.

وزیراعظم کا دورہ واشنگٹن۔ کیا کھویا کیا پایا؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دورہ واشنگٹن میں کیا کھویا؟ کیا اور کیسے پایا؟ اس بارے میں نواز شریف کے ذاتی اور سیاسی مداح اور مخالفین اپنی اپنی رائے کے باوجود جاننے کے خواہشمند ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے موقف میں حسب ذائقہ و ضرورت مزید اضافہ کر لیں حالانکہ حقیقت اور قومی ضرورت کا تقاضا ہے کہ اس دورہ واشنگٹن کو جذباتی و سیاسی وابستگی کی رنگین عینک کی بجائے جنوبی ایشیا، مسلم دنیا اور عالمی صورتحال کے ساتھ ساتھ اپنی قومی مجبوریوں کے تناظر میں منطقی تجزیہ کر کے رائے قائم کی جائے۔ حمایت یا مخالفت کے دائرے سے نکل کر زمینی حقائق اور حدود کو سمجھ کر عملی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرنا پاکستان کے ہر شہری کی ضرورت ہے۔ صورتحال کے جس تناظر میں وزیراعظم نے واشنگٹن کا دورہ کیا تو وہ کچھ یوں تھا۔

(1) امریکی صدر اوباما افغانستان سے ایک لاکھ سے زائد امریکی فوجیوں کو واپس لے جا چکے۔ 2016ء میں مکمل فوجی انخلا کا اعلان اور اتحادی پاکستان کو اب اس کے حال پر چھوڑ کر امریکہ بھارت کو ایٹمی ڈیل اور دیگر ترجیحی مراعات دے کر جنوبی ایشیا میں ایک برتر طاقت بنانے میں ہر طرح کا دفاعی، معاشی اور سیاسی تعاون کر رہا ہے۔

پاک بھارت کشیدگی پر امریکی تشویش کا اظہار مگر کشمیر سمیت دیگر تنازعوں میں دو طرفہ حل کی تاکید پر مبنی پالیسی۔ روایتی جنگی ہتھیاروں اور فوج کی تعداد میں اگر بھارت پاکستان سے بہت زیادہ آگے ہے تو کوئی تشویش نہیں اگر بھارت ایٹمی میدان میں اپنا کام وسیع کرے تو اس کی معاونت اور مراعات میں واشنگٹن آگے آگے ہے لیکن بھارت کے ’’کولڈ اسٹارٹ‘‘ کے جواب میں پاکستان اگر ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار بنا لے تو بھارت کی پریشانی کم کرنے کیلئے واشنگٹن نیو کلیئر کنٹرول اور دیگر اقدامات کیلئے پاکستان پر دبائو ڈالتا ہے۔

( ) نیٹو، افغان فورسز اور امریکی فوج مل کر بھی افغانستان میں امن قائم نہ کر سکیں۔ ( 14) سال اور اربوں ڈالرز کے خرچ کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہ ہو سکا مگر اسی مقصد کیلئے پاکستان پر ’’ڈو مور‘‘ کا دبائو، طالبان کی حمایت کے الزامات اور مطالبات کی بھرمار، ریمنڈ ڈیوس، سلالہ پر پاک امریکہ کشیدگی کے دیگر واقعات کا بوجھ اضافی تھا۔ جب وزیراعظم کو دورہ واشنگٹن کی دعوت دی گئی تھی تو تیور اچھے نہ تھے۔ بھارت کو بڑھاوا اور سابق اتحادی پاکستان کو بھارتی برتری کی جانب ترغیب دینا مقصود تھا لیکن افغانستان میں ’’فائٹنگ سیزن‘‘ کے آغاز کے ساتھ ہی طالبان نے قندوز کے شہر پر پیش قدمی اور کنٹرول حاصل کر کے سب کو چونکا دیا۔ بھارت امریکہ اتحاد کے باوجود افغانستان میں ایک بار پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت آن پڑی لہٰذا واشنگٹن کے موڈ اور مقاصد میں تبدیلی آ گئی۔ پاکستان کے بغیر افغانستان کے مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہے۔

امریکہ میں پاکستان پر مسلسل تنقید و مخالفت کرنے والے بھارتی نژاد صحافی فرید ذکریا کی تحریر کا عنوان بھی ہو گیا کہ افغان مسئلے میں پاکستان کا کردار لازمی ضرورت ہے۔ مختصر یہ کہ نواز شریف کے دورئہ امریکہ کا تناظر کوئی دوستانہ نہیں تھا۔ کابل کی اشرف غنی حکومت بھی اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا رہی تھی۔ تاہم افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال اور افغانستان میں صدر اوباما کی حکمت عملی کی ناکامیاں وہ اہم عوامل تھیں جنہوں نے نواز شریف کے دورئہ واشنگٹن میں پاکستان کیلئے کچھ مثبت اجزا شامل کر دیئے۔
چند روزہ دورئہ امریکہ اور مذاکرات سے عالمی سپر پاور امریکہ کو ’’فتح‘‘ کر کے اپنے مطالبات منوا لینے کی توقعات لگانا محض خود فریبی ہے عملی حقیقت نہیں۔ بہرحال وزیراعظم نواز شریف کے وہائٹ ہائوس کے تمام دورے میں نے بغور دیکھے ہیں اور ماضی میں اچھے پہلوئوں کی طرح کمزور پہلوئوں کی نشاندہی بھی کی ہے۔ لیکن مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ وزیراعظم کا یہ دورئہ واشنگٹن زیادہ مشکل حالات میں ہوا مگر نواز شریف نے ماضی کی نسبت اس مرتبہ بڑے اعتماد، وقار اور واضح انداز میں پاکستان کا موقف بیان کیا ہے۔ اور امریکیوں نے اس موقف کو سنا ہے۔ گو کہ یو ایس اے چیمبر سے خطاب و لنچ ،آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقاتوں جیسی مصروفیات بھی تھیں۔ مگر دونوں ملکوں کیلئے اس دورے کا مرکزی نقطہ سیکورٹی ہی تھا۔ پاکستان کو اپنے خطے کے حالات اور بھارتی اشتعال انگیزیوں کی وجہ سے اپنی ’’سیکورٹی‘‘ کی تلاش و ضرورت ہے تو امریکہ کو افغانستان میں اپنے مفادات کی حفاظت کی ضرورت ہے۔

