.

قومیں عدالت کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں

نازیہ مصطفیٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قاضی ابن ابی لیلیٰ کوفہ کے بڑے مشہور فقیہ اور صاحب الرائے عالم تھے، تیس برس تک منصبِ قضا پر مامور رہے، ایک دن قاضی صاحب اپنے کام سے فارغ ہو کر مجلسِ قضا سے اُٹھے ہی تھے کہ ایک پاگل عورت کو دیکھا جو کسی سے جھگڑ رہی تھی، دورانِ گفتگو عورت نے اس شخص کو ’’یا ابن الزانیتین‘‘ یعنی ’’بدکار ماں اور بدکار باپ کے بیٹے‘‘ کہہ کر گالی دی۔

قاضی صاحب نے عورت گرفتار کرنے کا حکم دیا، پھر قاضی صاحب مجلسِ قضا میں واپس آئے اور حکم دیا کہ گالی دینے اور تہمت لگانے کے جرم میں عورت کو کھڑا کرکے درّے لگانے اور دو حدیں مارنے کا فیصلہ دیا، ایک حد ماں کو بدکاری کی تہمت لگانے کے وجہ سے اوردوسری باپ کوبدکاری کی تہمت لگانے کے وجہ سے۔قاضی صاحب کا ہم عصر ایک عالم اور فقیہہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا،اُس نے اسلامی تاریخ کا ’’پہلا ازخود نوٹس‘‘ لیا اور کہا کہ ’’یہ حد لگانے میں قاضی ابن ابی لیلیٰ نے چھ غلطیاں کیں‘‘۔

اول غلطی یہ کہ عورت مجنونہ یعنی پاگل تھی اور مجنونہ پر حد نہیں، دوسری غلطی یہ کہ مسجد میں حد لگوائی، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، تیسری غلطی یہ کہ عورت کو کھڑا کر کے حد لگوائی جبکہ عورتوں پر حد بیٹھا کر لگائی جاتی ہے، چوتھی غلطی یہ کہ اس پر دو حدیں لگوائیں جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک لفظ سے اگر کوئی پوری قوم پر تہمت لگائے تو بھی ایک ہی حد واجب ہوتی ہے، پانچویں غلطی یہ کہ حد لگانے کے وقت اس آدمی کے ماں باپ موجود نہیں تھے، حالانکہ ان کا حاضر ہونا ضروری تھا کیونکہ انہی کی طلب پر حد لگ سکتی تھی، قاضی صاحب کو مقدمہ کر نے کا کیا اختیار تھا؟ چھٹی غلطی یہ کہ دونوں حدوں کو جمع کر دیا حالانکہ جس پر دو حد واجب ہوں، جب تک پہلی خشک نہ ہو جائے دوسری نہیں لگا سکتے۔

ہم عصر عالم کی جانب سے سنگین غلطیوں کی نشاندہی پر قاضی ابن ابی لیلیٰ نہایت برہم ہوئے اور گورنر کوفہ سے جا کر شکایت کردی ، جس پر گورنر نے قاضی کے ہم عصر عالم دین کو فتویٰ دینے سے روک دیا لیکن چند روز کے بعد گورنر کوفہ کو اتفاق سے خود فقہی مسائل میں مشکلات پیش آئیں، جو قاضی ابن ابی لیلیٰ بھی حل نہ کرسکے تو گورنر کوفہ کو مجبورا قاضی صاحب کے اُس ہم عصر عالم دین کی طرف رجوع کرنا پڑا، قاضی ابن ابی لیلیٰ کے فیصلے میں برجستگی سے چھ غلطیاں تلاش کرنے والے یہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ اپنے وقت کے سب سے بڑے عالم دین، فقیہہ، رعب دار شخصیت، متوسط قد، حسین و جمیل، فصیح و بلیغ، شیریں دہن اور خوش آواز کے مالک امام ابو حنیفہ ؒتھے۔ کہتے ہیں کہ کیسا ہی پیچیدہ مضمون ہو تا ، امام صاحب نہایت صفائی اور فصاحت سے فورا ًادا کر سکتے تھے۔

وقیع بن جراح سے روایت ہے کہ ہم امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں تھے کہ ایک عورت آئی اور عرض کیا کہ میرا بھائی مرگیا اس نے چھ سو (600) اشرفیاں ترکہ میں چھوڑیں مگرقاضی کی عدالت سے مجھے صرف ایک اشرفی حصہ میں ملی ہے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فورا فرمایا:

