.

طلسمات خاں نیز ناشکر گزار افغان

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈونگی گراؤنڈ میں جوان خان عرف طوفان خان نے کامیاب جلسہ کیا۔ جوان نخان عرف طوفان خان ساتھ میں طلسمات خان بھی ہیں۔ ڈونگی گراؤنڈ میں پانچ ہزار کرسیوں کی جگہ ہے۔ طلسمات خان نے ایسا طلسم چلایا کہ وہاں 25 ہزار کرسیاں رکھوا دیں۔ پھر بھی خاصی جگہ بچی رہی تو 25 ہزار مزید کرسیاں رکھوانے کا حکم دیا لیکن اس ھخم کی تعمیل اس لئے نہ ہو سکی کہ فوری طور پر کوئی اتنی کرسیاں دینے والا دستیاب نہیں ہو سکتا تھا۔

چنانچہ 25 ہزار کرسیوں کی جگہ خالی رہی۔ اسکے باوجود جلسہ بہت بڑا تھا اس لئے کہ پانچ ہزار کرسیوں والے گراؤنڈ میں 25 ہزار کرسیاں رکھ دی جائیں تو اسے بہت بڑا جلسہ ہی کہا جائے گا۔

جوان خاں عرف طوفان خاں نے جلسے میں زبردست طوفان خطاب کیا۔ ایک پیرا ملاحظہ ہو:
لاہوریو! سنو، اللہ میاں فرماتا ہے۔ سنو ، سنو، اللہ میاں فرماتا ہے ، میں صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہوں، چونکہ میں اللہ میاں کا پسندیدہ ہوں، اس لئے میں صبر کرتا ہوں۔ میں نے ایاز صادق کے معاملے میں اڑھائی سال صبر کیا۔ اور سنو، میں تو انیس سال سے صبر کرتا آ رہا ہوں۔ میرے گرو نے ریفرنڈم کرایا۔ وزیر اعظم بننے کی میری باری تھی لیکن گرو جی نے جمالی کو وزیر اعظم بنا دیا۔ پھر میری باری تھی لیکن شوکت عزیز کو بنا دیا۔ میں نے صبر کر لیا۔ لاہوریو، مجھے بتاؤ یہ کیسی جمہوریت ہے۔ باری میری ہوتی ہے، وزیر اعظم کوئی اور بن جاتا ہے۔ لاہوریو سنو، یہ الیکشن کمیشن مسلم لیگ سے ملا ہوا ہے۔

مصطفیٰ کمال عباسی میرے ساتھ، حکومت نواز لیگ کی بن گئی۔ اب گیارہ اکتوبر کو پھر دھندلا ہونے والا ہے۔ اس لئے ہم نے فیصؒہ کیا ہے کہ بیلٹ بکس لے کر جانے والی ویگنوں کا پیچھا کریں گے اور انہیں علیم خان کے ڈیرے پر لے کر جائیں گے تاکہ دھاندلی نہ ہو سکے۔ لاہوریو سنو، نہیں الیکشن کمیشن والو سنو، اگر تم نے ایاض صادق کو جتوایا تو میں دھرنا دوں گا اور یہ اتنا بڑا دھرنا ہوگا کہ کبھی تاریخ میں نہیں ہوا ہوگا۔ دھرنے سے یاد آیا، لاہوریو، میں تم سے پوچھتا ہوں، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ دھرنا ہم نے دیا، پی ٹٰ وی پر حملہ ہم نے کیا، ضمنی الیکشن مسلم لیگ جیت گئی، کراچی کے ضمنی الیکشن میں وعدہ ہم سے کیا گیا، جیت متحدہ گئی، یہ کیسی جمہوریت ہے۔ میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ گلبرگ ہمارے ساتھ، ڈیفنس کالونی ہمارے ساتھ، بحریہ ٹاؤن ہمارے ساتھ اور الیکشن کوئی اور جیت جاتا ہے ، یہ کیسی جمہوریت ہے؟

