.

نیشنل ایکشن پلان

بابر ستار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ [آئی ایس پی آر] نے دس نومبر کو ایک کور کمانڈر کانفرنس کے بعد ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے آرمی چیف کے حوالے سے’’آپریشن کے دیرپا فوائداور ملک میں پائیدار امن کیلئے اچھی گورننس‘‘ کی ضرورت کا احساس دلایا ۔ پریس ریلیز میں’’ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں ہونے والی پیش رفت، فاٹا اصلاحات کی حتمی شکل اور موجودہ آپریشن کے حوالے سے جے آئی ٹیز میںتاخیر سے آپریشن کے اثرات زائل ہونے ‘‘ کی جانب بھی اشارہ کیا گیا۔ پریس ریلیز کا مواد اور مقصد بالکل واضح اور دو ٹوک ہے۔

ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ فوج قوم کی حمایت سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کامیابی سے جنگ کر رہی ہے، لیکن اس کے بعد یہ آپریشن ضرب ِ عضب کی کامیابی کا کریڈٹ فوج کو دیتی ہے اور مشکلات کی ذمہ داری سویلین حکومت پر ڈال دیتی ہے۔ آخری جملہ صورت ِحال کی واضح عکاسی کرتا ہے…اگر آپریشن ضرب ِ عضب ناکام ہوا تو اس کی ذمہ داری ہماری نااہل سویلین حکومت پر عائد ہو گی۔

پریس ریلیز کا مقصد عوام تک پیغام پہنچانا ہوتا ہے، یہ مختلف اداروں کے درمیان ہونے والی داخلی خط و کتابت نہیں ہوتی۔دفتر ِخارجہ فارن پالیسی کے اقدامات سیاسی حکومت کے سامنے تجویز کرتا ہے ۔ انہیں قبول بھی کیا جا سکتا ہے اور رد بھی۔ تو کیا فارن آفس بھی پریس ریلیز میں کہہ سکتا ہے کہ جب تک فلاں فلاں اقدامات نہیں اٹھائے جائیں گے، فارن پالیسی موثر نہیں ہوگی؟سوال یہ ہے کہ کیا کسی جمہوری نظام میں ایک ماتحت ادارہ کسی منتخب شدہ حکومت کی کارکردگی کاناقد ہوسکتا ہے؟ میڈیا رپورٹ کے مطابق سوموار کو سول اور ملٹری قیادت وزیر ِاعظم ہائوس میں جمع ہوئی، نیشنل ایکشن پلان زیر ِ بحث آیااور اس پر مزید کچھ کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اگر ایسا تھا تو پھر کور کمانڈرز اور آرمی چیف نے عوام تک یہ بات پہنچانے کی ضرورت کیوں محسوس کی کہ نیشنل ایکشن پلان میں سویلینز کو مزید کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے؟

دہشت گردی، اس کی وجوہ اور حل پر جی ایچ کیو کے بیانیے کو عوام تک پہنچاتے ہوئے آئی ایس پی آر نے بہت شاندار کام سرانجام دیا ہے، اور عوام کی ایک غالب اکثریت اس موقف کی حامی ہے، لیکن کیا آئی ایس پی آر کی پریس ریلیزایک پالیسی کے طور پر سول ملٹری تعلقات کو ریگولیٹ کرسکتی ہے؟اس سے کس کوانکار ہوسکتا ہے کہ گورننس کا ڈھانچہ ہزار خرابیاں رکھتا ہے، ہمارے ادارے دیمک زدہ ہیں اور ریاست شہریوں کے ساتھ کیے گئے سماجی معاہدے کے تحت فعالیت دکھانے سے قاصر ہے۔ مزید یہ کہ ان نظریات، طریق ِ کار اور اداروں کی تشکیل ، جو اس معاہدے سے مطابقت رکھتے ہوں، حکومت کی ترجیح دکھائی نہیں دیتے۔ اس حقیقت سے مفر ممکن نہیں کہ پاکستان سیاسی طور پر ایک کمزور ریاست ہے جبکہ ایک طاقتور اور منظم فوج اس کی سیکورٹی اور اسٹرٹیجک امور کو تقویت فراہم کرتی ہے۔

