پیرس اور پشاور کا تقابل

انجم نیاز
انجم نیاز
پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

سولہ دسمبر نزدیک ہے۔ گزشتہ برس اسی روز پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ایک سو اکتالیس بے گناہ بچوں کو شہید کردیا گیا تھا۔ اس سال اگر یہ دن یونہی گزر گیا اور دنیا نے اس درد ناک واقعے کو کوئی توجہ نہ دی تو پورے پاکستان کو ایک ساتھ اٹھ کر اس دکھ میں اپنی یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔ پیرس کے سانحے کو تین ہفتے ہوگئے ہیں۔ یورپ اور امریکہ والے ابھی تک اس سانحے میں ہلاک ہونے والے ایک سو تیس افراد کا سوگ منارہے ہیں۔ ٹی وی چینلوں نے اپنا عملہ بھجوا کر مسلسل دس دن اس سانحے سے متعلق پرانی خبروں تک کی تشہیر کی۔ اگر تقابل کیا جائے تو سانحہ پشاور کو نظر انداز کردیا گیا تھا۔ صدر اوبامہ ہی کو دیکھیے، پیرس کے اور لی ائیرپورٹ پہ اتر کے وہ جاں بحق ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے سیدھے بیٹا کلان نامی اس کنسرٹ ہال گئے، جہاں تین ہفتے قبل متعدد افراد دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے، تاہم ماہ جنوری میں جب سانحہ پشاور کو ابھی چند ہی روز بیتے تھے، صدر اوباما کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے سالانہ خطاب کرنے گئے، تو اس میں انہوں نے ہمارے اس سانحے کا محض سرسری سا حوالہ دیا تھا۔

پیرس سانحہ اب ایک انتہائی الگ مفہوم اختیار کرچکا ہے۔ جیرائید اوکولمین نامی ایک غیر وابستہ تجزیہ نگار نے اس بارے میں رشین ٹیلی ویژن کے ایک رپورٹر کے ساتھ گفتگو کی، ان کا کہنا تھا کہ ''دعش کوئی چیز نہیں۔ یہ امریکہ کی اپنی تخلیق ہے۔ یہ بات ہم امریکی فوج کے سرکاری ذرائع اور ڈی کلاسیفائید دستاویزات کے حوالے سے بخوبی جانتے ہیں''۔ ان کے مطابق فرانس ''انتہا پسندوں'' کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔ مغربی میڈیا کی جانب سے اسے مزید شدت اس لیے دی جارہی ہے کہ فرانسیسی عوام مسلمانوں سے خائف یوجائیں۔ کولمین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلے چار برسوں سے امریکہ اور نیٹو نے شامی آبادی کے خلاف جنگ شروع کر رکھی ہے، اور اب اسے ایک عالمی جنگ کی شکل دی جارہی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ کے ممالک کو منقسم کرکے مفتوح بنالیا جائے، اور پھر وہ امریکی اور اسرائیلی مفادات کے غلام بن جائیں۔ شام اور ایران جیسے ممالک، جو امریکی اور اسرائیلی تسلط کی مزاحمت کرتے ہیں، پر انہی کے گماشتہ گروہوں کی طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ ان گروہوں کو مالی معاونت اور ترتیب انہی دونوں ممالک یعنی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا اور خاص طور پر یوٹیوب پر کولمین کے انٹرویو پر بہت تبصرے ہورہے ہیں۔ کولمین ایک معروف صحافی ہیں لیکن جو لوگ ان کی باتوں کو شچ مان رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ''اس ویڈیو کے دس منٹ کے دورانیے میں ہم نے تنا کچھ جان لیا ہے جتنا ہم امریکہ میں دس برس تک فیک نیوز (فاکس نیوز) دیکھنے کے بعد بھی نہیں جان پائے تھے۔ رشین ٹی وی دیکھنے کے بعد لگ رہا ہے کہ ہماری خبریں جھوٹ کے پلندوں کے سوا کچھ نہیں۔ یہ ویڈیو آپ کو ضرور دیکھنی چاہیے اور دوسروں کو بھی دکھانی چاہیے۔ محض دس منٹ میں کولمین نے ثابت کردیا ہے کہ فرانس شامی دلدل میں گوڈے گوڈے دھنسا ہوا ہے اور افریقہ ومشرق وسطیٰ میں دہشت گردوں کی مالی معاونت بھی کررہا ہے''۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کولمین کی ساکھ پر سوال اٹھارہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ''خودسے یہ سوال کیجیے کہ یہ نام نہاد صحافی اور لکھاری ے کون؟ ہم نے ان کے بارے میںتحقیق کی کوشش کی لیکن کچھ بھی نہیں ملا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں شائع شدہ مواد نہیں، کوئی بائیوڈیٹا تک نہیں۔ نجانے روسیوں کو یہ آدمی کہاں سے مل گیا ہے''۔ یہ ایک شخص کے پیغام کا اقتباس ہے جس کا بہ اصرار یہی کہنا ہے کہ کولمین درحقیقت روسی پروپیگنڈے میں ایک پرزے سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔

