.

ریحام گئی، ملالہ رہ گئی

عبداللہ طارق سہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ریحام خاں اور عمران کی طلاق کی بہت بڑی خبر تھی لیکن اگلے ہی روز الیکشن کی خبر سے گہنا گئی ورنہ ملک بھر کے منتخب روز گار ماہر عقلیات ابھی پانچ سات دن اور اس خبر کے بخیے ادھیڑتے اور عقل کے بھی لیکن بلدیاتی الیکشن کی خبر نے اسے اوور لیپ کر دیا ۔اس الیکشن سے پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کو جتنی سیٹیں جیتنے کی توقع تھی، ان سے زیادہ جیت لیں صرف زیادہ نہیں، کافی زیادہ۔ اور تحریک انصاف کو جتنی سیٹیں لینے کی توقع تھی، وہ اس سے کم سیٹیوں پر جیت سکی ۔صرف کم نہیں، کافی کم اور بڑی حد تک وہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی سطح پر آ گئی۔ تحریک انصاف کا دعویٰ تھا کہ یوتھ اس کے ساتھ ہے اور نان یوتھ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ۔ لیکن بلدیاتی الیکشن سے پتہ چلا کہ یوتھ بھی ادھر چلی گئی جدھر نان یوتھ تھے ۔

ایسا ہی احوال سندھ کا ہے جہاں پیپلز پارٹی نے اپنی بھاری بالا دستی قائم رکھی ۔اب ٹی وی چینلز پر بیٹھے یہ ماہر عقلیات کیا کریں جن کی اکثریت انصاف زدہ ہے۔ ان میں سے کچھ تو شاید’’سک لیو‘‘ پر چلے جائیں گے کیونکہ فیصل آباد میں رانا ثناٗ اللہ گروپ کی اکثریت کو درد جگر نے آ لیا ہے۔ جو چھٹی پر نہیں جا ئیں گے۔ وہ دھاندلی کا رونا روئیں گے یا پھر اس بات کا کہ ریحام خان اگر دو دن بعد لندن جاتی تو تحریک انصاف پنجاب میں کلین سویپ کر لیتی کہ طلاق کی خبر نے ووٹروں کے’’ زہن‘‘ پر برا اثر ڈالا

کیا تیرا بگڑتا جو نہ جاتی کچھ دن اور ۔۔۔۔۔ کوئی

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ تحریک انصاف کو طلاق کی خبر جاری کرنے کی ضرورت اسی لیے ہوئی کہ ریحام خان قبل ازوقت لندن چلی گئی تھیں اور خطرہ تھا کہ وہ لندن میں پہل کرتے ہوئے کوئی یک طرفہ اعلان نہ کر دیں ۔ورنہ تو خیال تھا کہ الیکشن میں کلین سویپ کرنے کے بعد ہی خبر بریک کریں گے ۔بہر حال ،ریحام خاں سے اظہار ہمدردی ضروری ہے۔

حسرت اسی غنچی پہ ہے جو بن کھلے مر جھا گئی !

ریحام خان تو گئیں ،اب ’’انڈو۔ایرا گرڈ سٹیشن ‘‘ کے پاس بس ملالہ بچی ہے ۔طلاق کی کہانی جو چھن چھن کر آ رہی ہے ، اس کا نتھار کیا جا ئے تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ ریحام خان عمران کی جگہ لینا چا ہتی تھیں ۔ایک اخبار نے یہ خبر بھی دے دی کہ خدانخواستہ ’’گرڈ‘‘ خان صاحب کی جان کا لاگو ہو چکا تھا ۔اور ان کے بعد ریحام خان جا نشین ہوتیں ، پھر اگلا الیکشن کسی نہ کسی طرح تحریک انصاف کو جتوا کر ریحام خان کو وزیر اعظم بنا دیا جاتا اور لوگ ترکی کے کمال اتا ترک کو بھول جاتے، پاکستان کی اس کمال اتا ترکی کو یاد رکھتے۔ اب تو عمران کو بھی اندازہ ہو گیا کہ انڈو۔گرڈ کسی کا سگا نہیں۔ دھرنوں اور ان کے بعد پے در پے ضمنی الیکشن ہارنے کے بعد عمران انڈو۔ایرا گرڈکے لیے از کار رفتہ ہو چکے تھے اور ریحام اب نیا چہرہ تھی ۔ لیکن تقدیر نے انڈو۔ایراگرڈ کو پھر ہرا دیا ۔عمران کو سازش کی پوری نہ سہی ،آدھی ادھوری بھنگ پڑ گئی اور یوں کہانی شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی ۔ایک دو اخباروں نے جو یہ خبر دی ہے کہ ریحام کو ایجنڈے کے تحت عمران سے نکاحا گیا تھا اور عمران کو ٹریپ کیا گیا تھا ۔

بہر حال ،ریحام رخصت ہو ئیں ،اب صرف ملالہ بچی ہے لیکن اسکا انڈو۔ ایرا کنکشن اتنا واضح ہے کہ وہ بلدیاتی کونسلر کا الیکشن لڑیں تو وہ بھی ہار جائیں ۔اب انڈو ایرا لابی کیا کرے گی ۔اب تو مولانا بھی پٹ گئے اور ہاں ،اس لابی کے لاوڈ سپیکر کا کیا ہوگا ؟۔لاوڈ سپیکر ،ارے بھئی وہی راجا بازار کی گیروی حویلی کے لالہ جی !۔

