.

سدھیندراکلکرنی کا چہرہ یا بھارت کا چہرہ؟

بشریٰ اعجاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مجھے دلّی دیکھنی تھی! داستانی و افسانوی دلی، جو تاریخ کے مختلف ادوار میں لٹتی اور آباد ہوتی رہی! دلی کے پرگتی میدان میں اُس شام اردو زبان و ادب سے وابستہ جتنے خواتین و حضرات جمع تھے، ان سب کو بھی دلی دیکھنی تھی! دنیا بھر سے آنے والے ان تمام مہمانوں کو علی صدیقی نے عالمی اردو کانفرنس کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تھا، جو 89ء کے اواخر میں منعقد ہوئی تھی! میرا پہلا پہلا گھر سے تنہا نکلنے کا تجربہ۔۔۔ اپنی بے حد عزیز دوست مسز انجم حسن رضوی کی انگلی، کسی بوکھلائے اور گھبرائے ہوئے بچے کی طرح تھامے میں، پرگتی میدان کی اُس جادو اثر شام کو بِٹ بِٹ دیکھتی تھی! ماتھے کی بندیا چمکاتیں، رنگین ساڑھیاں لہراتی ہماری میزبان خواتین کا دلربا نمستے! منوج کمار، راجندر کمار، نمی،خیام اور نوشاد صاحب سمیت، ہمارے اپنے لیجنڈ ! ممتاز مفتی، احمد ندیم قاسمی، جناب منیر نیازی، بابا جی اشفاق احمد اور بانو آپا، احمد فراز، قتیل شفائی، انتظار حسین اور دنیا بھر سے آئے شاعر، ادیب ودانشور، بھارتی اہلِ قلم اور چھوٹے سے گیتو کا ہاتھ تھامے، ہر ایک سے مسکرا مسکرا کر ملتی، پروین شاکر۔۔۔!

غزل کی باکمال گائیکہ اقبال بانو۔۔۔ اور مشہور گلوکارہ ناہید اخترسمیت جو بھی اُس میدان میں دکھائی دیتا تھا، اس پر دلی کی شامِ افسانہ کا گمان گزرتا تھا، میں شومئی قسمت، اس شام افسانہ کاحصہ بن چکی تھی! جو آہستہ آہستہ مجھے اپنے حصار میں لے رہی تھی! مرحوم علی صدیقی ، جن کا تعلق حیدرآباددکن سے تھا، انہوں نے اس کانفرنس میں، صرف پاکستان سے اڑھائی سو، اہلِ علم و دانش کو مدعو کیا تھا۔۔۔ تقریباً اتنی ہی تعداد دیگر ممالک کے مدعوین کی بھی تھی، ہم خواتین شاعرات کو لاجپت میں ٹھہرایا گیاتھا، وہی لاجپت، جہاں میں نے سفر کی پہلی صبح، جب حلوہ پوری، بھاجی اور دیگر چٹخارے دار ہندوستانی پکوان میزوں پر سرو ہو رہے تھے، پروین شاکر کو گیتو کے لئے بوائل انڈے کی فرمائش کرتے، اور ہوٹل انتظامیہ سے بحث کرتے دیکھا تھا! گیتو انڈے کے بغیر ناشتہ نہ کرتا تھا، اور لاجپت میں انڈے کا داخلہ ممنوع تھا!