دہشت گرد جب حملہ کرتے ہیں سازشی نظریات کا گردش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ سانحہ پشاور کے سلسلے میں بھی یہی ہوا تھا اور چند حلقوں کی جانب سے یہ آوازیں اٹھی تھیں کہ یہ حملہ خود ہماری سیکورٹی ایجنسیوں نے کروایا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ اسلام آباد میں مقیم ہمارے ایک جاننے والے نے پورے وثوق سے ہمیں بتایا تھا کہ اسے ایک باخبر آدمی نے سانحہ پشاور سے پہلے بتادیا تھا کہ پختونخوا میں کچھ بہت ہی برا ہونے والا ہے۔ ہمارے جاننے والے نے اس شخص سے پوچھا بھی کہ اسے یہ کیسے معلوم ہوا؟ جواب میں خاموش ہی رہا؛ تاہم اتنا اشارہ اس نے ضرور دیا کہ پاکستان میں کام کرنے والی جاسوس ایجنسیوں کے ساتھ اس کے ربطے ہیں۔ ذاتی طور پر ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ سارا بھارتی پروپیگنڈا ہے جو ہر دہشت گردانہ کارروائی کے بعد پاکستان میں درآتا ہے۔ بھارتی ایجنسیاں عوام میں ایسی افواہیں پھیلانے کے لیے اپنے کارندوں کو متحرک کردیتی ہیں۔ روسی اور مغربی پروپیگنڈا مشینیں بھی اسی طرح اس وقت زوروں پر ہے۔ ایک بلاگر نے بھی یہ سوال اٹھایاکہ''ہمیں لازماً خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا نیٹو ممالک میں بھی مین سٹریم کے ایسے میڈیائی ادارے اور رپورٹر نہیں جو اپنی اپنی حکومتوں کی کٹھ پتلیوں کے طور پر کام کرتے ہیں ؟غیر جانبداری عموماً یہاں معدوم ہی ہے ۔ دوسری طرف تاریخ اور ڈی کلاسفائیڈ دستاویز ات بھی یہی ظاہر کرتی ہیں کہ ایران ، کیوبا، انڈونیشیا اور ویت نام جیسے ممالک میں متعدد بار سی آئی اے بری نیت کے ساتھ ملوث پائی گئی۔ باغیوں کی مالی معاونت ، حکومتوں کا الٹایا جانا ، دہشت کا فروغ ، ضرورت پڑنے پر بیرونی مداخلت، تباہی ،قتل و غارت اور کارپوریٹ تعلقات کے استحکام جیسے جنگی حربے یا بنیادی طور پر ایک جیسے ہی ہوں تو خود اپنی حکومت سے اتفاق کرنا یا آنکھیں بند کر کے اس پہ یقین کرنا بھی ہمارے لیے ممکن نہیںرہتا ۔ ایک اور بلاگر نے لکھا ہے کہ اسے شدید غم اس بات کا ہے کہ ''یمن میں سات ہزار سے زائد مردوزن کو قتل کیا گیا۔ صہیونی پرست اسرائیلی ہر روز بے گناہ فلسطینیوں کو مار رہے ہیں ۔ شام اور عراق میں عیسائی اور مسلمان مردوزن اور بچوں تک کے سر قلم کیے جا رہے ہیں ، انہیں مسلوب کیا جا رہا ہے، جلایا جا رہے ، گولیاں ماری جا رہیں ہیں ، ان کی عصمت دردی ہو رہی ہے لیکن میڈیا یہ باتیں چھپا رہا ہے ''۔ یو ٹیوپ پر کئی لوگوں کا خیال یہ ہے کہ داعش صہیونیوں اور دیگر شیطانی حکومتوں کی تخلیق کردہ ہے ۔ ''کیا آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ داعش نامی اس گروہ کا کوئی مذہب بھی ہے ؟ یقینا نہیں !یہ وہ شیطان ہے ، جو صرف مسلمانوں اور عیسائیوں کو مار رہے ہیں ، یہودیوں کو نہیں !گیارہ ستمبر کے واقعے میں دیکھ لیں کہ کتنے یہودی مرے تھے؟ صرف ایک ؛حالانکہ ہزاروں یہودی نیو یارک میں کام کرتے ہیں ۔ ویسے ڈونالڈ ٹرمپ نامی وہ بڑ بولا ، جو ہو سکتا ہے کہ اگلا امریکی صدر بنے ، کہتا ہے کہ اس نے اپنے آنکھوں سے نیوجرسی میں سینکڑوں مسلمانوں کو گیارہ ستمبر کے سانحے پر جشن مناتے دیکھا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ڈونالڈٹرمپ ایک جھوٹا شخص ہے ۔ ہم تو صرف یہ ہی کہ سکتے ہیں کہ اس وقت دنیا ایک نہایت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے ۔ براعظم امریکا سے لیکر یورپ کی سرحدوں تک جگہ جگہ مسلمانوں کیخلاف نفر ت کی آگ سلگائی جا رہی ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ آگ بجھے کی کب؟

سولہ دسمبر کو پشاور میں جن معصوموں کو ہم نے کھویا ، ان کی تعظیم کے لیے پورے پاکستان کو متحد ہو جانا چائیے۔ آئیے ان والدین ، ان بھائیوں بہنوں اور رشتہ داروں کیلیے دعا کریں جن کے پیارے دہشت گردوں کے ہاتھوں بے رحمی سے چھینے گئے ۔ اس سال ان کے زخم اپنے پیاروں کی پہلی برسی مناتے ہوئے ایک بار پھر تازہ ہو جائیں گے ۔ کیا بیرونی دنیااس بار ا نہیں یاد کرے گی؟نہیں!کیا اس بار ماہ جنوری میں امریکی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما پشاور کے سانحے کو یاد کریں گے؟ یقینا نہیں ، لیکن پیرس کے حملوں کا ذکر وہ ضرور کریں گے!

بشکریہ روزنامہ 'دنیا'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(کالم نگار کے نقطہ نظر سے العربیہ ڈاٹ نیٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں)

نوٹ: : العربیہ اردو کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔.
مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size