.

عذاب کا منجن بیچنے والے کذاب

محمد بلال غوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا کی ریاست صباح اپنے قدرتی حسن کی وجہ سے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے 30 مئی کو دس غیر ملکی سیاحوں کے ایک گروپ نے اس ریاست میں موجود دلکش پہاڑ کوہ کنابلو کو سر کیا اور جب وہ چوٹی پر پہنچے تو انہوں نے ایک دوسرے کو چیلنج کیا کہ ہمت ہے تو کپڑے اتار کر دکھائیں۔ اس وقت موسم بہت سرد تھا مگر ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی سب نے کپڑے اتار پھینکے اور زیر جامہ میں گروپ فوٹو بنایا۔ اس واقعہ کے چند دن بعد ہی 5 جون کو اس پہاڑی علاقے میں درمیانے درجے کا زلزلہ آیا ریکٹر اسکیل پر جس کی شدت 6.0 تھی۔ زلزلہ معمولی نوعیت کا تھا مگر خستہ اور کمزور عمارتیں گرنے سے 18 افراد ہلاک ہو گئے۔

مقامی افراد جو پہلے ہی غیر ملکی سیاحوں کی نامعقول حرکت پر مشتعل تھے، انہوں نے یقین کر لیا کہ یہ زلزلہ اسی برہنگی کی وجہ سے آیا ہے۔ ان کے خیال میں کوہ کنابلو بہت متبرک ہے اور اپنے عقیدے کے مطابق وہ ہر سال چڑھاوے کے طور پر وہاں جا کر جانور بھی قربان کرتے ہیں۔ معاملہ عدالت تک جا پہنچا۔ کچھ غیر ملکی سیاح تو وطن واپس جا چکے تھے مگر چار غیر ملکیوں کو زلزلہ برپا کرنے کے جرم میں 9 جون کوگرفتار کر لیا گیا۔ کسی نے یہ بھی نہ سوچا کہ اگر عذاب نازل ہونا تھا تو یہ قہر اس وقت ان سیاحوں پر ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑا؟ اور بعد میں بے گناہ مقامی افراد کیوں نشانہ بنے؟

بہر حال ایسے افراد کی دنیا بھر میں کوئی کمی نہیں جو قدرتی آفات کو عذاب الٰہی قرار دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس کا شافی اور کافی علاج محض استغفار اور گناہوں سے رجوع کرنا ہے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ جس دن ’’عقل کی امامت کا زمانہ‘‘ کے عنوان سے میرا کالم شائع ہوا جس میں حادثات کو قوانین قدرت کے ترازو میں تولنے کی گزارش کی گئی، اسی دن پاکستان میں خوفناک زلزلہ آیا۔ واعظان کرام جو پہلے ہی میرے کالم کو ایمان کی ناپختگی سے تعبیر کرتے ہوئے پند ونصاح کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے، زلزلہ آنے کے بعد تو یہ اصحاب یکسو ہو گئے کہ زمین کو جھنجھوڑنے کا مقصد مجھے اس کالم پر تنبیہ کرنا تھا۔ ایک صاحب نے تو صورتحال سے باقاعدہ لطف اٹھاتے ہوئے یہ بھی پوچھا کہ جب زلزلہ آیا تو آپ نے استغفار کیا یا استدلال سے کام لیا؟ میں نے محض یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ استغفار سے گناہ ضرور جھڑتے ہوں گے مگر زلزلے نہیں تھمتے۔

میں جب بیمار ہوتا ہوں تو مرض کی تشخیص کے لئے کسی اچھے معالج سے رجوع کرتا ہوں اور شاید آپ حضرات بھی یہی کرتے ہیں۔ اگر ان مبلغین کی بات پر بھروسہ کیا جائے تو تعجب ہے پروردگار نے مجھ ایسے گناہ گار کو سبق سکھانے کے لئے لگ بھگ ڈھائی سو بے گناہ افراد کو اپنے پاس بلا لیا جن کا کوئی قصور نہ تھا؟ جن علاقوں میں زلزلے سے تباہی ہوئی ہے وہاں تو صوم وصلوٰۃ کے پابند لوگ رہتے ہیں اور ترقی یافتہ شہروں کی نسبت وہاں کبائر کا ارتکاب بہت کم ہوتا ہے۔ تو پھر یہ کیسا عذاب ہے جس سے لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے شہر تو محفوظ رہے اور باجوڑ، دیر، چترال، شانگلہ اور بونیر جیسے علاقے تباہی کی زد میں آ گئے؟

بہرحال ایسے افراد دنیا بھر میں بکثرت موجود ہیں جو قدرتی آفات اور حادثات کو عذاب الٰہی کے طور پر دیکھتے ہیں اور تباہی و بربادی کے ہر واقع کے بعد توبہ و استغفار کی منادی دیتے ہیں۔ امریکہ میں سمندری طوفانوں کا سلسلہ شروع ہوا تو اہل چرچ نے متنبہ کیا کہ یہ سب سیاہ کاریوں اور بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے، اب بھی وقت ہے سُدھر جائو تاکہ تم پر عذاب نازل نہ ہو۔ مگر ان بیوقوف امریکیوں نے اس صائب مشورے پر عمل کرنے کے بجائے یہ کھوج لگانا شروع کر دیا کہ طوفان کیسے آتے ہیں، ان کی آمد کی بر وقت اطلاع کیسے دی جا سکتی ہے اور ایسی صورتحال میں کیا تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں کہ جانی و مالی نقصان کم سے کم ہو۔

