.

دوستی اور دشمنی کے کھیل

غازی صلاح الدین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے اپنی اب تک کی پوری زندگی ہندوستان اور امریکہ سے اپنے رشتوں کو نبھانے میں گزاری ہے اور یہ سفر دوستی اور دشمنی کی دھوپ چھائوں میں جاری ہے۔ آج کل یہ دونوں تعلق ایک طرح سے ہمارے اعصاب پر حاوی ہیں۔ پہلے ہندوستان میں ہندو انتہا پسندوں اور خاص طور پر شیوسینا نے نفرتوں کا الائو روشن کیا اور اس ہفتے وزیراعظم نواز شریف کے امریکہ کے دورے نے توقعات، مطالبات اور غلط فہمیوں کی پٹاری کھولی۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر خصوصی توجہ رہی۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان سے ہمارا خونی رشتہ ہے، اچھے اور برے، دونوں معنوں میں۔ پیچھے مڑکر دیکھیں تو تاریخ کی دھند میں دوستوں اور دشمنوں کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں ملک جنوبی ایشیا کی زنجیر میں بندھے ہیں۔ اس جغرافیائی قید سے آزادی تو ممکن نہیں ہے لیکن اپنی اپنی آزادی کی تکمیل کیلئے ابھی انہیں کئی زنجیروں کو توڑ نا اور کئی سرحدوں کو عبور کرنا ہے۔

1947ء کے بعد باقی دنیا کئی انقلابی تبدیلیوں سے گزر چکی ہے لیکن ہندوستان اور پاکستان ایک ہی ڈگر پر چلتے چلے جارہے ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی اختلافات بلکہ نفرتوں کی تپش میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ حالیہ واقعات ہندوستان میں مودی سرکار کے نظریاتی تعصب اور کٹرپن کا نتیجہ ہیں۔ وادی میں ایک مسلمان کو جس طرح قتل کیا گیا اور جس الزام پر ایک مشتعل ہجوم نے یہ جرم کیا اسے ہم ہندوستانی معاشرے میں پلنے والی مذہبی منافرت کی علامت کہہ سکتے ہیں۔ یو پی کا وہ گائوں دہلی سے زیادہ دور نہیں ہے۔ الزام یہ تھا کہ اس شخص محمداخلاق نے اور اس کے گھر والوں نے بقرعید پر گائے کا گوشت کھایا۔ اب اقلیتوں سے متعلق ہندوستان کے اپنے قومی کمیشن نے تحقیقات کے بعد یہ کہا ہے کہ محمداخلاق کے گھر پر حملہ ایک سازش کا نتیجہ تھا اور اس کے گھر میں گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا گوشت تھا۔ گائے کے گوشت پر پابندی کا مسئلہ ہندوستان میں عدم برداشت اور انتہا پسندی کی تازہ لہر کا مظہر ہے۔

صورتحال اتنی تشویشناک ہے کہ ہندوستان کے کئی مایہ ناز ادیبوں اور دانشوروں نے احتجاج کے طور پر اپنے سرکاری اعزازات واپس کردیئے ہیں۔جو نام ہمارے لئے بہت شناسا ہے وہ نین تاراسہگل کا ہے جو نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت کی بیٹی ہیں۔ وہ ایک معروف ناول نگار ہیں اور انگریزی میں لکھتی ہیں۔ اسی سال فروری کے مہینے میں کراچی میں جو سالانہ ادبی میلہ منعقد ہوا تھا اس میں نین تارا سہگل نے ایک خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔ اپنی تقریر میں انہوں نے اس دکھ کا اظہار کیا تھا کہ ہمارے ملکوں میں ادیبوں اور فنکاروں کی آزادی محدود ہوتی جارہی ہے اور مذہبی اور تہذیبی عدم برداشت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

آپ شاید اندازہ لگاسکیں کہ وہ کتنی جذباتی ہوگئی تھیں۔ انہوں نے اردو سے اپنے خاندان کی محبت کا ذکر کیا تھا اور یہ کہا تھاکہ ان کی اپنی تہذیبی شناخت میں اسلام، عیسائیت، ہندومت، بدھ مت اور لادینیت کے عناصر شامل ہیں۔ گویا شناخت کا مسئلہ کوئی آسان بات نہیں ہے۔ جنوبی ایشیا میں صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ نسلی، لسانی، فرقہ وارانہ اور ذات کی شناخت نے اکثر تشدد کو ابھارا ہے۔ ممبئی میں پاکستان سے جانے والے معزز مہمانوں کے خلاف شیوسینا کے غنڈوں کے احتجاج کی نوعیت مختلف ہے۔ اس کا ایک تعلق مودی سرکار کی مذہبی عدم برداشت سے ضرور ہے لیکن پاکستان دشمنی کے علاوہ بھی ہندوستان ان دنوں انسانی حقوق اور جمہوری آزادیوں کے ضمن میں ایک خلفشار میں مبتلا ہے۔ ہریانہ میں جس طرح اسی ہفتے نچلی ذات کے دو بچے زندہ جلادیئے گئے اسے ہم ہندوستان کی تہذیب اور سیاست کا بنیادی الجھائو کہہ سکتے ہیں۔ لیکن ان تمام باتوںکے باوجود، دونوں ملکوں کے درمیان امن اور دوستانہ نہیں تو کم از کم شریفانہ تعلقات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔ اس وقت ضرور ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہوگئی ہے لیکن ان دو ملکوں کی کہانی ہی یہ ہے کہ درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے پھر کم ہوجاتا ہے اور پھر بڑھ جاتا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان اگر کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑے ہیں تو امریکہ دنیا کی دوسری طرف سمندروں کے اس پار ایک ایسا ملک ہے جو ہمیں بہت اچھا لگتا ہے اور جس کے عزائم کے بارے میں ہم بہت پریشان بھی رہتے ہیں۔ ہندوستان کے بعد یہ دوسرا ملک ہے جس سے ہمارے تعلقات جذباتی نوعیت کے ہیں۔ تارکین وطن کیلئے امریکہ سے زیادہ طاقتور مقناطیسی کوئی دوسرا ملک نہیں ہوسکتا۔یہ ایک ایسا ملک ہے جس میں دنیاکے تمام ملکوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد آباد ہیں۔ حالیہ دہائیوں میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے البتہ نائن الیون کے بعد کچھ مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ ہمارے متوسط طبقے میں بے شمار خاندان ایسے ہیں جن کا کوئی نہ کوئی فرد امریکہ کی شہریت اختیار کرچکا ہے۔ یوں امریکہ سے ہمارا ایک مسلسل رابطہ قائم ہے، ویسے بھی امریکہ کئی طرح سے ہماری زندگیوں میں شامل ہے۔

