.

آپ قائد ملت ثانی بن جائینگے

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کامیابی، ظفرمندی اور فتح تو گویا اُس کے نام کے ساتھ جزوِ لازم کی طرح جڑی تھی۔ عثمانی فوج میں خدمات سرانجام دیتے ہوئے اُس نے پہلی کامیابی بالکن کے علاقے رومیلی میں بغاوت کو فرو کرکے حاصل کی، جس کے فورا بعد وہ یمن میں باغیوں کو کچلنے میں کامیاب ہوا تو وہ عثمانی فوج اور نوجوان ترکوں کا ہیرو بن گیا۔پہلی جنگ عظیم میں وہ عثمانی فوج میں سینئر کرنل (بریگیڈیئر) کے رینک پر پہنچ چکا تھا، ترکی کی آزادی کے جنگ کے دوران اُس نے میجر جنرل کے طور پر خدمات سرنجام دیں اور مصطفی کمال پاشا نے اُسے انونو کے اہم ترین محاذ پر یونانیوں کیخلاف لڑنے کیلئے بھیجا۔

انونو میں اُس نے یونانیوں کیخلاف دو جنگیں لڑیں اور دونوں جنگوں میں اُسے واضح کامیابی نصیب ہوئی، جس کے بعد یونانیوں کو انونو کی طرف منہ کرنے کی جرأت نہ ہوسکی۔ جنگ عظیم اول کے اختتام پر اتحادی سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کرچکے تو اُن کی نظریں بچے کھچے ترکی پر تھیں۔ اتحادی ترکی کو بھی تین حصوں (برطانیہ، فرانس، روس) میں تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ اس سے پہلے کہ ترکی کو تقسیم کرنے کی اتحادیوں کی خواہش پوری ہوتی، ترکی کے نوجوانوں کی تحریک نے مصطفی کمال پاشا کی قیادت میں آزادی کی جنگ جیت کر انقرہ میں اپنی حکومت قائم کرلی، جس کے بعد خطے میں مکمل امن کیلئے سوئٹزرلینڈ کے شہر ’’لاسین‘‘ میں اتحادیوں اور ترکوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

دو مرتبہ کا ’’فاتح انونو‘‘ اِن مذاکرات میں ترک وفد کی سربراہی کررہا تھا،جبکہ اتحادیوں کی جانب ہندوستان میں برطانیہ کا سابق وائس رائے اور اُس وقت کا برطانوی وزیر خارجہ لارڈ کرزن اتحادی مذاکرات کاروں کا سرخیل تھا، لیکن ترک وفد کے سربراہ کے اٹل لہجے اور اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اتحادیوں کوانقرہ میں قائم ترک نوجوانوں کی تحریک ، مصطفی کمال پاشا کی سربراہی میں بننے والی حکومت اور ترکی کی نئی سرحدوں کو تسلیم کرنا پڑا۔انونو کے مقام پر یونان کو دو مرتبہ شکست دینے کے بعد سفارتکاری دوسرا محاذ تھا، جہاں فاتح انونو ایک مرتبہ پھر ظفریاب ہوا۔ دنیا کی سپر طاقتوں کے مقابل ڈٹ جانے والا یہ تنہا جرنیل اور سفارتکار کوئی اور نہیں بلکہ ترکی کا دوسرا صدر اور مصطفی کمال پاشا کا سب سے قابل اعتماد ساتھی مصطفی عصمت تھا۔

یہ انونو کی شاندار فتح ہی تھی کہ مصطفی کمال پاشا نے مصطفی عصمت کو انونو کا خطاب دے دیا، جو آنے والی زندگی میں مصطفی عصمت کے نام کا لازمی حصہ بن گیا۔ ترک زبان میںانونو کا مطلب ’’کچھا ر کا دہانہ‘‘ ہے۔ حقیقت میں بھی مصطفی عصمت انونو کچھار کا ایسا دہانہ ثابت ہوا تھا، جس میں سے ہر وقت ترک شیر دھاڑتا رہتا تھا۔مصطفی عصمت انونو نے بالخصوص مصطفی کمال پاشا کی وفات کے بعد جس طرح نوزائیدہ ترک ریاست اور ترکوں کو سنبھالا دیا، اُن خدمات کے اعتراف میں مصطفی عصمت کو قائد ملت کا خطاب بھی دیدیا گیا۔

