.

کینیڈا میں انقلاب کا جھگڑا

رابرٹ فسک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب سٹیفن ہارپر کی حکومت نے فیصؒہ کی اکہ کینڈا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے حلف اٹھاتے وقت زنیرہ اسحاق کو اپنا نقاب اتارنا پڑے گا تو ایسے لگا کہ اسنے ایک غلط عورت سے جھگڑا مول لے لیا ہے۔ اس وقت تک مسز اسحاق کا نقاب، جو بہت سی مسلم خواتین پینتی ہیں، کینیڈا میں ہونے والے انتخابات سے پہلے کنزرویٹو پارٹی کی مسلم روایات کو ضرورت سے زیادہ اجاگر کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کے خبط علامت بن چکا ہے۔ ملک کی وفاقی عدالت پہلے ہی رولنگ دے چکی ہے کہ کینیڈا میں انقلاب کا جھگڑا جب سٹیفن ہارپر کی حکومت نے فیصؒہ کی اکہ کینڈا کی شہریت حاصل کرنے کے لیے حلف اٹھاتے وقت زنیرہ اسحاق کو اپنا نقاب اتارنا پڑے گا تو ایسے لگا کہ اسنے ایک غلط عورت سے جھگڑا مول لے لیا ہے۔ اس وقت تک مسز اسحاق کا نقاب، جو بہت سی مسلم خواتین پینتی ہیں، کینیڈا میں ہونے والے انتخابات سے پہلے کنزرویٹو پارٹی کی مسلم روایات کو ضرورت سے زیادہ اجاگر کر کے سیاسی فائدہ اٹھانے کے خبط علامت بن چکا ہے۔ ملک کی وفاقی عدالت پہلے ہی رولنگ دے چکی ہے کہ 29 سالہ پاکستانی ٹیچر جو چار بچوں کی ماں گے، اگلے ماہ شہریت کے لیے حلف اٹھاتے وقت نقاب پہن سکتی ہے۔ کینیڈا کے لاکھوں افرات کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب سٹیفن ہارپر کی حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا فیصلہ کیا لیکن وہ اپیل بھی مسترد کر دی گئی۔ زنیرہ کے شوہر محمد اسحاق کینیڈا کی شہریت رکھتے ہیں اور مسز اسحاق بھی انیس اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس کو ووٹ دیں گی تو انہوں نے برملا تسلیم کیا کہ و ہمسٹر ہارپر کو ووٹ نہیں دیں گی؛ تاہم اب حکام نے اعلان کیا ہے (اور یہیں سے یہ کہانی ناقابل تصور اہمیت اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے) کہ وہ اس معاملے کو کینیڈا کی سپریم کورٹ میں اٹھائیں گے تاکہ مسز اسحاق کو نقاب پہن کر حلف اٹھانے سے روکا جا سکے۔

مسٹر ہارپر کے ساتھ افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ دی انڈی پینڈنٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے مسز اسحاق نے جو بہت فصیح اور پرعزم ہیں ، بتایا کہ شادی سے پہلے وہ اپنے شوہر کو جانتی تک نہ تھیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی کینیڈا آںے اور یہاں کی شہریت حاصل کرنے کا خوا دیکھا تھا۔ انہیں شادی سے پہلے لاہور میں یونیورسٹی کے اساتذہ کے ساتھ نقاب پہننے کے مسئلے پر محاذ آرائی کرنا پڑی۔ انہوں نے بہت وضاحت سے بتایا کہ انکے ساتھ پاکستان میں امتیازی سلوک کیا گیا کیونکہ وہ امتحانی مرکز میں مرد ممتحن کے سامنے نقاب اتارنے کے لیے تیار نہ تھیں۔ یہ بات انہوں نے دقیانوسی روایت کی بجائے اپنے لبرل حق کے طور پر بتائی کہ نقاب پہننا انکا حق ہے۔ انکا کہنا تھا: میرا تعلق لاہور کے ایک لبرل گھرانے سے ہے اور جب میں نے نوعمری میں نقاب پہننے کا فیصلہ کیا اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی اور میں فرسٹ اسئر میں تھی، تو میرے والد نے جو خود بھی سائیکالوجی کے پروفیسر تھے مجھے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ کیا میں جانتی ہوں کہ میں کیا کرنے جارہی ہوں؟ میں اس بات کو اچھی طرح سمجھتی تھی؛ چنانچہ بقاب پہننے حکم جیسا کہ یہاں بہت سے صحافی سوچ رہے ہیں، مجھ پر میرے شوہر کا مسلط کردہ نہیں ہے۔ مجھے اسکے لیے کسی نے مجبور نہیں کیا۔ میری تمام بہنیں نقاب پہنتی ہیں اور وہ اس میں زیادہ اطمینان محسوس کرتی ہیں۔