لیکن سفارتی سطح پر یہ رشتہ اعتماد سے زیادہ ضرورت یا مجبوری پر قائم ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے دورے نے یہ موقع فراہم کیا ہے کہ ہم اس رشتے کے مختلف پہلوئوں پر غور کرسکیں۔ کسی پاکستانی رہنما کا کسی بھی بیرونی ملک کا دورہ اتنی توجہ حاصل نہیں کرتا جتنا امریکہ کا دورہ۔ اس دورے میں ہندوستان سے ہمارے تعلقات کی بازگشت بھی سنی جاسکتی ہے۔ ایسے دوروں کا ایک بڑا مقصد اپنے ملک کے عوام کو متاثر کرنا بھی ہوتا ہے۔ اسی لئے سفارت کاری میں جو سخت مقام آتے ہیں ان کی خبر عام لوگوں تک کم پہنچتی ہے۔ موجودہ حالات کسی بھی دوملکوں کے باہمی تعلقات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ مشرقی وسطیٰ میں ایسی آگ بھڑک رہی ہے جس نے کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ شام میں روس کی فوجی مداخلت نے عالمی منظر کو تبدیل کردیا ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس نے پہلی بارعالمی سیاست کی بساط پر ایک بڑی چال چلی ہے۔ داعش کے خطرے نے نئے معاہدوں اور مفاہمتوں کو جنم دیا ہے۔ یورپ پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی یورش سے پریشان ہے۔ یمن کی خانہ جنگی پر کسی کی نظر نہیں ہے۔ غرض وقت کروٹ لیتا دکھائی دے رہا ہے اور یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ ان حالات میں توازن کب اور کیسے پیدا ہوگا۔ پاکستان میں حالات قدرے بہتر ہیں۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جاری آپریشن کے مثبت نتائج واضح ہیں۔ کراچی اب اتنا غیرمحفوظ نہیں جتنا پچھلے سال تھا۔ تو کیا اس پس منظر میں ہم دنیا میں اپنے مقام اور کردار سے مطمئن ہیں؟ کیا خارجہ تعلقات کے میدان کار زار میں ہمارا پرچم بلند ہے، کیا امن اور ترقی کی راہ پر ہماری پیش قدمی شکوک اور خطرات سے بالا تر ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، کئی مسائل کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہندوستان اور امریکہ سے ہمارے تعلقات کس نہج پر آگے بڑھتے ہیں۔

آپ کہیں گے کہ خارجہ پالیسی کا ذکر ہو اور چین کا حوالہ نہ ہو۔ یہ کیسے ممکن ہے۔ چین ہی تو ایک ایسا ملک ہے جسے ہم اپنا پکا دوست کہتے ہیں لیکن چین سے ہمارا کوئی تہذیبی یا جذباتی تعلق نہیں ہے۔ اس کا نظام حکمرانی بھی الگ ہے۔ ہاں، ہماری معیشت کا مستقبل چین سے ہمارے تعلق پر بڑی حد تک منحصر ہے لیکن چین ہمارے لئے ایک سبق بھی ہے۔ اور وہ یہ کہ ہم اپنی سرحدوں کو پرامن بنائیں اور اپنی معاشی ترقی کو اپنا پہلا ہدف جانیں۔ اس سبق کو اپنانے کیلئے ہمیں اپنی صفوں کو بھی درست کرنا پڑے گا اور تعلیم، صحت اور انسانی وسائل کی ترقی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ یہ کام ہمارے لئے بہت مشکل یوں ہے کہ سماجی سطح پر ہماری پسماندگی بھی بہت نمایاں ہے۔ ہندوستان کا حال بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ انتہا پسندی اور نفرت اسی پسماندگی کا ایک اظہار ہیں اور فی الحال یہی بے پروائی ہمیں مصروف رکھتی ہے اور ہمارا دل بہلاتی ہے۔ یعنی دونوں طرف ہے آگ برابرلگی ہوئی۔
--------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ جنگ
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.