ختم نبوت کانفرنس میں علماٗ کرام نے شکوہ کیا ہے کہ آپریشنوں کی آڑ میں قرآن و حدیث کے علماٗ اور مدارس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔اور بیوروکریسی امریکہ اور برطانیہ کو خوش کرنے کے لیے یہ سب کر رہی ہے ۔اس پر تبصرے سے پہلے ایک اور ماجرے پر نظر ڈال لیجیے۔

اٹلی سے ایک صاحب کو جن کا نام عثمان غنی تھا، بڑے احترام سے گرفتار کر کے پاکستان لایا گیا ،اگلے روز تمام چینلز پر بریکنگ نیوز کی دہائی مچی تھی اور اخبارات کی شہ سرخیاں چنگھاڑ رہی تھیں کہ خطرناک ترین دہشت گرد پکڑا گیا ۔دہشت گردی کی اس جنگ میں اس عظیم کامیابی پر سارا ’’مقبوضہ‘‘ میڈیا جشن منا رہا تھا ۔ یہ دہشت گرد کون تھا ؟۔ محض ایک عام آدمی جس کا دہشت گردی سے کوئی واسطہ تھا نہ انتہا پسندی سے۔ اسے محض اس لیے پکڑا گیا کہ انٹرنیٹ پر اسلامی ویب سائٹس دیکھا کرتا تھا۔ اسے چاہیے تھا کہ ’’پورنو‘‘ دیکھتا ۔ یوں اسے روشن خیالی کا خطاب ملتا اور شاید کوئی سفارتی عہدہ اسے اٹلی میں بیٹھے بیٹھے ہی دیدیا جاتا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ بیوروکریسی ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔ یہ ملک تباہ ہوگا، تبھی تو امریکی خوشنودی کا حق ادا ہو گا۔

اور اب رہی بات کانفرنس کے شکوے کی۔ تو سوال یہ ہے کہ 'شکوہ الیہ' کون ہے؟ کیا حکومت پاکستان؟ تو ایسا ہے تو جناب غلط پتے پر لکھا جانے والا خط، ایسے ہی جیسا لکھا ہی نہیں گیا۔ اہل کا نفرنس کو چاہیے کہ امریکی سفارتخانے جایئں اور رحم کی اپیل کریں! حکومت کو عرض ڈالنے سے کچھ نہیں ہوگا، وہ تو خود ’’معروض‘‘ کے جال میں کسی گئی شے۔

شام کا میدان جنگ گرم سے گرم تر ہو رہا ہے ۔اس ہفتے چالیس ایرانی فوجیوں کی لاشیں وطن پہنچیں، بیس لاشے کچھ دن پہلے لبنان گئے تھے ۔اس دوران شامی، ایرانی ،امریکی ،روسی طیارے سے مرنے والے شامیوں کی گنتی پونے تین لاکھ کے قریب ہو گئی ۔ اختتام ہفتہ کو دشمن کے نزدیکی شہر دویار میں شامی فوج نے بازار پر بمباری کی جس سے سوا سو عام شہری مارے گئے اور 6000 زخمی ہوئے۔

اسی ہفتے انسانی حقوق کی ایک شامی تنظیم نے بتا یا کہ روس اب تک 313 ہسپتالوں کو بمباری سے مکمل یا جزوی طور پر تباہ کر چکا ہے ۔اور اس بمباری میں سینکڑوں مریض، زخمی، ڈاکٹر اور مریضوں کے تیمار دار مارے گئے ۔بتایا گیا ہے کہ روسکے پاس شام کے تمام ہسپتالوں کے نقشے ہیں جس طرح کچھ عرصہ پہلے تک شامی حکومت کے پاس تمام سکولوں کے نقشے تھے ۔اب نہیں ہے کیونکہ تمام سکول بمباری کر کے تباہ کر دئیے گئے۔ اب کوئی سکول بچا ہی نہیں ،اس کے لیے نقشہ رکھنے کی کیا ضرورت ! روسی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک مہینہ میں کئی ہزار بمباریاں کر چکی ۔امریکہ اور برطانیہ کئی ماہ سے ہر روز تین درجن بمباریاں کر رہے ہیں۔ ان کا ٹوٹل سامنے نہیں آیا ۔ہر بمباری میں کم سے کم لوگ بھی مارے جائیں تو ٹوٹل کتنا بنے گا؟ لگتا ہے ،پونے تین لاکھ گنتی بہت کم ہے۔

شام کی اپنی فوج ختم ہو چکی ہے۔ ایران کے جنرل سلیمانی کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ ایرانی رضا کار شام میں لڑ رہے ہیں رضا کار یا فوجی؟ روس کی فوج بھی شام میں ہے لیکن تعداد نہیں بتائی جا رہی۔ اب امریکہ بھی فوج بھیجے گا۔ بندر بانٹ طے ہو گئی ہے ۔روس الوائٹ علاقے کو ’’سیکوئر‘‘کرے گا ، امریکہ کردوں کی ایک الگ ریاست کے ساتھ ایک سیکولر شامی ریاست بنائے گا اور جنگ چلتی رہے گی۔

روس پھر پھنس گیا ہے ،اس کی معیشت اس وقت دنیا کے کمزور ترین ملکوں میں شامل ہے یعنی یورپ کے غریب اور چھوٹے سے ملک سپین سے بھی زیادہ غریب ملک ہے تو روس ہے ۔شام کی جنگ سےاس کی معیشت کا کیا حال ہوگا ۔انڈر ورلڈ کے سابق ڈان پیوٹن کو بھی اندازہ ہے یا نہیں۔ نہیں ہے تو ہو جائے گا اس کی ہزاروں بمباریوں کے باوجود داعش، حماس کے قریب آ پہینچی ہے۔ بشکریہ روزنامہ 'جہاں پاکستان'
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.