.

یہ داعش کیوں اور کیا ہے؟

عبدالقادر حسن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آزاد اور صاف ذہن کے ساتھ سوچیں تو سارا مسئلہ بڑا واضح ہے، دنیا کے بعض ملکوں نے جنھیں تاریخ میں بجا طور پر سامراجی ملک کہا گیا کمزور ملکوں پر قبضہ کر لیا۔ کسی کو براہ راست محکوم بنا لیا اور کسی پر بالواسطہ اپنی حکمرانی اور برتری قائم کر لی۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ نکلا کہ محکوم اور زیردست ملکوں کے عوام کے ذہنوں اور دلوں میں اس غلامی کے دکھ زندہ رہے۔ دنیا کے حالات بدلتے رہے، دنیا کو عالمی جنگوں سے واسطہ پڑا اور سیاسی حالات تبدیل ہوتے رہے۔

کئی محکوم زیردست اور غلام ملک آزاد ہو گئے لیکن سابقہ سامراجی ملکوں نے ان کی آزادی کو مکمل نہ ہونے دیا اور ان پر معاشی اور سیاسی پابندیاں لگتی رہیں، استحصال شاید نئی صورت حال جاری رہی جس کی کسک دنیا کی سابقہ کمزور قوموں کو مسلسل محسوس ہوتی رہی، اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر مسلمان ممالک ہوئے جن کی مادی نہ سہی نظریاتی اور تاریخی طاقت کو بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا جاتا رہا چنانچہ مسلمان ملکوں کے خلاف مغربی ملکوں نے ایک محاذ قائم کر دیا۔

یہ محاذ زندہ اور سرگرم ہے۔ یہ جو طالبان ہیں یا اب کوئی داعش یہ سب مغربی سامراجی ملکوں کے ماضی اور کسی حد تک حال کی مسلمان دشمن کارروائیوں کا زندہ ردعمل ہیں چونکہ مسلمان کہیں بھی ان طاقت ور ملکوں پر کھلے حملے یا کسی موثر مخالفانہ کارروائی کی طاقت نہیں رکھتے اس لیے یہ طالبان قسم کی تنظیموں کے پردے میں یا خاموشی اور کسی ہنگامے کے بغیر ماضی کے مغربی سامراجی ملکوں سے انتقام کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ داعش کیا ہے یہ مخفف ہے ’دولت عراق و شام‘ کا یعنی مملکت عراق و شام یہ ایک خواب ہے اور خاموش خواہش یعنی کوئی ماضی کے توانا اور سرگرم مسلمان ملکوں کو زندہ کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے تو کوئی ایسے جاندار نئے ملک بنانا چاہتا ہے جو سامراجی ملکوں سے ان کے مظالم کا بدلہ لے سکیں اور ان سے انتقام لے کر اپنے دکھوں کا مداوا کر سکیں۔

غور کیجیے کہ آج کے مغربی طاقت ور ملکوں کے مقابلے میں ان تنظیموں کی کیا حیثیت ہے اور جب دنیا کی واحد سپر پاور امریکا بار بار اعلان کرتا ہے کہ وہ ’داعش‘ کو زندہ نہیں چھوڑے گا جس کا نام و نشان مٹا دے گا تو اس پر ہنسا جا سکتا ہے کہ کہاں کوئی کاغذی قسم کی تنظیم اور کہاں عہد حاضر کی کوئی سپر پاور۔ اصل بات یہ نہیں کہ امریکا یا کوئی مغربی ملک داعش وغیرہ کو واقعی کوئی زبردست طاقت سمجھتا ہے اور اس کے خلاف کسی جنگ پر تیار ہے وہ درحقیقت اس زندہ جذبے سے خوفزدہ ہے جو مسلمان ملکوں کے عوام میں ابھی تک موجود ہے اور کسی نہ کسی نام کے ساتھ سامنے آ جاتا ہے اس بالکل ابتدائی قسم کی کسی تنظیم کا سن کر مغرب کے بڑے طاقت ور کانپ اٹھتے ہیں۔

وہ طالبان یا داعش وغیرہ سے خوفزدہ نہیں ہوتے کہ یہ ان پر حملہ کر دیں گے وہ اتنے بے وقوف نہیں ہیں وہ تو اس خاموش اور بظاہر کمزور سے جذبے سے گھبراتے ہیں جس کو کسی اسلحے سے دبایا نہیں جا سکتا یہ جذبہ ظاہر ہے کہ دلوں میں ہے لیکن دلوں سے باہر آنے اور کسی عمل کی تلاش میں رہتا ہے۔ سامراجی ملکوں نے مظالم کی جو تاریخ خود بنائی ہے اس کی یاد انھیں ستاتی اور ڈراتی ہے ورنہ یہ ایک لطیفہ ہے کہ سپر پاور کا حکمران بار بار داعش کو ختم کرنے کے عزم کا اعلان کرتا رہے اور دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کرے کہ وہ داعش کو جڑ سے ختم کر دے گا۔