کمزور ریاستیں اپنی عملداری قائم کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں اور قوم کو ایک راہ پر گامزن کر دیتی ہیں۔ ان کیلئے بیرونی تعلقات کے حوالے سے اسٹرٹیجک شاکس برداشت کرنابھی دشوار ہوتا ہے۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کی فوج کو حاصل طاقت اور تنظیم اسے دیگر سویلین اداروں پر فوقیت دلاتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ کیا اس کی وجہ بھاری بھرکم دفاعی وسائل ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ہماری مختصر سی تاریخ میں عسکری ادارے ہمیشہ ہی بہتر تنظیم ، احتساب اور معیاری کام کے حامل رہے ہیں۔ اس سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اگر پاکستان اتنی منظم اور بہتر فوج نہ رکھتا تو ایک کمزور ریاست ہونے کی وجہ سے کئی مواقع پر اس کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی۔

ہماری فوج کے پاس جب چاہے ریاست کی عملداری قائم کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس کا واضح اظہار حالیہ آپریشن ضرب ِ عضب سے ہوتا ہے۔ تاہم ریاست کاسب سے طاقتور ادارہ ہونے کی وجہ سے اس کا بازو سیاسی جماعتوںاور میڈیا پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ’’قومی سلامتی‘‘ اور’’ حب الوطنی‘‘ جیسے تصورات پر بھی اپنی اجارہ داری رکھتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ قو م کے مستقبل کوایک خاص سمت میں ڈھالنے کیلئے اس کے نظریات کی وجہ سے ہمیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس میں دو آراء نہیں ہوسکتیں کہ فوج اپنے تصورات کو نافذ کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

اس لیے جب دہشت گردی اور انتہا پسندی کی بات کی جائے توسول اور ملٹری اداروں میں کسی کو کریڈٹ دینا اور کسی کے سر الزام عائد کرنے کا معاملہ سیدھا ہے۔ اگر ہم غیر ضروری الزام تراشی میں الجھے بغیرنہیں رہ سکتے تو پھر کیا یہ جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے کہ جن مسائل کا ہم شکار ہیں اس کی وجوہ اور اُنہیں دور کرنے کے اقدامات کیا سویلین حکومت کے تصور کا نتیجہ ہیں یا عسکری اداروں کا؟ مزید یہ کہ ہمارے ہاں سول ملٹری اختیارات میں عدم توازن کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے اس بات کا تعین بھی کیا جانا ہے کہ کیا یہ معاملہ سول حکومت کے دائرہ کار میں ہے یا خاکی وردی والوں کے؟

آپریشن ضرب ِ عضب کے آغاز اور پشاور سکول سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کی صورت میں اس کا دائرہ پھیلاتے ہوئے سیاسی حکمرانوں کو بہت واضح پیغام دے دیا گیا تھا کہ اب قدم پیچھے ہٹانے کی گنجائش نہیں۔ اس کے بعد اُن کی خواہش پر ہی اکیسویں ترمیم اور فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا۔ چنانچہ یہ بات طے ہو گئی کہ اب نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کا کریڈٹ یا اس کے برعکس کا تعلق خاکی وردی پوشوں سے ہی ہے۔ اس کے نفاذ میں حائل مشکلات کا تعلق اب سویلین کی ناقص گورننس سے نہیں، بلکہ ریاست کے تصور کو ایک نہج پر ڈھالنے والی پالیسی سے ہے۔ متضاد تصورات کا شاہکار یہ پالیسی ماضی میں عسکری اداروں نے ہی آگے بڑھائی۔

