.

روس، ترکی تنازع

رضوان رضی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت بین الاقوامی ذرائع ابلاغ خصوصی طور پر اور پاکستانی میڈیا عمومی طور پر ایک مخصوص طرزِ فکر حاوی ہے جو یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ روس اور ترکی کے درمیان شام کے تنازعے پر باقاعدہ ایک جنگ کا آغاز ہونے کو ہے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کی فوجیں دوبدو ہو جائیں ۔ شائد ایسا ہی ہو جائے اگر دنیا بھر یں جنگیں اپنے اپنے اقتصادی مفادات کو آگے بڑھانے کا ذریعہ خیال نہ کی جاتی ہوں۔ لیکن اگر دنیا بھر میں جنگیں زیادہ سے زیادہ قدرتی وسائل پر قبضے کے لئے ہی ہوتی ہیں تو اقتصادی اور مالیاتی معاملات کے حوالے سے ترکی اور روس باہم اس قدر جڑے ہوئے ہیں کہ وہ ایک دورے سے جنگ کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ابھی تک کی تمام تر تلخیوں کے باوجود روس نے ترکی پر براہِ راست حملے کی نہ تو دھمکی دی ہے اور نہ ہی عندیہ۔ تاہم اردگان کی کردارکشی اور کی ایک مہم ضرور چلائی جا رہی ہے جس کو پاکستان میں موجود ایران نواز عناصر کی مکمل مدد اور پشتی بانی حاصل ہے اس لئے ہمیں پاکستان میں بیٹھے اس کی تپش کچھ زیادہ ہی محسوس ہو رہی ہے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ بس چھڑی کہ چھڑی، حالاں کہ ایسا بالکل نہیں ہے۔

ترکی نے خود کو اقتصادی طور پر خود مختار اور خطے میں اہم بنانے کے لئے اپنے ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پائپ لائنوں کا جام بچھا رکھا ہے، جی ہاں پائپ لائنوں کا جال۔ آپ نے اگر تیل یا گیس ترکی کی جغرافیائی حدود کے اندر سے گذار کر لے جانا ہے اور آپ ترکی کے ہمسائے ہیں تو آپ کو اپنی پائپ لائن صرف ترکی کی سرحد تک لے کر جانا ہو گی، اس کے آگے ترکی کی بچھی بچھائی محفوظ پائپ لائن آپ کو دستیاب ہو جائے گی، وہاں اس میں اپنا تیل یا گیس ڈالئے اور یورپ میں جا کر نکال کر اُس ملک کو سپلائی کر دیجئے جو آپ کا گاہک ہے۔ ترکی کے اندر بچھی ان پائپ لائنوں سے محصول اور کرائے کی مد میں ہونے والی آمدن کا اندازہ اس امر سے لگا لیجئے کہ ایران سے پائپ لائن پاکستان کے اندر سے گذار کر بھارت پہنچانے کے لئے پاکستان نے بھارت سے ایک ارب ڈالر سالانہ کرایہ وصول کرنا تھا۔ اس وقت تک علاقے کے دیگر ملکوں کے علاوہ ایران اور روس کی یورپ کو تیل اور گیس کی برآمدات ترکی کے اندر بچھی پائپ لائنوں سے ہو کر گذرتی ہیں تو ایک اطلاع کے مطابق آٹھ سے زائد پائپ لائنیں روس اور ایران کا پیدا کردہ ایندھن یورپ کی آبادی کو فراہم کرتی ہیں اور گیس کے حوالے سے یورپ کا تمام تر انحصار انہی پایپ لائنوں کے ذریعے کی گئی فراہمیوں پر ہے۔

