.

وزیر اعظم کا حساس دورہ امریکہ ۔ مطلوب سیاسی ابلاغ…

ڈاکٹر مجاہد منصوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیر اعظم نواز شریف 20 سے 23 اکتوبر تک امریکہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ میڈیا سے سامنے آنے والے ایجنڈے کے اعتبار سے پاکستانی وزیر اعظم کا یہ دورہ ملکی سلامتی کے مفادات کے حوالے سے حساس اور انتہائی اہمیت کا حامل ہو گا، سو، دورےکے اختتام تک داخلی سیاست کے ٹمپریچر میں کمی مطلوب ہے جو تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ آئندہ چند روز کی ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتیں اور تجزیہ نگار داخلی روایتی سیاسی ابلاغ کی بجائے، وزیر اعظم کو صدر اوباما سے مذاکرات سے پہلے اعتماد دیں اور ان کی اجتماعی رہنمائی بھی کریں۔

اوباما، شریف ملاقات میں پاکستانی قومی مفادات کے حوالے سے حساس ایجنڈا میڈیا کی خبروں سے تقریباً واضح ہو چکا ہے جس میں امریکہ کی جانب سے واضح ہے کہ وہ افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان سے مذاکرات کو اب ناگزیر سمجھتا ہے جبکہ طالبان قیام امن کیلئے ہر قسم کے تعاون کیلئے بظاہر آمادہ معلوم دیتے ہیں، لیکن ان کی کڑی شرط یہ ہے کہ پہلے غیر ملکی افواج افغانستان سے نکلیں تو ہی وہ افغان حکومت اور امریکہ سے افغانستان میں قیام امن پر بات کریں گے۔ واشنگٹن اب بھی یہ سمجھتا ہےکہ پاکستان ہی طالبان کو بلاشرط مذاکرات کی ٹیبل پر لا سکتا ہے اس حوالے سے پاکستان کا تعاون اس کا ہدف ہے۔ دوسرا نکتہ اب دورے سے فقط ایک ہفتہ پہلے واضح ہوا ہے کہ امریکہ پاکستان سے جوہری ہتھیاروں کو محدود رکھنے پر بھی وزیر اعظم نواز شریف سے تعاون پر زور دے گا۔

یوں پاکستان سے امریکی توقعات اب واضح ہیں۔ دوسری جانب اس مرتبہ پاکستانی وزیر اعظم کی امریکی صدر سے ملاقات کا انداز غیر روایتی ہو گا۔ اس میں کسی امریکی مالی مدد، دہشت گردی کی جنگ میں اپنے سچے اور پرخلوص تعاون کی یقین دہانی اور امریکی شبہات دور کرنے پر ہی زور نہیں دیا جائے گا بلکہ اس جنگ کے خلاف پاکستان کے عملی اقدامات،بھاری جانی نقصانات کا ڈیٹا اور اب یہ جنگ خود تنہا لڑنے کی تفصیلات سے امریکہ کو آگاہ کرنے کے علاوہ بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے ثبوت، مسئلہ کشمیر کی حقیقت (جو امریکہ بخوبی سمجھتا ہے) کی واشنگٹن کو یاددہانی اور پاکستان کے خلاف بھارت کے جنگی جنون کی کیفیت کو بمعہ ثبوت پاکستان امریکہ کے سامنے کھل کھلا کر رکھے گا۔

وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکہ کے حوالے سے گزشتہ روز نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ اہم ہے کہ ’’پاکستان چھوٹے ایٹم بم نصب کرنے والا ہے جس پر امریکہ کو تشویش ہے اور وہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا دائرہ محدود کرنا چاہتا ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان اس پر تیار نہ ہو گا۔ امریکی اخبار کے مطابق پاکستان سے اس موضوع پر مذاکرات کی قیادت امریکی انٹیلی جنس ماہر اور این ایس اے کے رکن پیٹر آر لیو اے کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ کو خدشہ ہے کہ جس طرح سرد جنگ کے دوران امریکہ نے امکانی سوویت حملہ روکنے کیلئے یورپ میں چھوٹے جوہری ہتھیار نصب کئے تھے اسی طرز پر پاکستان کی طرف سے بھی چھوٹے ہتھیار نصب کرنے کا امکان ہے‘‘۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق ماہرین کا اندازہ ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے محدود کرنے پر پاکستان کی آمادگی کا کوئی امکان نہیں کہ ایٹمی صلاحیت پاکستانیوں کا فخر ہے اور وہ اسے بھارت کے خلاف حقیقی دفاع کے طور سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان امریکہ سے 2005ء میں بھارت سے سول جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون فراہم کرنے کا کوئی معاہدہ کرنے کی خواہش کا اظہار کرے گا، لیکن اس پر امریکہ تعاون کرتا نظر نہیں آتا بلکہ امریکی صدارتی ترجمان تو پہلے ہی اس حوالے سے واضح کر چکا ہے کہ بات چیت ایٹمی عدم پھیلائو پر ہو گی نا کہ سول نیو کر ٹیکنالوجی پر۔

امر واقع یہ ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو اپنی گفتگو صدر اوباما کی ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کی جانے والی تقریر کے اس تاریخی اعتراف کی روشنی میں کرنی چاہئے، جسے انہوں نے یوں بیان کیا کہ عالمی مسائل طاقت اور دولت کے استعمال سے حل نہیں ہوتے۔ انہوں نے بڑی سچائی سے اعتراف کیا کہ عراق اور افغانستان میں امریکہ کو اس کا تجربہ ہوا حالانکہ امریکہ کو یہ تجربہ ویت نام میں بہت پہلے ہی ہو چکا تھا اور افغانستان میں سوویت یونین کا تلخ ترین تجربے کی تمام تر تفصیلات واشنگٹن کے پاس ہیں۔

پاکستان کو ان ہی حقائق کی روشنی میں صدر اوباما کو یہ باور کرانا چاہئے کہ ان کا نیا ’’فطری حلیف‘‘ بھارت خود کو ایسے ہی تجربے میں مبتلا کر کے اپنے ترقی و فلاح کے پوٹینشل کے باوجود نا صرف خود غربت و افلاس میں جکڑا ہوا ہے بلکہ کشمیر اور بھارت کی دوسری کئی ریاستوں میں طاقت کے استعمال سے وہ خود بھی داخلی انتشار کا شکار ہے اور اس کا یہ رویہ پورے خطے میں عدم استحکام اور افلاس مسلسل کا باعث ہے۔ ہم نے امریکہ پر یہ واضح کرنا ہے کہ دنیائے اسلام کی جس محدود اور غیر ریاستی پاکیٹس میں جس بنیاد پرستی کے انسداد کیلئے اس نے بے شمار مالی وسائل خرچ کئے (جس میں عراق اور افغانستان تباہ اور پاکستان بحران مسلسل میں آیا) وہ اپروچ اس کے فطری حلیف پوری بھارتی قوم میں سرایت کر گئی ہے اور بھارت کتنے ہی حوالوںسے اب تیزی سے جنگجوئی اور انتہا پسندی کی طرف مبتلا ملک ہے، جو پاکستان سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ہی نہیں عالمی ادارے کے چارٹر (حصول حق خود ارایت) کی بنیاد پر چلنے والی کشمیری تحریک کو روند کر پاکستان سے کسی طور مذاکرات کے لئے تیار نہیں، بلکہ وہ نئے اوباما ڈاکٹرائن ’’عالمی سلگتے مسائل طاقت اور دولت سے نہیں مذاکرات سے حل ہوں سلگتے ہیں‘‘ سے نظریں چرا کر پاکستان سے مرضی کی جنگ کیلئے بے چین ہے، لائن آف کنٹرول اور پاکستانی سرحدوں پر آئے دن بمباری کا طویل سلسلہ اس کے اسی جنگجویانہ رویے کی بولتی علامت ہے۔