جلسے سے حویلی کے لالے نے بھی خطاب کیا اور کہا، لاہوریو الیکشن سے کچھ نہیں ہوگا۔ گیارہ کو دھاندلا ہونے جارہا ہے اس لئے سب مرجاؤ، سب کو مار دو ، لالے کی تقریر جاری تھی کہ سٹیج سے ایک چٹ لالہ جی کو دی گئی کہ لالہ جی، پہلے آپ مریں اور ماریں، آپ کے پیچھے پیچھے ہم بھی آتے ہیں۔ اس پر لالہ جی نے تقریر مختصر کردی۔ یوں کامیاب جلسہ اکمیابی سے ختم ہوا۔


لندن میں مقیم بلکہ پناہ گزین پاکستان کمال اتاترکنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان کی اگلی وزیر اعظم ہوں گی۔ اس سے پہلے لندن میں بیٹحے بیٹحے وزیر اعظم بننے کی کوئی مثال نہیں ہے لیکن یہ عجوبہ ترمیمات کا دورہ ہے۔ کیا عجب کل کو ایسی ترمیم منظور کرا لی جائے کہ کوئی شخص یا شخصنی لندن میں بیٹحے بیٹھے الیکشن لڑے بغیر پاکستان کا وزیر اعظم بن سکتی ہے۔؟

لیکن ایک رکاوٹ تو پھر بھی رہے گی۔ کمال اتاترکنی کے علاوہ وزیر اعظم بننے کے دو امیدوار پاکستان میں بیٹحے ہیں اور تعلق خاص اگرچہ انکا لندن ہی سے ہے۔ ایک جوان خاں عرف طوفان خان اور دوسری انکہ اہلیہ محترمہ۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اگر کمال اتاترکنی کو وزیر اعظم بنایا گیا تو یہ ہر دو نہیں مانیں گے اور ان ہردو میں سے کسی کو بنایا گیا تو ان ہردو میں سے ایک اور کمال اتاترکنی نہیں مانیں گی۔ یہ تو بڑا ڈیڈلاک ہوجائے گا۔

حل موجود ہے اگر ہرتینوں قبول فرما لیں۔ کسی ایک شخصیف پر اتفاق کر لیا جائے جو ان تینوں کیلئے روحانی پیشوا کا درجہ رکھتا ہو اور اسے وزیر اعظم بنا دیں، خود ڈپٹی وزیر اعظم۔ ایک وزیر اعظم اور تین نائب وزیر اعظم ہوں گے تو چار کی یہ چوکڑی ملک کو زیادہ اچھے طریقے سے چلائے گی۔ ایک سے چار بھلے کی کہاوت سنی ہوگی! یہ متفقہ روحانی شخصیت کون ہو سکتی ہے۔ ایک نہیں، چار چار موجود ہیں۔ اپنے گرو جی کراچی والے یعنی مشرف، پھر مصطفیٰ کمال پاشا، مصطفیٰ کمال عباسی اور اگر ان تینوں سے بھی اونچی ذات دیکھنی ہے تو امریکہ سے ریمنڈ ڈیوس کو ڈیپوٹیشن پر پھر سے بلایا جاسکتا ہے۔

بہت سال گزرے لاہور میں کوئی معروف شخص شدید بیمار ہوگیا۔ اخبار میں خبر چھپی سلیم سالم پوری شدید بیمار، ہسپتال میں داخل۔ اگلے روز رپورٹر نے سرشام خبر فائل کر دی کہ معروف شخص سلیم سالم پوری روبصحت ہیں۔ نیوز ایڈیٹر نے خبر بنوا کر کاپی پر لگوا دی۔ رات گئے جب کاپی پریس میں جانے کیلئے تیار تھی ، موصوف زیر خبر کا انتقال ہو گیا۔ رپورٹر نے ارجنٹ خبر فون پر لکھوائی۔ نیوز ایڈیٹر نے یہ خبر بھی بنوائی اور کاپی روک کر اسکے لئے جگہ نکالی۔ اب دو دو اتفاق ہوئے۔ پہلا اتفاق یہ کہ اس خبر کیلئے نکالی گئی جگہ، اس خبر کے بالکل ساتھ تھی جس میں متوفی موصوف کے انتقال کی خبر تھی اور دوسرا اتفاق یہ کہ جلدی میں نیوز ایڈیٹر کو یہ خبر اتروانا یاد نہ رہا۔ چنانچہ اگلے روز کے اخبار میں دونوں خبریں ساتھ ساتھ چھپی ہوئی تھیں۔ یعنی موصوف روبصحت ہیں اور موصوف انتقال فرما گئے۔

