.

مسئلہ کشمیر، ابلاغ ، ابلاغ اور ابلاغ کی ضرورت…

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنیاد پرست بھارتی وزیراعظم کی پاکستان کے ساتھ امن سے رہنے اور اس حوالے سے مسئلہ کشمیر پر ان کی حکومت کی سوچ مکمل بے نقاب ہونے کے بعد پاکستان نے مسئلے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کا جو اقدام کیا ہے اسے نتیجہ خیز بنانا اب ہماری اولین حکومتی ہی نہیں قومی ذمہ داری بن گئی ہے۔ ملک کے ایک ایک شہری نے یہ فریضہ نبھانا ہے جس کی کمزور ترین شکل یہ ہے کہ اب حکومتی موقف اور اقدام کی تائید و حمایت کی جائے ۔داخلی سیاست کے تناظر میں اس پر حکومت کو نیچا دکھانے یا چڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر کوئی سیاست دان حکومتی اہلکار، رائے ساز یا عام شہری بھی ’’کشمیر کاز‘‘ پر داخلی سیاست کرتا ہے تو وہ سرینگر کے بازاروں میں ایک ہتھیلی میں جان اور دوسری میں پاکستانی پرچم اٹھا کر ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے بلند کرنے والے کشمیریوں کی جدوجہد سے اپنی گروہی سیاست کا مقصد پورا کرنے کے جرم کا مرتکب ہوگا۔ پاکستان پراللہ کتنا مہربان ہے، ہم نے ہی درست ہو کر نہ دیا تو ضرب عضب کی بھرپور قومی تائید کے بعد مودی کی ناقابل لچک بنیاد پرستی، جو اکنامک کاریڈور جیسے پرامن اور دو طرفہ عظیم ترقیاتی اقدام کی بلا جھجھک مخالفت سے مزید واضح ہوئی، نے پاکستانی قوم کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ ہر دو (ضرب عضب اور مسئلہ کشمیر پر تازہ حکومتی موقف) ہمارے شدت سے مطلوب اتحاد کا ذریعہ بن گئے۔

بلاشبہ جنگ ستمبر کی طرح اب پاکستانی قوم حکومت، افواج ، سیاسی جماعتیں اور میڈیا سے منسلک رائے سازوں کے لئے ضرب عضب سے آخری کامیاب نتائج حاصل کرنا اور بھارتی بنیاد پرستی کی پاکستان کےخلاف قابل دید اور نادیدہ جنگ کو شکست دینا اولین قومی چیلنج بن گیا ہے۔ اس سے نبردآزما ہونے کے لیے ہمیں مطلوب ضرورتوں کی فوری نشاندہی کرنی ہے۔جہاں تک کشمیریوں کی خالصتاً مقامی پرامن تحریک برائے حصول حق خودارادیت کا تعلق ہے اس کو روکنا یا اس میں کمی، مقبوضہ کشمیر میں برسوں سے تعینات سات لاکھ بھارتی فوج کے بس میں ہے نہ ہی بنیاد پسند بھارتی منتخب قیادت کے۔ یہ اب آشکار ہے کہ بھارت جس طرح پاکستان کے ساتھ جنگ کے قابل نہیں رہا اسی طرح وہ ہم سے مذاکرات سے بھی کتراتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ اقوا متحدہ کے چارٹر، قراردادوں اور دلائل اور لاجک کو ہی مسئلہ کشمیر کا حل تسلیم کر لیا گیا تو کشمیر پر پاکستان کا کیس کتنا مضبوط ہے۔

