.

جمہوریت پھر ہار جائے گی!

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں نشستوں کی مجموعی تعداد تقریبا ایک ہزار کے لگ بھگ بنتی ہے، یوں دیکھا جائے تو قومی و صوبائی اسمبلیوں کی اِن ایک ہزار سے زائد نشستوں کے مقابلے میں محض تین نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات حقیقت میں عام انتخابات کے مقابلے میں عشر عشیر کی حیثیت بھی نہیں رکھتے، لیکن اس کے باوجود قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو بائیس، این اے ایک سو چوالیس اور پی پی ایک سو سینتالیس کی انتخابی مہم دیکھ کر لگتا تھا کہ جیسے یہ متحارب سیاسی جماعتوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہو، لیکن اِن انتخابات کی انتخابی مہم کے دوران بھی ہر وہ چیز دیکھنے کو ملی، جسے عرف عام میں غیر منصفانہ اور غیر شفاف کہا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر انتخابی مہم کے دوران امیدواروں نے انتخاب جیتنے کیلئے پانی کی طرح پیسہ بہا کر اشتہار بازی کی انتہا کر دی، حلقہ میں کوئی ایسا گھر، گلی، چوراہا یا کھمبا نہ تھا، جس پر امیداروں نے اپنے جھنڈے، پینافلیکس ، بینرز یا اشتہار نہ لگا رکھے ہوں۔

انتخابی حلقوں میں امیدواروں نے ایک ایک گلی میں چار چار انتخابی دفاتر کھول کر ووٹ خریدنے کے نت نئے انداز بھی متعارف کرائے، لوگوں کو نوکریوں اور پلاٹوں کے جھانسے دیے گئے، ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ تک انتخابی دفاتر میں کھابے چلتے رہے، مبینہ طور پر ووٹوں کی خریداری کا ’’عمل‘‘ کہیں دھڑوں کی بنیاد پر ہوا تو کہیں مہینے بھر کا راشن گھر پہنچا کر انفرادی سطح پر ووٹ خریدے گئے؟ انتخابات میں اخراجات کی مقررہ حد سے بیسیوں گنا زیادہ پیسے کے اس قدر بے دریغ استعمال کے بعد کیا اِن انتخابات کو شفاف اور منصفانہ کہا جا سکتا ہے؟ انتخابی مہم کے دوران جلسوں میں سیاسی قائدین کی جانب ایک دوسرے کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کی گئی کیا اُس کے بعد بھی یہ انتخابات اخلاقی اصولوں پر پوا اترتے ہیں؟ ایک دوسرے پر چور، ڈاکو، لٹیرے اور غدار کے جو الزامات لگائے گئے، کیا یہ ضابطہ اخلاق کی کھلی خلاف ورزی نہ تھی؟

انتخابی مہم کے دوران تو جو ہوا سو ہوا لیکن انتخابی عمل کے بعد بھی بہت سے سوالات اپنی جگہ موجود ہیں کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو بائیس، این اے ایک سو چوالیس اور پی پی ایک سو سینتالیس میں گزشتہ روز ضمنی انتخاب کے عمل کے بعد کیا مصنوعی سیاسی تلاطم ختم ہو جائے گا؟ باالخصوص الیکٹرانک میڈیا کے ایک حصے کی حد تک تین حلقوں کے ضمنی انتخاب کو بنیاد بنا کر پورے ملک کو جس سیاسی بخار میں مبتلا کر دیا گیا تھا، کیا انتخابی عمل کے بعد سیاسی جماعتوں اور میڈیا کو چڑھنے والا وہ انتخابی بخار اتر جائے گا؟ ہونا تو یہی چاہیے کہ انتخابی عمل کے بعد جیتنے والا فتح کے بعد کے اُس اصل مقصد کی جانب گامزن ہو جائے۔ ایک امیدوار ایم این اے یا ایک ایم پی اے کی نشست پر جس مقصد کیلئے انتخاب لڑتا ہے، انتخاب جیت کر اُسے اپنے اُس مقصد میں جت جانا چاہیے، وہ اصل مقصد یہ ہے کہ جیتنے والا اسمبلی میں جا کر اپنے عوام کے مسائل کی بات کرے اور اُن مسائل کے حل کیلئے قانون سازی کے عمل میں اپنا حصہ ڈالا لیکن اصل سوال تو یہی ہے کہ کیا ان ضمنی انتخابات کے بعد امید لگائی جا سکتی ہے کہ سیاست کے سمندر میں جو تلاطم پیدا کیا گیا ہے، وہ تھم جائے گا اور مضطرب سیاسی موجیں اپنی ’’تشفی‘‘ کے باوجود ’’پر سکون‘‘ ہو جائیں گی؟

