.

پاگلستان

سلیم صافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہفتہ رفتہ میں لندن میں ہی تھا کہ ملالہ یوسفزئی سے متعلق ڈاکومینٹری (He named me Malala) برطانیہ میں ریلیز ہوئی۔ آسکر ایوارڈ یافتہ Davis Guggenheimکی اس فلم میں ملالہ یوسفزئی اور ان کے والد ضیاء الدین یوسفزئی کی کہانی کو نہایت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اگرچہ میرا سفر مختصر تھا اور مصروفیات بہت زیادہ تھیں لیکن اپنے دوست اور میزبان بیرسٹر اسلام اور عادل شاہ زیب کی مہربانی سے اس کی نمائش کے پہلے ہی دن ہم دیکھنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس سے متعلق بعض سوالوں کے جواب کیلئے ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاء الدین یوسفزئی سے فون پر بات کی۔

انہوں نے حسب عادت اور حسب روایت کھانے کی دعوت دی۔ اب کی بار میں نے بھی شرط عائد کی کہ ماضی کی طرح صرف گپ شپ اور کھانا کھانے برمنگھم نہیں آسکتا۔ عرض کیا کہ اگر ملالہ کے ساتھ انٹرویو کا لالچ شاملِ دعوت ہو تو تب آئوں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ملالہ کا اسکول کافی متاثر ہوا ہے اور اس سال ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ٹی وی انٹرویوز جیسی سرگرمیوں سے مکمل گریز کرے گی۔ اگر ایک بھی انٹرویو دیا تو پھر قطار میں پڑی سینکڑوں ٹی وی انٹرویوز کی آفرز سے نمٹنا مشکل ہو جائے گا۔ ضیاء الدین میرے ساتھ گفتگو کر رہے تھے تو ملالہ ان کے ساتھ بیٹھی تھی۔ ہم نے گفتگو مکمل کرکے فون بند کئے لیکن ابھی دو منٹ نہیں گزرے تھے کہ ضیا ء الدین صاحب کی کال آئی۔ کہنے لگے کہ ملالہ نے آپ کا نام سنا تو کہنے لگی کہ سلیم انکل ان قواعد وضوابط سے مبرا ہیں اور اب وہ اصرار کر رہی ہے کہ آپ ضرور آئیں اور انٹرویو بھی کر لیں۔

اگلے روز میں اپنے دوستوں بیرسٹر اسلام، زاہد خان (بی بی سی) اور عادل عباسی کے ہمراہ برمنگھم روانہ ہوا۔ ملالہ کی والدہ نے گھر پر سوات کا روایتی کھانا تیار کرکے برمنگھم میں پختونخوا جیسا ماحول بنا رکھا تھا۔ ملالہ اسکول سے واپس آئی تو ہم کھانا کھا رہے تھے۔ ملالہ نے روایتی قائدانہ انداز میں سب کو سلام کیا ۔ گپ شپ کے دوران میں اس بچی کے حوصلے، ذہانت اور اعتماد پر حیران ہو رہا تھا۔ جب بھی ملالہ سے ملاقات ہوئی تو اس بچی کو پہلے سے زیادہ متاثر کن پایا۔ اب کی بار ملالہ کی سب زیادہ متاثر کن ادا یہ لگی کہ انگریزی زبان پر عبور کے سوا اس بچی نے اپنی شخصیت پر ذرہ بھر برطانیہ کے ماحول کو اثرانداز نہیں ہونے دیا۔ لباس سے لے کر طرز تکلم تک، وہ آج بھی وہی سواتی ملالہ ہیں۔ ہاں البتہ ان کے تجزیے اور طر ز تکلم میں بلا کی پختگی آ گئی ہے۔ چند سال پہلے کی طرح وہ یہ نہیں کہتیں کہ بڑی ہو کر وزیراعظم بنیں گی اور مستقبل کے حوالے سے ہر سوال کو اس طرح گول کر جاتی ہیں کہ میں ان کو سیاستدان پکار کر چھیڑتا رہا۔