بات یہاں تک ہوتی تو شائد بات ٹھیک ہوتی لیکن ترکی بذاتِ خود اپنی ملکی گیس کی ضروریات کا ساٹھ فی صد روس کی طرف سے فراہم کی گئی گیس سے پورا کررہا ہے۔ یعنی روس کے ساتھ کسی بھی مہم جوئی کے نتیجے میں اس کو اپنی ساٹھ فی صد گیس ضروریات کیلئے متبادل ذرائع سے انتظام کرنا پڑے گا، جو کہ قدرتی طور پر اس کو فوری طور پر اپنے ہمسایہ ایران سے دستیاب ہو جائے گی جو پہلے ہی قطر کے سامنے واقع پارس یا فارس گیس فیلڈ سے پائپ لائن بچھا کر ترکی کی سرحد تک پہنچا چکا ہے اور اس انتظار میں ہے کہ کب ترکی اس کو اشارہ کرے اور وہ اپنا لیور کھینچ کر گیس کی فراہمی شروع کرے۔ (یادش بخیر ایران نے پاکستان کو گیس کی فراہمی بھی اس گیس فیلڈ سے کرنا ہے)اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایندھن کے معاملے میں ترکی روس کا محتاج نہیں ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا روس ترکی کا محتاج ہے؟

تو جواب ہے کہ جی بالکل! اور روس محتاجی ایسی ہے کہ اس کو شائد کوئی متبادل بھی دستیاب نہیں۔ جی ہاں روس کی یورپ کو گیس اور تیل کی تمام تر فراہمی ترکی کے رستے ہی ممکن ہے جو کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں متاثر ہو سکتی ہے، یعنی روس کی اس تمام آمدنی کا خاتمہ جس پر وہ اینٹھتا پھرتا ہے اور ایک دفعہ پھر یورپ اور امریکہ کو لال لال آنکھیں دکھاتا پھرتا ہے۔ اسی ایندھن کی فروخت کے باعث روس کے پاس چین کی طرح اتنے ڈالرز اور یورو اکٹھے ہو گئے ہیں کہ اس کو رکھنے کی جگہ نہیں لہٰذا اس نے پاکستان اور یونان جیسے ملکوں میں تزویراتی سرمایہ کاری کرنا شروع کر دی ہے جیسے حال ہی میں اس نے پاکستان میں موبی لنک کے بعد اب وارد خرید کر پاکستان کے ٹیلی کام شعبے میں اپنی مناپلی منوا لی ہے جب کہ یورپ کی ٹیلی نار اور چین کی زونگ اس سے کوسوں پیچھے ہیں۔ امریکہ نے جب روس کو یونان کے بنکاری کے شعبے میں پھانسنے کی کوشش کی تا کہ یونان کے بنکوں میں پڑا روس کا کھرب ہا ڈالر کا سرمایہ یونان کے بنکوں کے دیوالیہ ہونے کے نتیجے میں ضبط ہو جائے تو سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔لیکن وہ تو یونان اور یورپ کی قیادت کی عقل مندی آڑے آئی ورنہ امریکہ تو آئی ایم ایف کے ذریعے کارروائی ڈال گیا تھا۔

کچھ لوگوں کی یہ رائے ہو سکتی ہے کہ روس پٹرول کے علاوہ گیس کو ایل این جی بنا کر جہازوں کے ذریعے بھی تو برآمد کر سکتا ہے، تو ایسے حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ روس کو اب تک گرم پانیوں کی سہولت دستیاب نہیں، اس لئے وہ صرف چھ ماہ کے اس تجارت کو کرنے اور باقی چھ ماہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھنے کی عیاشی افورڈ نہیں کر سکتا۔

