.

قومی ایکشن پلان کےلئے امریکی حمایت کا اعلامیہ

اسد اللہ غالب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اپنے وزیر اعظم کے ہاتھ میں پھر پرچی دیکھ کر سخت شرمندگی ہوئی۔ پچھلے سال بھی وہ پرچیاں دیکھ دیکھ کر اوبامہ سے بات کرتے رہے، اس مرتبہ لوگوں نے ایک ہی خواہش کااظہار کیا کہ بھلے وزیر اعظم گونگے بن کر بیٹھے رہیں اور صرف سر ہلانے پر اکتفا کریں مگر پرچی والا کام نہ کریں، اگر وزیر اعظم کو اظہار خیال میں کوئی دقت ہے تو وہ اردو کا سہارا لیں۔ چینی اور جاپانی وزیراعظم دوروں پر جاتے ہیں یا اپنے ہی ملک میں کسی بیرونی مہمان سے ملتے ہیںتو وہ اپنی زبان میں بات کرتے ہیں اور ترجمان دونوں طرف کی گفتگو کا ترجمہ کرتا جاتا ہے۔وزیر اعظم اپنے منصب پر تیسری مرتبہ فائز ہوئے ہیں مگر وہ جنرل جیلانی کے وزیر خزانہ کے دور سے حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس قدر طویل حکومتی تجربہ رکھنے والا شخص زبان و بیان پر قدرت نہ رکھتا ہو تو یہ عجیب سی بات لگتی ہے۔ لوگوں کو یاد ہے کہ وزیر اعظم گیلانی امریکہ کے دورے پر گئے تو کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر انہوں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور سوالوں کے جواب دیئے، ان کی انگریزی بھی ٹوٹی پھوٹی سی تھی۔ زرداری صاحب بھی امریکہ جاتے رہے، وہ بھی انگریزی میں بات کر ہی پاتے تھے۔

نواز اوبامہ ملاقات کے بعد جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا، یہ جواب مضمون زیادہ لگتا ہے اور اعلامیہ کم۔ کوئی تین ہزار دو سو پچیس الفاظ ہیں اور دنیا کاکوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا ذکراس اعلامیے میںموجود نہ ہو۔اسے پڑھنے کے بعد یوںلگتا ہے کہ دنیا کوپاکستان اور امریکہ ہی چلا رہے ہیں۔

ہم آج کل ایک کوریڈور کا اٹھتے بیٹھتے ذکر کرتے ہیں ، یہ پاک چین اقتصادی کوریڈور ہے مگر اس اعلامیے سے انکشاف ہوا کہ ایک پاک امریکہ نالج کوریڈور بھی چل رہا ہے۔میںنے جیسا کہا کہ دنیا کے ہر مسئلے کا اعلامیے میں ذکر مبارک موجود ہے، اور اگر نہیں ہے توپاک چین اقتصادی کوریڈور کا نہیںاور ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا نہیں۔

آیئے شروع سے شروع کرتے ہیں، اس اعلامیے میں نائن الیون کے بعد سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستان کے تعاون کو سراہا گیا ہے۔ اعلامیے میں بڑی ڈھٹائی سے کہا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی ہوم لینڈ کو محفوظ اور پر امن بنانے کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں، ان کی ستائش کی جاتی ہے۔ ا س سے دو باتیں ثابت ہوئیں ، ایک تو جنرل مشرف نے نصف شب کی فون کال پر کسی سے مشورہ کئے بغیر امریکہ کا حلیف بننے کا جو فیصلہ کیا تھا،ا س پر نواز شریف اور ان کے کیمپ کو کوئی اعتراض نہیں۔ ہم لاکھ کہتے رہیں کہ ہم امریکی جنگ نہیں لڑ رہے ، اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں تو دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے، امریکہ ہر گزیہ نہیں سمجھتا اورا س اعلامیے پر نواز شریف کو بھی کوئی اعتراض نہیں، اسلئے وہ بھی ایسا نہیں سمجھتے۔

اعلامیے میں بھارت کا ذکر تین مرتبہ ہے، کشمیر کا ایک مرتبہ اور داعش اور لشکر طیبہ کا بھی ذکر ہے۔ یہ کہناا ور سمجھنا غلط ہے کہ امریکہ نے مسئلہ کشمیر کے حل میں تعاون کی حامی بھری ہے، نہیں، ایسانہیں، امریکہ نے وعظ کیا ہے کہ یہ مسئلہ دو طرفہ پر امن بات چیت سے حل کیا جائے اور اس ذیل میں بھارت اور پاکستان کے جو تحفظات ہیں، ان کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ عجیب بات ہے امریکہ کو بھارت کے تحفظات کاخیال کیوں آیا، یہ کوئی سہ فریقی ملاقات نہیں تھی، دوطرفہ تھی،کسی تیسرے اور غیر موجودفریق کے ساتھ امریکہ کی ہمدردی میرے خیال میں سفارتی آداب کے منافی ہے۔مگر اصل جھگڑا اس بات پر ہے کہ نواز شریف نے کس برتے پر بھارتی تحفظات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لشکر طیبہ کے خلاف کاروائی کا وعدہ کر لیا۔ لشکر طیبہ ایک کشمیری حریت پسند جماعت ہے۔ کنٹرول پار اس کے خلاف ہم کیسے کاروائی کریں گے ۔

