.

پاکستان اور عالمی برادری

ڈاکٹر رسول بخش رئیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جب بھی ہمارے وزیر اعظم کسی اہم ملک کے دورے پر جاتے ہیں تو میڈیا اور سیاسی گفتگو میں ایک سوال ہی غالب دکھائی دیتا ہے کہ ہمیں اس ملک سے کس طرح اور کتنی مدد ملنے کی توقع ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کے حالیہ امریکی دورے کے دوران بھی یہی سوال زیر گردش رہا۔ مین نے یہ کبھی نہیں سنا کہ کسی نے سوال اٹھایا ہو کہ پاکستان اس ملک کو کیا دینے جا رہا ہے۔ ہم نے پاکستان کو ایک مسلسم کلائنٹ، کشکول بردار، مدد کا خواہاں اور زیادہ سے زیادہ قرضوں کی تلاش میں سرگرداں ایک ایسا ملک بنا دیا ہے جسے ہمہ وقت غیر ملکی کیش کی ضرورت درپیش رہتی ہے۔

اس افسوسناک صورتحال کی وجہ یہ نہیں کہ ہم کوئی غریب یا وسائل سے محروم قحط زدہ ملک ہیں، بلکہ اسکی وجہ ناقص پالیسی سازی ، بدعنوانی ، مشکل فیصلے کرنے سے گریز، نااہلی اور معیشت اور وسائل کی غلط منصوبہ بندی ہیں۔ ملکی اشرافیہ کو غیر ملکی دولت چاہئے لیکن ستم یہ ہے کہ ملنے والے قرض یا امداد کا ایک بڑا حصہ انکے ہاتھوں سے ہوتا ہوا دوبارہ بیرون ممالک کے بینک اکاؤنٹس میں چلا جاتا ہے جبکہ ملک قرض کی دلدل میں مزید دھنس چکا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ کو استثنا ہو لیکن مجموعی طور پر حکمران اشرافیہ کا طرز عمل یہی رہا ہے۔ ملک کو اس حوالے سے ایک سنگین گھاؤ اسوقت برداشت کرنا پڑا جب 2007ء میں قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) بنا کر اشرافیہ نے جمہوریت کے تسلسل کے نام ایک دوسرے کی لوٹ مار کو معاف کر دیا۔ جمہوریت کے نام پر ایسے شب خون کی مثال شاید ہی کسی ملک میں مل سکے۔

اگرچہ دنیا میں ہمارے زیادہ تر دوست جیسا کہ چین، اسلامی دنیا اور مغربی ممالک ہمیں اپنے وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے ترقی کرنے کا موقع دیتے ہیں، لیکن ہمارا حکمران طبقہ بمشکل ہی اس راہ پر قدم رکھتا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے لیے ایماندار اور باصلاحیت افراد کی ضرورت ہے، لیکن شخصیت پرستی کی سیاست میں ایسے افراد کا آگے آنا دشوار ہے۔ ہماری روایتی اشرافیہ تو چین کی کمیونسٹ پارٹی کی طرح منظم اور نہ ہی مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریتوں کی طرح لچک دار ہے۔

چین میں بدعنوانی کی بےرحمانہ طریقے سے گردن زنی ہوتی ہے تو مغربی جمہوریتوں کا انتخابی نظام بھی بدعنوان طبقے کو ایوانوں سے دور رکھتا ہے۔ تاہم ہمارے ہاں اشرافیہ جانتی ہے کہ نہ تو قانون انکا کچھ بگاڑ سکتا ہے اور نہ ہی ووٹ، چنانچہ وہ جو کچھ بھی کر لیں، انکا بال بھی بیکا نہ ہوگا۔، وہ اقتدار کو اپنی مٹھی میں دبائے رکھنے کے لیے بہت سی چالیں جانتے ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم احتساب کے اداروں اور قوانین کو مفلوج بنائے رکھنے کا فن ہے۔ وہ احتساب کی تلوار کو سیاسی انتقام کے پتھر پر مار کر کند کر دیتے ہیں۔ حکمران اشرافیہ جانتی ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ انکے اقتدار کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں من مانی کی اجازت نہیں دیں گے، اس لیے جہاں تک بس چلتا ہے ، وہ رائے دہندگان کو تعلیم سے دور رکھنے کے حربے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اندران سندھ اور بلوچستان مٰں اس پالیسی کی افسوسناک کارفرمائی دیکھی جا سکتی ہے جہاں نسل در نسل طاقتور خاندان سے وفاداری کو ہی جمہوریت قرار دیا جاتا ہے۔ آخر میں انہوں نے سرکاری اداروں، جیسا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر محکموں کو اپنے ذاتی معاونین بنانے کا گر سیکھ لیا ہے۔

