.

امریکہ کا نیا جنم

زاہدہ حنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ستمبر کا مہینہ موسم کی شدت کے اعتبار سے ہمارے لیے ستمگر ہوتا ہے اور اسی ستمگر مہینے میں گزشتہ 7 دہائیوں سے دنیا کے بیشتر ملکوں کے صدور، وزرائے اعظم اور وزرائے خارجہ نیویارک میں جمع ہوتے ہیں اوردنیا کے مختلف علاقوں اور ملکوں میں مسلح تنازعات اور تصادم کے بارے میں گفتگوکرتے ہیں اور امن سے اپنی دلی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ بحث مباحثہ اس باوقار عمارت میں ہوتا ہے جو اقوام متحدہ کا صدر دفتر ہے ، جہاں جنرل اسمبلی ہے ۔یہ عمارت نیویارک کے سب سے مہنگے علاقے مین ہٹین کے مشرق میں ہے۔ امریکا کے شاندار اور مشہور شہر نیو یارک میں ہونے کے باوجود یہ امریکا کی ملکیت نہیں۔

یہ زمین بین الاقوامی خطہ کہلاتی ہے اور ان تمام ملکوں کی ملکیت ہے جو اس تنظیم کے رکن ہیں۔ نیویارک اورامریکا کے دوسرے بڑے شہروں کے حساب سے دیکھیے تو یہ کچھ زیادہ بلند عمارت نہیں لیکن اس کی بالاقامتی کا سبب یہ ہے کہ اب بھی تیسری دنیا کے بہت سے نادار اورناانصافی کا شکار ملک اس کے روبرو اپنا مقدمہ لے کر جاتے ہیں۔

اس کے پیش دالان میں قدم رکھیے تو وہ پستول آپ کے قدم تھام لیتی ہے جس کی نال میں گرہ لگی ہوئی ہے۔ جنگ سے نفرت کا اس سے خوبصورت اظہار بھلا اورکیا ہوسکتاہے ۔عوامی راہداری اور مشرقی سمت میں Stained Glass کا وہ یادگاری دریچہ آپ کو آگے نہیں بڑھنے دیتا جو یو این او کے ایک نہایت دیانتدار دانشور اور مدبر ڈاگ ہیمر شولڈ اوران کے ساتھیوں کے نام معنون کیاگیاہے۔ ہیمر شولڈ اور ان کے ساتھی ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے ۔گہرے اور ہلکے نیلگوں رنگوں اور آبی لہریوں سے شیشے پر فرانسیسی تخلیق کارمارک شاغل نے وہ کام کیا ہے جو محبت اور امن کی مختلف علامتوں کو ابھارتا ہے ۔ بچہ، پھول، مامتا، جدوجہد کرتے ہوئے لوگ۔ ایک خوبصورت شاہکار جسے دیکھ کر دل موم ہو جاتا ہے۔

یو این او کی عمارت کے پیش دالان میں رکھی ہوئی وہ پستول جس کی نال میں گرہ لگی ہوئی ہے اسی کی طرح وہ شاندار مجسمہ بھی دل کو چھولیتا ہے جو سابق سوویت یونین کے ایک مجسمہ ساز نے بنایا تھا۔ کانسی کا یہ مجسمہ ایک ایسے شخص کا ہے جو اپنے ہتھوڑے کی چوٹ سے ایک تلوار کو توڑکر اس سے ہل بنارہا ہے۔ جنگ سے امن کی طرف مراجعت کی خواہش ۔ تلوار سے سروں کوٹنے کے بجائے، ہل سے زمین کاسینہ چیرنے اور فصلیں اگانے کی خواہش ۔

اس مرتبہ بھی ان خواہشوں کا شدت سے اظہارکیا گیا۔ انسان دوستی اور امن پسندی کے جذبات سے لبریزتقریریںہوئیں۔ ان میں سے دو ہمارے لیے بہت اہم تھیں۔ ایک وزیراعظم نواز شریف کی تقریر جو برصغیر میں امن کے حوالے سے تھی اور جس میں انھوں نے بہ طور خاص برصغیر میں دہشت گری کے خاتمے اور امن کے قیام کی خاطر 4 نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے چوڑی اور گہری ہوتی ہوئی خوں ریزی کی دلدل پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

