.

خفیہ ہتھیار

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تھوڑی سی خوشی کی خبر ہے اور ساتھ ہی سوچنے کا مقام بھی کہ پاکستان میں بھوک کی صورتحال مشرف دور کے مقابلے میں 4.4 یعنی تقریبا ساڑھے چار فیصد بہتر ہوئی ہے۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ بھارت میں یہ صورت حال تقریبا 10 فیصد بہتر ہوئی ہے اور بھوک اور افلاس کا شکار ملکوں میں پچسویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان گیارہ بھوکے ترین ملکوں میں شامل ہے یعنی ٹاپ ٹین سے محض ایک درجہ نیچے تو ایسا کیوں ہے کہ وہ پاکستان جو مشرف دور سے پہلے بھارت کے مقابلے میں خوشحال تھا، بھارت سے کہیں زیادہ بدحال اور فاقہ کش بن گیا۔ بہر حال ، ٹاپ ٹین کی فہرست یہ ہے:

وسطی افریق جمہوریہ، چا، زیمبیا، ہیٹی، مذغاسکر، افغانستان، نائجیریا اور یمن۔ پاکستان کا نمبر یمن کے بعد ہے گویا پاکستان اور یمن میں بس 19,20 کا ہی فرق رہ گیا۔

اس میں مجموعی طور پر اچھی بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں بھوک کی شرح میں 27 فیصد کمی آئی ہے تاہم اب بھی 79 کروڑ 50 لاکھ افراد کو ٹھیک سے روٹی نہیں مل رہی۔ ٹحیک سے روٹی نہ ملنے کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی کو تین وقت کا کھانا تو ملے لیکن کم اور یہ بھی کہ کسی کو دن میں دو وقت کا کھانا بھی نہ ملے اور یہ بھی کہ کسی کو ایک دن میں ایک وقت کا کھانا بھی مشکل سے ملے۔ وہ بھی بھوکے ہیں جو بھوک سے بیمار ہوجاتے ہیں اور ایک بھوک وہ بھی ہے کہ یا تو آدمی مر جاتا ہے یا خودکشی کر لیتا ہے۔ مشرف سے پہلے پاکستان میں بھوک کی وجہ سے کوئی خودکشی نہیں کرتا تھا، اب ہر روز کرتے ہیں۔

مشرف اور اسکے ساتھ ٹولے نے تاریخ کی عظیم ترین لوٹ مار کی اور عدم مساوات کو بے اندازہ بڑھا دیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان جہاں خط غربت سے نیچے رہنے والے عوام کی تعداد صرف 27 فیصد ہو گئی تھی اور اس شرح میں بھی کمی آ گئی مشرف کے آٹھ برسوں میں یہ شرح بڑھ کر 50 سے 55 فیصد کے درمیان آ گئی۔

2007ء میں جمہوریت بحال ہوئی اور سات برسوں کی آئینی حکمرانی کا نتیجہ ہے کہ بھوک کی شرح میں 4.4 فیصد کی بہتری آئی جو ایک طرف اگر مثبت ہے تو ساتتتھ ہی منفی بھی۔ مثبت اس لئے کہ کچھ تو کمی ہوئی لیکن منفی اس طرح کی یہ شرح بہت کم ہے۔ بھارت تیزی سے خوشحال ہورہا ہے اور یہاں صورتحال بہتر ہونے کی شرح کچھوے کی رفتار سے بھی سست ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر قحط کی صورتحال ختم کر دی گئی ہے جو انسانیت کی بڑی فتح ہے لیکن اس فتح کو جنگوں نے چھپا لیا ہے اور اس وقت جو غربت ہے اسکی وجہ قحط نہیں بلکہ جنگیں ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے اس موضوع پر بہت سی کتابیں چھپ چکی ہیں کہ اشرافیہ جان بوجھ کر جنگوں کے حالات پیدا کرتی ہے تاکہ غریب اور مڈل کلاس کے پاس وسائل کا جو حصہ ہے وہ بھی اسکے پاس آ جائے اور ساری طاقت اسکے پاس رہے۔ مشرف نے یہی کیا اور پاکستان میں دہشت گردی شروع کرا کے اسے جنگوں کے سپرد کر دیا۔ مشرف سے نجات ملی تو اشرافیہ نے تحریک انصاف کے دھرنے کے ذریعے خانہ جنگی کی صورتحال بنا دی جسکا مقصد وہی تھا جو اوپر ذکر ہوا۔

اگر دھرنے نہ ہوتے تو فاقوں میں کمی کی شرح شاید چھ اور سات فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتی۔ اشرافیہ کی اس حکمت عملی پر بہت سی کتابیں اور تحریریں آ چکی ہیں لیکن بدقسمتی سے کوئی یہ بتانے والا نہیں ہے کہ غریب اور مڈل کلاس آبادی اشرافیہ کا ہاتھ کس طرح روکے۔

ایک ہی روز بے بسی کی آگ میں جل کر بھسم ہونے والی دونوں زندگیاں اصل میں پولیس راج کی نذر ہوئیں۔ مظفر گڑھ کی نوجوان خاتون سونیا نے اس لئے خودسوزی کی کہ اسے تین اہلکاروں نے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا اور جب وہ انصاف کے لئے تھانے گئی تو وردی پہنے بھیڑیے نے اسے دھکے دے کر تھانے سے نکال دیا۔ وہ خود سوزی نہ کرتی تو کیا کرتی۔ ملتان کی رہائشی خاتون کو مخالفوں نے جھوٹے مقدمات میں پھنسایا اور پولیس کو خرید لیا۔ اس کے پاس بھی نجات کا یہی راستہ تھا جو اس نے اختیار کیا۔