میڈیا میں بھی ان انتخابات کی جس طریقے سے کوریج ہوئی، اس کی مثال عام انتخابات میں کم کم ہی ملتی ہے۔ میڈیا نے انتخابی جلسوں کی گھنٹوں تک میراتھن کوریج ، سروے، نیوز رپورٹس اور سیکڑوں پروگرام کر کے بالخصوص قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو بائیس میں ضمنی انتخاب کی اہمیت اس قدر بڑھا دی تھی کہ انتخابات میں حصہ لینے والوں کیلئے یہ انتخاب حق و باطل کا معرکہ اور زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا تھا۔ اس حلقہ کے ضمنی انتخاب کے دوران میڈیا جس انتخابی بخار میں مبتلا دکھائی دیا، یہ کوئی پہلی مرتبہ دیکھنے میں نہیں آیا بلکہ اس سے پہلے بھی پاکستان کا نوخیز الیکٹرانک میڈیا خود بھی ایسے بخار میں مبتلا ہوتا رہا ہے اور دوسروں کو بھی مبتلا کرتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر دو ہزار دس میں راولپنڈی کے ضمنی انتخاب میں شیخ رشید اور مسلم لیگ ن کے شکیل اعوان کے درمیان ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھی اسی طرح کی ’’میڈیا ہائپ‘‘ پیدا کی گئی ، لیکن اس انتخاب میں ہارنے کے بعد نہ شیخ رشید کی سیاست ختم ہوئی اور نہ ہی انتخاب جیتنے سے مسلم لیگ ن کو کوئی بہت زیادہ فائدہ ہوا۔

بہت سی دوسری مثالوں کے علاوہ ابھی حال ہی میں ہری پور میں ہونے والے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں بھی میڈیا اسی طرح کے بخار میں مبتلا نظر آیا اور دونوں جماعتوں نے ایک عام سے ضمنی انتخاب کو اپنے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا لیکن ہری پور کا انتخاب ہارنے کے بعد کے پی کے سے پاکستان تحریک انصاف کی سیاست ختم ہوئی نہ ہی وہاں انتخاب جیتنے کے بعد مسلم لیگ ن حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی۔ ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بارے میں قائم غلط تصورات کی ایک مثال ہمیں دیر میں صوبائی اسمبلی کے حالیہ انتخاب میں دیکھنے کو ملی جہاں پیپلز پارٹی نے جس صوبائی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کی، یہ عموما جماعت اسلامی کی سیٹ سمجھی جاتی تھی، لیکن پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کے بعد دھڑے بندی کے ووٹ پیپلز پارٹی کے پلڑے میں چلے گئے، یوں جماعت اسلامی کو اپنی پکی سیٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا، پیپلز پارٹی کی اس کامیابی کو بھی اس طرح پیش کیا گیا کہ گویا پیپلز پارٹی کے تن مردہ میں ایک مرتبہ پھر جان پڑ گئی ہو؟

حالانکہ اُن تمام عوامل کو نظرانداز کر دیا گیا جو اِس انتخاب میں جیتنے والے امیدوار کی کامیابی کا محرک بنے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ ایک ضمنی انتخاب کے نتیجے کو پورے سیاسی منظر نامے پر بھاری قرار دے دیا جاتا ہے؟ ضمنی انتخابات کے نتائج سے ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ ضمنی انتخابات کی مہم میں میڈیا کی مدد سے جتنی مرضی ہائپ پیدا کر لی جائے، یہ مصنوعی پن انتخابات کے نتائج پر اتنا زیادہ اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ قارئین کرام! ضمنی انتخابات ہو چکے اور نتائج بھی سامنے آ چکے، لیکن یہ کہنا ابھی بہت مشکل ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد ہارنے والے پرسکون ہو جائیں گے اور جیتنے والوں کے کلیجے میں ٹھنڈ پڑجائے گی! شاید ایسا آسانی کے ساتھ نہ ہو سکے کیونکہ پاکستانی سیاستدانوں میں ابھی اتنی متانت اور سنجیدگی جبکہ سیاست میں اتنی پختہ کاری نہیں آئی لیکن پھر بھی ہم اپنے سیاست دانوں سے اخلاقیات، سیاست اور جمہوریت کے اعلیٰ اصولوں کی آبیاری کی امید تو لگاہی سکتے ہیں۔ اس انتخاب کے بعد اگر ہارنے والے امیدوار جیتنے والے امیدوار کو کھلے دل سے مبارکبا ددے کر انتخابی نتائج کو قبول کرلیں اور جیتنے والا امیدوار ہارنے والوں کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالنے ان کے گھر پہنچ جائے تو سمجھ لیں کہ پاکستان میں جمہوریت جیت گئی بصورت دیگر اس انتخاب کے بعد اگر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ’’لڑائی‘‘ بڑھی تو سمجھیں کہ پاکستان میں جمہوریت پھر ہار جائے گی!
........
"العربیہ" کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.