.

ایک ’’وائٹ ہائوس‘‘ اسلام آباد میں بھی؟

عظیم ایم میاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صرف چند ہفتے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایک بھارتی ٹی وی نے مبہم سی ویڈیو کو بنیاد بنا کر ایک تنازع کھڑا کر دیا کہا آخر ہیلو کہنے کیلئے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے ہاتھ نواز شریف نے ہلایا تھا یا نریندر مودی نے ہلایا لیکن 30 نومبر کو پیرس کی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی وزیراعظم نواز شریف سے غیررسمی قربت اور بے تکلفانہ انداز میں گفتگو، بہت سے حلقوں کیلئے حیرانگی کا باعث ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ نریندر مودی کی وقتی چال ہے یا پھر پاک بھارت ڈائیلاگ کے آغاز اور پیش رفت کا ذریعہ یہ پیرس کی ملاقات بنتی ہے۔

موجودہ زمینی حقائق تو یہ واضح کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کا گزارا صرف اور صرف ڈائیلاگ کے ذریعے ہی ہے۔ میری رائے میں انتہا پسند نریندر مودی کے خود آگے بڑھ کر اس انداز میں ’’نواز شریف سے ملنے کی ایک وجہ نریندر مودی کی حکومت کی داخلی مشکلات ہیں جو ان کی حکومت کی انتہا پسندی کے خلاف ایک منظم احتجاج کی شکل اختیار کر رہی ہیں، لوگ اپنے سرکاری میڈل واپس کر رہے ہیں۔ بھارتی معیشت میں کوئی تیزی نہیں آئی۔عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں اب فاروق عبداللہ جیسے بھارت کے حامی لیڈر بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ڈائیلاگ کو ہی حل کا ذریعہ قرار دے چکے ہیں۔ دوسری ایک وجہ نریندر مودی کو امریکی مشورہ ہے کہ داعش کے نئے خطرناک چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی ایک بار پھر ضرورت آن پڑی ہے جس کیلئے پاکستان اور پاکستانی عوام کو ’’انگیج‘‘ کرنا ضروری ہے۔ فوج کے سربراہ راحیل شریف کے دورہ امریکہ کے دوران پیرس کے سانحے اور داعش کے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے بھی جس نئے رول کی بات کی گئی ہے اس کیلئے بھی وقتی طور پر پاک بھارت تعلقات میں ’’انجماد‘‘ کو پگھلانے کی ضرورت ہے۔ مذکورہ بالا تناظر میں پیرس میں نواز شریف نریندر مودی ملاقات پر حیرانگی کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے اس کا اندازِ ڈپلومیسی بھی وسیع تناظر میں طے پاتا ہے جس کو سمجھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہمارے بہت سے مسائل کا حل ہے۔

بات سیکھنے کی ہے تو آج ہم ٹیکنالوجی ، فیشن ، لائف اسٹائل ، کلچر امریکہ سے سیکھ رہے ہیں جو چیز یا بات امریکی وضع قطع اور لائف کا حصہ ہے اسے شوق سے اپنا کر خود کو مہذب اور باخبر ثابت کرنے کی کوشش میں تعلیم یافتہ اور ناخواندہ دونوں ہی اپنے اپنے انداز میں مصروف ہیں۔ ہمارے حکمراں طبقے کے سیاستدان ہوں یا بیورو کریٹ یا کوئی اور سب کو امریکی نظام اور امریکی اداروں ، امریکی شخصیات سے ایک مخصوص کشش ہے۔ ماضی میں بھی عالمی اور ابھرنے والی طاقتوں سے سیکھنے اور نقل کرنے کا رجحان تاریخ کا ریکارڈ رہا ہے۔ مسلم حکمرانوں کے عروج کے دور میں بھی ارد گرد کی اقوام نے یہی عمل دہرایا ہے۔ لیکن آج ہم نے سیکھنے اور اپنانے کا رجحان صرف ضروریات زندگی کیلئے بنائی گئی ایجادات ، وضع قطع اور ظاہری رویوں تک محدود اور منحصر کر لیا ہے۔ ہمارے حکمراں وائٹ ہائوس ، امریکی کانگریس اور دیگر امریکی اداروں میں مدعو کئے جانے کو باعث افتخار سمجھتے ہیں اور ایسی دعوت کو اپنی مقبولیت اور اپنے دور حکمرانی کا روشن حصہ قرار دیتے ہیں مگر اس نظام کے عروج اور استحکام کی وجوہات پر نظر ڈالنے اور اسے اپنانے کی بجائے صرف اس کی ظاہری وضع قطع ، اختیارات ، ساخت اور اثر ورسوخ سے مرعوب ہو کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ گرین کارڈ، امریکی شہریت کے حصول کیلئے ، امریکی درس گاہوں میں داخلوں اور تعلیمی ڈگریوں کے حصول کیلئے کیا کچھ کر گزرتے ہیں اور ان کے حاصل ہونے کو اپنے لئے وجہ افتخار قرار دیتے ہیں لیکن اس امریکی ترقی و عروج کی اصل بنیاد کو قابل توجہ اور قابل فکر نہیں سمجھتے۔