جیسن کینی نے جو سٹیفن ہارپر کی حخومت کے انفارمیشن منسٹر تھے، 2011ء مین نقاب پر پابندی لگانے سے متعلق کینیڈن حکومت کے رویے کی بہت اختصار لیکن جامع طریقے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے خیال میں یہ بات بہت مناسب ہے کہ ایک شخص جو اس ملک کی شہریت اپنانے کا اعلان کرتا ہے، اسے کچھ چھپائے بغیر، بہت فخر سے، سر بلند کرتے ہوئے ایسا کرنا چاہیے۔ جو صحافی مسز اسحاق کے نقاب پہننے کے حق کی حمایت کر رہے ہیں، انکا کہنا ہے کہ مسز اسحاق نے اپنی شناخت ظاہر کر دی ہے اور پھر ایک مرد وزیر کا کوئی حق نہیں کہ وہ ایک مسلمان عورت کی مذہبی اقدار پر رائے زنی کرتے ہوئے اسے بتائے کہ درست طرز عمل کیا ہے۔

مصنف مارشلا لیڈرمین کا کہنا ہے کہ دی میل اور ٹورنٹو گلوب جیسے اخبارات نے ایسے طوفان مچا رکھا ہے جیسے مسز اسحاق نے نقاب پہن کر کسی کی دل آزاری کی ہو۔ انکا کہنا ہے ؛ جن افراد کو نقاب سے صدمہ پہنچا ہے، انہیں شیشے میں اپنا منہ دیکھنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ کسی بھی عورت کے لیے شہریت کی حلف برداری کے موقعے سے بڑھ کر نقاب پہننے کا کوئی مناسب وقت نہیں ہو سکتا۔ چونکہ کینیڈا مذہبی آزادی کا تحفظ کرتا ہے، اس لیے اگر مسز اسحاق یا کوئی بھی مسلمان عورت نقاب پہن کر خود کو محفوظ سمجھتی ہے تو اسکے پاس ایسا کرنے کا حق ہے۔ اس کی رعایت دینا اس ملک کے سماجی ڈھانچے اور اسکی اقدار کا تحفظ کرنے کے لیے ضروری ہے۔

مسز اسحاق دراصل 2008ء سے کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ شدی کے بعد پاکستان سے یہاں آگئی تھیں۔ انکے شوہر یہاں ایک کیمیکل انجینئر ہیں ۔ انکے ہاں چوتھا بچہ چھ ہفتے قبل پیدا ہوا ہے۔ وہ سوچتی ہیں کہ ہارپر کے وزرا کے اپنے ذہن صاف نہیں ہیں، اس لیے وہ شہریت کے لیے حلف اٹھاتے وقت نقاب اتارنے کا تقاضا کر رہے ہیں، کینیڈا کے پریس میں شائع ہونے والی سرکاری افسران کی افشا ہونے والی ای میلز ظاہر کرتی ہیں کہ نقاب پر پابندی کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں؛ تاہم انہیں مسٹر کینی کی وزارت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان بند رکھتے ہوئے اسی پالیسی پر عمل پیرا ہوں۔ مسز اسحاق کا کہنا ہے ۔ وکلا نے اس پالیسی کی وضاحت کرنے کی کوشش کی لیکن یہ بہت مبہم ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ اس مسئلے کو کسی سیاسی کامیابی کے لیے استعمال کر رہے ہیں لیکن میرا کسی سیاسی مسئلے سے کوئی تعلق نہیں۔

