.

آرمی چیف واشنگٹن میں

نجم سیٹھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج کل جنرل راحیل شریف واشنگٹن میں امریکہ کے سول اور فوجی حکام سے خطے کے استحکام کے پس ِ منظر میں پاکستان کی قومی سلامتی کے موضوع پر بات چیت کررہے ہیں۔ امریکیوں کی دلچسپی کا محور افغانستان ہے، چنانچہ وہ پاکستان کی سویلین حکومت کی بجائے براہ ِراست آرمی چیف سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسے معاملات میںآرمی چیف کاحکم چلتا ہے۔ یہ کوئی نئی پیش رفت نہیں ، پاک امریکی تعلقات کی عسکری جہت کوہمیشہ سے ہی واضح اہمیت حاصل رہی ہے۔ 1950ء اور اسکے بعد کی دہائیوں میں پاکستان سیٹو اور سینٹو معاہدوں کا حصہ بنا۔ جنرل ایوب خان اور امریکی صدر، آئزن ہاور کے درمیان اچھے، دوستانہ تعلقات تھے۔ حالیہ عشروں ،خاص طور پر افغان جہاد کے دوران ہم نے دیکھا کہ جنرل ضیا الحق اور صدر رونالڈ ریگن کے درمیان قریبی تعلقات رہے۔ نائن الیون کےبعد شروع ہونے والی دہشت گردی کی جنگ میںجنرل پرویز مشرف اور صدر بش ، اور بعد میں جنرل اشفاق کیانی اور ایڈمرل مائیک مولن کے درمیان کافی قربت رہی۔

تاہم ماضی اور حال میں فرق یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی قومی سلامتی کے حوالے سے مفادات خطے میں امریکی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان عدم اعتماد کی ایک بڑی وجہ مفادات میں ہم آہنگی کا نہ ہونا ہے۔ آرمی چیف کے موجودہ دورے کے دوران واشنگٹن میں تین امور زیر ِ بحث آئیں گے۔ یہ تینوں ایک حوالے سے آپس میں مربوط ہیں۔ پاکستان اور امریکہ، دونوں افغانستان کو پرامن اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ دونوں رہنما غنی حکومت اور طالبان کو امن کی راہ پر قدم آگے بڑھاتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم افغانستان میں مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے درکار پاکستانی کوششوں کے راستے میں دو اہم رکاوٹیں حائل ہیں۔ یہ غنی حکومت میں شامل غیر پشتون طاقتور عناصر اور بھارت ہیں۔ دونوں نے افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان ہونیوالے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کوعین وقت پر ملاّعمر کی وفات کا اعلان کرکے ناکام بنا دیا۔ موت کی خبر سنتے ہی طالبان نے مذاکرات معطل کردئیے اور اُن کی صفوں میں تحریک کی قیادت کیلئے جدوجہد شرو ع ہوگئی۔ افغان فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیاںبھی پاکستانی طالبان کو شمال مشرقی افغانستان میں پناہ دئیے ہوئے ہیں، جبکہ انڈین ایجنسیاںبلوچستان اور کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی سرپرستی کررہی ہیں ۔ باہمی عدم اعتماد اور پلنے والے مخاصمت کی وجہ سے فریقین کے درمیان لین دین ، جیسا کہ ہم حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو روکیں اور وہ ملاّ فضل اللہ کو، یا ہم کشمیر جہاد سے ہاتھ کھینچ لیں اور بھارتی ایجنسیاں بلوچستان اورکراچی میں گروہوں کی خفیہ مدد سے دستبردار ہوجائیں، خارج ازامکان دکھائی دیتا ہے۔