لہٰذا پروین اُسی دن اپنے عزیزوں کے گھر شفٹ ہو گئی، جہاں گیتو روزانہ انڈے کا ناشتہ کرنے لگا۔۔۔ اب نجانے گیتو ناشتے میں کیا کھاتا ہے؟ ماں چاہے پروین شاکر ہو یا کوئی گمنام، سب کو اپنے اپنے گیتو کے ناشتے کی فکر لگتی رہتی ہے۔۔۔! بہرحال بات پرگتی میدان کی ہو رہی ہے، جہاں اردو عالمی کانفرنس نے کئی دن، ادیبوں، شاعروں کی میزبانی اِس خوبی سے کی، کہ وہ ایونٹ یادگار ٹھہر گیا۔۔۔ جہاں میں نے نادر ونایاب لوگوں کی بھیڑ میں دلی کی شاموں کا ملن اور اداسی دلی پر اترتی دیکھی۔۔۔ لال قلعہ، چاندنی چوک، درگاہ خواجہ نظام الدین اولیاءؒ ، اور پرانی دلی میں قدم قدم بکھری ہوئی، مسلم تہذیب وثقافت کی نشانیاں، اور معدوم ہوتے آثار دیکھ کر، خودسے سوال کیا۔۔۔ کیا میرا اِس تاریخ و ثقافت سے کوئی تعلق ہے؟ اور اگر ہے تو یہ تعلق اِس وقت اتنا کمزور اور شرمندہ کیوں ہے؟
یہی سوال میں نے بعد کے ان تمام سالوں میں جب جب بھارت جانے کا اتفاق ہوا خود سے دہرایا۔۔۔ حالانکہ پچھلے بیس اکیس برسوں میں، بھارتیوں نے محبت اور عزت دینے میں کوئی کسرنہ اٹھائی، رہی دلی تو، بعد میں اُس کے گلی کوچے اتنے آشنا لگنے لگے، کہ وہاں تنہا گھومتے پھرتے کبھی یہ احساس نہ ہوا کہ کسی غیر جگہ ہوں! مگر ویزا، پاسپورٹ، پولیس رپورٹ کے معاملات ہمیشہ سے حساس تھے اور حساس رہے۔۔۔!

ہر دفعہ پولیس سٹیشن اور کسٹم امیگریشن کے مراحل نے ذہنی دباؤ بڑھایا اور یہ باور کرایا کہ میں کسی ایسے ملک میں ہوں، جہاں مجھے مشکوک نظروں سے دیکھا اور تولا جا رہا ہے! جہاں مجھے کشمیرکے موضوع پر بات نہیں کرنی، جہاں مجھے 47ء کے فسادات کا ذکر نہیں کرنا، جہاں مجھے 65 ء کے ذکر سے اجتناب کرنا ہے۔۔۔ جہاں مجھے مسلمان حکمرانوں میں سوائے اکبرِ اعظم کے کسی کا نام نہیں لینا۔۔۔ سو ان تمام معاملات میں، میں ہمیشہ بہت محتاط رہی! ایک دفعہ، قتیل شفائی اور اظہر جاوید کے ساتھ چندی گڑھ کے مشاعرے میں شرکت کے لئے گئی۔۔۔ موہالی جو چندی گڑھ کے مضافات میں واقع ہے، وہاں اپنی عزیز دوست ڈاکٹر گوربچن سنگھ نندہ کی دعوت پر ان کے گھر گئی، تو پیچھے شور مچ گیا۔۔۔ کہ میرے پاس موہالی کا ویزا نہ تھا، اور اس ’’جرم‘‘ کی وجہ سے بھارتی قانون میرے ساتھ وہی سلوک کر سکتا تھا، جو پاکستانی ماہی گیروں، اور سرحدی دیہاتوں میں رہنے والوں کے ساتھ کرتا ہے جو غلطی سے باڑھ پھلانگ کر ہندوستانی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں!

چنانچہ ہندوستانی دوستوں سے قلبی تعلق، اور دلی سے ہزار برس کی تہذیبی اور ثقافتی وابستگی کے باوجود، ہمیشہ بھارت جا کر، دل میں ایک کھٹکا ضرور رہا۔ اور یہ کھٹکا ان دنوں کچھ زیادہ بڑھ چکا ہے، یہی وجہ ہے میں نہ چاہنے کے باوجود، بھارت سے ملنے والے، دو عدد دعوت نامے مسترد کر چکی ہوں، کچھ ویزا کے حصول میں خواہ مخواہ بڑھا دی جانے والی مشکلات کی وجہ سے، اور کچھ سرحدی کشیدگی، بھارت میں ان دنوں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب، اور پاکستان کے خلاف نفرت کے کھلم کھلا اظہار کی وجہ سے۔ جس سے اب اتنی شدت پسندی جھلکنے لگی ہے، کہ بھارت نریندر مودی کی قیادت میں اس کا کھلم کھلا اظہار بھی کرنے لگا ہے۔ سمجھوتہ ٹرین کو جلا کر، اس میں موجود مسافروں کو زندہ آگ میں بھسم کرکے، پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگانے والا بھارت، اس وقت پھر، سمجھوتہ ٹرین کو مسئلہ بنا کر روکے بیٹھا ہے، اور دو طرفہ عوام پریشان ہیں۔ اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا؟ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی بک لانچنگ کی تقریب میں، ان کے ممبئی میں میزبان سدھیندرا کلکرنی کے چہرے پر سیاہی ملنے والے، بھارتی انتہاپسندوں نے یہ سیاہی درحقیقت بھارت کے چہرے پر ملی ہے؟