لہٰذا بنیاد پرست مودی سرکار اپنی ذہنیت کے تناظر میں اس پاپ کی مرتکب نہیں ہوسکتی کہ وہ پاکستان سے مذاکرات کرے، جیسے قبل از تقسیم کانگریسی قیادت نے یہ جرم کر کے جناح کی وکالت سے شکست کھا کر بھارت ماتا کو تقسیم کرا دیا۔ہماری تاریخ کا سبق یہ ہی ہے کہ ہم نے بانی پاکستان کے انداز سیاست کو ہی اختیار کر کے اپنی ابلاغی جدوجہد کو عالمی سطح کی تحریک جاریہ میں تبدیل کر کے مسئلہ کشمیر حل کرنا ہے جس طرح بابائے پاکستان نے مسلمانان ہند کو الگ قوم ثابت کرنے پر دلائل کا پہاڑ لگا کر کانگریس کو دیوار سے لگایا تھا، تمام تر حالات پیدا ہوگئے ہیں کہ ہم آج ویسےہی ابلاغ کی طاقت سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلا کر پارٹیشن آف انڈیا کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کر ڈالیں۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ امن عالم خصوصاً پاکستان اور بھارت کے استحکام کے حوالے سے بنیاد پرست قیادت کو اپنی منتخب قیادت بنانے والی بھارتی قوم پر اٹھنے والا یہ سوال واضح ہوتا جارہا ہے کہ بھارت نے جنگی جنون میں مبتلا رہ کر افلاس کا اسیر ہی رہنا ہے یا اپنے تسلیم شدہ پوٹینشل کے مطابق 120 کروڑ انسانوں کی سسکتی زندگیوں کو امن و خوشحالی سے ہمکنار کرنا ہے؟

ہمیں بھارت میں پیدا ہونیوالے اس یقین کو بڑھانا ہے کہ ان کی قیادت بھارت کو ایک بڑی خوشحال اور علاقائی طاقت بنانےکا جو خواب دکھا رہی ہے وہ پاکستان سے پرامن تعلقات قائم کئے بغیر ناممکن ہے جس کی کنجی مسئلہ کشمیر کا حل ہے اور حل کی پرامن مذاکرات۔ پاکستان کے لئے یہ معاملہ فقط کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے یعنی پارٹیشن آف انڈیا کے نامکمل ایجنڈے کو مکمل کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ اسیران افلاس، بھارت و پاکستان کو بھی جنگی کیفیت و ذہنیت غربت و افلاس اور جہالت سے نجات دلانے کا سوال ہے۔ ہم اسلامی جمہوریہ ہیں اور ہم نے دنیا پر ثابت کرنا ہے کہ اسلام امن و آشتی اور فروغ انسانیت کا فلسفہ ہے۔

ہم ہی نے بھارتی عوام کو جگانا ہے کہ سوا ارب بھارتی ارباہا ڈالر کے اسلحے کے ڈھیر لگا کر اور مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ افواج کو تعینات رکھ کر ان کی انتہا پسند اور سامراجی عزائم رکھنے والی قیادت کی ذہنی تسکین ضروری ہے یا افلاس اور جنگی جنون سے ان کی نجات؟بھارتی حکام نہیں تو ہمیں بھارتی عوام سے ابلاغ کرنا ہے اور عالمی امن کے لئے برصغیر کی فلیش پوائنٹ کی حیثیت ختم کرنے کی خاطر ہر عالمی اور علاقائی فورم پر۔ بھارت اور دنیا میں بنیادی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ابلاغ (منظم شکل میں مذاکرات) کرنا ہیں۔ ہم نے اپنے میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا کو اسی کاز کے لیے استعمال کرنا ہے۔ ہم سے یہاں مطلب، پاکستانی حکومت، سیاسی جماعتوں، میڈیا تجزیہ نگاروں، رائے سازوں اور سوشل میڈیا کے بہترین یوزرز نے۔ بھارت کے دلت، اقلیتیں اور ہندو بنیاد پرستی سے نجات پانے کے متمنی تبدیلی کے خواہاں طبقات تک اپنا ’’قیام امن اور افلاس سے نجات‘‘ کا پیغام پہنچاناہے۔ ہمیں وما علینا الا البلاغ کی اپنی عظیم روایت کی پیروی کرتے ہوئے بھارت کے غریب اور باشعور عوام پر واضح کرنا ہے کہ ان کی جنونی قیادت ’’سرجیکل اسٹرائیک‘‘ (پسند کی محدود جنگ) کا جو خواب دیکھ رہی ہے اس کو شرمندہ تعبیر کرنے کا عمل کس قدر تباہ کن اور نتائج کے حوالے سے انسانیت کے لئے کتنا مہلک ہے۔

