.

ترکی کی سرحد پر ایرانی

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کا شمالی شہر حلب ترکی کےساتھ سرحد پر واقع گذرگاہ باب الہوا سے صرف 45 کلومیٹر دور ہے۔ہزاروں ایرانی فوجی اور جنگجو اس وقت حلب کی جانب رواں دواں ہیں اور وہ 2011ء میں شامی انقلاب کے آغاز کے بعد سب سے بڑی جنگ کی تیاری کررہے ہیں۔

ایرانیوں نے اپنے ایک اعلیٰ کمان دار حسین ہمدانی کی حلب میں لڑائی میں ہلاکت کے ایک ہفتے کے بعد اپنی فوج کو وہاں منتقل کیا ہے۔شامی حکومت ماضی قریب میں ایران کی مدد کے باوجود آبادی کے اعتبار سے ملک کے اس سے بڑے شہر کا کنٹرول کھو چکی ہے۔وہ اس شہر کے شمال میں واقع متعدد قصبوں سے بھی محروم ہوچکی ہے۔اس شکست کے بعد ہی ایران نے مزید فوجی بھیجے ہیں اور اب وہ روس کے فضائی کور میں لڑیں گے۔

ایران کا معاملہ ترکی کی طرح کا نہیں ہے۔ترکی تو حلب کے نزدیک واقع ہے اور اس کے لیے تو اپنے مفادات اور شمالی شام سے شامی طیاروں کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزیوں ،لڑائی کے آغاز میں اپنے ایک لڑاکا جیٹ کو مارگرائے جانے یا سرحد پار گولہ باری کے واقعات کے ردعمل میں اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیوں کا جواز موجود تھا اور ہے اور اس کو اپنی سرحدوں کے تحفظ کا حق بھی حاصل ہے جبکہ ایران خود کو ایک علاقائی قوت منوانا چاہتا ہے اور وہ دور دراز سے شام میں در آیا ہے۔

مگر شاید آج ترکی کے لیے فوجی مداخلت بہت مشکل ہوچکی ہے کیونکہ اس کی سرحد کے نزدیک ہزاروں روسی ،ایرانی ،عراقی اور لبنانی جنگجو موجود ہیں اور امریکا اور روس کے درمیان شام کے معاملے پر اس وقت کشیدگی بھی عروج پر ہے۔

مضمرات

ترک دارالحکومت میں گذشتہ ہفتے کے روز دہشت گردی کا حملہ بھی شامی بحران کے مضمرات میں سے ایک ہے۔اس واقعے میں ایک سو افراد ہلاک ہوگئے تھے اور یہ حلب میں جنگ آزما فریقوں ایران ،روس یا دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کی جانب سے ترکی کے لیے ایک پیغام بھی ہوسکتا ہے۔

حلب میں ایرانی فورسز اور شامی باغیوں کے درمیان جنگ کے نتائج ترکی کے لیے تمام ترمنفی ہی ہوں گے۔اگر ایرانی یہ جنگ جیت جاتے ہیں تو اس کا مطلب انقرہ کے اتحادیوں کی شکست ہوگی اور پھر ترکی ایران اور شامی رجیم کی ایجنٹ ملیشیاؤں کا ہدف ہوگا۔

اگر ایرانی حلب پر قبضے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر وہ اپنی اس ناکام کا ایران کو الزام دیں گے اور وہ ترکی پر شام کے مسلح باغی گروپوں کو رقوم مہیا کرنے کا بھی الزام عاید کریں گے۔اگر لڑائی ایک طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو شاید یہ باب الہوا کی سرحدی گذرگاہ پر بھی بند نہ ہو کیونکہ حلب ترکی کی سرحد سے صرف آدھے گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

گذشتہ دوسال کے دوران شامی فوج کی حلب پر تباہ کن بمباری کے باوجود قریباً بیس لاکھ حلبی ابھی تک وہیں مقیم ہیں۔شامی فوج نے اپنے ہی شہریوں پر بیرل بم برسائے تھے اور اس نے اس انداز میں اس خوب صورت شہر کو تباہ وبرباد کردیا ہے کہ ہم نے پورے خطے کی تاریخ میں اس طرح کی تباہی ملاحظہ نہیں کی ہے۔

ماضی کی ناکام کوششوں کے بعد شامی رجیم کے اتحادی شہر پر ایک اور بھرپور حملے کی تیاری کررہے ہیں مگر اس مرتبہ وہ ایران کی برّی فوج کی بھاری نفری اور روس کی فضائی قوت پر انحصار کررہے ہیں۔بدقمستی سے ہم ایک بدترین المیے کو ملاحظہ کریں گے کیونکہ ایرانی گولہ باری اور روسی بمباری کا ہدف شہری علاقے ہوں گے۔اس لیے بہت سے دربدر ہوں گے اور ان میں سے بیشتر ترکی کی جانب ہی آئیں گے۔

روسی اور ایرانی جارحین یہ خیال کررہے ہیں کہ وہ حلب پر دوبارہ قبضے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وہ حماہ گورنری کی جانب بھی پیش قدمی کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ اسد رجیم کے نظم ونسق کی بحالی کا ایک احمقانہ منصوبہ ہے اور یہ بالآخر ناکامی سے ہی دوچار ہوگا۔
------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ وہ قبل ازیں لندن سے شائع ہونے والے عربی روزنامے الشرق الاوسط کے ایڈیٹَر رہے تھے۔ وہ تجربے کار صحافی اور عرب امور کے ایک ماہر تجزیہ کار ہیں۔ ان کے غیر جانبدارانہ اور جاندار سیاسی تجزیوں کی گیرائی اور گہرائی کے پیش نظر انھیں عرب دنیا کا ایک نمایاں مبصر مانا جاتا ہے۔ تاہم ان کے نقطہ نظر سے العربیہ نیوز چینل کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.