.

ترکی تمام شد

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ترکی کو دہشت گردی کے خطرے سے نبٹنے کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، اس مقصد کے لئے ہمارے آرمی چیف نے ترکی کا دورہ کیا ہے۔

ترکی خوش قسمت ملک ہے کہ اسے پاکستان کا زیادہ منت ترلا نہیں کرنا پڑا ور نہ پاکستان نے اسے ٹکا سا جواب دیا ہے۔ مگر ترکی تو ایک بہادر فوج رکھنے کی شہرت کا حامل ملک تھا، یہ ملک نیٹو جیسے طاقتور فوجی ا تحاد کا رکن بھی ہے اور اس کی ا فواج افغانستان میں گزشتہ بارہ برس سے طالبان کے خلاف لڑ رہی ہیں، امریکہ جب یہاں سے اپنی فوج نکال لے گا اور نیٹو کے دوسرے ملک بھی یہاں سے رخصت ہو جائیں گے تو ترکی کی فوج کو مزید کچھ عرصہ اس ملک میں قیام امن کے لئے یہاں قیام کا اشارہ بھی ملا ہے، آخر ترک فوج میں کوئی تو خوبی اور خصوصیت ہو گی جس کی وجہ سے اس کے سبز قدم افغانستان کی سر زمین پر موجود رہیں گے مگر یہی ترکی اپنی سر زمین پر دہشت گردی کے فتنے سے نبٹنے کے لئے پاکستان کی مد دمانگ رہا ہے، ایں چہ بو العجبیست! یہ طرفہ تماشہ نہیں تو اور کیا ہے۔

ترکی بے شک پاکستان کا قریبی حلیف ہے، برادر ملک ہے، دونوں ملکوں کے درمیان صدیوں کے تعلقات ہیں۔ مگر کیا سعودی عرب سے ہمارے ایسے تعلقات نہیں تھے، اسے تو ٹھینگا دکھا دیا۔ کویت بھی ہمارا منہ دیکھتا رہ گیا۔ امارات والوں پر ابھی برا وقت نہیں اور اللہ انہیں بچائے رکھے، سعودی عرب اور کویت کے لئے بھی دعا ہی کی جا سکتی ہے، ان کے لئے فیصلے ہمارے ہاتھ میں نہیں، یہ فیصلہ تو پارلیمنٹ نے سنایا تھا، میرے بھی تحفظات تھے مگر صرف یمن میں مداخلت کی حد تک، جہاں تک سعودی عرب کو درپیش سیکورٹی خطرات کا تعلق ہے تو میں اپنے اس موقف پر قائم ہوں کہ اہمیں اپنے وجود کی قیمت پر سعودی عرب کی حفاظت کرنی چاہئے۔

مدد تو ترکی کی بھی کی جانی چاہئے، اس کے لئے ابھی تو باتیں ہو رہی ہیں، فیصلے ہونے باقی ہیں، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ترکی تار عنکبوت کیوں ثابت ہوا۔ اس قدر عدم تحفظ کا شکار کیوں ہے، اس نے نیٹو سے مدد کیوں نہیں مانگی، امریکی چھاتے کی طلب کیوں نہیں کی۔

ترکی ایک عالمی طاقت تھا، اس کی خلافت کا چار دانگ عالم میں ڈنکا بجتا تھا۔ یہ علوم و فنون کا مرکز تھا، مگر ترکی نے اسلامی امت سے منہ موڑ کر یورپ اور مغرب کی جانب رخ کر لیا۔ اس نے عربی زبان اور عربی رسم الخط کو ترک کر دیا، چنانچہ علم کے سارے سر چشموں سے اس کا ناطہ ٹوٹ گیا۔ اس نے عثمانی سلاطین کا مضحکہ اڑانے کے لئے ڈرامے بنائے اور ہم نے بھی انہیں اپنے چینلز پر ذوق و شوق سے چلایا، میرے سلطان کے حرم کی کنیز نے روزی روٹی کا بندوبست تو کرنا ہی تھا،ا س نے رقص رومی چھوڑا اور مغربی بیلے کی دھنوں پر ناچنا شروع کر دیا۔

کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھی بھول گیا۔ ترکی کو یورپی اسٹیٹس نہ ملنا تھا، نہ ملا اور وہ اسلامی امہ سے بھی کٹ گیا۔ اب اس کے پاس بیچنے کو کیا ہے، ایک فوج تھی، اس کے بھی کس بل نکال دیئے، کورٹ مارشل پہ کورٹ مارشل۔ ترک فوج تھرڈ ورلڈ کی پولیس فورس سے بھی کمزور ہو گئی۔ ہم ترکی سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں۔سبق تو کئی ہیں مگر کیا ہم کہیں سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔ ترکی نے یورپ کی طرف مڑ کر دیکھا، ہم واپس بھارت کی طرف مڑ کر دیکھ رہے ہیں، ترکی نے یورپ بننا چاہا، ہم انڈین بننا چاہتے ہیں۔

محاورہ ہے کہ دوسرے کے صحن میں ہرا ہی ہرا نظر آتا ہے۔ ہمیں اپنا آنگن سونا لگتا ہے۔ ہم ادھر ادھر تانک جھانک کر رہے ہیں، کبھی ترکی ماڈل ہمارے جی کو لبھاتا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ فوج سے میٹر ریڈنگ کروائیں، اسکو گھوسٹ اسکولوں کے تعاقب میں لگا دیں، ووٹوں کے تھیلوں کی حفاظت پر مامور کر دیں۔ اس سے لاہور کے گندے نالوں اور ملک بھر میں پھیلی نہروں کی بھل صفائی کروائیں۔ بھتہ خوروں کے پیچھے لگا کر اسکو تھکائیں۔ کبھی بلوچستان کے پہاڑوں پر چڑھائی کا حکم دیتے ہیں اور خود ان پہاڑی مورچوں میں بیٹھے علاحدگی پسندوں کا ریڈ کارپٹ استقبال کرتے ہیں۔

ترکی سے ہم اسلام کی نئی تشریح بھی مستعار لینے کی کوشش کر رہے ہیں پورے ملک میں اذان ایک وقت پر ہو، مولوی کا خطبہ جمعہ اسے ٹائپ شدہ دیا جائے، مسجد کے اندر سے مولوی کی آواز باہر نہ جانے پائے۔ مدرسوں میں قرآن اور حدیث کے بجائے برائون فنڈ کی مالی مدد سے آکسفورڈ اور بوسٹن کا نصاب رائج کر دیا جائے۔

ہم نے آزادی لی تھی ایک جدید اسلامی مملکت کا نمونہ پیش کرنے کے لئے، ہم نے نعرہ لگایا تھا کہ ہندو اور مسلمان الگ الگ قومیں ہیں مگر اب ہمیں یاد آ رہا ہے کہ ہم تو ایک ہیں۔ ادھر بھی غربت ہے، جہالت ہے، بیماری ہے، مل جل کر مسائل کا حل تلاش کریں۔

ترکی اور پاکستان دونوں ملک شناخت کے مخمصے سے دوچار ہیں۔ صرف ایک فرق رہ گیا ہے کہ ابھی ہماری فوج کا قبلہ نہیں بدلا، اس کی سوچ نظریاتی بنیادوں پر استوار ہے اور ہم سویلینز کو یہ بھی منظور نہیں۔ میں پھر نوائے وقت اسلام آباد کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر جاوید صدیق کو گواہ بنا کے کہتا ہوں کہ میں نے سن دو ہزار میں پینٹگان کے دو درجن جرنیلوں سے کہا تھا کہ ہماری فوج سے قرآن اور تفہیم القرآن مت چھینو، یہ دنیا کی ایک مسلمہ پیشہ ور فوج ہے۔ موت کو شہادت تصور کرتی ہے اور اس کے حصول کے لئے جان کی بازی لگا دیتی ہے، قرآن اور تفہیم القرآن کے بغیر یہ اپنا نصب العین کھو بیٹھے گی۔ امریکیوں نے یہ کیا ہے یا نہیں کیا مگر ہم بحیثیت قوم اس کے لئے پورا جتن کر رہے ہیں کہ ہماری فوج بس میلوں ٹھیلوں میں مصروف رہے اور اس کا 'ڈنگ' نکل جائے، ہم اس فوج کے 'ڈنگ' سے اپنی جمہوریت کو نہیں، بلکہ بھارت کو بچانا چاہتے ہیں۔

ترکی کا قصہ تو تمام ہوا، ہم اپنے ترکی تمام شد کے بکھیڑے میں پڑے ہیں۔

---------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.