بین الاقوامی اسٹیلشمنٹ نے 1944 کے معاہدے کے تحت ایک پلاننگ کے تحت دنیا کے مختلف ممالک کو اقتصادی طور پر ایک دوسرے سے منسلک کیا تھا تا کہ جنگوں کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے اور اسی حکمتِ عملی کے تحت پاکستان کو ایران، پاکستان اور انڈیا (آئی پی آئی) اور ترکمانستان ، افغانستان، پاکستان اور بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن میں پرویا جا رہا ہے جس سے بھارت ہر دفعہ عین وقت پر انکاری ہوجاتا ہے تا کہ کہیں اُسے پاکستان کا محتاج نہ ہونا پڑ جائے اور مبادہ پاکستان کے اُس پر کسی بھی حوالے سے تزویراتی بڑھوتری (سٹریٹجک ایڈوانٹیج) حاصل ہو جائے۔ اس طرح کے تمام منصوبوں کی ضامن بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ بنتی ہے، سرمایہ ورلڈ بنک فراہم کرتا ہے اور مذاکرات امریکہ کرواتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جب دو ملکوں کے باہمی مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوں گے تو دونوں ملک باہمی مہم جوئی سے احتراز کریں گے۔

علاقائی سیاست میں ہم نے اب تک امریکہ بہادر کو ایران کے راستے کے کانٹے چنتے ہوئے ہی دیکھا ہے۔ کسی کو برا لگے یا اچھا کہ لیکن یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ شیطانِ بزرگ ، امریکہ نے مہربانِ بزرگ ہونے سے پہلے ہی اس خطے میں ایران کی نظریاتی اور جغرافیائی مخالفوں کو چن چن کر ختم کیا ہے اور ان کی ریاستوں کو تباہ و برباد کرنے کے علاوہ ان کے لوگوں کے قتلِ عام سے بھی گریز نہیں ،امریکیوں کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق امریکی مہم جوئیوں کے نتیجے میں چالیس لاکھ کے قریب عام لوگ عراق میں جب کہ بیس لاکھ کے قریب افغانستان میں قتل کئے گئے اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔

یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ نے ایران کو اس خطے میں اپنے سیاسی ، اقتصادی اور جغرافیائی مفادات کی توسیع کے انتہائی سازگار ماحول فراہم کیا ہے۔ اس وقت خطے میں پاکستان سمیت جتنے ملکوں میں ایران نے پنگے لے رکھے ہیں اتنے شائد امریکہ نے بذاتِ خود بھی نہیں لئے ہوئے۔ایسی صورت میں ایران کی اقتصادی مفادات کی بڑھوتری کے لئے اس سے بڑھ کر اور کون سی چال ہو سکتی ہے کہ روس کی یورپ کو ترکی کے راستے گیس کی فراہمی بند ہو اور ایران کو ترکی اور یورپ کو وہاں پر اپنا سودا بیچنے کا موقع ملے۔ ایک طرف روس کی اقتصادی ناکہ بندی کا ادھورا خواب بغیر کچھ کئے مکمل ہو جائے گی جب کی دوسری طرف اس سابقہ خفیہ اور موجودہ اعلانیہ حلیف کے اقتصادی مفادات کا تحفظ بھی ہو جائے گا۔ اس زنجیر کی ٹوٹی کڑی اس وقت مکمل ہو جاتی ہے جب یورپی اخبارات نے ان خبروں کو بھی نمایاں طور پر شائع کردیا کہ ترکی کو روسی طیارے کے بارے میں معلومات کی فراہمی امریکہ نے کی تھی۔ کسی کو عراق کے کویت پر حملے والا منظر نامہ یاد ہوتو اس کو اس کے ساتھ رکھ کر دیکھیں ، تاریخ خود کو دہراتی ملے گی۔

ہم نے ایک پنتھ دو کاج کا محاوہ سنا تو تھا لیکن دیکھ پہلی مرتبہ رہے ہیں۔اب پتہ چلا کہ روس اور ترکی کے درمیان ہونے والی کشیدگی پر پاکستان میں بغلیں کون کون اور کیوں بجا رہا ہے؟اس لئے یہ طے ہے کہ روس بھلے ترکی کو جتنی مرضی لعن طعن کر لے لیکن وہ معاملات کو اس نہج تک نہیں لے جائے گا جو باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کر لے۔ اس پورے واقعے کا ایک اور پہلو بھی ہے جو ہم آئندہ عرض کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

اعلان لا تعلقی: العربیہ انتظامیہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.