ان کی ذہنی پختگی اور بڑے پن کا اندازہ اس سے لگا لیجئے کہ وہ اپنے اوپر گولی چلانے والوں کے بارے میں بھی کسی قسم کے انتقامی جذبات کا اظہار کرنے کی بجائے ان کی فکر سے مدلل انداز میں اختلاف کرتی، ان کو نصیحت کرتی ، ان سے مکالمے پر زور دیتی اور ان کی ہدایت کی دعا کرتی ہیں۔ جو بچے بھی عسکریت پسندی اور ملٹری آپریشنز سے متاثرہ علاقوں میں رہے ہیں ان کو آج طرح طرح کی نفسیاتی الجھنوں اور مسائل کا سامنا ہے لیکن ملالہ کا حوصلہ قابل دید ہے کہ خود گولی کا نشانہ بننے اور موت کو اس قدر قریب سے دیکھنے کے باوجود انہوں نے اپنی شخصیت کو ان نفسیاتی اثرات سے بچا کے رکھا ہے۔ اور تو اور بے پناہ شہرت اور عزت کے بعد بھی ان کی شخصیت میں اکھڑ پن یا گھمنڈ نہیں آیا۔ وقار ان کی ذات کا خاصہ ضرور بن گیا ہے لیکن اس وقار کے ساتھ ساتھ وہ عام بچیوں کی طرح نظر آنے کی کوشش کرتی ہیں۔

یہاں سے فراغت کے بعد ہم پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے سانحہ میں زخمی ہونے والے احمد نواز کی بیمار پرسی کیلئے گئے۔ ان کے والد محمد نواز نے ملالہ کے گھر سے کچھ فاصلے پر ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لے رکھا ہے۔ یہاں معاملہ ملالہ کے گھر سے بالکل الٹ تھا۔ امید کی بجائے یہاں ناامیدی اور شکریے کی بجائے یہاں شکایت کا غلبہ تھا۔ محمد نواز نے بتایا کہ ان کے ایک بیٹے حارث نواز اے پی ایس سانحہ میں شہید اور احمد نواز زخمی ہو گئے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال میں کافی عرصہ زیرعلاج رہنے کے بعد ڈاکٹروں نے کہا کہ اگر احمد نواز کو علاج کیلئے بیرون ملک نہ لے جایا گیا تو ان کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا۔ میرا بیٹا چونکہ باسکٹ بال کا کھلاڑی اور فوج میں جانے کا خواہشمند تھا، اس لئے مجھ سے اس کے ہاتھ کا کاٹا جانا برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ ہماری چیخ پکار کے بعد حکومت نے ان کو علاج کیلئے برطانیہ بھجوانے کا فیصلہ کیا اور اس کیلئے ضروری انتظامات کئے گئے۔ جب ہم برطانیہ کیلئے روانہ ہو رہے تھے تو عمران خان صاحب نے وزیراعلیٰ کی موجودگی میں ہمیں تسلی دی کہ جب تک احمد نواز مکمل صحت یاب نہیں ہو جاتا تب تک وہ ہر مرحلے پر ساتھ رہیں گے۔ خان صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ خود بھی برطانیہ آ کر احمد نواز کے علاج کی نگرانی کرتے رہیں گے اور برطانیہ کی پارٹی بھی ان کے ساتھ ہو گی لیکن پچھلے آٹھ نو ماہ کے دوران انہوں نے پوچھا ہے، نہ وزیراعلیٰ نے اور نہ ان کی پارٹی کے کسی اور عہدیدار نے ۔بلکہ میرے مسلسل رابطوں کے باوجود انہوں نے یا وزیراعلیٰ نے کوئی جواب نہیں دیا۔