بیسویں صدی میں قائد ملت کا تصور صرف ترکوں میں رائج نہیں ہوا بلکہ پاکستان میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے سب سے بااعتماد ساتھی لیاقت علی خان نے مکا لہرا کر بھارت کو کسی بھی ممکنہ جارحیت پر منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کیا تو لیاقت علی خان پاکستان کے قائد ملت کہلائے۔ پچاس کی دہائی کے اوائل میں ہی وزیراعظم لیاقت علی خان کے دورہ کے بعد امریکہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی اور اتحادی تعلقات قائم ہوئے، ان تعلقات میں گزشتہ چونسٹھ برسوں میں بہت سے نشیب و فراز آچکے ہیں۔چھ دہائی پہلے جب قائد ملت لیاقت علی خان امریکہ کے دورہ پر واشنگٹن پہنچے تو انہوں نے امریکی قیادت پر واضح کردیا کہ امریکہ اُن سے ایسے کسی اقدام کی توقع نہ رکھی جائے جو پاکستان اور پاکستانی قوم کے مفاد میں نہ ہو! لیاقت علی خان کے اس پہلے دورے کے بعد گزشتہ چونسٹھ برسوں میں وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت تقریبا ہر پاکستانی سربراہ مملکت اور سربراہ حکومت نے امریکہ کا سرکاری دورہ کیا لیکن افسوسناک طور پر وقت گزرنے کے ساتھ ناصرف پاکستانی حکمرانوں کاظاہری طنطنہ ختم ہوتا چلا گیا بلکہ امریکی حکومت کی جانب سے آؤ بھگت ہونا بھی ختم ہوگئی!

اب وزیراعظم نوازشریف امریکی صدر اوبامہ کی دعوت پر سرکاری دورہ پر واشنگٹن پہنچے تو اُن کا استقبال رچرڈ اولسن نے کیا یا پھر ہوائی اڈے پر پاکستانی سفارتخانے کے حکام موجود تھے اور کہاں لیاقت علی خان کا دورہ امریکہ تھا کہ امریکہ صدر اپنی پوری کابینہ سمیت گھنٹوں پہلے ہی قائد ملت کے استقبال کیلئے ایئرپورٹ پر آن موجود ہوا تھا۔

آج واشنگٹن میں وزیراعظم نواز شریف اور امریکی صدر باراک اوبامہ کے درمیان ملاقات ہورہی ہے تو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ملک کے اندر ’’مخصوص کارنرز‘‘ میں خدشات کی لہر اُٹھ کھڑی ہوئی ہے؟ بعض حوالوں سے یہ خدشات کچھ ایسے بے جا بھی نہیں کیونکہ اب تک پاکستانی حکمرانوں نے امریکہ کے سامنے زیادہ تر جی حضوری والا رویہ ہی اپنایا ہے اور لیاقت علی خان کے بعد کبھی کسی سول یا فوجی حکمران نے امریکہ کے سامنے دبنگ لہجے میں پاکستان کا موقف دہرانے کی ’’جرأت‘‘ نہیں کی۔ ماضی کے حکمرانوں کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کے اِس دورہ امریکہ میں بھی ’’یار دوستوں‘‘ نے کئی خدشات ظاہر کیے ہیں کہ کہیں امریکہ کی جانب سے سول جوہری توانائی کے جھانسے (جس کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا) میں آکر پاکستان جوہری پروگرام رول بیک کرنے پر مجبور تو نہیں ہوجائیگا؟ کہیں پاکستان امریکی دباؤ پر کشمیر پر اپنے دیرینہ موقف سے تو پیچھے نہیں ہٹ جائیگا؟ کہیں پاکستان بھارت کو افغانستان تک زمینی رسائی دینے پر آمادہ تو نہیں ہوجائیگا؟