چند برس قبل ’’سینڈی ‘‘ کے نام سے آنے والا طوفان امریکی تاریخ کا دوسرا بڑا طوفان تھا جس میں 45 ارب ڈالر کا نقصان ہوا مگر انسانی اموات کا شمار کیا جائے تو اس طوفان میں سب سے کم یعنی 72 اموات ہوئیں۔ جاپان کو تو زلزلوں اور طوفانوں کا گھر سمجھا جاتا ہے جب وہاں پہلی بار خوفناک زلزلہ آیا اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تو بدھ مت کے بزرگوں نے کہا یہ سب گرو کی تعلیمات سے انحراف کا نتیجہ ہے، اب بھی وقت ہے پلٹ آئو، ورنہ یہ تباہی و بربادی تمہارا مقدر بن جائے گی۔ مگر جاپانیوں نے یہ حساب کتاب لگانے کی کوشش کی کہ زلزلے کیوں آتے ہیں اور ان سے دفاع کیسے ممکن ہے۔

مارچ 2011ء میں دنیا کی تاریخ کا بدترین سونامی آیا جس میں ایک جوہری پلانٹ سے تابکاری پھیل گئی اور بڑے پیمانے پر مالی وجانی نقصان ہوا وگرنہ جاپانی حکومت بڑی حد تک اپنے ملک کو زلزلہ پروف بنا چکی تھی۔ ہمارے ملک میں چند روز قبل جو زلزلہ آیا، ریکٹر اسکیل پر اس کی شدت 7.5 تھی اور اس کا مرکز گہرائی میں ہونے کے باجود بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی مگر جاپان میں اس طرح کے زلزلے ہر سال آتے ہیں اور کوئی ایک عمارت بھی نہیں گرتی۔ 30 مئی 2015ء کو جاپان کے شہر ٹوکیو میں زلزلہ آیا جس کی شدت 8.5 تھی، یہ زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ خدانخواستہ ہمارے جیسے کسی ملک میں آتا تو اکتوبر 2005ء کے مقابلے میں بھی زیادہ تباہی ہوتی لیکن جاپان میں کسی کو خراش تک نہ آئی۔کوئی ایک عمارت بھی ایسی نہ تھی جس میں دراڑ پڑی ہو۔

ٹوکیو سے اوساکا جانے والی ٹرین سروس چند منٹ کے لئے معطل ہوئی اور زندگی کا پہیہ پھر سے رواں دواں ہو گیا۔ چند دن بعد اسی ہفتے میں دو سری مرتبہ زلزلے نے دستک دی جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7 سے زائد تھی مگر کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔21 مارچ2012 کو میکسیکو میں زلزلہ آیا جس کی شدت 7.6 تھی، زلزلے کی شدت سے عمارتیں جھولتی رہیں مگر کوئی عمارت زمین بوس نہیں ہوئی۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ جب جاپان میں پہلی بار زلزلہ آیا، اگر اس وقت وہاں کے حکمرانوں نے بھی تدبیر اور تدارک کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے یہ یقین کر لیا ہوتا کہ یہ آفت معاشرے میں بڑھتی ہوئی سماجی برائیوں کا نتیجہ ہے تو کیا آج جاپان نام کا ملک دنیا کے نقشے پر موجود ہوتا؟ دنیا بھر کے حکمرانوں کو ایسے لوگوں کو مشکور و ممنون ہونا چاہئے جو کسی بھی حادثے، آفت یا تباہی کے نتیجے میں ان کا محاسبہ کرنے کے بجائے ساری بات یہ کہہ کر ختم کردیتے ہیں کہ جب مذہب کے احکامات سے بغاوت ہو گی تو پھر زلزلے ،سیلاب اور طوفان تو آئیں گے۔ اگرچہ یہ لوگ حکمرانوں کی نااہلی پر پردہ ڈال دیتے ہیں مگر ان کی بات تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں کہ آخر یہ پارسا لوگ ہیں۔

مگر جان کی امان پائوں تو عرض کروں، بہ نسبت خشکی کے، سمندروں میں زیادہ تواتر کے ساتھ زلزلے آتے ہیں تو یہ معمہ حل فرما دیجئے کہ کیا مچھلیوں سمیت دیگر آبی مخلوقات انسانوں کی نسبت زیادہ گناہ گار ہیں؟ اور ہاں، وہ پارسا لوگ جو سوشل میڈیا پر یا ٹی وی چینلز پر پورے تیقن کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ زلزلہ مرنے والوں کی بد اعمالیوں کا نتیجہ اور عذاب الٰہی ہے ان سے گزارش ہے کہ فتویٰ صادر کرنے کے بعد انٹرنیٹ پر اپنی برائوزنگ ہسٹری چیک کر لیں امید ہے خاصا افاقہ ہو گا۔
...................
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘
العربیہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.