یہ وہ چہرہ ہے، جسے بھارت کوچ مانجھ کر، دنیا کے سامنے شائننگ انڈیا، اور سیکولر انڈیا کے نام سے پیش کرنے کا عادی ہے۔ ہر وقت مسلمانوں کے خلاف یدھ پر تیار نریندر مودی کی قیادت، جس انتہا پسندی کو بھارت میں فروغ دے رہی ہے، اور جس مہابھارت کو لڑنے کے لئے، پاکستان کو آنکھیں دکھا رہی ہے، اس نے نہایت جتن اور محنت سے دنیا کے سامنے پیش کئے جانے والے شائننگ انڈیا کی حقیقت دنیا کے سامنے واضح تو کردی ہے۔ (اب کوئی نہ سمجھنا چاہے تو اس کی مرضی)۔ گائے کے ذبیحہ پر پابندی، اور گائے کا گوشت کھانے کے جرم میں مسلمان لڑکے کا بہیمانہ قتل، از سرِ نو، اس ضمن میں مذہبی ٹکراؤ کی جانب ایک ایسا اشارہ ہے،شیوسینا کی حالیہ سرگرمیاں، جس کا حرفِ آغاز معلوم ہوتی ہیں۔

محترم غلام علی جو پاکستان سے بھی زیادہ بھارت میں مقبول ہیں، شیوسینا نے جس طرح ان کا پروگرام رکوایا ہے، اور انہیں دھمکیاں دی ہیں، اس کے بعد کیا غلام علی صاحب، اپنے ثقافتی روابط برقرار رکھ سکیں گے، اس ملک کے ساتھ، جہاں وہ پچھلے تیس برس سے اردو غزل کے فروغ کا سامان کئے ہوئے تھے۔ فنکار اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں۔ ان کا آنا جانا، عوامی رابطوں کو بڑھاتا ہے ، اور دو طرفہ تعلقات کی تلخیاں بھی اس طرح مدھم پڑنے لگتی ہیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے، بنارس سے انتخابی مہم شروع کرنے والے، نریندرمودی، جب تلوار لہرا کر اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر رہے تھے ، تو یہ واضح علامت تھی، اس یدھ کی، جس کانام ہندو توا ہے، جس کے تحت بی جے پی ، اس وقت مذہبی شدت پسندوں کو شدت پسندوں کا نہ صرف اجازت نامہ جاری کر چکی ہے، بلکہ اس شدت پسندی کو بڑھانے اور پھیلانے کے ایجنڈے پر بھی تیزی سے کام کر رہی ہے، چنانچہ آج بھارت کا اصل چہرہ دیکھنا ہو تو سدھیندرا کلکرنی کا چہرہ دیکھ لیں۔

جس پر تھوپی ہوئی سیاہی ہندو توا کی ہے، جی ہاں ہندو توا، جو نہرو، اندرااور گاندھی کا اصل ایجنڈا تھا، مگر یہ ایجنڈا، تلوار اور ترشول کے ساتھ جس طرح نریندر مودی سرکار لاگو کرنے پر مصر ہے، وہ بھارتی اعتدال پسند طبقے کے لئے بھی خطرے کا الارم ہے، اور ہمارے لئے بھی۔

چنانچہ داستانی و افسانوی دلی چاہے جتنی بھی دلربا ہو۔ ہنوز دلی دور است۔

-------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.