کہیں پاکستان ایران کے ساتھ گیس معاہدہ مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان تو نہیں کردیگا؟کہیں پاکستان امریکی دباؤ میں آکر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پر ’’سست روی‘‘ کی پالیسی تو اختیار نہیں کرلے گا؟چونکہ باراک اوبامہ نے ابھی امریکی افواج مزید کچھ عرصہ تک افغانستان میں ہی رکھنے کا اعلان کیا تو کہیں پاکستان کو افغانستان کے حوالے مزید الجھاتو نہیں دیا جائیگا؟ کہیں امریکہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے وہی پرانی ’’ڈومور‘‘ والی پالیسی پر ہی تو کاربند نہیں رہے گا؟ اور سب سے اہم یہ کہ کہیں وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ دورہ میں پاکستان سول جوہری توانائی اور نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت جیسے مطالبات نہ کرنے کا معاہدہ تو نہیں کرلے گا؟ حسن ظن اور امید واثق تو یہی ہے کہ مندرجہ بالا تمام خدشات محض خدشات ہی ثابت ہونگے اور ہونا بھی یہی چاہیے کہ جہاں پاکستان کے مفادات کی بات آئے تو پاکستانی حکمران قائد ملت والا طرز عمل اپنائیں؟

قارئین کرام!! یقینا اس وقت میاں نواز شریف پاکستانی قائد ملت ہیں اور نہ ہی وہ ترک قائد ملت ہیں، لیکن قوموں کو بڑے سیاسی رہنماء ہمیشہ چیلنج سے بھرپور مواقع پر ہی ملتے ہیں اور سخت امتحانات ہی سیاسی رہنماؤں کو مدبر رہنماؤں کے روپ میں سامنے لاتے ہیں۔ یہ بھی ایک ایسا ہی موقع ہے، جب علاقائی دشمن اور عالمی طاقتیں پاکستان کے جوہری اثاثوں کو اپنی خواہشات کیمطابق ’’محدود‘‘ دیکھنا چاہتی ہیں اور اُنہیں پاکستان کی اقتصادی ترقی بھی کسی صورت قبول نہیں ہے اِس لیے آج کا اہم ترین سوال یہی ہے کہ کیا آج واشنگٹن میں امریکی صد باراک اوبامہ کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف ترک قائد ملت والا کردار ادا کرنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ چلیں اگر ترک قائد ملت (مصطفی عصمت انونو) نہیں تو کیا وزیراعظم نوازشریف پاکستانی قائد ملت (لیاقت علی خان) کے فرمودات پر ہی عمل کرنے کی جرأت کرپائیں گے؟ وزیراعظم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیشہ کیلئے امر ہوجانا کسی کسی کے مقدر میں لکھا ہوتا ہے۔

تاریخ ایسے مواقع کسی کسی رہنما کو دیتی ہے، جب قوم بھی اُسکی پشت پر ہو اور وہ رہنما قوم کی آواز بن کر قومی مفادات کی نگہبانی کرے۔ یقینا آج موقع ہے کہ اگر امریکہ پاکستان کے مفادات کو زک پہنچانے والے مطالبات کرے تو وزیراعظم نواز شریف امریکی قیادت کے سامنے پاکستانی قوم کا حقیقی موقف رکھیں اور پھر جب امریکی حکام کے بولنے کی باری آئے تو میاں صاحب اپنے ہیڈ فون کو آف کرکے آنکھیں موند لیں!میاں صاحب ! ایک بار ایسا کرکے تو دیکھیں، یہ قوم آپ کو اپنی آنکھوں کا تارہ بنالے گی۔جناب وزیراعظم ! میز پر مکا مار کر ’’مسٹر نواز!‘‘ کہنے والوں کے ساتھ ایک مرتبہ ’’ٹھوس‘‘ پاکستانی دبنگ لہجے میں بات تو کرکے دیکھیں، آپ قائد ملت ثانی بن جائیں گے!

---------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.