.

باقی سب موت کے راستے ہیں!

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنوبی ایشیا کا شمار دنیا کے گنجان آباد ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ 1.6 ارب سے زیادہ لوگ اِس خطے میں رہتے ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہے۔ جنوبی ایشیا جہاں کئی متضاد ثقافتوں اور تہذیبوں کا گہوارہ ہے وہیں جغرافیائی طور پر بھی گوناگوں خصوصیات کی حامل سر زمین ہے۔ مثال کے طور پر شمال میں ہمالیہ کی بلند ترین چوٹیوں، جنوب میں عظیم میدانوں، غیر آباد وسیع صحراؤں، منطقہ حارہ کے گھنے جنگلات اور انتہائی جنوب میں ناریل کے درختوں سے سجے ساحلوں تک ہر علاقہ اس سرزمین کی رنگا رنگی میں اضافہ کرتا ہے۔

جنوبی ایشیا کے شمال میں عظیم سلسلہ کوہ ہمالیہ برف سے ڈھکی عظیم دیوار کی طرح ایستادہ ہے۔ سندھ، گنگا اور برہم پترا کے عظیم دریاؤں سے سیراب ہونے والے زرخیز میدان اور ڈیلٹائی علاقے ان پہاڑی علاقوں کو جزیرہ نما سے الگ کرتے ہیں۔ تاہم اکثریت میں ہونے کی وجہ سے جنوبی ایشیائی ثقافت پر اسلام اور ہندو مت کی گہری چھاپ ہے۔ لیکن اس امر میں بھی کوئی شک نہیں کہ دیگر اقوام کی حکومتوں نے ہی اس سرزمین کے ماضی کو عظیم بنایا۔ خصوصاً وسط ایشیا کے مغلوں ، پختونوں اور ترکوںنے اس خطے کی ثقافت، مذہب اور روایتوں پر بہت اثر ڈالا ہے اور ان کے عظیم دور کی جھلک آج بھی برصغیر کے چپے چپے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ مغرب سے آنے والے مسلم فاتحین کے دور حکومت میں یہ علاقہ دنیا بھر میں ’’سونے کی چڑیا‘‘ کے طور پر مشہور تھا اور بعد میں اِسی مشہوری نے یورپی اقوام کو بھی جنوبی ایشیا کا راستہ دکھایا لیکن آج سونے کی یہی چڑیا دنیا بھر میں سب سے زیادہ مسائل کی زد میں ہے۔

دنیا بھر میں عسکری مہم جووں کیلئے سب سے زیادہ کشش رکھنے والا یہ زرخیز خطہ مسائل سے اس قدر دوچار کیوں ہے؟ یہ سمجھنے سے پہلے ہمیں یہ بھی جاننا ہوگا کہ اس خطے کے مسائل اصل میں ہیں کیا اور کیوں ہیں؟ مثال کے طور پر جنوبی ایشیا میں اس وقت غربت بہت بڑا مسئلہ ہے، آبادی کے لحاظ سے روزگار کے مواقع میسر نہیں اور بیروزگاری ایک عفریت کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ جنوبی ایشیا کی 60 فیصد آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہے لیکن زرخیز ترین خطہ ہونے کے باوجود یہاں صرف اتنی فصل ہی کاشت ہو پاتی ہے جو خطے کی غذائی ضروریات کو پورا کر سکے بلکہ کئی مرتبہ تو ان ممالک کو بیرونی دنیا سے غذائی اجناس درآمد بھی کرنا پڑتی ہیں۔اگرچہ حالیہ چند برسوں میں خطے میں صنعتی ترقی بھی دیکھنے میں آئی ہے جس میں بھارت میں خصوصاً کاریں، ہوائی جہاز، کیمیا، غذائی اور مشروبات جبکہ پاکستان میں پارچہ بافی، کان کنی، بنکاری اور قالین سازی کی صنعتیں شامل ہیں، لیکن یہ ’’ترقی‘‘ جنوبی ایشیاء کے اصل پوٹینشل کا عشر عشیر بھی نہیں۔