انسداد دہشت گردی بھی دراصل سیکورٹی کی ایک ضرورت ٹھہری۔ انہوں نے اور ان کے معاونین نے بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بھارت سے لاحق خطرات کو روکنے کیلئے پاکستان کی ضرورت قرار دیا۔ گوکہ وزیراعظم نے امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی فارن ریلیشن کمیٹیوں کے چیئرمینوں اور ممبران سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں بھارتی لابی کے حامی اراکین بھی تھے مگر نواز شریف نے ہر جگہ پاک بھارت کشیدگی کے بارے میں اپنا موقف بیان کیا۔ اسی طرح پاکستان کے ایٹمی ڈیٹرنس کو خطے میں استحکام کا باعث قرار دینے کا موقف اختیار کرتے ہوئے ایٹمی کنٹرول کے بارے میں پاکستان کے ذمہ دارانہ رویے اور اقدامات کے ریکارڈ کو دلیل کے طور پر پیش کیا۔

نواز شریف روس، چین یا فرانس کے نمائندہ نہیں تھے وہ مسائل و مشکلات کے شکار آج کے پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے ۔انہوں نے موثر طریقے سے بھارت کے ساتھ تنازع کشمیر کا ذکر کیا،شملہ معاہدے کے تحت دو طرفہ بنیادوں پرمسائل کے حل میں ناکامی کا بھی ذکر کیا۔ جن امور کا ایجنڈا لے کر آئے تھے ان کو امریکیوں کے سامنے لانے میں اپنی ذمہ داری ادا کی۔ بھارتی لابی بڑے جارحانہ انداز میں وزیراعظم کا دورہ مانیٹر کرتی رہی لیکن نواز شریف اور ان کے معاونین اعتماد اور ثابت قدمی سے مصروف کار رہے۔ 2500 الفاظ پر مشتمل مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کے تنازع کا ذکر اور کسی ایٹمی کنٹرول یا ڈیل کا نہ ہونا بھی قابل توجہ بات ہے۔ اس مشترکہ اعلامیے کی تیاری میں شریک پاکستانی ٹیم مبارکباد کے لائق ہے، کسی کو اعتراض ہو تو مشترکہ اعلامیے کی سطور اور بین السطور پڑھ کر فیصلہ کر لے۔ گوکہ چین کے ساتھ ہمارے رشتے مزید مضبوط ہو رہے ہیں مگر امریکہ کو بھی انگیج رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ ڈیموکریٹ صدر اوباما کی باقی مدت صدارت صرف ایک سال رہ گئی ہے۔ انتخابات کے بعد نیا صدر اور نئی امریکی کانگریس ہی پالیسی سازی اور فیصلے کرے گی لہٰذا ایک ’’عضو معطل‘‘ صدر کے وعدے کیسے پورے ہوں گے؟

وزیراعظم کے دورہ واشنگٹن پر رائے قائم کرنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ وزیراعظم نے جن امور کو امریکیوں کے سامنے اٹھانے کا اعلان کیا تھا وہ بیان کئے؟ تو جواب ہے کہ کشمیر، ایٹمی امور، بھارت سے کشیدگی کے امور امریکیوں کے سامنے پاکستانی موقف کے ساتھ پیش کئے اور واضح طور پر کئے اور اس بار امریکیوں نے پاکستانی موقف سنا مگر اس پر عمل کیا اور کب؟ یہ عالمی پاور ہی بتائے گی۔ پاکستانی وفد نے امریکیوں سے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ اگر دو ممالک شملہ معاہدے کے تحت 45 سال تک دو طرفہ بنیادوں پر کشمیر اور دیگر مسائل حل کرنے میں ناکام رہیں تو پھر ایسا مسئلہ عالمی فورم پر حل کیلئے لانا چاہئے۔ وزیراعظم اور ان کے وفد نے پاکستانی موقف کو بااعتماد، مؤثر اور باوقار انداز میں پیش کیا ۔ البتہ افغانستان میں پاکستان کی ضرورت پڑنے سے امریکی رویے میں لچک پیدا ہوئی اور نواز شریف کے موقف کو تحمل سے سنا گیا۔

-----------------------------
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگا رکی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.