(1) امریکی صدر عوام سے منتخب ہوکر وائٹ ہائوس میں چار سال کیلئے قیام کرتا ہے اور ایک مقررہ سالانہ تنخواہ پاتا ہے۔ متعدد امریکی کمپنیوں کے سربراہ اور چیئرمین امریکی صدر سے بھی کہیں زیادہ بڑی تنخواہ اور مراعات پاتے ہیں۔ لیکن سیاسی نظام کی خوبی دیکھئے کہ امریکی صدر اپنے اور اپنے اہل خانہ کے کھانے کا بل خود ادا کرتا ہے۔ اپنے ذاتی مہمانوں کی میزبانی اور کھانے کا بل بھی اس کے ذمہ ہوتا ہے۔ صرف حکومت کی سرکاری تقریبات اور ڈنرز کے اخراجات حکومت دیتی ہے۔ ری پبلکن صدر ریگن کی اہلیہ نینسی اکثر ناشتے اور کھانے کے بلوں کی ادائیگی کے وقت زیادہ رقم ادا کر دیتیں تاکہ بعد میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ صدر ریگن نے کھانے کا بل کم ادا کیا۔ کیا وائٹ ہائوس جانے والے ہمارے حکمراں اس اصول کو وائٹ ہائوس کا سوونیئر اصول سمجھ کر اپنانے کو تیار ہیں؟

(2) امریکہ کے اسٹیٹ گیسٹ ہائوس بقی بلیئر ہائوس میں دورہ کرنے والے غیرملکی مہمانوں کی تعداد، قیام کے دن اور دیگر قواعد طے ہیں امریکی صدر سمیت کوئی بھی ان قواعد کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ ہمارے ہاں سرکاری گیسٹ ہائوسز اور سرکاری پراپرٹی کے دروازے کسی بھی متعلقہ اختیار رکھنے والے افسر کے اشارے پر کتنے ہی غیرسرکاری اور ذاتی مہمانوں کیلئے طویل مدت کیلئے کھل جاتے ہیں؟ اور کوئی حساب کتاب اور جواب نہیں۔ (4) مفاد کے تضاد کا قانون امریکی صدر سے لیکر ایک معمولی کلرک تک لاگو ہے کہ وہ اپنے سرکاری اختیارات سے اپنے بچوں، عزیزوں اور دوستوں کو فائدہ یا فیصلہ نہیں دے سکتا۔ گرفت سخت اور سیاسی نقصان ، عوام میں بدنامی خلاف ورزی کا نتیجہ اور سزا الگ ہے۔ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہو کر ہمارے نظام میں فیصلے کرنے والے حضرات کیا یہ اصول اپناتے ہیں؟ سرکاری املاک، ڈیوٹی کی گاڑیوں سے الیکشن اور اس کے اخراجات ، سیاست کے ضوابط ، جوابدہی کے اصولوں نے امریکہ کو امریکہ بنایا کیا ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں نے امریکی دوروں میں اس پہلو پر نظر ڈالی؟ بشکریہ روزنامہ"جنگ"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.