.

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں آیندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ری پبلکن پارٹی کے سرکردہ امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ، جو غیر محتاط بیانات دینے کی عادت کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتے ہیں، آج کل اپنی صدارتی مہم کے دوران کچھ زیادہ ہی متنازع بیانات دے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا مقصد میڈیا کی شہ سرخیوں میں زیادہ سے زیادہ جگہ پانا ہوتا ہے اور متنازع بیانات کی وجہ سے وہ میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ انتخابات میں ابھی بہت وقت باقی ہے۔

پچھلے ہفتے ٹرمپ کے ایک بیان نے خاصا طوفان کھڑا کر دیا جب انہوں نے کہا کہ اگر صدام حسین اور کرنل قذافی جیسے مطلق العنان آمر اقتدار میں ہوتے تو یہ دنیا ایک بہتر جگہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہ کوئی بیرونی طاقت کسی آمر کو نکال باہر کرے جیسا صدام حسین کے ساتھ ہوا، یا وہ اپنے عوام کے ہاتھوں مارا جائے جیسا قذافی کے ساتھ ہوا، یا پھر وہ طبعی موت مر جائے، ان کی رخصتی کا نتیجہ لازماً فساد اور افراتفری ہوتا ہے۔

آج کی دنیا میں ریاستیں یا تو حکومتوں سے چلائی جاتی ہیں یا انفرادی قیادتوں کے ذریعے۔ سوویت یونین کی تباہی کے بعد اس کا حکومتی ڈھانچا بدستور باقی رہا اور ایک نئے نعرے کے تحت کام کرتا رہا۔ لیکن جب 1990ء میں صومالیہ کے صدر سید بارے کو اندرونی بغاوت کے ذریعے ہٹا دیا گیا تو پوری حکومت گر پڑی اوراس کے بعد صومالیہ ابھی تک انتشار کی کیفیت میں ہے۔

شخصیت پرستی کا بت

اگر قذافی باغیوں کے ہاتھوں مرنے کے بجائے دل کا دورہ پڑنے سے مر جاتا تو کیا لیبیا اس کے بعد مستحکم اور متحد رہ پاتا؟ میں اس امکان کو یکسر مسترد کرتا ہوں کیونکہ حکومت کے چلنے کا تمام تر انحصار اس کی ذات واحد پر ہی تھا۔ صدام حسین کا معاملہ بھی یہی تھا بالخصوص اقوام متحدہ کی تیرہ سالہ پابندیوں کے بعد عراق بہت کمزور ہو چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب امریکی قیادت میں عالمی اتحادی افواج کا حملہ شروع ہوا تو صدام کی فوج ذیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکی۔

اگر صدام قدرتی موت مر جاتا تب بھی اس کی حکومت گر جاتی کیونکہ اس نے اعلیٰ حکومتی حلقے کی سرکردہ شخصیات میں سے بھی اکثر کو ختم کرا دیا تھا جن میں اس کا داماد حسین کامل اور حکمران پارٹی کے دیگر سرکردہ لیڈر شامل تھے۔ اسی طرح شام کے صدر حافظ الاسد کی موت کے بعد اس کی حکومت مسلسل کمزور ہوتی جا رہی تھی حتیّٰ کہ انقلاب برپا ہو گیا اور اس کے لیے 2011 میں بغاوت کا محض ایک نعرہ ہی کافی ثابت ہوا۔ اگر شامی عوام اس وقت بغاوت نہ کرتے تو کچھ عرصہ بعد ضرور اٹھ کھڑے ہوتے۔

جہاں تک یہ حقیقت ہے کہ مصر انقلاب کے بعد ابھی تک مستحکم ہے تو اس کی وجہ مصر کی فوج کا مکمل کنٹرول ہے جو ہمیشہ سے ریاست کی ریڑھ کی ہڈی طرح رہی ہے۔ سابق صدر حسنی مبارک محض ریاست کے صدر تھے مگر حقیقی لیڈر نہیں تھے۔

ریاستی پائیداری

وہی حکومتیں کامیابی سے چل پاتی ہیں جو پائیدار بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہیں خواہ وہ جمہوری ہوں یا آمرانہ۔ صدام اور قذافی کی حکومتوں کے بارے میں یہ رائے کسی کی بھی نہیں ہو سکتی۔ لیبیا کے انتشار کی وجہ یہ ہے کہ وہاں عوام کی نمائمندہ اور قابل قبول حکومت قائم نہ ہو سکی۔ یہی معاملہ عراق کا ہے جہاں امریکہ نے عراقی فوج، سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کو توڑتے وقت اندرونی رد عمل اور دیگر ممکنہ مشکلات کا اندازہ لگانے میں غلطی کی۔

اسی طرح یمن بھی علی عبداللہ صالح کی طویل آمریت کے زیر سایہ رہا اور تمام ادارے صرف ایک شخص کے تابع ہو کر رہ گئے۔ میری توقع ہے کہ باغیوں سے بر سرپیکار اتحادی افواج کو چاہیے کہ وہ تمام دھڑوں کو ساتھ لے کر ممکنہ سیاسی حل کی کوشش کریں جس میں بنیادی ڈھانچے کا بھی تحفظ کیا جائے ورنہ موجودہ انتشار باقی رہے گا۔ ریاستی ڈھانچے پر کھڑی ہونے والی حکومت اتنی کامیابی سے چل سکتی ہیں جبکہ شخصیات کے گرد گھومنے والی حکومتیں کمزور ہوتی ہیں خواہ ان کے بارے میں کیسی بھی خواہشات اور امیدیں رکھی جائیں۔
----------------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔ ان کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.