اس موقع پر اہم سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اپنے نئے فطری حلیف بنیاد پرست بھارت کو یہ سمجھا سکے گا کہ طاقت کے عدم توازن میں کسی تنازع پر مذاکرات سے مسلسل گریز یا انہیں بے نتیجہ بنائے رکھنے کا رویہ جنگ کے دروازے کھولتا ہے تبھی تو پاکستان اور بھارت میں چھوٹی بڑی سات جنگیں ہوئیں۔ اس سلسلے میں روس اور امریکہ نے اپنی نظریاتی جنگ میں بہترین حکمت عملی اختیار کی کہ طاقت کا توازن پیدا کرنے کیلئے روس نے کیوبا میں اور امریکہ نے یورپ میں چھوٹے جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کر کے امکانی تیسری جنگ عظیم کو سرد جنگ میں تبدیل کر دیا اور کسی نہ کسی طور مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ وہ بھارت کو یہ بھی سمجھا سکے گا کہ اب پاکستان کے روایتی ہتھیاروں کے عدم توازن پر دونوں کی ایٹمی طاقت کا توازن حاوی ہے۔

طاقت اور دولت کی بھرمار کے استعمال سے امن نکالنے کے تجربے کی ناکامی کے بعد مذاکراتی حل کیطرف آنا اس پر صدر اوباما کا اعتراف دنیا بھر کے علمی اور سفارتی حلقوں کی سب سے بڑی علمی اور سفارتی حقیقت ہے جو آج قیام عالمی امن کیلئے عالمی برادری کا بیانیہ ہے، وہ الگ ہے کہ کوئی عالمی طاقت اسے اپنے دبدبے سے دبائے رکھنے اور اپنے مفادات کو عالمی مفاد سے برتر سمجھ کر اپنے مفادات حاصل کر سکے نہ عالمی مفاد حاصل ہونے دے۔

واضح رہے کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے علمی و سفارتی حلقوں میں اوباما ڈاکٹرائن کی سی اپروچ میں یکسانیت پہلے ہی بڑھتی جا رہی ہے، تب ہی تو پاک بھارت تعلقات ڈپلومیسی پر ٹریفک ٹو ڈپلومیسی حاوی ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ کے علمی و تحقیقی حلقے بھی اس کے تائیدی ہیں، ایک دلچسپ مثال ملاحظہ فرمائیں۔

پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران گزشتہ تین چار سال سے، عالمی سیاست معیشت اور عالمگیر جنگوں میں عالمی بنکوں (جس نے تحقیق کے مطابق اب بڑے عالمی مافیا کی شکل اختیار کر لی ہے) کے کردار پر آنکھیں کھول دینے والی تحقیق کی ہے۔ ان کی تحقیق کا ماخذ تمام تر امریکی ذرائع تحقیق ہی ہیں جس پر ان کا اپنا تحقیقی تجزیہ دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے، اندازہ زیر بحث موضوع پر ان کے تحقیقی آرٹیکلز اور کتاب کے نمبر آف ہٹس 10لاکھ سے تجاوز کر گئے ہیں۔ امریکی سابق چوٹی کے جاسوسی کے افسران کی تنظیم نے اپنے ویب میگزین "Veterans Today' کے تازہ شمارے کے ٹائٹل پر ڈاکٹر مجاہد کامران کی تائید ’’اسلام و عرب‘‘ کے ممتاز امریکی سکالر ڈاکٹر لیون باریت نے ڈاکٹر مجاہد کامران کے تحقیقی کام کو دنیا میں موضوع پر پائے کے تحقیقی کام سے اخذ کیا ہوا بہترین Cynthesizened ریسرچ قرار دیا ہے۔ میگزین کے ٹائٹل پر ڈاکٹر مجاہد کامران کے نمایاں تصویر کے ساتھ ڈاکٹر باریت کے ریمارکس پاکستان کی امیج بلڈنگ کیلئے حقیقی اور عالمانہ ہیں جو انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔ جبکہ یہ خبر بھی آج آئی ہے کہ بھارت نے 80 کروڑ ڈالر کے 1000 ٹینکس خریدنے کا سودا کیا ہے جبکہ ہر چھٹا بھارتی غذائی قلت کا شکار ہے۔

---------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضڑوری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.