اخبارات نے اپنی کہانیوں سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ 44 سالہ محمد اسحاق نے اپنی بیوی کو نقاب پہننے پر مجبور کیا ۔ یہ تاثر انتہائی غلط ہے؛ تاہم مسز اسحاق نے تسلیم کیا کہ انکے شوہر اور سسرال والے یہی بہتر سمجھتے ہیں کہ وہ کینیڈا میں ملازمت نہ کرے اور خاتون خانہ بن کر گھر میں ہی رہے۔ مسز اسحاق کا کہنا ہے کہ وہ میرے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اور میں نے فیصؒہ کیا ہے کہ میں ایک ٹیچر کے طور پر اپنے کیرئیر کو آگے بڑھاؤں گی۔ اس کہانی کو اب صرف کینیڈا کا داخلی معاملہ قرار دینا درست نہ ہوگا۔ اگرچہ اسکا آغاز ہارپر حکومت کی ناراضگی سے اور یورپ میں مسلمان تارکین وطن کی مجموعی ابتلا سے ہوا لیکن کینیڈا کی حکومت نے نہایت مہاارت سے کام لیتے ہوئے ایک مسلمان عورت کے نقاب پہننے کے مسئلے کو اسلام اور عالمی سکیورٹی تک پھیلا دیا ہے۔ اب تک حکومت کا ابتدائی بیانیہ کہ نقاب میں ایک عورت کی مکمل شناخت نہیں ہو سکتی اس لیے اسے حلف اٹھاتے ہوئے نقاب اتارنا ہوگا، بھلا دیا گیا ہے۔ اس وقت یہ بات بھی ناقابل وضاحت دکھائی دیتی ہے کہ سٹیفن ہارپر جو انسانی حقوق کے حامی سے زیادہ اسرائیلی حکومت کے حلیف سمجھے جاتے ہیں، کینیڈا کے شہریوں کے اس مطالبے کو کہ انہیں بھی شامی پناہ گزینوں کو داخلے کی اجازت دینی چاہیے کس طرح مانیں گے جبکہ وہ ایک نقاب پوش عورت کو ہی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

مسز اسحاق کو اپنے پاکستانی ٹیچرز کے سامنے دیے گئے دلائل یاد ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ جب وہ انگریزی ادب پڑھ رہی تھی تو ایک ٹیچر نے نقاب پہننے سے منع کیا تو میں نے کہ آپ کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ ٹیچر نے کہا جب تمہارے چہرے پر نقاب ہوگا تو تم اپنے رائے کا اظہار کس طرح کرو گی؟َ اس پر مسز اسحاق نے کہا کہ یہ انکا ذاتی مسئلہ ہے۔ اور تو اور عظیم شیکسپیئر بھی زنیرہ کی مدد کے لیے میدان میں موجود ہیں۔ زنیرہ کا کہنا ہے کہ انہیں ہیملٹ بہت پسند تھا۔ اسکا کردار، اوفیلیا ظلم و جبر کا شکار تھی۔ اسکا مطلب ہے کہ یورپی معاشرہ بھی عورتوں کو مکمل حق نہیں دیتا۔ بہر حال زنیرہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے حق کے لیے آخری دم تک لڑے گی اور یہ جنگ جیت کر دکھائے گی۔ اس طرح کینیڈا میں Comedy of Errors ہونے جا رہی ہے۔ بس آپ ہیڈلائنز کا انتظار کرتے رہیں۔

----------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.