پاکستان میں داخلی یا خارجی سیکورٹی پالیسی پر سویلینز کا کنٹرول نہیں، یہ فوج ہے جو اس میدان میں اپنی پالیسیاں رکھتی ہے۔ ہماری معاشی اور خارجہ پالیسیاں بھی ہماری سیکورٹی پالیسی کے تابع ہوتی ہیں۔ یہ فوج ہے جو انٹیلی جنس پر اجارہ داری رکھتی ہے اور اسی نے فیصلہ کرنا ہے کہ حاصل کردہ معلومات کا کیا کیا جائے اور کس حد تک کارروائی کرنی ہے۔ بطور ایک ریاست ہمیں مطلق ابہام نہیں ہے کہ جب انڈیا، افغانستان، امریکہ اور مشرق ِوسطیٰ سے تعلقات کی بات ہو تو فوج کو ویٹو پاور حاصل ہوگی۔ ہم اس صورت ِحال سے نباہ کرتے چلے آرہے ہیں۔

ہماری افغان طالبان کے حوالے سے پالیسی ، اور یہ کیا اُنہیں مذاکرات کی میز پرلانا ہے یا اُنہیں دہشت گرد گروہ قرار دے کر اُن سے جنگ کرنی ہے، اُنہیں نظرانداز کرنا ہے یا اُنہیں اسٹرٹیجک گہرائی کیلئے ناگزیر طاقت سمجھنا ہے، اس کے فیصلے کا سویلینز سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ کیا ہم تحریک ِ طالبان پاکستان کیلئےایک پالیسی اور افغان طالبان کیلئے دوسری پالیسی بنا سکتے ہیں،حالانکہ دونوں کے نظریات ایک سے ہی ہیں؟ اس کے باوجود ہمارا دعویٰ ہو کہ ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف دوٹوک پالیسی رکھتے ہیں۔

غیر ریاستی عناصر کے حوالے سے ہماری پالیسی کا تعلق قومی سلامتی کیلئے طے کردہ مقاصد سے ہےاور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ قومی سلامتی کی پالیسی کاتعلق سویلین سے نہیں ،عسکری اداروںسے ہے۔ کیا عسکری اداروں کی منشا کے بغیر سویلینز جماعت الدعو ۃ کے اثاثے منجمد کرسکتے ہیں؟اس کے علاوہ نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ میں حائل مشکلات پر ذمہ داری کے تعین میں بھی ابہام اور تضاد پایا جاتا ہے۔ جو لوگ فوجی عدالتوں کی مخالفت کررہے تھے اُن کا موقف یہ نہیں تھا کہ ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم بہترین ہے، ان کا کہنا یہ تھا کہ فوجی عدالتیں دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والوں کو سزا دینے کیلئے کوئی تیر بہدف نسخہ نہیں ہیں، اور نہ ہی ان کے ذریعے تمام مسائل چشم زدن میں حل ہو جائیں گے۔

اب ہمیں آئی ایس پی آر سے سننا پڑ رہا ہے کہ جے آئی ٹیز کام نہیں کر رہیں۔ بات یہ ہے کہ وہ کبھی بھی کام نہیں کرتی ہیں۔ اُنہیں فعال بنانے کیلئے ہمیں سویلین قانون، انٹیلی جنس کے نظام ، تحقیقاتی مشینری اور ایجنسیوں کی کارکردگی کو بہتر بنانا پڑے گا۔ اس کے علاوہ گواہوں کو تحفظ فراہم کرنا اور ثبوت اکٹھے کرنا بھی دہشت گردوں کو سزاسنانے کیلئے ضروری ہے۔ کیا نیشنل ایکشن پلان کا فوکس سویلین اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر تھا؟ جب خاکی وردی والوں نے ہی نیشنل ایکشن پلان بنایا اور نافذ کیا تو سویلینز کی کارکردگی غیر اہم ہو جاتی ہے۔ سویلینز نے اس موقع پر ذرہ برابر شکایت نہیں کی تھی کہ سویلین پر فوجی اداروں کو ترجیح دی گئی ہے، نہ ہی کسی نے سویلین عدالتی نظام کی آزادی یا کراچی میں سیاسی دلدل میں قدم رکھنے کی شکایت کی۔ یہ تمام عسکری اداروں کا منصوبہ تھا۔ اس کی کامیابی سے سویلین کے سر پر سرخاب کا پر نہیں سج جانا تھا۔ کیا اب بہت دیر نہیں ہو گئی جب سویلین سے کہا جا رہا ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی کی ذمہ داری اٹھائیں؟ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.