.

ترکی، روس اور امریکہ

ڈاکٹر رشید احمد خان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

1948ء میں آبنائے باسفورس سے سابق سوویت یونین کے جنگی جہاز گزرنے کے مسئلے پر اور یونان میں کمیونسٹ نواز گوریلا جنگ کی حمایت کی وجہ سے جب سوویت یونین اور ترکی کے درمیان کشیدگی نے خطرناک صورت اختیار کی تو اس وقت کے امریکی صدرہیری ٹرومین نے علامتی طور پر امریکی بحری بیڑے کے ایک تباہ کن جہاز ''مسوری'' کو ترکی کی بندر گاہ پر لنگر انداز کرکے ترکی کی حمایت کا اعلان کردیا تھا۔صدر ٹرومین کے اس اعلان کو جسے ''ٹرومین ڈاکٹرائن'' کانام دیا گیا تھا، مشرق اور مغرب کے درمیان ''سرد جنگ'' کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔اس کے بعد ترکی کو 1949ء میں تشکیل پانے والے معاہدہ شمالی اور قیانوس ''نیٹو'' میں شامل کرلیا گیا۔ترکی، یورپ اور شمالی امریکہ سے باہر واحد ملک تھا، جسے اس دفاعی معاہدے میں شامل کیاگیا جس کا بنیادی مقصد مغربی یورپی ممالک کا ممکنہ روسی حملے کے خلاف دفاع تھا۔

سرد جنگ کے اس طویل دور میں ترکی امریکہ کا ایک قریبی اور اہم اتحادی رہا۔ 1955ء میں جب مشرق وسطیٰ میں امریکی اثرور سوخ کو مستحکم کرنے کے لئے معاہدہ مغداد (بعد میں سینٹو) کیا گیا تو ترکی عراق، ایران، پاکستان اور برطانیہ اور اب جبکہ شام سے اڑنے والے ایک روسی جنگی طیارے کو ترکی نے اپنی سرحد کے قریب مارگرایا ہے اور روس کے ساتھ اس کے تعلقات سخت کشیدگی کاشکار ہوگئے ہیں، اس نوع کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اگر حالات کو قابو میں نہ رکھا گیا تو تیسری عالمی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔بہت سے حلقوں کے نزدیک یہ جنگ پہلے ہی شروع ہوچکی ہے اور مشرق وسطیٰ اور خصوصاًشام میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ اس کا پہلا مرحلہ ہے۔گزشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کی وجہ سے نہ صرف شام میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، بلکہ ان سے کہیں زیادہ تعداد میں ہمسایہ ممالک بلکہ یورپ اور امریکہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ایک بھرپور جنگ کے جتنے بھی خدوخال ہوتے ہیں وہ سب کے سب شام اور عراق میں ہونے والی لڑائیوں میں موجود ہیں، بلکہ اب تو فریقین کی صف بندی بھی واضح ہورہی ہے اور نئے کردار اس جنگ میں شامل ہورہے ہیں۔

ان حالات میں ترکی اور روس کے درمیان کشیدگی، حالات کو مزید خراب کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔اس لیے کہ شام میں جاری خانہ جنگی اور ''داعش'' کے خلاف کارروائیوں میں روس اور ترکی بھی اہم کردار ہیں۔شام کے حالات پہلے ہی پیچیدہ تھے، روسی طیارے کے مارگرائے جانے کے بعد روس اور ترکی کے درمیان کشیدگی نے اس صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

روس اور ترکی کے درمیان موجودہ کشیدگی کا ایک افسوناک پہلو یہ بھی ہے کہ سرد جنگ کے خاتمہ اور سابق سوویت یونین کے حصے بخرے ہونے کے بعد ترکی اور روس کے دوطرفہ تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی تھی۔ اسے ممکن بنانے میں دونوں ملکوں کی موجودہ قیادت نے اہم کردار ادا کیا ہے اور ان کی کوششوں کی وجہ سے ترکی اور روس کے درمیان نہ صرف دوطرفہ بنیادوں پر تجارت میں اضافہ ہوا، بلکہ سیاسی اور دفاعی شعبوں میں بھی ترکی اور روس کے درمیان قریبی تعاون قائم ہوچکا تھا۔2008ء سے روس ترکی کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر چلا آرہا ہے۔اس سے قبل یہ مقام جرمنی کا حاصل تھا۔2013ء میں ترکی اور روس کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 32بلین امریکی ڈالر تھا۔2010ء سے ترکی اور روس کے درمیان ویزے کے بغیر لوگوں کی آمدورفت جاری ہے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ترکی کو حاصل ہوا ہے کیونکہ ترکی میں سیر کی غرض سے آنے والے روسی سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2013ء میں ترکی میں آنے والے روسی سیاحوں کی تعداد 40لاکھ تھی۔

