.

شام میں غیر ملکی جنگجو کس نے بھیجے؟

عبدالرحمان الراشد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے شام میں اپنے ملک کی مسلح مداخلت کے دفاع میں کچھ عرصہ قبل یہ دلیل دی کہ ایران نے اس وقت مسلح دستے شام بھیجے جب باغی دمشق سے محض ۲۰۰ میٹر دور پہنچ چکے تھے۔ میرا آج کا موضوع شام میں ایرانی مداخلت نہیں ہے کیونکہ ان عزائم سے پوری دنیا پہلے ہی واقف ہے، میرا موضوع شامی باغی ہیں جو غیر ملکی جنگجووں کے شام میں داخل ہونے سے بہت پہلے ہی دمشق پہنچ چکے تھے۔

دو سال پہلے تک شامی باغیوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہیں تھی اور ان کی اکثریت جنوبی علاقوں میں عراقی سرحد کے قریب تھی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ ایک عرصہ تک درا اور دمشق میں پر امن مظاہروں کے بعد ۲۰۱۱ میں بشار مخالف آزاد شامی فوج یا فری سیرین آرمی (ایف ایس اے) کا قیام عمل میں آیا تاکہ حکومتی مظالم کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ایف ایس اے جلد ہی حلب، حماہ اور دوسرے علاقوں تک پھیل گئی مگر اس نے کوئی مذہبی اور فرقہ پرست نعرہ بلند نہیں کیا اور اس کے مطالبات سیاست اور حب الوطنی تک محدود رہے۔ اس میں شامل ہونے والوں کی غالب اکثریت مختلف سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے شامی شہریوں پر مشتمل تھی۔ ان کا بنیادی مقصد دہشت اور ظلم کی علامت بن جانے والے سیکیورٹی اداروں سے نجات حاصل کرنا اور صدر بشار الاسد کے قریبی حلقے اور اعلیٰ عہدیداران کے ظلم و ستم کا خاتمہ کرنا تھا۔

دو سال کے عرصہ میں ایف ایس اے نے کئی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس مدت کے دوران ایف ایس اے اور اس کے حامیوں کے خلاف زبردست میڈیا پروپیگنڈا کیا گیا جس میں اس کی قیادت کی حب الوطنی پر شک و شبہات کھڑے کیے گئے اور مغربی ممالک سے اس کی وفاداری اور فنڈنگ کا پرچار کیا گیا۔ سچ یہ ہے کہ ایف ایس اے کو اسلحہ اور امداد ان مقامات سے فراہم کی گئی جن کو ’ملٹری رومز‘ کہا جاتا ہے، ان میں مغربی ممالک کے نمائندے شامل تھے اور اس امر سے بین الاقوامی برادری آگاہ تھی۔ مگر بدقسمتی سے اس دوران دو اہم واقعات ایسے ہوئے جن سے اقتدار کی کشمکش کا نقشہ ہی بدل گیا۔

ایک حزب مخالف کی تشکیل

شریک کھلاڑیوں کے سطحی مفادات، مسابقتی محرکات، اور یہ خوش گمانی کہ سقوط دمشق بس قریب آ چکا ہے، ایسے عوامل تھے جن کے باعث کھلاڑیوں کے مابین مسابقت اور اس کھیل کی تیزی میں بے انتہا اضافہ ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک نے شام میں اپنی وفادار حزب اختلاف قائم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے مقامی انتہا پسند گروپوں کی تشکیل میں مدد کی اور غیر ملکی جنگجووں کو شام میں جا کر لڑنے کے لئے ترغیبات دیں۔ جب ایران نے ایف ایس اے کو دمشق کے قریب آتے دیکھا تو اس نے بھی حزب اللہ ملیشیا کو بھیج دیا اور ایرانی انقلابی گارڈز کے جرنیلوں کی ڈیوٹی لگائی کو وہ عراقی، افغانی اور دیگر ممالک سے حزب اللہ جیسے انتہا پسند گروپ تشکیل دے کر شام میں لڑنے کے لئے بھیجیں۔ اس طرح شام خطے میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے درمیان ہونے والی سب سے بڑی جنگ کا میدان بن گیا۔

ایسے میں بشار حکومت کی فوج اور ایرانی ملیشیاٗوں کے خلاف لڑنے والے انتہا پسند گروپوں سے کسی قسم کا تعاون بھی ایک بھاری غلطی تھا کیونکہ داعش ان تمام قوتوں کو اپنا دشمن سمجھتی تھی اور اس نے بشار کی فوج کے مقابلے میں ایف ایس اے کے خلاف زیادہ شدت سے لڑائی کی تھی۔ انتہا پسندوں کی مدد کرنے والوں کا خیال تھا کہ داعش اور النصرہ فرنٹ بشار کے خلاف تباہ کن اور موثر ہتھیار تھے اور ایف ایس اے کے پیچھے پیچھے دمشق میں داخل ہونے کا آسان ذریعہ بھی۔

بدقسمتی سے یہی حکمت عملی لیبیا میں بھی اپنائی گئی اور انتہا پسندوں پر اسی مقصد کے لئے انحصار کیا گیا، اور یہی نتیجہ برآمد ہوا۔ کسی بلا کی کمر پر سوار ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ بلا تابع ہو گئی ہے۔ دیگر سیاسی جماعتیں جو شامی عوام سے ہمدردی رکھتی تھیں اس خطرے کو پہلے ہی بھانپ چکی تھیں اور انہوں نے ایف ایس اے اور شامی نیشنل کولیشن، جس میں تمام فرقوں اور نسلوں کے لوگ تھے، کی قیادت کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کر دیا تھا۔

آج خطے میں القاعدہ جیسی تنظیموں کے دوبارہ ابھرنے کے خطرات صرف شام ہی کو نہیں بلکہ مصر، سعودی عرب، اردن اور دیگر ممالک کو بھی لاحق ہو چکے ہیں۔ سعودی ذرائع نے مجھے بتایا ہے کہ ریاض نے شام جانے والے شہریوں کو سنگین خطرات کی وارننگ دی ہے اور سینئر علماء اور مفتی صاحبان سے کہا ہے کہ وہ مسلمانوں سے کی جانے والی جہاد کی اپیلوں کو واپس لے لیں۔ ذرائع کے مطابق خدشات اتنے بڑھ گئے ہیں کہ سعودی عرب نے ترک حکام سے کہا کہ وہ ایسے سعودی شہریوں کو گرفتار کر لیں جو شمال کی جانب ۳۶ ویں عرض البلد سے آگے کی طرف گزر جائیں کیونکہ اس جانب کوئی تفریحی اور تجارتی مقام نہیں ہے اور ایسے افراد غالباً شام کے شمالی علاقے میں داخل ہونا چاہتے ہوں۔

بشار الاسد حکومت کی بقا اور بحالی اب ناممکن ہو چکی ہے اور ایک مشکل امکان بن چکی ہے۔ تاہم بشار حکومت ایک چیز میں کامیاب ہو گئی ہے اور وہ ہے بشار الاسد کے بعد کے شام کی تباہی۔ صرف بشار الاسد حکومت کو ہی مورد الزام نہیں ٹھرایا جا سکتا، بلکہ وہ تمام قوتیں جو غلط فہمیوں شکار تھیں اور وہ جو غیر حقیقی اور غیر منطقی تصورات کا تعاقب کرنے والے مفاد پرستوں کی پیروی کر رہی تھیں وہ بھی برابر کی مجرم ہیں۔
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.