پاکستان کے لئے اس سے بڑھ کر سازگار حالات اور کیا ہوسکتے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم خود دہشت گردی کے خلاف بڑی جنگ لڑ رہے ہیں، کشمیریوں کی تحریک انداز کے اعتبار سے جتنی مقامی اور پرامن ہے اتنی ہی اس کی جرات کا گراف بلندی پر ہے۔ سب سے بڑھ کر خود بھارت دہشت گردی کا مرتکب ہورہا ہے جس کے ثبوت پاکستان نے اقوام متحدہ کے سپرد کرنے کا اتمام حجت کردیا ہے۔ پھر بھارتی قیادت کا پس منظر اور انتہا پسندانہ حال دونوںہی اپنی جگہ واضح ہیں۔ بھارتی عوام، دانشوروں اور بھارتی جمہوریہ میں سیکولرازم کے حقیقی پرستاروں کو ہمیں یوں بھی سمجھانا ہے کہ ان کی قیادت، قیام پاکستان سے قبل مسلم لیگی قیادت کی جس صاف گوئی کو بھی جھانسا سمجھتی تھی و ہ یہ غلطی نہ دہرائیں۔

مسئلہ کشمیر کو عالمی امن کے لیے، فلیش پوائنٹ، پاکستان کی وزارت خارجہ نے نہیں دیا، یہ امریکہ کے سابق ڈیموکریٹ صدر کلنٹن کا ا نتباہ تھا۔ آج بھارت کو فطری پارٹنر قرار دینے والے امریکی، ڈیموکریٹ صدر نے ہی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ عراق میں طاقت اور دولت کے استعمال نے ہمیں سبق دیا ہے کہ قیام امن کے لئے یہ دونوں ہتھیار نتائج نہیں دے پائے۔ امریکہ سے زیادہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حقیقت کو کوئی اور نہیں جانتا۔ وہ پاک بھارت تنازع میں اسی حل کوتجویز کرتا چلا آرہا ہے، لیکن اپنے قومی مفادات کا اسیر ہونے کے باعث عالمی امن کی یہ بڑی کاز اس کیلئے ہیچ ہے کہ وہ اپنے فطری حلیف کواس طرف لائے، لیکن اس کی علت یہ ہے کہ پھر وہ اپنا تباہ کن سودا کیسے بیچے؟ اور اتنی بڑی مارکیٹ کو کیسے چھوڑ دے؟ جیسے بھارت کی علت یہ ہےکہ وہ پاکستان سے بہتر تعلقات کے بغیر خوشحال طاقت بننے کا خواب پورا نہیں کرسکتا۔

پاکستان پر تو اب دہشت گردی کا الزام بھی نہیں لگایا جاسکتا، جیسے بھارت اب پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے کرتوت چھپا نہیں سکتا اور ہماری ترقی کی راہوں (جیسے اکنامک کاریڈور) میں رکارٹ ڈالنا اس کے بس کا روگ نہیں کہ یہ جتنا چین اور پاکستان کیلئے مفید ہے اتنا ہی چار خطوں کی خوشحالی اور استحکام کی ضمانت ہے، جس سے بھارت باہر ہے۔ اس کیلئے واحد راستہ، پاکستان کے ساتھ قیام امن میں ہی ہے۔ سو پاکستانی رائے ساز اور تجزیہ نگار، اب وزیراعظم کی تقریر کی سطور و الفاظ پر تبصروں میں وقت ضائع نہ کریں اور اسے داخلی سیاست کا موضوع بنانے کی بجائے کشمیر پر ہونے والے پاکستانی عالمی ابلاغ پر ابلاغ، ابلاغ اور ابلاغ کرتے جائیں۔ -

---------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.