.

مشرق وسطیٰ کے بحران پر بحث

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے زیر اہتمام سر بنی یاس فورم کے سالانہ تین روزہ اجلاس کے شرکا میں اس دفعہ میں بھی شامل تھا۔ یہ فورم اپنے موضوعات کے معیار اور دنیا بھر سے دانشوروں اور سیاستدانوں کی شرکت کی وجہ سے ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔

ابوظہبی کے لیوا ریگستان میں واقع قصر السراب ریزورٹ میں منعقد ہونے والے اجلاس کی کارروائی اگر چیٹہم ہاوس رولز کی پابند نہ ہوتی تو میں قارئین کو کئی متنازعہ مباحث سے آگاہ کر سکتا تھا کیونکہ وہ واقعتاً بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ رولز کی خلاف ورزی کیے بغیر میں اتنا بتا سکتا ہوں کہ تمام مباحثے عرب ممالک کی صورتحال اور مسائل سے متعلق تھے۔ بہت سے معاملات کے حل پر غور وفکر ہوا اور سائنسی اور فکری مباحث میں مختلف لوگوں کے مابین اختلافات عیاں ہوئے۔

تمام بحرانوں کا باہمی تعلق

اس میں کوئی حیرت نہیں کہ خطے کے تمام مسائل اور بحران آپس میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ افغان دارالحکومت کابل سے شروع ہونے والا انتشار اور خونریزی ایشیا اور افریقہ سے گزر کر سات ہزار کلومیٹر دور لیبیا کے دارالحکومت طرابلس تک جا پہنچا۔ سوال یہ ہے کہ یہ انتشار طویل راہ میں آنے والے دوسرے ممالک کو کیوں متاثر نہ کر سکا، بالخصوص پڑوسی مالٹا کیوں اس سے محفوظ رہا۔ اس سے متاثر ہونے والے تمام ممالک میں ایک قدر مشترک ہے، پسماندگی۔ افراتفری اور ناکام حکمرانی افغانستان، لیبیا، یمن، شام، عراق اور دیگر ممالک میں یکساں ہے۔ ان ممالک میں کئی قدریں مشترک ہیں جن کا تعلق عقیدے، تاریخ اور قبائلی کلچر سے ہے۔

اگرچہ ہر ملک کے معاملات اور بد امنی کی وجوہات مختلف ہیں مگر بحران اور مسائل یکساں ہیں۔ بے چینی کا شکار تمام معاشروں کے مسائل کا تعلق حکمرانی، حقوق اور اقتدار سےہوتا ہے۔ جب سیاسی قیادتیں اور ممالک زوال کا شکار ہوتےہیں تو ریاست نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی اور اس خلا کی وجہ سے انتشار اور افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ نظام کی تباہی اور ناکامی کا حال یہ ہے کہ عراق کے شہر تکریت میں ہیضہ موت کا بہانہ بن سکتا ہے، یمن کے شہر تایز میں پیاس اور شام کے شہر الیپو میں سردی بھی موت کی وجہ بن سکتی ہے۔

تاہم ممالک کی تقسیم یا علیحدگی صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں ہے۔ مثلاً ۱۹۹۰ میں یوگوسلاویہ کی تقسیم کے بعد یورپی ممالک نے نئے ممالک کی دیکھ بھال کی اور اقوام متحدہ کی مدد سے ان کو تسلیم کرایا۔ عراق بھی یوگوسلاویہ کی طرح مختلف نسلی، قبائلی اور دیگر اکایئوں پر مشتمل ہے مگر فرق اس کے پڑوسی ممالک کا ہے۔ یوگوسلاویہ کے پڑوسی ممالک کی مدد کی وجہ سے اس کی خانہ جنگی بھی زیادہ طویل نہ تھی اور نئے ممالک کو عالمی قبولیت بھی مل گئی۔ عراق کے سرکاری اور آئینی ڈھانچے اگرچہ امریکی حملوں کے باوجود بھی مکمل تباہی سے بچ گئے مگر ملک کے معاشرتی رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے جس کے نتیجے میں نسلی اور فرقہ واری تقسیمیں رونما ہوئیں اور ان کی وجہ سے معاشرہ مزید چھوٹے دائروں میں بٹ گیا۔

اس خطے کے نقائص کی وجہ سے فکری نشستیں ہی لڑائی اور جنگ کے متبادل پر غور کرنے کی ایک قدرتی جگہ بن گئی ہیں۔
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.