پاکستان شروع ہی سے پولیس سٹیٹ ہے لیکن موجودہ پنجاب حکومت نے گزشتہ سات برسوں سے پولیس راج ہی کو گڈ گورننس کا نام دے کر ترقی اور طاقت کے جس مقام پر پہنچایا اسکی مثال نہیں ملتی۔ لیکن پولیس کے مظالم کی یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ ایک وجہ سیاسی اور غیر سیاسی وڈیرہ کلچر بھی ہے جو بالائی پنجاب میں قدرے کم اور جنوبی پنجاب اور سندھ میں آج بھی پہلے جتنی طاقت کے ساتھ مووجد ہے۔ یہ نظام سیاسی اصلاحات سے ہی کمزور ہوگا جس طرح بھارت میں ہوا۔ ختم وہاں بھی نہیں ہوا لیکن کمزور ضرور ہوا پاکستان میں کسی حکومت کو سیاسی اصلاحات کے لئے مہلت ہی نہیں ملتی۔ شروع ہی سے شہری اشرافیہ کا گٹھ جوڑ اس وڈیرہ شاہی کے ساتھ ہے۔

یہ دو خود سوزیاں کوئی نیا واقع نہیں، پنجاب میں ہر دن نہیں تو ہر دوسرا دن ایسی ہی خبریں لے کر آتا ہے اور آج تک ان واقعات کے ذمہ دار کسی پولیس افسر کو سزا نہیں ملی۔ حکمران ہر ایسے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہیں اور بعض اوقات تو مظلوم گھرانے تک بھی جا پہنچتے ہیں لیکن پھر یہ نوٹس ریکارڈ کا حصہ بن جاتا ہے اور ذمے دار پولیس افسر کچھ عرصے کی معطلی کے بعد دوبارہ ظلم کرنے کے لیے بحال کر دیا جاتا ہے۔ کسی ایک تھانیدار ہی کو نشان عبرت بنا دیا جائے یہ لوگوں کی حسرت ہی رہ گئی ہے۔

ایک نامور کالم نویس نے مسلسل دو کالموں میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ عمران خان نے چوہدری سرور سے کیا خصوصی خدمت لی۔ وجہ یہ کالم لکھنے کی وہ رپورٹیں تھیں جن مٰں بتایا گیا تھا کہ چوہدری سرور کو خصوصی تجربے کے پیش نظر دھاندلی روکنے کی خاص ذمے داری دی گئی تھی۔

دراصل ایسی کوئی ذمے داری انکے پاس نہیں تھی۔ چوہدری سرور کا اصل کمال کچھ اور ہے ۔ الیکشن سے پہلے عمران نے کہا تھا کہ علیم خان انکا خفیہ ہتھیار ہے جس پر لوگ حیران ہوئے کہ ایک انتخابی امیدوار خفیہ ہتھیار کیسے ہو سکتا ہے۔ کہا وہ آف دی ریکارڈ الیکشن لڑ رہا تھا۔ دراصل یہ عمران کی زبان کی پھسلن تھی۔ وہ چہدری سرور کا نام لینا چاہتے تھے، منہ سے علیم خان کا نام نکل گیا۔

چوہدری سرور تب خفیہ ہتھیار تھے جب وہ گورنر پنجاب بنائے گئے تھے۔ بظاہر تو انہوں نے حلف آئین سے وفاداری کا اٹھایا تھا جبکہ انکا اصل حلف وفادری عمران اور قادری سے تھا۔ گورنر ہاؤس میں ہونے والی پراسرار بلکہ پرسرور سرگرمیوں کی رپورٹ ملنے کے بعد حکومت نے فارغ کر دیا۔

چوہدری سرور اکیلے نہیں، انکے ساتھ لارڈ صاحب برطانیہ مٰں ہیں۔ دونوں نے سکاٹ لینڈ کے ریفرنڈم مٰں تاج برطانیہ سے کمال وفاداری نبھائی، سکاٹلینڈ میں آزادی کیلئے ریفرنڈم ہو رہا تھا جو بہت ووٹوں سے ناکام ہوا۔ سکاٹ لینڈ میں جتنے سکاٹ ہیں اتنے ہی انگریز بھی۔ کشمیریوں اور پاکستانیوں کی تعداد اگرچہ کم ہے لیکن توازن انکے ہاتھ میں تھا۔ان دونوں رہنماؤں نے انہیں آزادی کے خلاف ووٹ دینے کے لئے آمادہ کیا۔ سکاٹ لینڈ آزاد ہو جاتا تو یہ واقعہ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے لئے ریفرنڈم کے مطالبے کی بنیاد میں جاتا۔ ان دونوں عظیم ہستیوں نے اپنی مساعی جمیلہ سے صرف تاج برطانیہ ہی کو ممنون نہیں کیا بلکہ کسی اور کو بھی شرمندہ احسان بنایا۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری صاحب کو خدا نے بےحد برکات سے نوازا ہے اور وہ پاکستان کی ایلیٹ کلاس میں نمایاں ہیں لیکن اب بطور خفیہ ہتھیار وہ شاید زیادہ کارآمد نہیں رہے۔

-----------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جہان پاکستان‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.