ایک زمانے میں یہ پاکستان میں بھی سرگرم رہی،مگر اس پر پابندی عائد کر دی گئی، اس جماعت کی قیادت نے تعلیمی، دینی اور فلاحی کاموں کی طرف اپنی توجہ مرکوز کر دی۔اب اگر نواز شریف کسی زمانہ قدیم کی پاکستانی لشکر طیبہ کے خلاف کاروائی کرتے ہیں تو یہ گھر میں فساد ڈالنے والی بات ہے۔ہم نے لائن آف کنٹرول پر فوج متعین کر رکھی ہے، بھارت نے ہم سے زیادہ فوج لگا رکھی ہے اور در اندازی کو روکنے کے لئے خاردار باڑ بھی نصب کی جا چکی تو پھر پاکستان کی پرانی اور پابندیوں کی شکار جماعت یا اس کی قیادت کے خلاف کاروائی کا وعدہ چہ معنی دارد! کہا جاسکتا ہے کہ ا قوام متحدہ نے اس پر پابندی لگائی ہے مگر جو اقوم متحدہ کشمیر پر اپنی کئی قراردادوں پر عمل کروانے کی پابند دکھائی نہیں دیتی،ا س کے کسی اعلامئے کو ہم خاطر میں کیوں لائیں۔ کل کو اقوام متحدہ پورے پاکستان کو دہشت قرار دے تو کیا ہم اس کا یہ فیصلہ قبول کر لیں گے اور ڈر کے مارے پاکستان سے ہجرت کر جائیں گے۔ اقوام متحدہ نے لیبیا اور ایران کے خلاف پابندیاں عائد کر کے دیکھ لیا ، یہ قومیں مر نہیں گئیں اور یہ ملک دنیا کے نقشے پر اصلی حالت میں موجود ہیں۔

لشکر طیبہ کے بارے میں وعدے وعید کر کے نواز شریف نے بھارت کا دباﺅ قبول کرنے کا تاثر دیا ہے، کجا دنیا میں شور ہے کہ بھارتی را دہشت گرد ہے، بھارت میں انتہا پسندی زوروں پر ہے، بھارتی حکام کہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کریں گے اور ہم نے بظاہر بھارتی دہشت گردی کے ثبوت بھی امریکہ کے حوالے کئے مگر ان کی کوئی پرچھائیں تک ا س اعلامئے میں نظر نہیں آتی۔الٹا ہمارے وزیر اعظم نے لشکر طیبہ کے خلاف کاروائی کا وعدہ کر کے بھارتی پراپیگنڈے کوقبول کر لیا ہے۔یوں لگتاہے کہ یہ اعلامیہ مودی اوبامہ ملاقات کے بعد جاری ہوا ہے۔ مزہ تو تب تھا جب نواز شریف اس اعلامئے میں امریکہ کی زبان سے را کی دہشت گردی کی مذمت کرواتے اور اسے لگام دینے پر زور دیا جاتا۔

اس دورے سے قبل جنرل ناصر جنجوعہ کو مشیر بنانے کا اعلان کیا گیا ، اس سے لوگوں نے سمجھا کہ دفاعی معاملات پر اوبامہ اور ان کی حکومت کے ساتھ بات چیت میں یہ صاحب قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے مگر ان کا نوٹی فیکیشن جاری نہ کیا گیا اور وفد میں شامل باقی حضرات کو کیا پڑی تھی کہ وہ امریکی لب و لہجے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ا ور قومی مفادات کو مقدم رکھتے۔

ہر چند امریکی میڈیا نے بھر پور شرارت کی کہ عین دورے کے موقع پر جنرل راحیل شریف کے قصیدے پڑھے جانے لگے۔ اس سے تاثر یہ دیا گیا کہ پاکستان میں نوازشریف کی پوزیشن کمزور ہے۔اوبامہ نے پاکستان میں جمہوریت کو تقویت دینے میںنواز شریف کے کردار کی ستائش کی مگر امریکیوں کو سمجھنا آسان نہیںہے،، جونیجو، بے نظیر اور گیلانی کو بھی اسی طرح سے تھپکی دی گئی تھی، مگر نتیجہ کیا نکلا، صرف امریکی حکومت کے سرٹیفیکیٹ سے حکومت چلانا مشکل ہے ، حکومت چلانے کے لئے اسے چلانے کا ہنر آنا چاہئے، خدا لگتی کہئے کہ کیا حکومت نے اس ہنر کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان میں ایک بکھیڑا یہ آن پڑا ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت میں دوری آ چکی ہے اور اس کی وجہ وہ بے لاگ آپریشن ہے جو ضرب عضب کے نام سے شروع ہوا، پہلے ہتھیار بند دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا اور اب ان کے سرپرستوں، سہولت کاروںا ور سرمایہ کاروں کی جان شکنجے میں ہے۔ اعلامیہ پھر پڑھ لیجئے، اوبامہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری کاروائیوں کی کھلی حمائت کی ہے۔ باقی ،آپ خود بھی سمجھ دار ہیں۔ کہیں یہ اعلامیہ وال اسٹریٹ جرنل کے دفتر سے تو ٹائپ نہیں کروایا گیا.

---------------------------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.