.

یمن کےعوام 'کیمیا گر' کی دانائی سے محروم ہو گئے

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جدید یمن کی تاریخ میں دو شخصیات بہت مشہور ہیں۔ ایک علی عبداللہ صالح، نیم خواندہ سابق صدر جس نے فوجی طاقت کے ذریعے اقتدار حاصل کیا۔ دوسرا ڈاکٹر عبدالکریم الاریانی، عمدہ اور اعلی تعلیم یافتہ سفارتکار جس نے امریکی یونیورسٹی سے بائیوکیمیکل جینیات میں پی ایچ ڈی کیا تھا، جس کا تعلق ایک اعلی گھرانے سے تھا اور یمن کے دوسرے صدر کا بھتیجا تھا۔

بالکل فلموں کی طرح، اک کہانی میں صالح ایک برا کردار ہے جس نے لوٹ مار، جنگ و جدل اور تباہی کا بازار گرم رکھا۔ الاریانی مرکزی کردار کی طرح ہے جو جنگ شروع ہونے کے بعد پہلے قاہرہ اور پھر جرمنی میں جلا وطن ہو گیا۔ دو دن قبل الریانی جرمنی کے ہسپتال میں خالق حقیقی سے جا ملے، مگر صالح ابھی تک یمن میں تباہی پھیلا رہا ہے۔

جدید یمن کی تاریخ میں الاریانی ایک نمایاں اور اہم شخصیت رہے ہیں۔ چونکہ صالح ملک کے سفارتی معاملات چلانے کی صلاحیت سے محروم تھا اس لیے اس نے ہمیشہ الاریانی کی حب الوطنی، علم، روشن خیالی اور صلاحیتوں پر انحصار کیا۔

صالح سے نجات

صالح کے خلاف بغاوت شروع ہونے کے بعد دونوں کے تعلقات خراب ہو گئے۔ سیاستدانوں نے الاریانی سے رجوع کیا اور انہوں نے صالح کی اقتدار سے بے دخلی اور پر امن انتقال اقتدار کا ڈیزائن تیار کیا تاکہ نئے انتخابات اور آئین کی تیاری کی ج اسکے۔ صالح نے جب اس ڈیزائن کو ناکام بنا دیا تو یمنی عوام نے ایک بار پھر الاریانی سے رجوع کیا جنہوں نے نمائندہ حیثیت میں صالح سے مطالبہ کیا کہ وہ معاہدے کا احترام کرے اور جنرل پیپلز کانگریس پارٹی سے الگ ہو جائے۔

حقیقت فلموں سے بہت مختلف ہوا کرتی ہے۔ جس عرصہ میں الاریانی برلن کے اسپتال میں عارضہ قلب سے نبرد آزما تھے، ان دنوں صالح یمن میں زیر زمین رہا اور اقتدار چھوڑنے کے تمام منصوبوں کو مسترد کرتا رہا۔ صالح نہ تو مسلسل اقتدار سے چمٹے رہنے سے تھکا اور نہ ہی خونریزی اور تباہی دیکھ دیکھ کر اکتایا۔ صالح دنیا کے طویل ترین دور اقترار رکھنے والے حکمرانوں میں سے ایک ہے اور یمن کی تمام تر تباہی اور خونریزی کا ذمہ دار بھی۔

صالح نے ہمیشہ اپنے ارد گرد قابل احترام شخصیات کو اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے استعمال کیا اور ان کا استحصال بھی کیا۔ پنررہ سال قبل یمن سعودی عرب سرحدی معاہدے کی تیاری کے دوران، صالح نے اس وقت کے وزیر اعظم الاریانی پر الزام لگایا تھا کہ وہ ریاض کے ساتھ دوستانہ تعلقات نہیں چاہتے، اور دستخط کرتے وقت صالح الاریانی کو وفد کے ساتھ لے کر بھی نہیں گیا تاکہ ریاض کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ معاہدے کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ان کو ساتھ نہیں لایا گیا ہے۔

اس بات کو کئی سال گزرنے کے بعد آج ثابت ہو چکا ہے در حقیقت الاریانی ہی یمن کے ان چند سیاستدانوں میں سے ہیں جو بڑی شدت کے ساتھ بیرونی محازآرائی اور کشیدگی کا خاتمہ، اور خطے کے تمام ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات کی بحالی چاہتے تھے۔ اسی طرح الاریانی ہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے جنوبی اور شمالی یمن کے درمیان مصالحت میں کلیدی کردار ادا کیا۔

صالح کے خلاف انقلاب کے دوران، الاریانی نے ہی وہ مشہور معاہدہ تیار کیا جس میں صالح سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ اقتدار یمن کے عوام کے منتخب لیڈر کو سونپا جا سکے۔ تمام خلیجی مملک اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے اس کی توثیق کی اور صالح کو اس پر دستخط کرنے پر مجبور کیا تاکہ خانہ جنگی اور خونریزی کو روکا جا سکے۔ یہی وجہ تھی کہ صالح اور بھی ذیادہ الاریانی کے خلاف ہو گیا تھا۔

ان حالات میں الاریانی نے بہتر سمجھا کہ جلاوطنی اختیار کی جائے، چنانچہ وہ قاہرہ چلے گئے۔ مگر یمنی سیاستدان بدستور ان سے صالح اور اس کے حوثی اتحادیوں کی ریشہ دوانیوں کے مقابلے کے لیے مشاورت کرتے رہے۔ مگر دو دن قبل یہ دانا درویش یمنی عوام کو ایسے وقت میں ہمہشہ کے لیے چھوڑ گیا ہے جب انہیں اس کی مشاورت کی پہلے سے زیادہ ضرورت تھی۔

------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.