جو لوگ ان حکمران گروہوں کو اندر سے اچھی طرح جانتے ہیں، وہ آپ کو بتائیں گے کہ انکا درحقیقت پاکستان میں کچھ نہیں ہے۔ وہ یہاں صرف حکومت کرنے، لوٹ مار کرنے اور اپنجی تجوریاں بھرنے آتے ہیں اور کسی اور کوباری دے کر چلے جاتے ہیں۔ کچھ دیر بعد عوام کی یادداشت کو چکما دے کر وہ پھر جمہوریت کے نام پر واپس آ جاتے ہیں اور جہاں سے باری چھوڑی تھی، سلسلہ وہیں سے جوڑ لیتے ہیں۔ اتنی دیر مین دوسرا گروہ سستانے کے لیے باہر چلا جاتا ہے۔ دنیا کی کوئی ریاست جمہوریت یا کسی بھی بہانے سے عوامی وسائل کی لوٹ مار کی اجازت نہیں دیتی۔ جرائم ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن حکومتوں کی طرف سے وسائل کی اس پیمانے پر لوٹ مار کی ہم ایک نادر مثال ہیں۔ ستإ ظریفی یہ کہ پاکستان کوئی بنانا رپبلک نہیں، یہ محنتی اور باصلاحیت افراد، قدرتی وسائل سے مالامال اور ایٹمی ٹیکنالوجی اور مضبوط دفاع رکھنے والا ایک توانا ملک ہے تو پھر ایوانوں میں قحط الرجال کیوں ؟

اس وقت عالمی برادری کو پاکستان کے حوالے سے تین معاملات پر تشویش ہے، :

اسکی جوہری صلاحیت، آبادی کا بلا روک ٹوک پھیلاؤ اور مذہبی بنیاد پرستی۔ وہ جغرافیائی اہمیت اور طاقتور فوج رکھنے والے پاکستان کو کشمکش اور افراتفری کا شکار ہو کر کمزور اور پسماندہ نہیں دیکھنا چاہتے، چنانچہ وہ مقدور بھر ہماری مدد کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ تاہم اصل سوال اپنی جگہ پر، کی اہماری پرورش کی ذمہ داری عالمی برادری پر عائد ہوتی ہے؟ کیا ہمیں اپنے قومی مفاد کا کوئی احساس نہیں؟ یا کیا ہم اپنی نسلوں کے لیے بنیاد پرستی سے زہر ناک اور افراتفری کے کانٹوں سے لہو لہان پاکستان چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟ کیا ہمارے سامنے عراق، مصر، شام ، لیبیا اور افغانستان کی مثال موجود نہیں کہ ریساتی اداروں کے زوال، جمہوریت کی نفی ، مطلق العنانی اور لوٹ مار کی آخری منزل کیا ہے؟

پاکستانی رہنما اور انکے میڈیا میں چہکنے والے ترجمان اپنی کمزوری اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے غیر ملکی دشمن طاقتوں کی طرف سے کی گئی سازش کی تھیوریاں پھیلاتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بیرونی طاقتوں کی طرف سے پاکستان کو ناکام کرنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حقیقی یا فرضی دشمن تو ہر ریاست کے ہوتے ہیں لیکن یہ قیادت کا فرض ہے کہ وہ ملک کو ناکام ہونے سے بچائے ورنہ اس کے ہاتھ اقتدار دینے کا کیا مطلب؟ ایک جدید ریاست کوئی پرندوں کا غول نہیں ہوتا جا ہلکا سا کھٹکا ہونے سے ڈر کر اڑ جائے، ہم ایک توانا قوم اور طاقتور ملک ہیں۔ ہمیں بس یہ تسلیم کرنا ہے کہ ہمارا اصل دشمن کوئی بیرونی طاقت نہیں۔ وہ ہمارے درمیان ہی موجود ہے۔ افسوس ہمارے موجودہ حکمران طبقے دیگر ممالک کے حالات یا تاریخ سے سبق سیکھتے دکھائی نہیں دیتے ورنہ وہ جانتے کہ ہم ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہمارا مسئلہ منظم بدعنوانی ہے۔ ایسی بدعنوانی ہم نے گزشتہ تین دہائیوں سے نہیں دیکھی تھی۔ بدعنوان اشرافیہ کو جمہوریت کے نام پر حاصل استثنا ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اسی وجہ سے نہ ہمارا کشکول ٹوٹتا ہے اور نہ ہی سازش کی تھیوریاں ہماری جان چھوڑتی ہیں۔

--------------------------------------------

بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.