’’یہی تیرا حق ہے‘‘ عورت جواب سن کر ناصرف پریشان ہوئی بلکہ حاضرین محفل نے بھی حیرانی کا اظہار کیا تو تو امام صاحب نے سوال کیا ’’اچھا بتاؤ کیا تمہارے بھائی نے دو بیٹیاں سوگوار چھوڑیں؟‘‘ عورت نے عرض کیا ’’ہاں دو بیٹیاںچھوڑی ہیں‘‘، آپ نے پوچھا:

’’ماں چھوڑی؟‘‘ عورت نے کہا ’’ہاں‘‘بیوی چھوڑی؟ عورت نے کہا ’’ہاں‘‘بارہ بھائی اور ایک بہن چھوڑی؟ عورت نے جواب دیا ’’جی ہاں‘‘ تب امام صاحبؒ نے عورت کو مخاطب کرتے ہوئے وضاحت فرمائی ’’تیرے بھائی کی دونوں بیٹیوں کا حصہ دو ثلث (یعنی نصف کے حساب سے) چار سو (400) اشرفی بنتا ہے۔ ماں کا ایک سدس(یعنی دسویں حصہ کے حساب سے) ایک سو اشرفی (100) ہے اور بیوی کا ثمن (یعنی آٹھویں حصہ کے حساب سے) پچہتر(75) اشرفی ہے۔ باقی پچیس (25) اشرفیاں جس میں چوبیس (24) بھائیوں کی ہیں ہر بھائی کو دو اشرفی اور تیری صرف ایک اشرفی بنتی ہے‘‘۔

جواب سن کر محفل میں سبحان اللہ ، سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہوئیں اور عورت مطمئن ہوکر لوٹ گئی۔ یہ امام صاحب کے علم و فضل کا کمال تھا کہ حاکم وقت انہیں ہمیشہ اپنے دربار میں دیکھنے کے متمنی رہے ، لیکن امام صاحب درباروں سے بے نیاز رہے۔

خطیب بغدادی سے روایت ہے کہ والی عراق یزید بن عمر بن ہیبر نے امام ابو حنیفہؒ کو کوفہ کا قاضی بننے کی پیشکش کی، امام صاحب نے انکار کیا تو یزید بن عمر بن ہیبرنے غصے میں آکر امام صاحب کو ایک سو دس کوڑے لگوائے، روزانہ دس کوڑے لگواتا جب بہت کوڑے لگ چکے اور امام صاحب اپنے انکار پر ڈٹے رہے، تو اس نے مجبور ہو کر چھوڑ دیا۔ ایک دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب کوفہ کے قاضی ابن لیلیٰ کا انتقال ہو گیا اور عباسی خلیفہ منصور نے امام صاحب کیلئے قاضی کا عہدہ تجویز کیا، لیکن امام صاحب نے خلیفہ کو بھی صاف انکار کیا اور کہا کہ ’’میں منصب کی قابلیت نہیں رکھتا‘‘ منصور نے غصہ میں آ کرامام ابو حنیفہؒ سے کہا:

’’تم جھوٹے ہو‘‘، جس پر امام صاحبؒ بولے ’’اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ دعویٰ ضرور سچا ہے کہ میں عہدہ قضاء کے قابل نہیں کیونکہ جھوٹا شخص کبھی قاضی نہیں مقرر ہو سکتا‘‘۔

خلیفہ نے لاجواب ہوکر امام ابو حنیفہ کو قید میں ڈلوا کر ایذا پہنچانا شروع کردی،مفسرین لکھتے ہیں کہ خلیفہ کی جانب سے قضاء کا منصب نہ لینے کی وجہ امام صاحب کے نزدیک ایک حدیث مبارکہ تھی، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’جس نے قاضی کا عہدہ لیا تو وہ چھری کے بغیر ہی ذبح کر دیا گیا۔‘‘امام صاحب کے نزدیک قضاء کا منصب ایسا تھا، جو مکمل غیر جانبداری اور انصاف کا تقاضہ کرتا تھا۔

