.

لالہ جی کی نئی تاریخ

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ قومی مومنٹ نے اعلان کیا ہے کہ چند روز تک اسکے ارکان اسمبلیوں میں واپس آجائیں گے۔ کراچی آپریشن میں بعض شکایات پر اس نے کچھ عرصہ پہلے اسمبلیوں سے استعفے کا اعلان کیا تھا لیکن ہفتہ دس دن پہلے حکومتی کوششوں کے نتیجے میں متحدہ اپنے استعفے واپس لینے پر تیار ہوگئی۔

اس خبر سے یقینا ان لوگوں کو مایوسی ہوگی جو حالات مٰن خرابی کے سہانے خواب دیکھ رہے تھے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان سہانے خوابوں کا تعلق پاکستان کی نلکانائزیشن کے امریکی منصوبے سے ہے۔ اس منصوبے کے تحت کراچی کو الگ ملک بنانا بھی شامل ہے اور آزاد بلوچستان بھی۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ کراچی میں حالات اتنے بگاڑ دیئے جائیں کہ دو کروڑ مہاجر آزادی کا نعرہ بلند کر دیں۔ کراچی آپریشن کے بارے میں سبھی کا اتفاق ہے کہ یہ مجرموں کے خلاف ہے ، کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں لیکن خوابزادوں کی انجمن یہ چاہتی تھی کہ آپریشن کا رخ پوری متحدہ قومی مومنٹ بلکہ مہاجر قوم کے خلاف موڑ دیا جائے۔ لیکن آپریشن کرنے والے بھی خوابزادوں کے خوابناک عزائم کو پہچانتے ہیں، اسی لئے آپریشن بہت احتیاط سے کیا جا رہا ہے ۔ بھر بھی بےاحتیاطی اور غلطی ہو ہی جاتی ہے۔ مثلا شبہ میں پکڑے گئے افراد پر بلاجواز تشدد وغیرہ۔ حکومت نے ایسی ہی شکایات کے ازالہ کا وعدہ کر کے متحدہ سے واپسی کا بیان لیا اور یوں حالات بہتری کی طرف آگئے۔

پوری متحدہ کے خلاف کارروائی کا کوئی جواز ہے نہ ضرورت۔ جسم کے اسی حصے کو دھویا جاتا ہے جو آلودہ ہو گیا ہو۔ جیسے پاؤں کیچڑ میں دھنس جائیں تو صرف پاؤں ہی دھوئے جاتے ہیں۔ ہاتھوں کو خراب شے چھو جائے تو صرف ہاتھ ہی دھوئے جاتے ہیں۔ پرندہ سر پر بیٹ کر دے تو سر دھویا جاتا ہے۔ آنکھوں میں دھواں بھر جائے تو صرف آنکھوں میں پانی کے چھینٹے مارے جاتے ہیں۔ چینل دیکھتے ہوئے عمران یا شیخ رشید کی گفتگو یا تقریر کانوں میں پڑ جائے تو صرف کان دھوئے جاتے ہیں وغیرہ۔ چناچنہ آپریشن بھی ٹارگٹ کلرز، بھتا خوروں وغیرہ کے خلاف ہو رہا ہے اور انہی کے خلاف ہونا چاہئے، ساری متحدہ کو دھو ڈالنا خطرے سے خالی نہیں۔

گزشتہ رات لالہ آف لال حویلی ایک چینل پر نظر آٗے۔ کان دھونے سے پہلے انکا جو فقرہ سننے کو ملا وہ یہ تھا کہ اگلے مارچ میں حکومت ختم ہوجائے گی۔ اصل الفاظ یہ تھے کہ مارچ تک فیصلہ ہو جائے گا کہ حکومت نے رہنا ہے یا جان اہے۔ اب ظاہر ہے لالہ جی یہ فیصؒہ سننے کے لئے مارچ کا انتظار نہیں کر رہے کہ حکومت نے رہنا ہے۔۔۔ اس لئے لالہ جی کا پاس خاطر رکھتے ہوئے فقرے کا وہی مفہوم بیان کی جا انکے دل میں ہے۔ لالہ جی پچھلے سات برسوں سے تاریخیں دیتے آ رہے ہیں بلکہ اب تو ساڑھے سات برس ہوگئے۔ پہلے آصف زرداری کی صدارت بنتے ہی انہوں نے تاریخیں دینا شروع کیں۔ ہر دو مہینے بعد وہ اپنی تاریخ کی تجدید کرتے تھے۔ گویا پانچ برسوں میں انہوں نے 130 مرتبہ تاریخیں دیں لیکن زرداری انکے اور انکے سارے قبیلے یعنی انڈو، ایرا، اسرا لابی کے سینے پر مونگ دلتے رہے اور یہ مونگ تب ختم ہوا جب انکی مدت صدارت ختم ہوئی۔ اب آپ یہ پوچھیں گے کہ انڈو، ایرا ، اسرا لابی کی اہے تو بھئی یہ تین ملکوں کے ناموں کا اختصار ہے۔