ان کی تقریر کا مرکزی نکتہ خطے اور دنیا سے دہشت گردی اور ہوس ملک گیری کا خاتمہ اور امن کا قیام اوراستحکام تھا۔ ان کی تقریر پر ہمارے اخباروں اور ٹیلی وژن چینلوں نے تفصیلی بحث کی اور اپنے اپنے تجزیے پیش کیے۔ میں اس پر اضافہ کیا کروں، بس یہی کہہ سکتی ہوں کہ وہ ہمارے خطے سے امن کا سفیر ہیں اور جب وزیراعظم نہیں رہیں گے، تب بھی وہ امن کے لیے سفارت کاری کریں گے اور اس وقت وہ بہ طور ایک مدبر اپنے فرائض زیادہ بڑے تناظر میں انجام دے سکیں گے۔

جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں سب سے اہم تقریر امریکی صدر اوباما کی تھی۔ اس موقعے پر امریکی صدر اوباما نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے ہمیں جمہوریت کا تحفظ کرنا ہوگا جب کہ اقوام متحدہ کے اصولوں نے جمہوریت کو فروغ دینے میں مدد دی ہے، لہٰذا اس کی کامیابیوں پر غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔

ہماری منزل ابھی دور ہے، ہم کئی بڑی اقوام کو تباہ ہوتے دیکھ رہے ہیں کیونکہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ سب کو ساتھ لے کر امن کی راہ تلاش کرتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صرف متحد ہوکر ہم دنیا سے غربت ختم کرسکتے ہیں لیکن دنیا میں لوگوں کے خوف کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، کوئی قوم اور ملک دہشت گردی اور مالی مسائل سے بچاہوا نہیں ہے اور امریکا چاہے کتنا ہی طاقتور ہو، امریکا سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک اکیلے دنیا کے مسائل حل نہیں کرسکتا ۔

عراق میں ہم نے یہ سبق سیکھا کہ طاقت اور پیسے کے زور پردوسرے ملک میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ علاقوں پر قابض ہونا اب طاقت کی علامت نہیں رہی۔ اب قوموں کی طاقت کا مرکز وہاں کے عوام ہوتے ہیں۔

ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ عارضی نہیں ہے بلکہ یہ معاہدہ بین الاقوامی نظام کی مضبوطی کا عکاس ہے۔ داعش نے اسلام کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلام ہمدردی اور تحمل کا درس دیتا ہے۔ ہم دنیا کو لاحق خطرات سے آگاہ ہیں ہم دنیا کے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے۔ امریکا پچاس ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی امن فوج میں اضافہ کرے گا۔شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے ہی لوگوں پر بم گراکر قتل عام کیا۔ آمرانہ ادوار ہمیشہ ریاست کو کمزور کرتے ہیں۔

اس روز انھوں نے اعتراف کیا کہ عراق میں ایک لاکھ امریکی فوجیوں کو بھیجنے اور وہاں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود ہم عراق امن قائم نہ کرسکے ۔انھوں نے کسی ابہام کے بغیر یہ بھی کہا کہ اب سے پہلے ہم نے کیوبا کے بارے میں جو پالیسیاں اختیار کی تھیں، وہ قطعاً غلط تھیں۔ اسی لیے ہم نے ماضی کے ان امریکی رویوں پر نظر ثانی کی اور اب ہم اس سے تعلقات استوار کرنے کے راستے پر ہیں۔

ہم پاکستانیوں سے زیادہ کون جانتا ہے کہ امریکا کو آمر اور آمریت کتنے عزیز رہے ہیں۔ اس نے ہمارے یہاں باربار جمہوریت کاراستہ روکا ہے اور ہماری نسلوں کا مستقبل برباد کیا ہے۔ اسی لیے اس روز جنرل اسمبلی کے پوڈیم پر کھڑے ہوکر صدر اوباما جب یہ کہہ رہے تھے کہ آمر لوگوں کو زندان میں ڈال سکتے ہیں لیکن اپنے شہریوں کے خیالات کو زنجیریں نہیں پہنا سکتے۔