امام ابو حنیفہ بہت بیباک، دلیر، اور نڈر تھے۔آپ سیاسی افکار و نظریات کا اظہار بر سرعام کیا کرتے تھے اور مثالوں کے ذریعہ بڑی حکمت کے ساتھ لوگوں کے غلط و فاسد عقائد کی اصلاح کیا کرتے تھے، اس میں زیادہ تر غلط اور فاسد عقائد خلیفہ کے حواریوں کی جانب سے پھیلائے ہوئے ہوتے تھے، اسی لیے خلیفہ آپ کو دربار میں ملازم رکھ کر آپ کی زباں بندی کرنا چاہتا تھا، لیکن آپ کو ظلم کو گوارہ تھا لیکن حق کے خلاف بات گوارہ نہ تھی، مورخ لکھتا ہے کہ قید خانے میں امام ابو حنیفہؒ پر ظلم کے اتنے پہاڑ توڑے گئے کہ اگر وہ ظلم کسی ہاتھی پر ہوتا تو وہ بھی بلبلا اٹھتا، لیکن امام صاحب نے صبر و شکراور برداشت کا عالیشان مظاہرہ کیااور اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔ خلیفہ نے امام صاحب کی مقبولیت سے خائف ہوکر انہیں قید خانے میں زہر دے کر شہید کردیا۔

امام ابو حنیفہؒ کی شہادت کی خبر سن کر سارا بغداد امڈ آیاتھا، بغداد کے قاضی حسن بن عمارہ نے آپ کو غسل دیا،حسن بن عمارہ آپ کو غسل دیتے جاتے کہتے جاتے تھے’’واللہ!تم سب سے سب سے بڑے فقیہہ،سب سے بڑے عابد اور ہم سب سے بڑے زاہد تھے، تم میں تمام خوبیاں پائی جاتی تھیں‘‘۔ آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تو پچاس ہزار کا مجمع تھا، لیکن نماز جنازہ میں شرکت کیلئے آنے والوں کا سلسلہ ختم نہیں ہورہا تھا، یوں امام صاحبؒ کی نمازِ جنازہ 6 مرتبہ ادا کی گئی اور عصر کے قریب جا کر امام صاحب کو سپرد خاک کیا جا سکا، تعزیت کیلئے آنے والے لوگوں کا یہ حال تھا کہ تقریباً بیس دن تک دور دراز سے لوگ آتے رہے اور امام صاحب کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جاتی رہی، ایک اندازے کے مطابق بیس لاکھ سے زائد لوگوں نے امام ابو حنیفہ کی نماز جنازہ میں شرکت کی، نماز جنازہ میں بے خوف ہوکر شرکت کرنے والے یہ وہ لوگ تھے جنہیں امام ابو حنیفہ کے حرف انکار نے ایک قوم بنا دیا تھا۔

قارئین کرام!! امام ابو حنیفہ ؒنے حاکم وقت کا ظلم برداشت کرکے اور قید خانہ میں ایذا کی وجہ سے شہادت کا سامنا کرکے عملی کردار سے بتادیا کہ لوگوں کو ایک قوم کیسے بنایا جاسکتا ہے؟امام صاحب نے بتایا کہ لوگوں کو ایک قوم حکمران یا سیاستدان نہیں بناتے بلکہ انصاف کے تقاضوں کو سمجھنے والا ایک شخص لوگوں کو قوم بناتا ہے، امام صاحب ؒکی حیات مبارکہ بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص منصف اعلیٰ کے منصب سے انکار سے لوگوں کو قوم بناسکتا ہے تو قضا کے منصب پر بیٹھ کر تو اُسے اِس حوالے سے کمال ہی کردینا چاہیے۔

امام صاحب کی زندگی کے روشن اوراق بتاتے ہیں کہ اگر عدالتیں صحیح کام کریں، جج عدالتی فرائض مکمل غیر جانبداری سے ادا کریں، قاضی حاکم وقت کی کاسہ لیسی نہ کریں، منصف انصاف کا ترازو تولتے وقت ڈنڈی نہ ماریںاور عادل کے عدل میں کوئی جھول نہ ہو تو لوگ قوم بن جاتے ہیں،قاضی قضا(چیف جسٹس) کے منصب سے انکار کرنے والے امام ابو حنیفہ ؒ کو یقین کامل تھا کہ اصل عدالت وہی ہے جو جابر سلطان کے سامنے بے خوف اور نڈر ہوکر کلمہ حق کہہ سکے۔ امام صاحبؒ نے جابر سلطان کے قید خانہ میں جان دے کر اپنے لہو سے یہ سنہری مثال پیش کہ قومیں بلاشبہ ریاست کی آغوش میں پلتی ہیں، لیکن قومیں جنم عدالت کی کوکھ سے لیتی ہیں۔ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
------------------------------------
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.