امید غالب ہے سمجھ میں آ گیا ہوگا۔ نہیں آیا تو لالہ جی کو فون کر کے پوچھ لیں کہ انڈو، ایرا، اسرا لابی کے سربراہ اگر طوفان خان ہیں تو لالہ جی اسکے پی آر او اور تاریخیں دیتے رہنا انکی مجبوری ہے۔ یہ پہلی بات ہوا کہ دھرنوں کی باعزت پسپائی کے بع دلالہ جی نے ہر دو ماہ بعد تاریخیں دینے کی عادت سے چند مہینوں کے لئے پرہیز کیا یعنی منقار زیر پر رہے ورنہ ایسا وقفہ انکی علت فطریہ کے خلاف ہے۔ خوشی ہوئی کہ آخر انکے عادت بحال ہوئی اور اس سے مراد انکی مارچ والی تاریخ نہٰں۔ اصل میں انکی بحالیٗ علت لاہور کے ضمنی الیکشن سے پہلے ہو چکی تھی جب انہوں نے بس مہینے ڈیڑھ مہینے کی بات رہ گئی کہہ کر ایک طرح سے نومبر کی تاریخ دے دی تھی۔ ضمنی الیکشن کے بعد گزشتہ رات جو تاریخ انہوں نے دی ہے وہ نئ تاریخ ہے یعنی حکومت کو کم سے کم چار مہینے کی مہلت مل گئی۔ اب نومبر میں نہیں بلکہ چار پانچ ماہ بعد مارچ میں فیصلہ ہوگا۔ بشرطیہ کہ لالہ جی نے مارچ سے پہلے پہلے تاریخ میں توسیع نہ کر دی تو۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ہماری پارٹی کا ووٹر ناپید ہوگیا ہے۔

ناپید نہیں ہوا، کچھ چھپ گیا ہے، بہت سوں نے کم ازکم لاہور میں آشیانہ بدل لیا ہے۔ پیپلز پارٹٰ کا ووٹر اپنی طبیعت میں منفرد ہے۔ اسے اندازہ ہوا کہ اسکے امیدوار نے نہیں جیتنا تو وہ گھر سے باہر ہی نہیں نکلتا جیسا بےنظیر کی دوسری حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے الیکشن مٰن ہوا۔ اس الیکشن میں پنجاب کی حد تک پیپلز پاٹی کا صفایا ہوگیا تھا حاانکہ اسکا ووٹ بینک زیادہ نہیں تو 25 سے 28 فیصد تک موجود تھا۔ دراصل پارٹی ووٹروں کو یقین تھا کہ پارٹی نہیں جیتے گی اور اگر نہیں جیتے گی تو پھر پولنگ سٹیشن جا کر وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔

زرداری حکومت کے خاتمے کے بعد بھی یہی ہوا۔ اسکے بہت سے ووٹر گھروں سے نہیں نکلے ورنہ پنجاب میں کچھ سیٹیں تو وہ جیت ہی لیتی۔ لاہور اور راولپنڈی میں البتہ الگ ماجرا ہوا۔ یہاں پارٹی کے سارے تو نہیں، اکثر ووٹر اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے اور اس بار اشرافیہ یک مٹھ ہو کر تحریک اشراف میں چلی گئی اور اب یہ تحریک اشراف ہی میں رہیں گے جب تک اشراف خان اپنی عقلمندیوں سے اپنی جماعت کا کریا کرم نہیں کر دیتے۔

پیپلز پارٹٰ پنجاب مٰں کسی نہ کسی حد تک واپسی کا راستہ آسانی سے ہموار کر سکتی ہے۔ لیکن اسکا ایک انحصار سندھ حکومت کی کارکردگی پر ہے تو دوسرا انحصار پنجاب میں مناسب قیادت لانے پر ہے۔ اب اگر منظور وٹو جیسے غلام اسحاقیے پارٹی کی قیادت پر قابض ہوں تو ووٹر حرکت میں کیسے آئیں گے۔

بھارت میں ایک شہری نے حکومت سے پوچھا کہ آئین اور قانون کے تحت لفظ ہندو کا مطلب بتایا جائے۔ بھارتی حکومت اس لفظ کا مطلب بتانے میں ناکام رہی۔ ہندو لفظ ہندو دھرم کا حصہ ہے ہی نہیں۔ ہندو دھرم کا اصل نام آریہ دھرم تھا اور ہندوستان کا نام بھارت ورش۔ ہندوستان کا نام اسے غیر ملکی فاتحین نے دیا اور اسی ہندو نکلا جسکا مطلب تھا ہندوستان میں رہنے والا۔ ہندوستان کا لفظ بگاڑ کر انگریزوں نے انڈیا کر دیا۔ جواب بھارت کا سرکاری نام ہے۔ ہندو دھرم مطالعے کی چیز ہے۔ بنیادی طور پر ایک توحیدی مذہب یعنی یہ عقیدہ رکھنے والا کہ کائنات کا خدا ایک ہی ہے جسے اس دھرم میں ایشور یا برھما کا نام دیا جات اہے۔ پرانے یونانی فلسفے میں تھا کہ ایک خدا نے دنیا بنائی پھر لاتعلق ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا۔ یہ تصور ہندو إذہب نے لیا۔ چنانچہ اب ہندو اپنی مدد کے لئے ہزاروں دیوتاؤں کو بلاتے اور مکتی کے لئے انکی پوجا کرتے ہیں۔ ہر دیوتا کے ساتھ بھگوان کا لفظ لگاتے ہیں۔ ایشور یا برھما کی کوئی پوجا کرتا ہے نہ مدد کے لئے اسے بلاتا ہے ۔ کھمب میلے میں ایک جلسہ ہوا جس میں کسی گرو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سارے دیوتا اصل میں ایک ہیں۔ یہ تو جیہہ کتنی کمزور ہے ، بتانے کے ضرورت نہیں۔ بہر حال آج کل ہندو وہ ہے جو دوسرے مذہب خاص کر مسلمانوں کا وجود برداشت نہ کرے۔

--------------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ جہان پاکستان
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.