اس واقعے کی یاد گزشتہ روز ایک اخبار کے پہلے صفحے پر ساتھ ساتھ دو خبریں پڑھ کر آئی۔ ملتا جلتا ماجرا تھا۔ ایک خبر یہ تھی کہ دالیں 30 روپے کلو تک اور چینی 5 روپے کلو مہنگی ہو گئی جبکہ آٹا 15 روپے مہنگا ہوگیا۔ کچھ اور چیزوں کے ہونے کی خبر بھی ا سمیں تھی۔ بہت سی دوسری چیزوں کے مہنگا ہونے کی خبریں تو کئی روز سے چھپ رہی ہیں اور اس خبر کے بالکل ساتھ یہ خبر لگی ہوئی تھی کہ مہنگائی میں بارہ سال کی تاریخ میں ریکارڈ کمی۔

یہ کمی والی خبر سرکاری خبررساں ادارے کی طرف سے محکمہ شماریات کے حوالے سے جاری کی۔ محکمہ شماریات کے سربراہ کون ہیں؟ کوئی بٹ صاحب ہوں گے۔ اپنا آدمی ہونے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اچھی اچھی رپورٹیں بناتا ہے جیسا کہ سٹیٹ بینک کے سربراہ بھی کوئی اسی طرح کے بہت ہی اچھے بٹ صاحب ہیں۔ جب سے آئے ہیں ہر سہ ماہی مثبت رپورٹ جاری کرتے ہیں۔ اب یہ سوچنا قارئین کا کام ہے کہ مہنگائی پہلے ہوئی کہ شماریات والے بٹ صاحب نے رپورٹ پہلے جاری کی۔

ان دنوں افغان مسئلہ خوب الجھا ہوا ہے۔ طالبان شمالی اتحاد کے گڑھ علاقوں پر ایک کے بعد ایک کر کے قبضہ کرتے جا رہے ہیں اور چینلز پر جہاں الطاف حسین کراچی آپریشن، ضمنی الیکشن کے ایشو چھائے ہوئے ہیں، وہیں افغان مسئلے کو بھی حل کرنے کی کوششیں ان چینلز پر خوب جاری ہیں۔ ایک چینل پر ایک محترم نے فرمایا، افغان عوام ناشکرگزار ہیں ورنہ پاکستان نے تو ان پر بہت احسانات کئے۔ انہوں نے حل یہ تجویز فرمایا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں۔

افغان عوام کی ناشکرگزاری بھی خوب رہی ۔ آپ نے یعنی امریکا نے مطلب جو بھی ہوا مل جل کر ہوا، بیس لاکھ افغانی مار دیئے ( دو اڑھائی ماہ قبل آسٹریلیا کے ایک ریسرچ ادارے نے یہ بتایا تھا کہ افغانستان میں اتنی یعنی 20 لاکھ اموات ہوئیں لیکن ریکارڈ پر نہیں لائی گئیں۔ ان گن دیہات ایسے بموں سے تباہ کئے گئے کہ انکا نام و نشان نہ رہا، وہاں کتنے مرے، کوئی ریکارڈ نہیں ہے)۔ اب خود ہی انصاف کیجئے کہ انہیں ہمارا ، مطلب امریکہ کا کتنا شکرگزار ہونا چاہئے۔ اور مذاکرات کون کس سے کرے۔ کیا یہ بھی ہمارا درد سر ہونا چاہئے۔

سچی بات جو کوئی کہتا نہیں اور کہنے کی جراٗت بھی نہیں ہے، وہ یہ ہے کہ افغانوں کو اپنا مسئلہ خود حل کرنے دیا جائے، پاکستان یا کسی اور ملک کو بیچ میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے۔ سال دو سال کیلئے ، افغانستان کی حد تک پاکستان غیر جانبدار ہوجائے تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔

ایک اور صاحب کہ ٹی وی پر تجزیہ کار اور اخبار میں کالم کار ہیں، قندوز میں ہونےو الے واقعے پر کچھ زیادہ ہی دکھی ہوگئے اور مطالبہ کر دیا کہ یہ کاریڈور وغیرہ بنانے کا وقت نہیں ہے بلکہ کچھ کرنے کا وقت ہے۔ انکے کالم کے ماضی الضمیر کا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستان کو قندوز پر حملہ کر کے اسے طالبان سے چھڑا لینا چاہئے۔ قندوز پر کس راستے سے حملہ کیا جائے، موصوف نے تجویز نہیں کیا۔ ابھی انہوں نے علاقے کا نقشہ نہیں دیکھا ہے، جب دیکھیں گے تو شاید روٹ میپ بھی بتا دیں گے۔ انہوں نے فرمایا، بھارت سے کہیں بڑا خطرہ افغان ہیں۔ اس فقرے میں کہیں بڑا، کے الفاظ کی داد دیجئے۔ معلوم ہوا ہے کہ بھارت تو کہیں چھوٹا خطرہ ہے بلکہ کوئی خطرہ ہے ہی نہیں۔ بلوچستان سے وزیرستان اور کراچی سے جنوبی پنچاب تک را کی کارستانیوں کی جو دہائی مچ رہی ہے، موصوف کے خیال میں وہ محض ہوائی ہے جو کچھ نادانیوں نے اڑائی ہے ۔ تجزیہ کار ہو تو ایسا اور کالم کار ہو تو بھی ایسا۔ واضح رہنا چاہیے کہ موصوف پاکستانی نژاد ہیں۔ مطلب ممبئی یا پونے میں پیدا نہیں ہوئے، یہیں چکوال کی پیداوار ہیں۔

غیرت اور پھر مسلمان کی کچھ ٹھکانہ ہی نہیں۔ بھارت کے شہر بریلی کے نواحی گاؤں میں ایک چار سالہ بچی فرحین کا کھانا کھاتے ہوئے دوپٹہ سر سے اتر گیا۔ اسکے غیرت مند باپ کو ایسا جوش آیا کہ اس نے اٹھا کر زمین پر پٹخ پٹخ کر مار ڈالا۔ ماں نے بچانے کی کوشش کی لیکن غیر تو ریل کا انجن ہوتی ہے، کسی کے روکے کہاں رکتی ہے، اسکے بھی دھلائی کر دی۔

کہا جا سکتا ہے کہ مظلوم اور معصوم بچی پر بہت درد ناک ظلم ہوا لیکن پھر غیرت کا کیا کیجئے گا۔ چند روز قبل لاہور میں خالد نامی ایک جوانمرد نے اپنی تیرہ سالی بچی انیقہ کو اس لئے بدترین تشدد کر کے قتل کر یدا کہ اس نے جو روٹی پکائی تھی وہ گول نہیں تھی۔ اسکی مردانگی کو غیرت آگئی اور اسے تین گھنٹے تک مکوں ، گھونسوں ، لاتوں اور ڈنڈوں سے اتنا مارا کہ تڑپ تڑپ کر آخر مر گئی۔ دریائے سندھ کی وادی روایتوں کی امین ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ جس نے کسی عورت کو نہیں مارا یا بچے کا قتل نہیں کیا اسکی مردانگی مشکوک ہے، یہ دریائے سندھ کہاں سے نکلتا ہے؟

انیقہ کے ساتھ جو ہوا، کسی اور ملک میں ہوتا تو آسمان کانپ اٹھتا۔ پاکستان میں ایسے واقعات پر آسمان نہیں کانپتا۔ اسلئے کہ پھر تو اسے چوبیس گھنٹے کانپنا پڑے گا اور آسمان کو صرف کانپتے ہی تو نہیں رہنا اور بھی کام اس کے کرنے کے ہوتے ہیں۔

جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان نے کیاں خوب فرمایا کہ سقوط ڈھاکہ فوجی نہیں سیاسی شکست تھی۔

انکا شکریہ کہ انہوں نے ریکارڈ درست کر دیا۔ ظاہر ہے ، بےچارے عوام کو کہاں علم ہوگا۔ کہ ایوب خان، یحیٰی خان، ٹکا خان اپنے وقت کے کس پائے کے سیاستدان تھے۔

-----------------------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’جہاں پاکستان‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.