سب سے زیادہ اور سستی افرادی قوت رکھنے کے باوجود خطے میں چھوٹے پیمانے پر گھریلو صنعتوں کا وجود تو ہے لیکن معیاری افرادی قوت (تربیت یافتہ افراد قوت) نہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں اس کا مقام اور اثر بھی کچھ زیادہ نہیں۔جنوبی ایشیائی ممالک اقوام متحدہ کے طے کردہ اِشاریہ کے مطابق انتہائی کم ترقی یافتہ کے زمرے میں آتے ہیں، ان ممالک کی معاشی کارکردگی خاصی بھی متغیر ہے۔ خطے میں توانائی کا بحران تو سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ سیاحت دنیا کی دوسری بڑی صنعت ہے لیکن دنیا کی قدیم ترین ثقافتوں کی حامل سرزمین ہونے کے باوجود دنیا کی اِس دوسری بڑی صنعت سیاحت میں بھی جنوبی ایشیائی ممالک کا حصہ نہ ہونے برابر ہے۔ سماجی مسائل میں جنوبی ایشیا میں مذہبی ، فرقہ وارانہ اور نسلی ولسانی اقلیتوں کا عدم شکار ہونا بھی شامل ہے۔مسلسل بڑھتی ہوئی آبادی بھی خطے کا بڑا مسئلہ ہے، یہاں آبادی کی کثافت 305 افراد فی مربع کلومیٹر ہے جو دنیا بھر کی اوسط کثافت اور دستیاب وسائل سے 7 گنا زیادہ ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کی وجہ سے صرف جمہوری نظم حکمرانی کو ہی خطرات لاحق نہیں ہیں ، بلکہ کئی ممالک کی جغرافیائی سلامتی بھی مختلف نوعیت کے خطرات سے دوچار ہے۔

خطے میں اسلحے کی دوڑ، حکومتوں کا غیر معقول رویہ اور دنیا کے بدلتے رجحانات کاعدم ادراک بھی مسائل میں شامل ہیں۔ جنوبی ایشیا کو اس وقت مسائل کا خطہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا لیکن حقیقت میں خطے کے نوے فیصد مسائل صرف ایک مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں اور وہ مسئلہ ، مسئلہ کشمیر ہے۔ اگر محض مسئلہ کشمیر کا بنیادی مسئلہ حل ہوجائے تو مسائل کی جڑ سے نکلنے والے تنے پر شاخ در شاخ پھیلے باقی تمام مسائل خودبخود ختم ہوجائیں گے۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس سے بھارت نے پہلو تہی کرکے فروعی مسائل کو ہوا دینے کی کوشش کی جبکہ پاکستان نے اِس مسئلہ کی نزاکت اور اہمیت کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا۔ ایک طرف وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اٹھایا تو دوسری جانب آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ سے خطاب اور برطانوی مستقل ہوم سیکریٹری سے ملاقات میں کشمیر کو برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’مسئلہ کشمیر تنازعات کی جڑ ہے ، عالمی برادری مسئلہ کشمیر حل کرانے میں مدد کرے اور پاکستان مخالف پروپیگنڈا ختم کیا جائے‘‘ لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ پاکستان کیخلاف بھارت کی بلواسطہ حکمت عملی اور کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے پورے خطے میں منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

آرمی چیف نے برطانوی حکومت پر دہشت گردوں کی عالمی سطح پر فنانسنگ اور ان کے مواصلاتی روابط کی روک تھام کیلئے اپنا موثر کر دارادا کرنے کا بھی بجا مطالبہ کیا۔ وزیراعظم نواز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب اور آرمی چیف کی دورہ برطانیہ میں گفتگو کا مقصد خطے میں چھیڑ خانی کے ذریعے پوری دنیا کے امن کے ساتھ کھیلنے کی بھارتی کارستانیوں کا پردہ چاک کرنا تھا۔ قارئین کرام!! مودی سرکار کو سمجھنا ہوگا کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک اُنہوں نے بہت سا وقت ضایع کردیا،مودی سرکاری کو شاید احساس نہیں کہ اُنہوں نے ’’سیلفیوں‘‘ جیسی بچگانہ حرکتوں اور بنیے جیسی ’’سیل فش نیس‘‘ کی سرشت میں مصروف اور مبتلا رہنے کی وجہ سے ایک سال سے زیادہ قیمتی عرصہ برباد کر دیا۔

نریندرا مودی کو چونکہ ’’بھولنے‘‘ کی بیماری ہے اِس لیے اُنہیں شاید یاد نہیں کہ اب وہ چھ کروڑ آبادی والی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ نہیں ہیں بلکہ اب وہ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے بھارت کے وزیراعظم ہیں۔ وزیراعظم مودی کو سمجھنا چاہیے کہ ایک ارب لوگوں کے ملک کو مذہبی جنگی جنون میں مبتلا کرکے نہیں چلایا جاسکتا، ایک ارب لوگوں کو تین وقت کا کھانا دینے اور انہیں صحت، تعلیم اور زندگی گزارنے کیلئے بہترین اور معیاری سہولیات فراہم کرنے کا راستہ کشمیر سے ہوکر گزرتا ہے۔ جب تک کشمیر سلگتا رہے گا، جنوبی ایشیا میں زندگی جھلستی رہے گی۔ مودی جی کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہ زندگی کا راستہ صرف امن کا راستہ ہے اوراس کے علاوہ باقی سب موت کے راستے ہیں۔

------------------------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.