.

امریکا ایٹمی معاہدہ کر کے ایرانی دام میں پھنس گیا ہے؟

ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے چھہ طاقتور ممالک کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی بات چیت سے پہلے ہی بڑی مہارت سے صدر اوباما اور ان کی انتظامیہ کی کمزوریوں کا اندازہ لگا لیا تھا۔معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد جومطالبات اور شرائط انہوں نے پیش کی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اب امریکی انتظامیہ پر دبائو ڈال کی مزید رعایتیں حاصل کرنے کی اچھی پوزیشن میں ہیں۔

دنیا کے چھہ طاقتور ممالک نے چند ماہ قبل ایران کے ساتھ ایک کمزور سا معاہدہ کیا جس کے تحت کچھ مدت کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور یورینیم افزودگی بند کردینے کے عوض ایران کے ایٹمی پروگرام کو نہ صرف تسلیم کر لیا گیا ہے بلکہ اسے کئی رعایتیں دی گئی ہیں جن میں عالمی پابندیوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ امریکی کانگریس اور ایرانی پارلیمنٹ(مجلس) نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے جس کے بعد اس کی حیثیت ایک مکمل طے شدہ معاہدے کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایرانی مجلس نے خامنہ ای کے بالواسطہ حکم کے تحت اس معاہدے کی توثیق کر کے ان کی پوزیشن کو بہت مستحکم کر دیا ہے ۔ان حالات میں ایک یہ گمان بھی کیا جا رہا ہے کہ خامنہ ای کسی بھی وقت اس معاہدے کو ختم کر سکتے ہیں کیونکہ اقتدار پر ان کی گرفت کو اب مغربی پابندیوںسے لاحق خطرات ختم ہو چکے ہیں۔

معاہدے پر دستخط کے بعد خامنہ ای کی نئی شرائط

خامنہ ای کی جانب سے صدر روحانی کو جاری کیے گئے نئے ہدایات نامہ کے مطابق ایران نے امریکہ اور یورپی ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے اس سے پہلے کہ تہران معاہدے کی اس کے ذمہ واجب شقوں پر عملدرآمد کرے،اس پر عاید تمام عالمی اقتصادی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔ یہ ہدایت نامہ ،جو ان کی ویب سائٹ پربھی پوسٹ کیا گیا ہے، کے مطابق خامنہ ای نے امریکہ اور یورپی ممالک سے یہ ضمانت طلب کی ہے انہیں'ٹھوس اورکافی'ثبوت فراہم کیے جائیں کہ معاہدے کے ایرانی حصے پر عملدرآمد سے پہلے تہران پر سے تمام اقتصادی پابندیاںاٹھا لی جائیں۔ گویا کہ معاہدے سے قبل کئی ماہ پر محیط بحث و تمحیص اور ایرانی ایٹمی پروگرام کے طویل و عمیق جائزے ایک مذاق ہی تھے۔ایسا مطالبہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

یہی نہیں، ایک اضافی شرط میں خامنہ ای نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ پابندیاں اٹھانے کے بعداس فیصلے کو اچانک واپس لینے کے امکان کو بھی مسترد کر دیا جائے۔ گویا خامنہ ای چاہتے ہیں کہ عالمی برادری ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پابندیاں دوبارہ لاگو کرنے کے سلسلے میں اپنے ہاتھ خود ہی کاٹ لے۔معاہدے پر دستخط سے قبل عین وقت پر خامنہ ای، صدر روحانی اور ان کی ایٹمی ٹیم نے یہ شرط بھی منوا لی تھی کہ ایران کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی جائے ،لیکن اب ایک اور اضافی شرط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران پر عائد ان پابندیوں کو بھی اٹھا لیا جائے جن کا تعلق دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے ہے۔

معاہدے کے کمزور اور بیکار ہونے کی وجہ سے خامنہ ای کے اعتماد اور جرّأت میں اضافہ ہوا جس کا ثبوت ایسی جارحانہ شرائط ہیں ۔ اب خامنہ ای امریکہ سے مطالبات کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور اوباما انتظامیہ کی کمزوریوں کا خوب فائدہ اٹھائیںگے۔ یہی وجہ ہے کہاایران نے معاہدے کے بعد بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
خامنہ ای خود کو قانون سے بالاترپوزیشن پر لے آئے

خامنہ ای نے اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے بعداس بات کا عملی مظاہرہ کیا ہے کہ وہ خود کو تمام عالمی قوانین اور ایٹمی معاہدوں سے بالا تر سمجھتے ہیں۔ میں نے کچھ ماہ قبل ہی اس امر کی جانب اشارہ کیا تھا کہ خامنہ ای دو وجوہات کی بنا پر عوامی سطح پر ایٹمی معاہدے کو قبول یا مسترد نہیں کریں گے۔اول،وہ معاہدے کے نتائج کی ذمہ داری اور احتساب سے خود کو بالا تر رکھنا چاہتے ہیں۔ دوئم، وہ یہ سہولت بھی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں کہ جب چاہیںمعاہدہ توڑ دیں، بالخصوص اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد۔ اس معاہدے کا حصہ نا بننے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ صدر روحانی اور ان کی ایٹمی ٹیم جب اپنی شرائط منوا چکیں تو ان کے پاس کچھ اضافی شرائط منوانے کا اختیارباقی رہے۔ دوسرے ممالک اوران کے لیڈروںکی کمزوریوںکا اندازہ لگانے کے معاملے میں خامنہ ای کا شمار اس خطے کے زیرک اور ہوشیار ترین سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ آخر وہ ١٩٨٩سے ایران کے سپریم لیڈر یونہی نہیں چلے آرہے ہیں۔

خامنہ ای اب مکمل طور پر صدر اوباماکے ساتھ کھیلے جانے والے سیاسی کھیل کا حصہ بن چکے ہیں اور ان کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔سلامتی کونسل کے دیگر یورپی ممالک برطانیہ، جرمنی، فرانس نے بھی امریکہ کی ایما پر ایران کو رعایتیں دی ہیں۔ خامنہ ای اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ صدر اوباما ان سے مغلوب ہو چکے ہیںاور ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ تہران کے تمام مطالبات کو پورا کرتے رہیں اواس متنازع ایٹمی معاہدے سمیت دیگراصل مسائل کو حل کرنے کے بجائے آیندہ آنے والے امریکی صدر کے لیے چھوڑ جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ ایرانی نژاد امریکی اسکالر ، مصنف اور امریکی خارجہ پالیسی کے ماہرہیں ۔وہ انٹرنیشنل امریکن کونسل کے صدر ہیں۔وہ ہارورڈ انٹرنیشنل ریویواور ہارورڈ انٹرنیشنل ریلیشنز کونسل کے بورڈز کے ممبر بھی ہیں۔وہ واشنگٹن میں قائم نیشنل ایرانین امریکن کونسل کے سفیر بھی رہ چکے ہیں۔ ان سے ٹویٹر ہینڈلر @MajidRafizadeh پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.