوٹی کشتیوں میں پناہ گزینوں کو بھر کر یورپ کے ساحلوں کی طرف روانہ کرتے رہے ہیں۔ یہ ایک درد ناک داستان ہے اور ہمارے جیسے ملکوں میں اس کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی۔ دکھ کی بات یہ ہےکہ شام کی خانہ جنگی بلکہ مسلم دنیا کی داخلی صورت حال سے اس کا گہرا تعلق ہے۔

یورپی یونین کے 28 ملکوں میں سے چھ ایسے ملک ہیں جنہوں نے خود کو ’شین گن‘ کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ ان میں جیسا کہ ہم جانتے ہیں ، برطانیہ بھی شامل ہے۔ چار ایسے ملک بھی ہیں جو یورپی یونین میں تو شامل ہیں لیکن وہ ’شین گن‘ کے نظام کا حصہ ہیں۔ ان میں سوئٹزر لینڈ بھی شامل ہے۔ ہم جب بھی یورپ آتےہیں تو ہمارا پڑائو شمالی اٹلی کے بڑے شہر ملان کے مضافات میں اپنی چھوٹی بیٹی کے گھر ہوتا ہے اور اس طرح وسطی یورپ ہماری دسترس میں ہوتا ہے۔ فرانس اور سوئٹزر لینڈ بہت قریب ہیں۔ کار میں بیٹھ کر یورپ میں سفر کرنے کا جو خواب نوجوانی میں دیکھا تھا اس کی تعبیر اب عمر کے آخری حصے میں ملی ہے اور یہ ’شین گن‘ کا احسان ہے کہ ایک کے بعد دوسرے ملک کی سرحد عبور کرلیں اور کوئی اس طرح بھی نہ روکے کہ جیسے سپر ہائی وے پر کسی پولیس یا رینجر زکی چوکی پر کوئی روک لیتا ہے۔ ابھی ہم جنیوا گئے تو سفر ساڑھے تین گھنٹوں کا تھا اور ہم نے تین ملک چھولئے۔

یعنی اٹلی سے چلے اور ایلپس کے پہاڑوں کی سب سے اونچی چوٹی مانٹ بلینک کے نیچے بنی ہوئی تقریباً 12کلو میٹر لمبی سرنگ سے گزر کر فرانس میں داخل ہوگئےاور پھر سوئٹزر لینڈ کی سرحد عبور کرتے ہی جنیوا آگیا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جس ہوٹل میں ہم نے رات بسر کی وہ فرانس میں تھا۔ وہاں سے 15منٹ میں ہم جنیوا کی جھیل تک پہنچ جاتے تھے۔ آسٹریا اور جرمنی کے کئی شہروں تک کا سفر بھی بہت آسان ہے۔ پھر شمالی اٹلی کے وہ شہر بھی ہیں جو شکسپئر کے ڈراموں سے پہنچانے جاتے ہیں۔ رومیو جولیٹ کا ویرونا ڈیڑھ گھنٹے کے فاصلے پر ہے اور وینس، دنیا کا شاید سب سے خوبصورت شہر، ڈھائی گھنٹے دور ہے ۔ تو یہ ہے یورپ اور یہاں آکر یہ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ دنیا اور اس میں بسر کی جانے والی زندگی بہت خوبصورت ہے۔ افسوس کہ یہ احساس پائیدار نہیں ہوسکتا جیسا کہ میں نے کہا، آپ کہیں بھی ہوں، دنیا ساتھ ساتھ چل رہی ہے۔

خود یورپ بھی، پناہ گزینوں کے معاملے میں، اس دنیا سے جڑا ہوا ہے۔ مثال کے طورپر شام میں جو کچھ ہورہا ہے اسے پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ دمشق اور حلب میں نے اس زمانے میں دیکھے ہیں جب وہ اپنے الف لیلوی ماحول کے ساتھ دنیا کے سب سے خوبصورت شہروں میں شمار کئے جاسکتے تھے اور میں وہاں آٹھ اور نو سال پہلے ہی گیا تھا اور اب شام کے کئی شہرکھنڈر بن گئے ہیں اور ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ ۔ بے گھر ہوچکی ہے۔ ان میں بیشتر افراد ملک سے باہر پناہ کی تلاش میں ہیں۔ شام کے پناہ گزین ترکی، عراق، لبنان، اردن اور مصر جیسے مسلمان ملکوں میں تو ہیں مگر خلیجی ملکوں میں ان میں سے کسی ایک کو بھی پناہ نہیں ملی ہے۔

------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہوناضجروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.