یقینا امریکہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایسے مسائل کے حل کیلئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ اُس کی ثالثی(اگر وہ ایسا کرنے کیلئے تیار ہوجائے) پاکستان اور انڈیا اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنائو کو کم کراسکتی ہے۔ اس لئے اب ’’ڈومور‘‘ کی امریکیوں کی باری ہے۔ عملیت پسندی کا بھی تقاضا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعاون افغانستان پر دس بلین ڈالر سالانہ خرچ کرنے سے زیادہ سود مند ثابت ہوگا ۔ اگر پاکستان کو سالانہ ایک بلین ڈالر بھی فراہم کردئیے جائیں تو پاکستان طالبان کے خلاف موثر آپریشن کرسکتا ہے۔ جنرل راحیل شریف امریکیوں کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ سرحد پر تنائو بڑھانے اور اعتماد سازی کی فضا کو خراب کرنے کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں، انڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ امریکیوں کیلئے یہ بات سمجھنا آسان ہوگا کہ جب پاک فوج داخلی طور پر طالبان اور انتہا پسندوں کیخلاف جنگ میں مصروف ہے تو وہ مشرقی بارڈر پر چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتی۔وہ تو چاہے گی کہ مشرقی سرحد خاموش رہے تاکہ وہ پوری توجہ مغربی سرحد اور ملک کے دیگرحصوں پر مرکوز کرسکے۔ ملکی حالات کے پیش ِ نظر فوج نہیں چاہتی کہ اس کے ایک بڑے حصے کو ہمہ وقت بارڈر پرچوکنا کھڑا ہونا پڑے۔ یہ انڈیا ہے جو مودی حکومت میں اسلام آباد اور صدر غنی کے درمیان عدم اعتماد کی فضا کو گہرا کررہا ہے کیونکہ وہ (انڈیا) چاہتا ہے کہ صدر غنی بھی ایک اور ’’حامد کرزئی‘‘ بن جائیں جو بھارت پر بہت زیادہ انحصار کرتے تھے۔

امریکیوں کو بھی یہ جاننے میں گہری دلچسپی ہوگی کہیں اسٹیبلشمنٹ پاکستان میں سیاسی عزائم تو نہیں رکھتی؟یقینا اُنہیں پاکستان میں رونما ہونے والے سول ملٹری تعلقات میں تنائو سے آگاہی ہوگی، ا ور پاکستانی میڈیا کے ذریعے اُنہیں یہ بھی علم ہوگا کہ ہمارے ہاں سویلین وزیر ِا عظم سے زیادہ آرمی چیف کو عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ وہ جانتے ہوں گے کہ معاشرے کے کچھ حلقے ان کوتمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز نے حکومت کو جواب دینے پر مجبور کردیا۔ واشنگٹن کو یہ جاننے میں بھی دلچسپی ہوگی کہ کیا جنرل راحیل شریف کی مدت ِ ملازمت میں توسیع لینے کی افواہوں میں کتنی صداقت ہے ۔ امریکہ کیلئے اپنی پالیسیوں کے تسلسل کیلئے یہ بات جاننا ضروری ہے۔

کیا پی ایم ایل (ن) کی حکومت جانتی ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ امریکہ اور اہم ترین عرب ممالک کے ساتھ براہ راست ہاٹ لائن قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟یقیناوزیر ِ اعظم آفس میں اس پر کچھ کو تشویش ہے۔ تاہم اُنہیں خاطر جمع رکھنی چاہئے۔ وزیر ِاعظم اور آرمی چیف کے درمیان بہترین ورکنگ ریلشنزموجود ہیں۔اگر آرمی چیف نے موقع سے سیاسی فائدہ اٹھانا ہوتا تو گزشتہ سال عمران خان کے دھرنے کے دوران ایسا کرنا بہت آسان تھا۔ اسی طرح وزیر ِاعظم بھی اپنا سیاسی وزن بڑھانے کیلئے اُنہیں کراچی آپریشن سے روک سکتے تھے، لیکن اُنھوں نے ایسا نہ کیا۔ آرمی چیف نے وزیر ِا عظم پر پڑنے والے بوجھ کو فاٹا جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کم کردیا اور طالبان اور ا ن کے ہمدردوںکو للکارا۔ ایسے کرتے ہوئے اُنھوں نے آپریشن کی کامیابی پر پیہم شکوک وشبہات کا اظہار کرنے والے رہنمائوں، جیسا کہ عمران خان ، کی غلط فہمی بھی دور کردی۔ آرمی چیف کے دوٹو ک موقف کی وجہ سے وزیر ِ اعظم کیلئے قومی اتفاق ِ رائے پیدا کرنا آسان ہوگیا۔ چنانچہ بہتر ہے کہ ادارے اسی طرح مل کرکام کرتے رہیں تاکہ ملک کو مشکلات کے گرداب سے نکال کر بہتر راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.