اپنی اس تقریر میں انھوں نے اپنے ری پبلکن حریفوں کا نام لیے بغیر یہ بات کہی کہ ہمارے یہاں امریکا میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کے بہت سے قضیے اور مناقشے امریکا کو اپنی فوجی قوت سے حل کرنے چاہیئں۔ یہ ان کی خود فریبی ہے۔ ہمارے یہ امریکی سیاستدان مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت نہیں جانتے ۔ انھیں اندازہ نہیں امریکا خواہ کتنی عظیم فوجی طاقت ہو، ہماری معیشت کتنی مضبوط ہو لیکن ہم تنہا کبھی بھی دنیا کے مسائل حل نہیں کرسکتے۔

صدر اوباما نے یہ بات اب کہی ہے لیکن دنیا کے ان گنت لوگ بیسویں صدی میں امریکی طاقت و جبروت کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں اور انھوں نے باربار یہی کہا ہے کہ انیسویں صدی تک ملک فتح کیے جاسکتے تھے۔ انھیں زیرنگیں رکھا جاسکتا تھا لیکن بیسویں صدی میں دو عظیم جنگوں نے دنیا کی تمام طاقتور حکومتوں اور بہ طور خاص امریکا کو یہ بتادیا کہ انسانی تاریخ ارتقائی مراحل سے گزرکر اب وہاں آپہنچی ہے جب قوموں کو غلام بنا کر نہیں جاسکتا۔

امریکا نے نائن الیون کو اپنی سرزمیں پر سب سے بڑا حملہ تصور کیا تھا اور اسی حوالے سے بش جونیر نے افغانستان اورعراق پر جس سفاکی اور بے دردی سے حملہ کیا اور بے گناہ شہریوں پر جو ظلم توڑے اس نے تیسری دنیا اور پہلی دنیا کے بھی تمام لوگوں کو امریکا کے خلاف کردیا۔

اس وقت مصر کے نوبل انعام یافتہ ادیب نجیب محفوظ زندہ تھے اور انھوں نے لکھا تھا ’’ تنہا طاقت سلامتی کی ضمانت نہیں ہے باضمیر کوئی نوعِ انسانی کی تاریخ میں اعلیٰ ترین، ترقی یافتہ اور سب سے فقید المثال ہتھیاروں کا مالک کیوں نہ ہو جن میں ایٹمی، جراثیمی ،کیمیاوی اور ایسے دیگر ہتھیار شامل ہوں، جس کے بارے میں ہم نے اب تک کچھ نہیں سنا ہے ، پھر بھی وہ ایک خوفناک اور ان جانے ہتھیارکا شکار ہوسکتاہے … بے شک امریکا کی طاقت، دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ کرسکتی ہے یا کسی بھی منحرف کو کچل سکتی ہے لیکن جب تک ناانصافی کا خاتمہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک تشدد اور دہشت گردی کا خاتمہ بھی نہیں ہوگا۔‘‘ مصری ادیب نجیب محفوظ کے یہ جملے اور ان کے علاوہ ساری دنیا کے مدبرین اور مفکرین کا اس بارے میں امریکی پالیسیوں سے اختلاف آج بھی اپنی جگہ اٹل ہے۔

صدر اوباما نے اپنا دوسرا دور صدارت شاید غوروفکر میں گزارا ہے۔ ماضی کے اور آج کے فلسفیوں اور دانشوروں کی تحریروں سے استفادہ کیا ہے، تب ہی وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جنگ اور فوجی طاقت کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ۔دنیا کے لیے اس سے زیادہ خوش آیند بات اور کیا ہوسکتی ہے ۔

اقوام متحدہ میں، صدر اوباما کی تقریر محض ایک رسمی تقریر نہیں تھی۔ انھوں نے جن خیالات کا اظہارکیا، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی کے برعکس ایک نیا امریکا جنم لے رہا ہے کیونکہ امریکی دانش نے یہ سمجھ لیا ہے کہ 21 ویں صدی میں 20 ویں صدی والا امریکا زندہ نہیں رہ سکتا

----------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.