نظر بہ ظاہر یہ ایک لطیفہ نہیں تو کیا ہے اس سے داعش کو تو کچھ نہیں ہوگا کہ وہ ہے ہی کیا کہ اسے کچھ نفع نقصان ہو لیکن داعش کے خلاف اس عالمی مہم سے وہ قومیں ضرور خوفزدہ ہو گئی ہیں جن کے بڑوں نے کبھی ان کمزور قوموں پر جابرانہ حکومت کی تھی اور انھیں لوٹا تھا اور لوٹنے والے اب بھی جب اپنے سے کسی کمزور ترین قوم یا تنظیم کا ذکر کرتے ہیں تو ایسے لگتا ہے وہ اپنے آپ کو کسی خوف سے نجات دلانے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے کوئی کسی ویرانے کا مسافر ڈر کر اونچا اونچا بول کر اپنے ڈر پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔ ورنہ جیسے کہ عرض کیا ہے مسلمانوں کی ان جذباتی اور کاغذی تنظیموں کی کیا حیثیت ہے۔

حالت یہ تھی کہ مسلمان ماضی کے ان سامراجی ملکوں کی خوشامد کر کے زندگی بسر کر رہے تھے اور عملاً صورت حال یہ کہ مسلمان ممالک اور مسلمان ماضی کے اور آج کے بھی ان بڑے ملکوں کو خوش رکھتے ہوئے ان کے ہاں روز گار تلاش کرتے ہیں۔ یہ درست کہ کھلی سامراجیت کا زمانہ گزر گیا لیکن اس کی جگہ ایک خاموش سامراجیت نے جنم لے لیا ہے جس کی معاشی برتری نے غریب قوموں کو اب بھی یک گو نہ محکوم بنا رکھا ہے۔

یہ کمزور قومیں ان طاقت ور ملکوں کی کسی حد تک محکومیت میں زندگی بسر کررہی ہیں چالاک سامراجی ان دو ’’محکوموں‘‘ کے درمیان اختلافات پیدا کرتے ہیں تو حالات کو بہت خطرے تک پہنچا دیتے ہیں اور پھر ان کو خطرے سے بچانے کے لیے اسلحہ فروخت کرتے ہیں یعنی آمدنی کی ایک اور صورت نکال لیتے ہیں۔

دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ کئی ملکوں کے درمیان کوئی تنازع یا کشمکش ان سامراجی ملکوں نے پیدا کر رکھی ہے اور اس چالاکی کے ساتھ کہ کسی کشمکش کے شکار یہ ملک جانتے ہوئے بھی مغربی ملکوں کی چالاکی اور ہوشیاری میں پھنسے ہوتے ہیں، عجیب بات ہے کہ یہ آپس میں اگر لڑتے بھی ہیں تو ان مغربی ملکوں کے اسلحے سے جو وہ اپنے غریب عوام کے منہ سے لقمہ چھین کر خرید کرتے ہیں۔ ان کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو وہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ جنگ کتنے ہفتے جاری رہ سکتی ہے کیونکہ ان کے پاس اسلحہ ہی اتنا ہے ایک پاک بھارت جنگ میں بالکل یہی ہوا تھا۔

مغربی دنیا اپنی ہر طرح کی بالادستی کے باوجود داعش وغیرہ کو کوئی خطرہ بنا کر پیش کرتی ہے اور اتنی بڑی طاقت ہونے کے باوجود اس کے خلاف کسی باقاعدہ جنگ کی باتیں کرتی ہے اس سے مغربی ملک تو نہیں ڈرتے ہوں گے لیکن ایسی تنظیموں کے بنانے والے ضرور کچھ سوچتے ہوں گے۔ سمجھدار لوگوں کو تو یہ سب ایک تماشا لگتا ہے۔ کہاں کوئی کاغذی سی تنظیم داعش وغیرہ اور کہاں دنیا کی اکلوتی سپر پاور کا بادشاہ اوباما۔ ان کا مقابلہ ایک مجلسی قسم کا لطیفہ اور گپ شپ ہی ہو سکتی ہے۔ لگتا کیوں ہے کہ یہ سب تفریح طبع کے لیے کیا جا رہا ہے جیسے کسی آنے والی فلم کی کہانی لکھی جا رہی ہو۔

بہر کیف یہ بڑوں کے لیے وقت گزاری اور کمزوروں کے لیے وارننگ ہے مگر ہم کمزور ممالک ان بڑوں سے پناہ مانگتے ہیں اور کسی داعش کو زیادہ سے زیادہ ماضی کے مظالم کا ردعمل سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ ردعمل ضرور جاری رہنا چاہیے ورنہ ان بڑے ممالک کی بھوک ابھی زندہ ہے اور یہ کمزوروں کو معاف کرنا نہیں چاہتے۔ بہر کیف سوچنا ہے کہ ’’داعش‘‘ کیوں ہے اور اس کا پس منظر کیا ہے۔ بشکریہ روزنامہ 'ایکسپریس'
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.