وزیراعظم صاحب نے بیٹے کے علاج کیلئے رقم ہائی کمیشن کو بھجوا دی تھی لیکن یہ سب کچھ چھ ماہ کیلئے تھا۔ اب چھ ماہ کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن سے کوئین الزبتھ اسپتال کو ادائیگی بند ہو گئی ہے جس کی وجہ سے بچے کا علاج بھی رک گیا ہے۔ ان کا ہاتھ کٹنے سے بچ تو گیا لیکن ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ایک سال کی فزیوتھراپی کے بعد ہی وہ کام کے قابل ہو سکے گا۔ چھ ماہ بعد ہمارے ویزے کی میعاد بھی ختم ہو گئی اور حکومت پاکستان نے توسیع کیلئے کچھ نہیں کیا۔ جبکہ جس بچے کا علاج بحریہ ٹاون کے ملک ریاض ذاتی خرچے پر کر رہے ہیں، ان کو کسی بھی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ہمارے ویزوں کا مسئلہ تو مقامی پاکستانی نژاد بعض برطانوی اراکین پارلیمینٹ کی مہربانی سے حل ہو گیا لیکن رقم کا معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔ محمد نواز نے کہا کہ گزشتہ ماہ جب وزیراعظم میاں نوازشریف لندن تشریف لائے تو ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے سامنے فریاد رکھ دی۔ جس پر وزیراعظم نے ہائی کمشنر اور طارق فاطمی صاحب کو ہدایت کی کہ وہ بچے کے علاج کیلئے فوراً فنڈز ریلیز کروائیں لیکن آج تک مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہائی کمشنر صاحب خود بھی بچے کو دیکھنے برمنگھم آئے اور ان کی ہمدردی ہمارے ساتھ ہے لیکن وہ کہتے ہیں اسلام آباد کے وزیراعظم سیکرٹریٹ سے منظوری نہیں آئی۔ انہوں نے فائل اسلام آباد بھیجی ہوئی ہے جو وزیراعظم ہائوس میں منظوری کا انتظار کر رہی ہے۔ ادھر ہم بے یار ومددگار پڑے پاکستان میں کبھی ایک اور کبھی دوسرے کو ٹیلی فون کرکے فواد حسن فواد صاحب کیلئے سفارشیں ڈھونڈ رہے ہیں کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ وہاں سے کوئی فائل ان کی عنایت کے بغیر نکل نہیں سکتی۔

یہ کہانی سناتے وقت محمد نواز کئی بار روئے اور ہمیں بھی رلاتے رہے لیکن اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات انہوں نے اور بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ کبھی کبھار احمد نواز اچانک چیخ اٹھتا ہے کہ مجھے بچائو، مجھے بچائو۔ دیکھو وہ طالبان دیوار سے چھلانگ لگا کر مجھے مارنے کیلئے آ رہے ہیں۔ محمد نواز سے میں نے وجہ پوچھی تو انہو ں نے بتایا کہ پتہ نہیں کیوں انہیں نہ صرف سوتے وقت ڈرائونے خواب آتے ہیں بلکہ جاگتے ہوئے بھی بعض اوقات ایسا دکھائی دیتا ہے کہ طالبان ان کو مارنے آ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ان کو گزشتہ سال کا وہ سانحہ لمحہ بہ لمحہ یاد ہے اور وہ مجھے سنا رہے تھے کہ کس طرح ان کے سامنے ان کے ساتھیوں اور اساتذہ کو گولیوں سے چھلنی کیا جا رہا تھا اور کس طرح خود ان پر گولی چلائی گئی۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ تو ایک احمد نواز کی حالت ہے۔ نہ جانے زندہ بچ جانے والے اے پی ایس کے باقی بچوں کی نفسیاتی حالت کیا ہو گی؟۔

پشاور اور پختونخوا کے دیگر اسکولوں کے بچوں کے ذہنوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہوں گے ؟۔ جب اسکولوں میں اساتذہ کو اسلحہ چلانے کی سرکاری سطح پر ٹریننگ دی جا رہی ہو اور بچوں کی تربیت کا یہ عمل بھی حصہ ہو کہ طالبان کے حملے کی صورت میں وہ کیسے چھپیں گے تو اس سے ان بچوں کی نفسیات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دس بارہ سال کے واقعات اور سانحات نے اس خطے کے ہر شخص کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ اعداد وشمار بتا رہے ہیں کہ قبائلی علاقوں اور پختونخوا میں خواب آور اور نفسیاتی امراض میں کام آنے والی ادویات کی کھپت میں گزشتہ چند سال کے دوران کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

ظاہر ہے جس جوان کے سامنے اس کے باپ کی گردن کاٹی گئی ہو، وہ کیسے متوازن زندگی گزار سکتا ہے اور گھر پر بمباری کے نتیجے میں گھر کے باقی دس افراد کے مر جانے کے بعد زندہ بچ جانے والے واحد بچے کی ذہنی حالت کیا ہو گی؟۔ کیا ہم نے کبھی اس علاقے کے لوگوں کی نفسیاتی تھراپی کا سوچا ہے اور کیا ان متاثرین اور بالخصوص بچوں کی نفسیاتی بحالی کیلئے کوئی ایکشن پلان بنایا ہے؟۔ یقینا جواب نفی میں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہ نسل ان ذہنی کیفیات کے ساتھ بڑی ہوگی تو اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟۔ کیا ہم نے پاکستان کو دہشتستان کے بعد اب پاگلستان بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.