لیکن طیارے کے حادثے کے بعد روسی حکومت نے ترکی کے خلاف جن اقتصادی پابندیوں کا اعلان کیا ہے ان میں اپنے باشندوں کو ترکی کا دورہ کرنے سے ممانعت بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ روس نے ترکی سے کچھ درآمدات پر بھی پابندی کا اعلان کیا ہے۔اگرچہ اس کی تفصیلات کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا لیکن ترک باشندوں کی ایک بڑی تعداد روس میں مختلف شعبوں خدمات سرانجام دیتی ہے۔ اگر روس کی طرف سے ترکی کے خلاف ایسے اقدامات کا سلسلہ جاری رہا تو نہ صرف دونوں ملکوں میں گزشتہ ایک دہائی سے تعاون اور گرمجوشی پر مبنی تعلقات کو نقصان پہنچے گا، بلکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، جس میں ترک اور روس دونوں اہم کردار ادا کررہے ہیں، مزید پیچیدہ ہوجائے گی، خصوصاً داعش کے خلاف مغربی ممالک جس وسیع تر اتحاد کو تشکیل دینے کی کوشش کررہے ہیں، وہ بری طرح متاثر ہوگا۔

اس صورتحال پر یورپی ممالک خصوصا فرانس سب سے زیادہ فکر مند ہے۔پیرس میں دہشت گردوں کے حملے کے بعد فرانس نے داعش کے خلاف بھرپور فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔فرانس حکومت ان کاروائیوں میں روسی مدد اور تعاون کی خواہش مند ہے،لیکن طیارے کے مار گرائے جانے کے بعد روس اور ترکی کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال نے اس راستے میں مشکل رکاوٹیں کھڑی کر دیں ہیں۔

امریکہ نے ابھی تک اس سلسلے میں بڑ ا محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے۔ اگرچہ امریکی حکومت نے روس کے اس الزام کی تردید کی ہے کہ روسی طیارے کو مار گرائے جانے میں امریکیوں نے ترکی کو طیارے کے روٹ کے بارے میں اطلاعات فراہم کر کے مدد کی تھی تاہم یہ بات بالکل عیاں ہے کہ اس جھگڑے میں امریکہ کا جھکاؤ ترکی کی طرف ہوگا ،کیونکہ ترکی نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے امریکہ کا اتحادی ہے،لیکن سب سے زیادہ اہم شام کے بارے میں امریکہ اور ترکی کے درمیان موقف کی یکسانیت ہے۔دونوں صدر بشارلاسد کوشام کی صورتحال کا ذمہ دار قرار دے کر اقتدار سے ان کی علیحدگی کے حق میں ہیں اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والی فوج کی مدد کر رہے ہیں۔

اس کے مقابلے میں روس ْصدر بشارالاسد کا ساتھ دیتے ہوئے شامی حکومت کے باغیوں کے خلاف فضائی حملوں میں مصروف ہے۔امریکہ ترکی اور سعودی عرب روس کی طرف سے شامی حکومت کی اس مدد پر خوش نہیں کیونکہ اس سے صدر بشارالاسد کو تقویت مل رہی ہے۔روسی حکومت کے مطابق ترکی نے شام میں باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کرنے والے روسی طیارے کو جان بوجھ کر مار گرایا ہے تاکہ روس شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کو مدد فراہم کرنے اور ان کی حمایت میں باغیوں پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھنے سے اجتناب کرے ، لیکن روس نے نہ صر ف شام میں باغیوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ، بلکہ ترکی کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔روس کا موقف ہے کہ ترکی کی طرف سے روس کا جنگی طیارہ مار گرائے جانے کا اقدام ایک سوچی سمجھی اشتعال انگیزی ہے اور ترکی کو اپنا جرم تسلیم کرکے اس پر معافی مانگنی چاہیے۔لیکن ترکی نے روس کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔اس سے فریقین کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔تاہم ''داعش'' کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر یورپی ممالک اس بحران کو ختم کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ بشکریہ روزنامہ 'دنیا'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.